مقبول خبریں

امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی اہم قرار داد منظور کر لی


امریکی سینیٹ نے ایک انتہائی اہم قرار داد منظور کر لی ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کو روکنا ہے۔ یہ اقدام امریکی قانون سازوں کی جانب سے صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے اور کانگریس کے کردار کو مضبوط کرنے کی ایک نمایاں کوشش ہے۔ منگل، 23 جون 2026 کو ہونے والی ووٹنگ میں، سینیٹ نے 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں کی معمولی اکثریت سے اس مشترکہ قرار داد کی منظوری دی۔ یہ قرار داد ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے تعلقات ایک پیچیدہ دور سے گزر رہے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس قرار داد کی منظوری کو امریکی پالیسی ساز حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اسے ایوان نمائندگان سے بھی پہلے ہی منظوری مل چکی تھی۔

تاریخی پس منظر: امریکہ-ایران کشیدگی کا ایک جائزہ

امریکہ اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں، اور 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے ان میں مزید بگاڑ پیدا ہوا۔ ایران میں بادشاہی نظام کے خاتمے اور اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست محاذ آرائیاں، سفارتی تنازعات اور مشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگیں جاری ہیں۔ امریکہ نے ایران پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے اور غیر قانونی جوہری پروگرام جاری رکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ ایران نے امریکہ پر اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا ہے۔ 1980 میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے اور آج تک بحال نہیں ہو سکے ہیں۔

تاریخی طور پر، 1953 میں وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت کے تختہ الٹنے سے بہت سے ایرانیوں کے نزدیک امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات خراب ہونے کی ابتدا ہوئی تھی، لیکن صحیح معنوں میں تعلقات کا ٹوٹنا 4 نومبر 1979 کو تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے اور امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنائے جانے کے بعد ہوا۔ اس واقعے کے بعد سے، دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اور دشمنی کی ایک طویل تاریخ رقم ہوئی ہے۔ امریکی فوجی ہیڈ کوارٹر پر بمباری، ایران کا جوہری پروگرام، اور خطے میں ایرانی توسیع پسندی نے اس کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے۔ مئی 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ایران پر کئی سخت الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد تعلقات میں مزید تلخی آ گئی۔

حالیہ برسوں میں، یہ کشیدگی کئی بار شدت اختیار کر چکی ہے، جس میں فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر براہ راست فضائی حملے شامل ہیں، جس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ ان حملوں کو ایران نے “غیر قانونی اور مجرمانہ” قرار دیا تھا اور یہ خبردار کیا تھا کہ ان کے “دیرپا نتائج” ہوں گے۔ ان واقعات نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے کر دیے تھے، اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔ امریکی سینیٹ کی حالیہ قرار داد اس بڑھتی ہوئی تشویش کا عکاس ہے جو نہ صرف ڈیموکریٹس بلکہ کچھ ریپبلکن اراکین میں بھی پائی جاتی ہے، جو ایران کے ساتھ ایک مکمل جنگ کے متحمل نہیں ہونا چاہتے۔

قرارداد کی تفصیلات اور اس کے مقاصد

امریکی سینیٹ کی جانب سے منظور کی گئی قرار داد ایک مشترکہ قرار داد ہے جو صدر کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی شروع کرنے سے روکتی ہے، جب تک کہ کانگریس باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان نہ کرے یا فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت نہ دے۔ اس قرار داد کا بنیادی مقصد کانگریس کے اس آئینی اختیار کو دوبارہ قائم کرنا ہے کہ جنگ کا اعلان صرف اور صرف کانگریس کی منظوری سے ہونا چاہیے۔ 1973 کے وار پاورز ریزولیوشن (جسے عام طور پر وار پاورز ایکٹ کہا جاتا ہے) کے نفاذ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس کے دونوں ایوانوں نے ایسی کوئی قرار داد منظور کی ہے جس میں صدر کو امریکی مسلح افواج کو جنگی کارروائیوں سے ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہو۔

اس قرار داد کو علامتی حیثیت حاصل ہے، یعنی اس میں فوری طور پر مکمل قانونی قوت نہیں ہے کہ وہ صدر کو مکمل طور پر پابند کر سکے، تاہم اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ کانگریس کی جانب سے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ فوجی کارروائیوں کی اجازت دینے میں اپنے کردار کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ یہ قرار داد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر دباؤ بڑھاتی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی نئے تصادم سے پہلے کانگریس سے مشاورت اور منظوری حاصل کرے۔ ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ یہ قرار داد ضروری ہے، چاہے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کا معاہدہ طے پا بھی چکا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ “اگر ہم واقعی یہاں استحکام کے دور میں ہیں، تو ہمیں اسے دوبارہ کانگریس کی شمولیت کے بغیر شروع نہیں ہونے دینا چاہیے۔”

