Table of Contents
فہرست
ایران میں سوگ کا عالم ہے جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای، اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر، کی شہادت کے بعد ملک بھر میں گہرے رنج و غم کا سماں ہے۔ 28 فروری 2026 کو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ان کی شہادت کے بعد، ایران نے 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا تھا، اور اب جولائی کے پہلے ہفتے میں ان کی تاریخی اور طویل تدفین کی تقریبات جاری ہیں۔ تہران کی سڑکوں پر لاکھوں سوگواروں کا ہجوم ہے جو اپنے شہید رہبر کو آخری سلام پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، ایک ایسا منظر جو ملک کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ جنازہ جلوس، جو کئی شہروں اور عراق کے مقدس مقامات سے گزرتے ہوئے مشہد میں اختتام پذیر ہوگا، ایرانی قوم کے اتحاد، عقیدت اور اپنے رہنما کے لیے والہانہ محبت کا مظہر ہے۔
شہادت کا المناک واقعہ اور اس کا پس منظر
آیت اللہ سید علی خامنہ ای، جو 1939 میں مشہد میں پیدا ہوئے، اپنی 86 سالہ زندگی کے دوران اسلامی دنیا میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے۔ وہ 1989 سے 2026 تک 36 سال تک ایران کے سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی شہادت 28 فروری 2026 کو تہران میں امریکی اور اسرائیلی مشترکہ فضائی حملوں کا نتیجہ تھی، جس میں ان کے دفتر اور رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ان کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقرزادہ سمیت خاندان کے کئی دیگر افراد بھی زخمی ہوئے یا شہید ہوئے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق، ان کی اہلیہ 2 مارچ کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی تھیں۔ اس واقعے کو ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل نے “ریاستی دہشت گردی” اور “عصری تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گردانہ جرم” قرار دیا ہے۔
شہادت ایسے وقت میں ہوئی جب 2025 اور 2026 میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ایران کی کشیدگی “بارہ روزہ جنگ” اور ایک جاری تنازعے میں شدت اختیار کر چکی تھی۔ ایران نے اپنے رہبر کی شہادت کا بدلہ لینے کا عزم کیا ہے، اور ایرانی حکام نے اس حملے کے ذمہ داروں کو “مناسب وقت” پر جواب دینے کا انتباہ جاری کیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں گہرے اثرات مرتب کرنے والا ثابت ہوا۔
تاریخی جنازہ جلوس: ایک قوم کا اظہار عقیدت
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات، جو 4 جولائی 2026 کو تہران میں شروع ہوئیں، چھ دنوں پر محیط ہیں اور کئی ایرانی شہروں کے ساتھ ساتھ عراق کے شیعہ مقدس مقامات تک پھیلی ہوئی ہیں۔ تہران کے امام خمینی مصلیٰ اور آزادی اسکوائر میں لاکھوں کی تعداد میں سوگواروں نے نماز جنازہ اور جنازہ جلوس میں شرکت کی۔ ان تقریبات کا مقصد صرف ایک رہنما کو رخصت کرنا نہیں، بلکہ اسلامی جمہوریہ کے اداروں اور ریاست کی پائیداری کو دنیا کے سامنے پیش کرنا بھی ہے۔
جنازہ جلوس کا شیڈول مندرجہ ذیل ہے:
- 4 اور 5 جولائی: تہران میں عوامی دیدار اور نماز جنازہ، امام خمینی مصلیٰ۔
- 6 جولائی (آج): تہران کے مرکزی حصوں میں ایک بڑا جلوس، امام حسین اسکوائر سے آزادی اسکوائر تک چھ میل کا سفر۔ قم میں دعائیہ تقریبات۔
- 7 جولائی: جسد خاکی کو قم منتقل کیا جائے گا۔
- 8 جولائی: عراق کے شیعہ مقدس شہروں نجف اور کربلا میں تقریبات۔
- 9 جولائی: آبائی شہر مشہد میں امام رضا علیہ السلام کے روضہ میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
