مقبول خبریں

ایران نے جنوبی پارس گیس فیلڈ کی 40 فیصد تباہ شدہ صلاحیت کو دوبارہ بحال کر لیا

ایران نے جنوبی پارس گیس فیلڈ کی 40 فیصد تباہ شدہ صلاحیت کو دوبارہ بحال کر لیا ہے، جو ملک کی توانائی کی حفاظت اور معاشی استحکام کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو مغربی ممالک کی جانب سے سخت پابندیوں اور حالیہ تنازعات کے دوران اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔ جنوبی پارس گیس فیلڈ دنیا کا سب سے بڑا سمندری قدرتی گیس فیلڈ ہے اور ایران کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فیلڈ کی بحالی ایران کی خود انحصاری اور تکنیکی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ مضمون اس بحالی کے عمل، اس کی اہمیت، اور ایران کے توانائی کے شعبے میں حالیہ پیش رفتوں کا تفصیلی جائزہ پیش کرے گا۔

تعارف: ایران کی توانائی کی حکمت عملی اور جنوبی پارس کی اہمیت

ایران، روس کے بعد دنیا میں قدرتی گیس کے دوسرے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر رکھنے والا ملک ہے، اور اس کی توانائی کی حکمت عملی میں قدرتی گیس ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ تیل اور گیس کی پیداوار اور برآمدات پر منحصر ہے۔ جنوبی پارس گیس فیلڈ، جو خلیج فارس میں واقع ہے اور قطر کے ساتھ مشترکہ ہے، اس ایرانی توانائی کی پالیسی کا دل ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا سمندری قدرتی گیس فیلڈ ہے، جس کا ایرانی حصہ تقریباً 9,700 مربع کلومیٹر کے مجموعی رقبے میں سے 3,700 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں دنیا کے تقریباً 8 فیصد گیس کے ذخائر موجود ہیں، جن کا تخمینہ 14,000 بلین مکعب میٹر گیس اور 18 بلین بیرل گیس کنڈینسیٹ لگایا گیا ہے۔ یہ فیلڈ ایران میں بجلی کی پیداوار اور گھریلو توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس کی اہمیت صرف ملکی استعمال تک محدود نہیں بلکہ یہ ایران کی علاقائی اور عالمی توانائی منڈی میں پوزیشن کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ اسٹریٹیجک اہمیت کے پیش نظر، اس فیلڈ پر کسی بھی قسم کا حملہ یا اس کی پیداواری صلاحیت میں کمی ایران کی معیشت اور سیکیورٹی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

جنوبی پارس گیس فیلڈ کو پہنچنے والا نقصان اور بحالی کی کوششیں

حالیہ تنازعات کے دوران، بالخصوص امریکی فضائی حملوں میں جنوبی پارس گیس فیلڈ کی تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔ مارچ 2026 میں اسرائیلی حملوں کی بھی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد گیس کی پیداوار معطل ہو گئی تھی۔ یہ حملے ایران کی توانائی اور معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا تھے، اور ان کا مقصد عوام پر دباؤ ڈالنا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں تقریباً 25 ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد ایرانی گیس کی پیداوار متاثر ہوئی تھی۔ خلیجی ممالک نے ان حملوں کو “خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا تھا اور خطے میں توانائی تنصیبات کو مزید نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ ان سخت حالات میں ایران نے اپنی مقامی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے فوری طور پر بحالی کا کام شروع کر دیا۔ یہ بحالی کی کوششیں نہ صرف تکنیکی چیلنجز سے بھرپور تھیں بلکہ اس میں عالمی پابندیوں اور سیکیورٹی کے خطرات کا بھی سامنا تھا۔

امریکی فضائی حملے اور اس کے نتائج

جیسا کہ ایرانی نائب وزیر تیل احمد زراعت کار نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا، جنوبی پارس گیس فیلڈ کی متاثر ہونے والی صلاحیت میں سے تقریباً 40 فیصد امریکی فضائی حملوں کے دوران تباہ ہوئی تھی جسے اب دوبارہ پیداوار میں لایا گیا ہے۔ یہ حملے ایران کی توانائی کی سپلائی لائنوں کو ہدف بنانے اور ملک پر معاشی دباؤ بڑھانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ تھے۔ ان حملوں کا فوری اثر یہ ہوا کہ گیس کی پیداوار میں کمی آئی، جس سے ایران کو اپنی مقامی ضروریات کو پورا کرنے اور برآمدات کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی توانائی منڈی میں بھی تشویش پیدا کی، کیونکہ مشرق وسطیٰ کا خطہ دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے بھی پورے خطے میں عسکری اور توانائی کے ڈھانچے پر میزائلوں اور ڈرونز سے جوابی کارروائیاں کیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