سینیٹ میں ووٹنگ اور سیاسی تقسیم

سینیٹ میں اس قرار داد پر 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے فیصلہ آیا، جو کہ ایک انتہائی قریبی مقابلہ تھا۔ یہ ووٹنگ پارٹی بنیادوں پر ہوئی، جہاں زیادہ تر ڈیموکریٹس نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ زیادہ تر ریپبلکنز نے اس کی مخالفت کی۔ تاہم، اس میں کچھ استثنا بھی دیکھنے میں آئے۔ چار ریپبلکن سینیٹرز نے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرار داد کی حمایت کی، جن میں الاسکا کی لیزا مرکوسکی، مین کی سوزن کولنز، کینٹکی کے رینڈ پال، اور لوئیزیانا کے بل کیسیڈی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ڈیموکریٹ سینیٹر، پنسلوانیا کے جان فیٹر مین نے قرار داد کے خلاف ووٹ دیا۔

یہ حقیقت کہ ریپبلکن اکثریت والی سینیٹ میں یہ قرار داد منظور ہوئی، اسے ایک قابل ذکر پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ ریپبلکن جماعت کے کچھ سینیٹرز کی غیر موجودگی نے بھی اس ووٹ کے نتیجے پر اثر ڈالا، کیونکہ اگر وہ موجود ہوتے تو ووٹنگ کا نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔ یہ ووٹنگ امریکی خارجہ پالیسی کے اہم امور پر کانگریس کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم اور صدر کے جنگی اختیارات کے حوالے سے دونوں جماعتوں میں پائے جانے والے تحفظات کو ظاہر کرتی ہے۔

تاریخواقعہاہمیت
4 نومبر 1979تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور یرغمالی بحرانامریکہ-ایران سفارتی تعلقات کا خاتمہ، بداعتمادی کی بنیاد
مئی 2018صدر ٹرمپ کا جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلانایران پر نئی امریکی پابندیاں، کشیدگی میں اضافہ
فروری 2026امریکہ-اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی کارروائیمشرق وسطیٰ میں تنازعے کی شدت، ایران کا جوابی ردعمل
8 اپریل 2026پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کا نفاذجنگ میں کمی اور مذاکرات کی راہ ہموار
17 جون 2026امریکی اور ایرانی صدور کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط60 روزہ جنگ بندی اور جوہری پروگرام پر مذاکرات کا آغاز
23 جون 2026امریکی سینیٹ میں فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد کی منظوریصدر کے جنگی اختیارات پر کانگریس کی حدود کو تقویت

ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل اور انتظامیہ کی پوزیشن

سینیٹ کی جانب سے قرار داد کی منظوری پر اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے منگل کی دیر رات ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس ووٹنگ کو “بری طرح سے وقت کے خلاف اور بے معنی” قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے قرار داد کے حق میں ووٹ دینے والوں پر الزام لگایا کہ وہ ایران کو “سکون” فراہم کر رہے ہیں اور ان کا کام “مزید مشکل” بنا رہے ہیں۔ ان کے بقول، اس اقدام نے ایران کو “مدد اور حوصلہ” دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف اپنی پالیسیوں اور اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت موقف رکھتی ہے۔ پینٹاگون اس وقت کانگریس سے ایران جنگ کے اخراجات کے لیے تقریباً 80 ارب ڈالر کی منظوری کا خواہاں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ فوجی آپشن کو مکمل طور پر خارج نہیں کرتی۔ تاہم، سینیٹ کی قرار داد صدر کے جنگی اختیارات پر ایک اہم پابندی عائد کرتی ہے اور کانگریس کے اس مطالبے کو واضح کرتی ہے کہ فوجی کارروائیوں کے لیے اس کی پیشگی اجازت ضروری ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس قرار داد کو تنقید کا نشانہ بنانا کانگریس اور انتظامیہ کے درمیان خارجہ پالیسی کے تعین کے حوالے سے جاری کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔

تنازع کا حالیہ سیاق و سباق: جنگ بندی اور مذاکرات

امریکی سینیٹ کی یہ قرار داد ایک ایسے اہم موڑ پر منظور ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں عروج پر ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے فروری 2026 میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی حملے کیے، جس سے مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے تنازع کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا اور اس کی ثالثی میں 8 اپریل 2026 کو جنگ بندی کا نفاذ عمل میں آیا۔

جنگ بندی کے بعد، امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ 17 جون 2026 کو، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر دستخط کیے، جس کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اس معاہدے پر بطور ثالث دستخط کیے۔ یہ معاہدہ 60 روزہ جنگ بندی کی توسیع کرتا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان جوہری پروگرام کے خاتمے پر تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔

اس معاہدے کو فوری طور پر نافذ العمل ہونا ہے اور یہ مشرق وسطیٰ پر چھائے جنگ کے بادلوں کو چھٹنے کی امید پیدا کرتا ہے۔ سینیٹ کی قرار داد ایسے وقت میں آئی ہے جب امریکی انتظامیہ کانگریس سے جنگ کے اخراجات کے لیے دسیوں ارب ڈالر کی منظوری مانگنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس صورتحال میں، قرار داد کا مقصد کانگریس کی منظوری کے بغیر مستقبل میں جنگی صورتحال پیدا ہونے سے روکنا ہے۔ پاکستان کے اہم ثالثی کردار کے بارے میں مزید تفصیلات کے لیے آپ ڈان نیوز کی اس رپورٹ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

قرارداد کے ممکنہ اثرات اور مستقبل کی راہیں

اگرچہ امریکی سینیٹ کی یہ قرار داد بڑی حد تک علامتی نوعیت کی ہے اور فوری طور پر صدر کو کسی بڑی فوجی کارروائی سے روکنے کی براہ راست قانونی طاقت نہیں رکھتی، تاہم اس کے دور رس سیاسی اور سفارتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ کانگریس کی جانب سے صدر کے جنگی اختیارات پر ایک واضح پیغام ہے کہ وہ امریکی فوج کو جنگ میں جھونکنے کے انتظامیہ کے فیصلوں پر کڑی نگرانی رکھنا چاہتی ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں کانگریس کے اختیارات کی توثیق ہے جب ایگزیکٹو برانچ کی جانب سے خارجہ پالیسی میں خودمختاری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش پائی جاتی ہے۔

دوسرا، یہ قرار داد امریکی انتظامیہ پر دباؤ بڑھاتی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستوں کو ترجیح دے۔ چونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے ہی جنگ بندی اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، سینیٹ کا یہ اقدام ان سفارتی کوششوں کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔ یہ ایران کو بھی یہ پیغام دے سکتا ہے کہ امریکی سیاسی نظام کے اندر جنگ کے حوالے سے یکجہتی نہیں ہے، جو ممکنہ طور پر مذاکرات میں اس کی پوزیشن کو مضبوط کر سکتا ہے۔

تیسرا، یہ قرار داد امریکی خارجہ پالیسی کے تعین میں کانگریس کے کردار کو مستقبل کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حتیٰ کہ صدر کی اپنی پارٹی کے اندر بھی کچھ اراکین جنگ کے معاملے پر صدر سے اختلاف کر سکتے ہیں اور کانگریس کی آئینی ذمہ داریوں پر زور دے سکتے ہیں۔ اس سے مستقبل کے صدور کے لیے فوجی کارروائیوں کا آغاز کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ انہیں کانگریس سے زیادہ وسیع حمایت حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

تاہم، اس قرار داد کی علامتی نوعیت اس کے عملی اثرات کو محدود کر سکتی ہے۔ صدر کے پاس اب بھی اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے کے امکانات موجود ہیں جنہیں وہ کانگریس کی اجازت کے دائرہ کار سے باہر سمجھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا اس قرار داد پر شدید ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انتظامیہ اور کانگریس کے درمیان جنگی اختیارات پر کشمکش جاری رہے گی۔ آنے والے وسط مدتی انتخابات بھی اس صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ کانگریس میں پارٹیوں کی طاقت کا توازن طے کریں گے۔ اگرچہ یہ قرار داد امریکہ-ایران تنازعے کے فوری حل کی ضمانت نہیں دیتی، لیکن یہ ایک اہم داخلی سیاسی پیش رفت ہے جو مستقبل میں امریکی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں کانگریس کے اثر و رسوخ کو بڑھا سکتی ہے۔

نتیجہ

امریکی سینیٹ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو روکنے کی قرار داد کی منظوری امریکہ کی خارجہ پالیسی اور صدر کے جنگی اختیارات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ قرار داد، اگرچہ علامتی نوعیت کی ہے، کانگریس کی آئینی ذمہ داریوں پر زور دیتی ہے اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ فوجی کارروائیوں کے لیے قانون ساز ادارے سے منظوری حاصل کرے۔ 50-48 کے ووٹ سے منظور ہونے والی یہ قرار داد، جس میں چند ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر امریکی سیاست میں ایک بڑھتی ہوئی تشویش اور تقسیم موجود ہے۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی اور امن مذاکرات جاری ہیں، جو خطے میں استحکام کی امید پیدا کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا اس قرار داد پر سخت ردعمل کانگریس اور ایگزیکٹو کے درمیان جنگی اختیارات پر جاری کشمکش کو واضح کرتا ہے۔ مستقبل میں، یہ قرار داد امریکی خارجہ پالیسی کی سمت اور کانگریس کے کردار کو نئے سرے سے متعین کرنے میں ایک اہم عنصر ثابت ہو سکتی ہے، اور ممکنہ طور پر فوجی تنازعات میں امریکہ کی شمولیت کے حوالے سے زیادہ احتیاطی تدابیر کی بنیاد بن سکتی ہے۔