فہرست مضامین
- اسرائیل حزب اللہ کشیدگی کا تاریخی پس منظر اور موجودہ لہر
- جنوبی لبنان میں فضائیہ کی کارروائیاں اور زمینی حقائق
- بیروت کے مضافات میں دھماکے اور ٹارگٹڈ آپریشنز
- حزب اللہ کا جوابی ردعمل: راکٹ باری اور میزائل سسٹم
- اسرائیلی دفاعی نظام آئرن ڈوم کی کارکردگی کا جائزہ
- جانی و مالی نقصان اور انسانی بحران کی شدت
- مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی طاقتوں کا موقف
- مستقبل کے سیناریوز: کیا جنگ بندی ممکن ہے؟
اسرائیل حزب اللہ کشیدگی مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر سے مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جس نے نہ صرف لبنان اور اسرائیل کے سرحدی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے بلکہ پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والی فضائی کارروائیوں اور راکٹ باری کے تبادلے نے 2006 کی جنگ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ یہ تنازع محض دو فریقین کے درمیان محدود نہیں رہا بلکہ اس میں عالمی طاقتوں کی دلچسپی اور تزویراتی مقاصد بھی شامل ہو چکے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں جنوبی لبنان کے دیہاتوں سے لے کر بیروت کی بلند و بالا عمارتوں تک، ہر جگہ جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ اس تفصیلی رپورٹ میں ہم اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جاری اس جنگی کیفیت کا ہر پہلو سے جائزہ لیں گے، جس میں عسکری حکمت عملی، انسانی المیے اور سفارتی کوششوں کا احاطہ کیا جائے گا۔
اسرائیل حزب اللہ کشیدگی کا تاریخی پس منظر اور موجودہ لہر
اسرائیل حزب اللہ کشیدگی کی جڑیں کئی دہائیوں پرانی ہیں، لیکن حالیہ لہر میں جو شدت دیکھی جا رہی ہے وہ غیر معمولی ہے۔ 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد سے جہاں غزہ میں جنگ جاری تھی، وہیں شمالی محاذ پر بھی مسلسل جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا۔ تاہم، گزشتہ چند ہفتوں میں اس ‘محدود جنگ’ نے ایک ‘کھلی جنگ’ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، موجودہ کشیدگی کا مقصد ڈیٹرنس یا روکی جانے والی قوت کا توازن دوبارہ قائم کرنا ہے۔ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں تاکہ غزہ پر دباؤ کم کیا جا سکے، جبکہ اسرائیل کا مقصد اپنی شمالی سرحدوں کو محفوظ بنانا اور وہاں سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں شہریوں کی واپسی کو یقینی بنانا ہے۔
تاریخی طور پر، دریائے لیتانی کا علاقہ ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کے تحت یہ طے پایا تھا کہ حزب اللہ دریائے لیتانی کے جنوب میں مسلح سرگرمیاں نہیں کرے گی، لیکن اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی گئی۔ دوسری جانب، لبنان کا موقف ہے کہ اسرائیل کی فضائیہ روزانہ کی بنیاد پر لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتی ہے، جو کہ خود ایک اشتعال انگیزی ہے۔ موجودہ کشیدگی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ٹارگٹڈ کلنگز کا سلسلہ بھی ہے، جس میں اسرائیل نے حزب اللہ کے کئی سینئر کمانڈرز کو نشانہ بنایا ہے۔
جنوبی لبنان میں فضائیہ کی کارروائیاں اور زمینی حقائق
اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر بمباری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ان حملوں کا مقصد حزب اللہ کے لانچنگ پیڈز، سرنگوں کے نیٹ ورک اور اسلحہ کے ذخائر کو تباہ کرنا ہے۔ صیہونی فورسز کی جانب سے جدید ترین طیاروں بشمول ایف-35 اور ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا جا سکے۔ جنوبی لبنان کے قصبے اور دیہات، جو کبھی زراعت اور سیاحتی سرگرمیوں کا مرکز تھے، اب ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔
زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اسرائیل نے ‘اسکورچڈ ارتھ’ یا جھلسی ہوئی زمین کی پالیسی اپنائی ہے، جس کا مقصد سرحد کے قریب ایک بفر زون قائم کرنا ہے تاکہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کو پیچھے دھکیلا جا سکے۔ فاسفورس بموں کے مبینہ استعمال کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کو خطرہ ہے بلکہ ماحول اور فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ مزید برآں، ان علاقوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے، اور ہزاروں خاندان اپنے گھر چھوڑ کر شمال کی طرف جانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
بیروت کے مضافات میں دھماکے اور ٹارگٹڈ آپریشنز
جنگ کا دائرہ اب صرف جنوبی سرحد تک محدود نہیں رہا بلکہ لبنان کے دارالحکومت بیروت تک پھیل چکا ہے۔ خاص طور پر بیروت کا جنوبی مضافاتی علاقہ ‘الضاحیہ’، جو حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، شدید فضائی حملوں کی زد میں ہے۔ بیروت دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی گونج پورے شہر میں سنی گئی۔ ان حملوں میں اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حسن نصراللہ کے قریبی ساتھیوں اور تنظیم کے اسٹریٹجک اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔
شہری آبادی کے درمیان موجود ان عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کی وجہ سے عام شہریوں کا جانی نقصان بھی بڑھ رہا ہے۔ یہ حملے اسرائیل کی انٹیلی جنس کی گہرائی اور رسائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیروت پر حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ اسرائیل اب ‘ریڈ لائنز’ یا سرخ لکیروں کی پرواہ نہیں کر رہا اور وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس صورتحال نے لبنانی حکومت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جو پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہے۔
| زمرہ | تفصیلات اور اعداد و شمار (تخمینہ) |
|---|---|
| مرکزی تنازع | اسرائیل بمقابلہ حزب اللہ (لبنان محاذ) |
| اہم ہتھیار | اسرائیلی ایف-16/35 طیارے، حزب اللہ کے برکان اور فتح 110 میزائل |
| متاثرہ علاقے | جنوبی لبنان، وادی بقاع، بیروت (الضاحیہ)، شمالی اسرائیل (کریات شمونہ، حیفا) |
| نقل مکانی | لبنان میں 1 لاکھ سے زائد، اسرائیل میں 60 ہزار سے زائد افراد |
| سفارتی صورتحال | اقوام متحدہ اور فرانس کی جانب سے جنگ بندی کی ناکام کوششیں |
حزب اللہ کا جوابی ردعمل: راکٹ باری اور میزائل سسٹم
اسرائیلی جارحیت کے جواب میں حزب اللہ نے بھی خاموشی اختیار نہیں کی۔ تنظیم نے شمالی اسرائیل کی طرف راکٹ باری کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور اپنی میزائل رینج میں اضافہ کرتے ہوئے حیفا اور تل ابیب کے مضافات تک کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں۔ حزب اللہ کے پاس موجود ہتھیاروں کے ذخیرے میں گائیڈڈ میزائل، اینٹی ٹینک میزائل اور ڈرونز شامل ہیں۔ حسن نصراللہ کی تقاریر میں بارہا اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے مکمل جنگ مسلط کی تو اسے