بحالی کا عمل: پیشرفت اور چیلنجز

جنوبی پارس گیس فیلڈ کی بحالی کا عمل ایک منظم اور منصوبہ بند طریقے سے جاری ہے۔ پارس آئل اینڈ گیس کمپنی کے سی ای او تورج دہقانی نے بتایا کہ “12 روزہ جنگ” کے دوران ریفائنری کو نشانہ بنائے جانے کے فوری بعد ہی اس کی تعمیرِ نو کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔ ابتدا میں نقصان کا شکار ہونے والی تین پیداواری یونٹس کو 10 دن سے بھی کم وقت میں دوبارہ فعال کر کے پیداوار پر بحال کر دیا گیا تھا۔ ملبہ ہٹانے کا کام مکمل ہو چکا ہے، اور تعمیر نو کا عمل منصوبہ بندی کے ساتھ جاری ہے۔ اگرچہ ابتدائی اندازوں کے مطابق تنصیبات کی مکمل تعمیر نو میں کم از کم تین سال لگنے تھے، تاہم گہری منصوبہ بندی اور متبادل طریقے استعمال کر کے، کچھ ٹرینوں کو سال کے آخر تک دوبارہ فعال کرنے کا ہدف ہے اور مجموعی تعمیر نو کو دو سال کے اندر مکمل کرنے کی توقع ہے۔

آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے جنوبی پارس گیس فیلڈ کے تین سمندری پلیٹ فارمز سے گیس کی پیداوار دوبارہ بحال کر دی ہے۔ ان پلیٹ فارمز کو مارچ 2026 میں اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد معطل کیا گیا تھا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بتایا کہ حملوں میں براہ راست کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا، اور مرمت کا کام جاری ہے۔ اس عمل میں مقامی انجینئرز اور ماہرین کی مہارت اور لگن نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

صلاحیت کی بحالی: 40 فیصد پیداوار کی واپسی

ایران نے جنوبی پارس گیس فیلڈ کی 40 فیصد تباہ شدہ صلاحیت کو کامیابی کے ساتھ بحال کر لیا ہے، جس سے ملک کی گیس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک اہم علامتی اور عملی کامیابی ہے، جو دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ایران اپنی توانائی تنصیبات کو تیزی سے بحال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس بحالی کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے جو ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ یہ پیش رفت اسٹریٹیجک اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ایران کو 2018 میں امریکی پابندیوں کے بعد سے اپنے تیل اور گیس کے ذخائر کو وسعت دینے کے لیے مقامی سرمایہ کاری اور ملکی ماہرین پر انحصار کرنا پڑا ہے۔ بحالی کا یہ عمل نہ صرف اقتصادی پہلوؤں سے اہم ہے بلکہ یہ ایرانی عوام کے حوصلے بلند کرنے اور یہ ظاہر کرنے میں بھی مددگار ہے کہ ملک مشکل حالات میں بھی ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکتا ہے۔

مندرجہ ذیل جدول جنوبی پارس گیس فیلڈ اور حالیہ گیس دریافت سے متعلق چند اہم حقائق کو نمایاں کرتا ہے:

تفصیلاعداد و شمار/معلومات
فیلڈ کا نامجنوبی پارس گیس فیلڈ (اور حال ہی میں دریافت شدہ تخت اے فیلڈ)
عالمی حیثیتدنیا کا سب سے بڑا سمندری قدرتی گیس فیلڈ
ایران کا حصہ (رقبہ)3,700 مربع کلومیٹر (کل 9,700 مربع کلومیٹر میں سے)
گیس کے ثابت شدہ ذخائر (ایران کا حصہ)تقریباً 14,000 بلین مکعب میٹر (دنیا کے 8 فیصد ذخائر)
گیس کنڈینسیٹ کے ذخائرتقریباً 18 بلین بیرل
حالیہ بحال شدہ صلاحیت40 فیصد تباہ شدہ صلاحیت
نئے دریافت شدہ گیس فیلڈ میں کل گیس7.5 ٹریلین مکعب فٹ سے زائد
نئے دریافت شدہ گیس فیلڈ سے قابل حصول گیستقریباً 5.7 ٹریلین مکعب فٹ
نئے ذخائر کی گیس کی نوعیت“سوئیٹ” گیس (کم سلفر)
نئے ذخائر کا تخمینہجنوبی پارس کے ایک فیز کی 15 سال کی پیداوار کے برابر