ان تقریبات میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر باقر قالیباف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات شریک ہیں۔ سوگواروں کا ہجوم “مرگ بر امریکہ” اور “مرگ بر اسرائیل” کے نعرے لگا رہا ہے، اور فروری کے حملے کا بدلہ لینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ جلوس ایرانی عوام کی وفاداری اور انقلاب سے ان کے مضبوط تعلق کا اظہار ہے، جیسا کہ گارڈین کونسل نے بھی اس امید کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان سے بھی ایک وفد نے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے جنازے میں شرکت کا اعلان کیا تھا۔
سوگ کا عالم: تہران سے مشہد تک
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سے ایران کے ہر کونے میں سوگ کا عالم ہے۔ تہران کی سڑکیں سوگواروں سے بھری پڑی ہیں جہاں ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل غمگین ہے۔ حکام نے سوگ کے پیش نظر سڑکیں، فضائی حدود اور روزمرہ کی زندگی کو معطل کر رکھا ہے۔ جنازے کے راستوں پر سیاہ پرچم لہرائے جا رہے ہیں اور شہدا کے احترام میں بینرز آویزاں ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، تہران میں تقریباً 20 ملین افراد کے جنازے کی تقریبات میں شرکت کی توقع ہے۔ یہ ہجوم نہ صرف اپنے رہبر کی قربانی کا اعتراف ہے بلکہ ملک کے داخلی استحکام اور بیرونی قوتوں کے خلاف مزاحمت کا بھی پیغام ہے۔ قم، نجف، کربلا اور مشہد جیسے شہروں میں بھی سوگواروں کے بڑے اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں جہاں لوگ اپنے رہبر کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ یہ تقریبات ایرانی قوم کے مذہبی، ثقافتی اور سیاسی یکجہتی کا مظہر ہیں۔
| واقعہ | تاریخ | اہم تفصیلات |
|---|---|---|
| شہادت | 28 فروری 2026 | امریکی-اسرائیلی فضائی حملے میں شہادت |
| قومی سوگ کا اعلان | مارچ 2026 کے اوائل | ایران کی جانب سے 40 روزہ سوگ کا اعلان |
| نئے رہبر کا انتخاب | 8 مارچ 2026 | مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کیا گیا |
| تدفین کی تقریبات کا آغاز | 4 جولائی 2026 | تہران میں عوامی دیدار اور نماز جنازہ |
| تہران میں مرکزی جلوس | 6 جولائی 2026 (جاری ہے) | لاکھوں افراد کی شرکت، سوگ اور غم کا اظہار |
| سپرد خاک | 9 جولائی 2026 | مشہد میں امام رضا علیہ السلام کے روضہ میں |
شہید رہبر کی زندگی اور خدمات
آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی دینی علم، سیاسی جدوجہد اور قیادت کا ایک اہم نمونہ تھی۔ وہ 19 اپریل 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے اور اپنے والد سید جواد خامنہ ای سے دینی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں، انہوں نے قم میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی جہاں وہ امام روح اللہ خمینی کے شاگرد بنے۔ امام خمینی کی شخصیت اور فکر نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔
انہوں نے 1979 کے اسلامی انقلاب میں فعال کردار ادا کیا اور شاہ ایران کے خلاف تحریکوں میں پیش پیش رہے، جس کے باعث انہیں کئی بار گرفتار کیا گیا اور جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ انقلاب کے بعد وہ مختلف اہم عہدوں پر فائز ہوئے، جن میں ایران کے صدر کا عہدہ (1981-1989) بھی شامل ہے۔ 1989 میں امام خمینی کی وفات کے بعد وہ ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہوئے اور اپنی شہادت تک اس عہدے پر فائز رہے۔
بطور سپریم لیڈر، خامنہ ای ایران کے سب سے بااختیار شخصیت تھے، جو ملکی پالیسی کی سمت متعین کرنے، مسلح افواج کی کمان، عدلیہ کے سربراہ کی تقرری اور اہم ریاستی معاملات میں فیصلہ کن اختیار رکھتے تھے۔ ان کے دور میں ایران نے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو “مزاحمت کا جغرافیہ” قرار دیا، جس میں لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثیوں اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت شامل تھی۔ انہوں نے قمہ زنی کو حرام قرار دیا اور اتحاد بین المسلمین کی خاطر امہات المومنین و صحابہ کرام کی توہین کو حرام قرار دیا۔ وہ ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ مصنف اور شاعر بھی تھے، اور “امین” کے تخلص سے شاعری کرتے تھے۔
