مقبول خبریں

ایران نے آئی اے ای اے کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا: 2026 کا خطرناک جوہری تنازع

ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافائل گروسی پر سنگین عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس نے 2026 میں عالمی جوہری تنازع کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گروسی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی بجائے سیاسی محرکات کے تحت کام کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے مستقبل کے لیے تشویشناک ہے۔

ایران کے جوہری توانائی ادارے (AEOI) کے ترجمان بہروز کمالوندی نے واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک رافائل گروسی اپنا طرز عمل نہیں بدلتے، ایران ان پر اپنا اعتماد بحال نہیں کرے گا۔ ان کے بیانات کے مطابق، گروسی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹیں اور انٹرویو اکثر امریکہ، صیہونی حکومت اور یورپی ممالک کی جانب سے ایران پر دباؤ ڈالنے کا بہانہ بنتے ہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی اور فوجی حملوں کا تناظر

آئی اے ای اے اور ایران کے تعلقات کی سنگین نوعیت

ایران کے جوہری توانائی ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ گروسی کی سرگرمیاں پیشہ ورانہ دیانت داری سے ہٹ کر سیاسی مفادات کی عکاسی کرتی ہیں۔ کمالوندی نے اس رویے کا موازنہ آئی اے ای اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو کے دور سے کیا ہے، جب ایجنسی کے ساتھ ایران کے وسیع روابط کے باوجود سیاسی بیانات کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔

ایران کے مطابق، رافائل گروسی نے آئی اے ای اے کو امریکہ اور صیہونی حکومت کے ہاتھوں میں کھیلنے کی کوشش کی ہے، جس کے باعث ایجنسی کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایران اور عالمی برادری کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کی پیچیدگیاں

جوہری معائنوں پر بڑھتا تناؤ اور 2025 کے واقعات

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے کئی بار ایران کے جوہری پروگرام پر نگرانی کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ستمبر 2026 میں کہا تھا کہ ایجنسی کو جون 2025 سے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں “مکمل لاعلمی” ہے۔ گروسی کے مطابق، ایران کی جوہری سرگرمیوں اور مواد کے محل وقوع سے متعلق “معلومات کی مسلسل عدم موجودگی” اس کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت ذمہ داریوں کے لیے خطرناک ہے۔

جون 2025 میں، ایران نے اپنی جوہری تنصیبات پر مبینہ امریکی فضائی حملوں کی شدید مذمت کی اور آئی اے ای اے سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ایرانی حکام نے گروسی پر “غفلت اور خاموشی” اختیار کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین اور NPT کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے ممکنہ راستے

عالمی ادارے کی قرارداد اور ایران کا شدید ردعمل

ستمبر 2026 میں، آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے ایران کے خلاف ایک قرارداد منظور کی، جس میں اسے جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو رپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایران نے اس قرارداد کو “غیر قانونی، تکنیکی بنیاد سے عاری اور مکمل طور پر سیاسی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے الزام لگایا کہ اس اقدام پر امریکہ اور اسرائیل کا دباؤ واضح ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئی اے ای اے کے ایسے سیاسی اور غیر مؤثر اقدامات بعض ممالک کو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے دستبردار ہونے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ چین نے بھی اس قرارداد کی مخالفت کی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔

علاقائی فوجی کشیدگی اور عالمی سلامتی

اہم واقعات (2025-2026) ایران کا موقف آئی اے ای اے کا موقف
جون 2025: جوہری تنصیبات پر مبینہ حملے حملوں کی مذمت، آئی اے ای اے سے تحقیقات کا مطالبہ، گروسی پر “غفلت اور خاموشی” کا الزام۔ حملوں کے بعد ہنگامی اجلاس بلایا گیا، لیکن معائنوں میں رکاوٹ کا سامنا۔
ستمبر 2025: آئی اے ای اے سے تعاون معطلی پابندیاں مستقل نہ ہٹانے اور غیر قانونی پالیسیوں کے ردعمل میں تعاون معطل۔ ایران میں جوہری سرگرمیوں کی نگرانی میں “مکمل لاعلمی” اور تشویش کا اظہار۔
ستمبر 2026: آئی اے ای اے کی قرارداد قرارداد کو “غیر قانونی اور سیاسی” قرار دے کر مسترد کر دیا، NPT سے دستبرداری کا انتباہ۔ ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں پر سلامتی کونسل کو رپورٹ کرنے کا فیصلہ۔
ستمبر 2026: ایرانی جوہری سربراہ کی شرکت پر پابندی امریکی مخالفت کو رکن ملک کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا، احتجاج درج کرایا۔ کوئی براہ راست بیان نہیں، لیکن امریکی دباؤ کا اشارہ۔

جوہری معاہدے کی بحالی کے چیلنجز اور 2026 کی صورتحال

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کی بحالی کے لیے مذاکرات کافی عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے فروری 2026 میں کہا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معائنہ کے عمل پر معاہدہ ممکن ہے، لیکن یہ “انتہائی مشکل” ہے۔ خاص طور پر جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر مبینہ اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تہران کی جانب سے تعاون معطل کرنے سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

گروسی نے یہ بھی کہا کہ 2018 سے ایران کا جوہری پروگرام تیزی سے بڑھا ہے اور پابندیاں اپنی افادیت کھو چکی ہیں۔ یہ صورتحال مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جہاں ایران مستقل پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ امریکہ نئی شرائط عائد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ایران کے اہم بیانات اور قومی موقف

امریکی دباؤ اور ایرانی خودمختاری

ایران مسلسل یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ آئی اے ای اے کے اقدامات پر امریکہ اور اسرائیل کا دباؤ ہے۔ ستمبر 2026 میں، ایران کے جوہری سربراہ محمد اسلامی کو امریکی مخالفت کے باعث ویانا میں آئی اے ای اے کی سالانہ کانفرنس میں شرکت سے روک دیا گیا۔ ایران نے اس اقدام کو اپنے رکن ملک کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔

حیرت انگیز طور پر، امریکی مخالفت کے باوجود، ستمبر 2026 میں ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جنرل کانفرنس کی جنرل کمیٹی کا رکن منتخب ہو گیا۔ ایرانی حکام نے اسے امریکہ کی کوششوں کی ناکامی قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایران کو آئی اے ای اے کے اجلاسوں میں مکمل اور مؤثر شرکت کا حق حاصل ہے۔

امریکی قیادت کی جانب سے ایران کو انتباہات

این پی ٹی سے دستبرداری کا امکان اور عالمی اثرات

آئی اے ای اے کی قرارداد کے بعد، ایران نے NPT سے دستبرداری اور اپنے جوہری نظریے پر نظر ثانی کرنے کو ممکنہ آپشنز قرار دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی صدارتی کمیٹی کے ترجمان عباس گودرزی نے کہا کہ یہ اقدام امریکہ اور اس کے حواریوں کو ان کی صحیح جگہ دکھا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جو جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

اگر ایران NPT سے دستبردار ہوتا ہے، تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، کیونکہ اس سے عالمی امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی معاہدوں کے چیلنجز

ایران کی جوہری صلاحیت اور دفاعی موقف 2026

ایران مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران کے جوہری توانائی کے ترجمان بہروز کمالوندی نے ستمبر 2026 میں کہا کہ ایران کا “جوہری علم اور صنعت” گہری بنیادیں رکھتی ہے اور اسے فوجی حملوں یا تخریب کاری سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے جائز حقوق کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی پُرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھے گا۔

صدر ٹرمپ نے ستمبر 2026 میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے ایسا کرنے دیا جائے گا۔ تاہم، ایران کا موقف ہے کہ اس کی حساس جوہری تنصیبات زیر زمین ہونے کے باوجود ہمیشہ عالمی ایجنسی کے معائنے کے تابع رہی ہیں، لیکن جنگی اور سیکیورٹی چیلنجز کی وجہ سے بعض اوقات رسائی محدود ہو جاتی ہے۔