ایران میں گیس کے نئے ذخائر کی دریافت: ایک اہم پیش رفت

جنوبی پارس فیلڈ کی بحالی کے ساتھ ساتھ، ایران نے حال ہی میں جنوبی صوبہ فارس میں گیس کے ایک نئے اور بڑے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے، جسے ‘تخت اے’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایران کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک اور اہم کامیابی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب اسے پابندیوں اور تنازعات کا سامنا ہے۔ ایرانی وزیر پٹرولیم محسن پاک نژاد کے مطابق، اس نئے فیلڈ میں مجموعی طور پر 7.5 ٹریلین مکعب فٹ سے زائد گیس موجود ہے، جس میں سے تقریباً 5.7 ٹریلین مکعب فٹ گیس قابلِ استخراج ہے۔ یہ مقدار جنوبی پارس گیس فیلڈ کے ایک فیز کی تقریباً 15 سال کی پیداوار کے برابر ہے۔

اس نئے ذخیرے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں “سوئیٹ” قدرتی گیس موجود ہے، یعنی اس میں سلفر مرکبات کی مقدار نسبتاً کم ہے۔ یہ خصوصیت اس کی ترقی اور آپریشنل لاگت کو نمایاں طور پر کم کرنے میں مدد دے گی۔ مزید برآں، اس دریافت میں گیس کنڈینسیٹ (پٹرولیم مائع) کی بھی ایک بڑی مقدار شامل ہے، جس نے ملک کے لیے اربوں ڈالرز کی نئی دولت پیدا کی ہے۔ ایرانی حکومت اس گیس فیلڈ کی ترقی کے لیے تیزی سے کام آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ نئے ذخائر سے گیس کی پیداوار شروع کی جا سکے، اور اس کے بعد یہاں سے صنعتی صارفین اور زیادہ توانائی استعمال کرنے والے شعبوں کو گیس فراہم کی جا سکے۔ یہ نئی دریافت نہ صرف ایران کی مقامی توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرے گی بلکہ اسے عالمی توانائی منڈی میں بھی مزید مضبوط پوزیشن فراہم کرے گی۔

مستقبل کے امکانات اور علاقائی اثرات

جنوبی پارس گیس فیلڈ کی بحالی اور نئے گیس ذخائر کی دریافت ایران کے مستقبل کے توانائی کے امکانات کے لیے انتہائی مثبت ہیں۔ یہ پیش رفتیں امریکی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے اور ایران کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ ایران مقامی پیداوار میں اضافے اور صنعت و توانائی کے شعبے کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مجموعی تعمیر نو کا عمل جو پہلے تین سال کا تخمینہ لگایا گیا تھا، اب دو سال کے اندر مکمل ہونے کی امید ہے۔

علاقائی سطح پر، ایران کی یہ کامیابیاں مشرق وسطیٰ کی توانائی کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ ایران اپنی فوجی حکمت عملی کو دفاعی سے جارحانہ انداز میں تبدیل کرنے کا عندیہ دے چکا ہے، جس کا اظہار حالیہ جنگ کے دوران تیز اور وسیع ردعمل کی صورت میں ہوا ہے۔ توانائی کے ذرائع پر کنٹرول اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ایران کو علاقائی طاقت کے طور پر مزید مضبوط بنائے گا۔ ایران کی اس پیشرفت کا اثر ایران-پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں پر بھی پڑ سکتا ہے، جسے “امن پائپ لائن” بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کو شدید توانائی بحران کا سامنا ہے، اور اگر امریکی دباؤ میں نرمی آتی ہے تو یہ منصوبہ ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے، جس سے پاکستان کو ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ سے قدرتی گیس حاصل ہو سکے گی۔ یہ علاقائی تعاون اور توانائی کی حفاظت کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم، ان ذخائر کو باقاعدہ پیداوار میں لانے کے لیے سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی۔

نتیجہ

ایران کی جانب سے جنوبی پارس گیس فیلڈ کی 40 فیصد تباہ شدہ صلاحیت کی بحالی اور نئے گیس ذخائر کی دریافت ایک اہم کامیابی ہے جو ملک کی لچک اور خود انحصاری کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ پیش رفتیں نہ صرف ایران کی داخلی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیں گی بلکہ اسے عالمی اور علاقائی سطح پر ایک مضبوط توانائی فراہم کنندہ کے طور پر بھی ابھاریں گی۔ عالمی پابندیوں اور تنازعات کے باوجود، ایران نے اپنی مقامی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے توانائی کے شعبے میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔ یہ نہ صرف ایران کے لیے اقتصادی فوائد کا باعث بنے گا بلکہ مشرق وسطیٰ کی توانائی کی حرکیات اور علاقائی تعلقات پر بھی دور رس اثرات مرتب کرے گا۔ مستقبل میں، ان بحالی اور دریافتوں کے مکمل اثرات ایران کی اقتصادی ترقی اور عالمی توانائی کی حفاظت میں اس کے کردار کو مزید واضح کریں گے۔