علاقائی اور عالمی ردعمل
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ پوری اسلامی دنیا کو سوگوار کر دیا۔ ایران کے اندر سوگ اور غم کے اظہار کے ساتھ ساتھ، ملک کی اعلیٰ سلامتی کونسل نے قاتلوں سے “مناسب وقت” پر بدلہ لینے کا عہد کیا ہے۔ تہران میں جنازے کے دوران لگائے جانے والے “مرگ بر امریکہ” اور “مرگ بر اسرائیل” کے نعرے اس عزم کا واضح اظہار ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر، ان کی شہادت پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے۔ جہاں ایک طرف بعض ممالک اور تنظیموں نے تعزیت کا اظہار کیا، وہیں بعض حلقوں میں جشن بھی منایا گیا، خصوصاً ایرانی ڈائسپورا کے بعض ارکان نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، اور ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کے بعد بھی، صورتحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی تقریبات جنازہ میں عدم شرکت کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں، جس کی وجہ ان کے زخمی ہونے کے خدشات ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا اور سخت گیر شخصیات نے کھل کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر براہ راست حملوں کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی شہادت کے بعد ایران کی پالیسی میں کوئی نرمی نہیں آئے گی، بلکہ ممکنہ طور پر سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ ان حالات میں عالمی طاقتیں خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ETV بھارت کی ایک رپورٹ کے مطابق، سابق سپریم لیڈر خامنہ ای کے جنازے کا جلوس عراق تک لے جائے گا اور اس میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت کا امکان ہے۔
میراث اور آئندہ چیلنجز
آیت اللہ علی خامنہ ای کی میراث ایک پیچیدہ اور کثیر الجہتی ہے۔ انہوں نے ایران کو ایک ایسے دور میں رہنمائی کی جس میں علاقائی اور عالمی سطح پر بڑے چیلنجز کا سامنا رہا۔ انہیں ایک عملی سخت گیر کے طور پر جانا جاتا تھا، جنہوں نے اندرون ملک بائیں بازو کے دھڑوں، اعتدال پسند علماء اور سیاسی مخالفین کو پس پشت ڈالا۔ ان کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام میں تیزی آئی، جس پر امریکہ اور اسرائیل سے کشیدگی برقرار رہی۔
شہادت کے بعد ایران کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے اہم چیلنج قیادت کی منتقلی اور داخلی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ نئے سپریم لیڈر، مجتبیٰ خامنہ ای، کو اپنے والد کی وسیع تجربے اور عوامی حمایت کے بغیر ملک کی رہنمائی کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ، جاری علاقائی تنازعات، مغرب کے ساتھ کشیدگی، اور ایران کے معاشی مسائل ان کے لیے بڑے امتحانات ہوں گے۔ ان کی شہادت نے ایرانی نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور آنے والے وقت میں ایران کی خارجہ اور داخلہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
نتیجہ
ایران میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کا جاری تاریخی جنازہ جلوس، ایک قوم کے گہرے سوگ اور عقیدت کا عکاس ہے۔ ان کی شہادت نے ایران کو ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ایک طرف غم و غصے کی لہر ہے تو دوسری طرف مزاحمت اور بدلے کا عزم بھی موجود ہے۔ یہ جنازہ تقریبات صرف ایک رہنما کی آخری رسومات نہیں، بلکہ ایک قوم کی مضبوطی، یکجہتی اور اپنے انقلابی نظریات سے وفاداری کا اعلان بھی ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای کی میراث آنے والے کئی سالوں تک ایران اور خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرتی رہے گی، اور ان کی شہادت کو اسلامی تاریخ کے ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
