امریکی فوج ایران کی سرحدوں سے ایک ہزار کلومیٹر دور پیچھے ہٹ گئی ہے، یہ ایک اہم دعویٰ ہے جو اکتوبر 2026 میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینئر کمانڈر ریئر ایڈمرل علی فدوی نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پسپائی امریکی مرضی سے نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاسداران انقلاب کی زمینی فورس کی طاقت کا نتیجہ ہے۔ اس بیان نے علاقائی اور عالمی سطح پر بڑی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خطے میں امریکی فوجی موجودگی ہمیشہ سے ایران کے لیے ایک حساس مسئلہ رہی ہے۔ یہ صورتحال خطے میں طاقت کے توازن اور مستقبل کے ممکنہ تنازعات کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔
رمضان المبارک کی تیاری: جسمانی و روحانی پہلو
ایرانی کمانڈر کا حیرت انگیز دعویٰ اور اس کی تفصیلات
ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر ریئر ایڈمرل علی فدوی نے 5 اکتوبر 2026 کو ایک انٹرویو کے دوران یہ دعویٰ کیا کہ امریکی افواج ایران کی سرحدوں سے 1,000 کلومیٹر دور پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک تاریخی لمحہ ہے، جہاں خلیج، آبنائے ہرمز، بحیرہ عمان اور شمالی بحر ہند میں پہلی بار کوئی امریکی بحری جہاز موجود نہیں ہے۔
فدوی نے اس پسپائی کو ایران کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں اور پاسدارانِ انقلاب کی زمینی فورس کی طاقت کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام امریکی جنگی جہاز اب پاسدارانِ انقلاب کے مکمل نشانے پر ہیں۔ یہ بیان خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور امریکی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
کمانڈر فدوی کے دعوے کے مطابق، آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے، اور پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے امریکی نگرانی میں گزرنے والے بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ انہیں کسی بھی وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس راستے سے روزانہ صرف 30 سے 40 لاکھ بیرل تیل منتقل ہو رہا ہے، جو جنگ سے قبل کی ترسیل کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
ڈھاکا ٹیسٹ: اذان اویس کی پہلی ٹیسٹ میچ میں کارکردگی
ایرانی کمانڈر نے امریکی فوجی کارروائیوں کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ افغانستان اور عراق میں ناکام رہا ہے اور ایک بار پھر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ بیانات ایران کے اس مستقل مؤقف کا حصہ ہیں کہ وہ خطے میں کسی بھی غیر ملکی فوجی مداخلت کو مسترد کرتا ہے اور اپنی خود مختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
عراق سے امریکی انخلا: ایک بڑی کامیابی؟
علی فدوی کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق سے امریکی افواج کا انخلا حال ہی میں مکمل ہوا ہے۔ 30 ستمبر 2026 کو عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی امریکی فوجی موجودگی کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہو گیا۔ امریکہ نے عراق سے اپنے آخری فوجیوں کو واپس بلا لیا، جس کے بعد ایران نے اس پیش رفت کو اپنی ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا۔
تہران کی جانب سے اس انخلا کو خطے میں موجود اپنے اتحادی مسلح گروہوں اور مزاحمتی محور کے لیے ایک اہم سنگ میل اور اپنی طویل مدتی پالیسی کی فتح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ عراق میں امریکی فوجی موجودگی 2003 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے خطے کی سیاست اور سلامتی کا مرکزی حصہ رہی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کو ایک “بہت اہم واقعہ” قرار دیا جو عراق کی قومی خودمختاری، ارضی سالمیت اور خودمختاری کو مضبوط کرے گا۔ وزارت خارجہ نے عراق پر قبضے کے دوران امریکی حکومت کے جرائم پر اس کے مواخذے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
5G سپیکٹرم نیلامی: پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب
خطے میں امریکی فوجی موجودگی کا تاریخی پس منظر
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس کا آغاز سرد جنگ کے دوران ہوا اور خلیج کی جنگوں کے بعد اس میں نمایاں اضافہ ہوا۔ امریکہ نے خطے میں اپنی موجودگی کو تیل کی ترسیل کے راستوں کی حفاظت، علاقائی استحکام کو یقینی بنانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
ایران، اپنی اسلامی انقلاب کے بعد سے، خطے میں امریکی موجودگی کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان مسلسل کشیدگی رہی ہے، جو مختلف فوجی اور سفارتی محاذوں پر ظاہر ہوتی ہے۔ ایرانی حکام بارہا خطے سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
گزشتہ سالوں میں، امریکہ نے اپنے فوجی اثاثوں کی تعیناتی اور حکمت عملی میں کئی تبدیلیاں کی ہیں۔ اس میں بعض اوقات فوجیوں کی تعداد میں کمی اور بعض اوقات اضافہ شامل ہے۔ تاہم، ایران کا مؤقف رہا ہے کہ یہ اقدامات خطے سے امریکی انخلا کی اس کی بنیادی مطالبے سے دستبرداری کا باعث نہیں بنیں گے۔
سعودی عرب: پاکستانی عازمین حج کی آمد کا خیرمقدم
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور دعوے
امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں گزشتہ مہینوں میں شدت آئی ہے۔ ستمبر 2026 میں، امریکی محکمہ دفاع نے اطلاع دی کہ ایران کی جانب سے ایک بحری جہاز پر میزائل حملے کے بعد زخمی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا، جس سے ایران جنگ میں زخمی امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 861 ہو گئی۔ اس کے علاوہ، جولائی 2026 میں ایک ایرانی کمانڈر نے دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے بعد ہونے والی ایرانی جوابی کارروائیوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ دعوے دونوں فریقین کے درمیان تصادم کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔
دوسری جانب، امریکی وزیر دفاع نے اکتوبر 2026 میں دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی فوج اور جوہری صلاحیت کو مفلوج کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکی فوج میں جنرلز اور ایڈمرلز کی تعداد میں مجموعی طور پر 20 فیصد کمی کی جا رہی ہے۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سخت پوزیشن اختیار کر رہے ہیں۔
| فریق | اہم دعویٰ/بیان (اکتوبر 2026) | تاریخ |
|---|---|---|
| ایران (کمانڈر علی فدوی) | امریکی فوج ایران کی سرحدوں سے 1,000 کلومیٹر پیچھے ہٹ گئی، خلیج میں کوئی امریکی بحری جہاز موجود نہیں۔ | 5 اکتوبر 2026 |
| ایران (وزارت خارجہ) | عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلا عراق کی خودمختاری کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ | 4 اکتوبر 2026 |
| امریکہ (وزیر دفاع) | ایران کی فوج اور جوہری صلاحیت مفلوج کر دی گئی، فوجی قیادت میں 20% کمی۔ | 1 اکتوبر 2026 |
| امریکہ (محکمہ دفاع) | ایران جنگ میں زخمی امریکی فوجیوں کی تعداد 861 ہوگئی۔ | 28 ستمبر 2026 |
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے 30 ستمبر 2026 کو کہا تھا کہ امریکہ کو بالآخر خطے سے نکلنا پڑے گا اور اسرائیل کے لیے یہاں موجود رہنا ناممکن ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آنے والا وقت امریکہ اور اسرائیل کے لیے انتہائی پشیمانی اور گہری مایوسی کا باعث بنے گا۔ یہ بیانات خطے میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن اور ایران کے مضبوط مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔
انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر کتنی ہوسکتی ہے؟
آبنائے ہرمز اور بحری جہازوں کی صورتحال
آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کی شہ رگ ہے اور اس کی سٹریٹجک اہمیت بے پناہ ہے۔ ایرانی کمانڈر علی فدوی کا یہ دعویٰ کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے اور امریکی بحری جہاز یہاں موجود نہیں، ایک بہت بڑا بیان ہے۔ یہ دعویٰ بحری سلامتی اور عالمی تیل کی منڈی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ایران نے اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں دی ہیں، خاص طور پر جب اس پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ آبنائے ہرمز سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اکتوبر 2026 میں کہا تھا کہ امریکی فوج نے جولائی سے اب تک 125 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا ہے تاکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ بھی اس اہم آبی گزرگاہ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین کی جانب سے امریکی وزیر پر پابندیوں میں اضافہ
آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔ ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو آبنائے ہرمز سے متعلق سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جسے امریکہ نے قبول نہیں کیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔
امریکی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلیاں اور اس کے اثرات
امریکی حکام مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کو کم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ستمبر 2026 میں امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ امریکی فوج اور انٹیلی جنس حکام کے درمیان خطے میں مستقل طور پر تعینات فوجیوں اور فوجی تنصیبات کی تعداد کم کرنے سے متعلق ابتدائی سطح پر بات چیت جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت دفاعی ذمہ داریاں علاقائی ممالک کو منتقل کرنے کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس وقت مشرق وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، جبکہ خطے میں امریکی بحری اور دیگر اہم فوجی وسائل بھی تعینات ہیں۔ امریکی فوج نے آئندہ سال کے آغاز سے خطے میں اپنی فوجی حکمت عملی اور تعیناتی کے ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں کے لیے متعدد تجاویز بھی تیار کی ہیں۔ ان میں بعض فوجی تنصیبات کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے زیر زمین منتقل کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
اس کے برعکس، اکتوبر 2026 میں امریکہ نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائیوں کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں 10 ہزار اضافی فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تعیناتی کے بعد اکتوبر کے آخر تک خطے میں تین امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے موجود ہو سکتے ہیں، جس سے امریکی بحری موجودگی 20 ہزار سے زائد سیلرز اور میرینز اور سیکڑوں طیاروں تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ متضاد اطلاعات امریکی حکمت عملی میں غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔
رجب بٹ پھر قانون کی زد میں؛ ایک اور مقدمہ
مستقبل کے سفارتی اور فوجی منظرنامے
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ نظر نہیں آتا۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور فریقین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ سفارتی کوششوں کے باوجود جنگ بندی اور مستقل معاہدے کے حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ایران میں موجود ذرائع کے مطابق تہران کو خدشہ ہے کہ جنگ دوبارہ بڑے پیمانے پر شروع ہو سکتی ہے۔
