ایران پر حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک میں نہ کہہ دوں بس بہت ہوگیا، ٹرمپ۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے صدارتی دور میں اور اس کے بعد بھی متعدد بار دہرائے، اور یہ الفاظ آج بھی بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں ایک گونج رکھتے ہیں۔ ان کے اس جارحانہ اور غیر مشروط موقف نے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا تھا۔ یہ بیان ایک ایسی پالیسی کی عکاسی کرتا تھا جس میں فوجی طاقت کے استعمال کا اشارہ واضح تھا اور اس میں کسی بھی قسم کی رعایتی یا سفارتی لچک نظر نہیں آتی تھی۔ اس بیان نے عالمی برادری میں شدید تشویش پیدا کی تھی اور ایران کے ساتھ ایک بڑے فوجی تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا تھا۔
مقدمہ: ٹرمپ کا دھمکی آمیز بیان اور اس کے مضمرات
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملوں کو “بس بہت ہوگیا” کہنے تک جاری رکھنے کا بیان، عالمی سیاست میں ایک انتہائی خطرناک اور غیر متوقع عنصر ثابت ہوا۔ یہ بیان دراصل ٹرمپ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم کا ایک حصہ تھا جس کا مقصد ایران کو اپنے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں کی ترقی، اور علاقائی پراکسی فورسز کی حمایت سے دستبردار کرانا تھا۔ ٹرمپ کے بیانات اکثر ایک غیر روایتی سفارتی انداز کا حصہ رہے ہیں، جہاں دھمکیاں اور سخت لہجہ بات چیت کے دروازے کھولنے یا اپنے مطالبات منوانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ تاہم، ایران کے معاملے میں، اس حکمت عملی نے کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے اسے مزید بڑھا دیا اور دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ کئی بار منڈلاتا رہا۔ یہ صرف زبانی دھمکیاں نہیں تھیں بلکہ ان کے ساتھ ہی متعدد عملی اقدامات بھی کیے گئے جن میں شدید اقتصادی پابندیاں، خلیجی خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ، اور اہم ایرانی شخصیات کو نشانہ بنانا شامل تھا۔ اس بیان کے مضمرات صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں تھے بلکہ اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی کی منڈی پر بھی مرتب ہوئے۔
امریکی-ایرانی تعلقات کا تاریخی پس منظر
امریکہ اور ایران کے تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور یہ ہمیشہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب سے قبل دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات تھے، لیکن شاہ کے تختہ الٹنے اور اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد سے یہ تعلقات مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔ انقلاب کے بعد تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے اور یرغمالی بحران نے دونوں ممالک کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی۔ اس کے بعد سے، ایران کو امریکہ نے “دہشت گردی کی سرپرست ریاست” قرار دیا جبکہ ایران نے امریکہ کو “بڑا شیطان” کا لقب دیا۔
- 1980 کی دہائی: ایران-عراق جنگ کے دوران امریکہ کا عراق کی حمایت کرنا، جس نے ایران میں امریکہ مخالف جذبات کو مزید تقویت دی۔
- 1990 کی دہائی: دونوں ممالک کے درمیان کوئی خاص سفارتی پیش رفت نہیں ہوئی، اور امریکہ نے ایران پر مختلف پابندیاں عائد کیں۔
- 2000 کی دہائی: 11 ستمبر کے حملوں کے بعد جارج ڈبلیو بش انتظامیہ نے ایران کو “برائی کا محور” قرار دیا، جس سے جوہری پروگرام پر کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
- اوباما دور: 2015 میں تاریخی جوہری معاہدہ (JCPOA) طے پایا، جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کیا اور بدلے میں اس پر سے عالمی پابندیاں ہٹائی گئیں۔ یہ معاہدہ امن کی ایک امید سمجھا گیا تھا۔
یہ تاریخی پس منظر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے اور جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ ٹرمپ کا موقف تھا کہ JCPOA ایک “خامیوں سے بھرا” معاہدہ ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہیں روکتا اور نہ ہی اس کے دیگر علاقائی سرگرمیوں کو روکتا ہے۔ ان کا “بس بہت ہوگیا” کا بیان دراصل اسی تاریخی رنجشوں اور اوباما انتظامیہ کی پالیسیوں سے انحراف کی عکاسی کرتا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی: دباؤ اور دھمکی
ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کا محور “زیادہ سے زیادہ دباؤ” (Maximum Pressure) کی مہم تھی۔ اس پالیسی کے تحت، امریکہ نے ایران پر تاریخ کی سخت ترین اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں، جس کا مقصد ایران کی معیشت کو مفلوج کرنا اور اسے عالمی نظام سے الگ تھلگ کرنا تھا۔ ان پابندیوں نے ایران کی تیل کی برآمدات کو شدید متاثر کیا، جس سے ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا۔ اس دباؤ کا مقصد ایران کو ایک نئے اور زیادہ جامع معاہدے پر مجبور کرنا تھا جو اس کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور علاقائی پراکسیز کی حمایت جیسے تمام معاملات کو حل کرے۔
- جوہری معاہدے سے دستبرداری: ٹرمپ نے مئی 2018 میں JCPOA سے امریکہ کی یکطرفہ دستبرداری کا اعلان کیا، جسے بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
- پابندیوں کا نفاذ: تیل کی صنعت، بینکنگ، اور شپنگ سمیت ایران کے اہم شعبوں پر سخت پابندیاں دوبارہ عائد کی گئیں، جن میں یورپی ممالک پر بھی دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ایران کے ساتھ کاروبار بند کریں۔
- فوجی موجودگی میں اضافہ: خلیج فارس اور اس کے ارد گرد امریکی فوجی اثاثوں میں اضافہ کیا گیا، جس میں طیارہ بردار بحری بیڑے، بمبار طیارے، اور ہزاروں فوجی شامل تھے۔
- اسلامی انقلابی گارڈ کور کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا: اپریل 2019 میں امریکہ نے ایران کی پاسداران انقلاب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا، جو کسی ملک کی سرکاری فوج کے خلاف پہلی بار کیا جانے والا اقدام تھا۔
- قاسم سلیمانی کا قتل: جنوری 2020 میں بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا گیا، جس نے دونوں ممالک کو براہ راست فوجی تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
“ایران پر حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک میں نہ کہہ دوں بس بہت ہوگیا” کا بیان اس پالیسی کا ایک اہم نفسیاتی ہتھیار تھا، جس کا مقصد ایران کو یہ باور کرانا تھا کہ امریکہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ یہ بیان خطے میں ایران کے ردعمل اور ممکنہ جوابی کارروائیوں کو بھی ہوا دیتا رہا۔
خطے پر ممکنہ اثرات: عدم استحکام اور تنازعات
ٹرمپ کے جارحانہ بیانات اور پالیسیوں کے خطے پر گہرے اور وسیع اثرات مرتب ہوئے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار تھا، اور امریکی-ایرانی کشیدگی نے اس عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا۔
| علاقائی اداکار | ممکنہ ردعمل/اثرات |
|---|---|
| سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات | ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے امریکی پالیسیوں کی حمایت، لیکن براہ راست تصادم کے ممکنہ نتائج پر تشویش۔ |
| اسرائیل | ایران کو اپنے جوہری پروگرام سے روکنے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے امریکی دباؤ کی بھرپور حمایت۔ فوجی کارروائی کی حمایت کا امکان۔ |
| عراق | امریکہ اور ایران کے درمیان تصادم کا میدان بننے کا شدید خطرہ۔ عراق میں موجود شیعہ ملیشیاؤں اور امریکی افواج کے درمیان جھڑپیں۔ |
| یمن | حوثی باغیوں اور سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان تنازع میں شدت، کیونکہ ایران حوثیوں کی حمایت کرتا ہے۔ |
| بین الاقوامی جہاز رانی | آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر حملوں یا سمندری راہوں میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا خطرہ، جس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ |
ٹرمپ کے بیان نے ایران کو بھی اپنے علاقائی اتحادیوں (جیسے لبنان میں حزب اللہ، شام میں اسد حکومت، اور یمن میں حوثی) کے ذریعے جوابی کارروائیوں پر مجبور کیا۔ اس سے خطے میں پراکسی جنگوں میں شدت آئی اور امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہوئی۔ امریکی فوجی موجودگی میں اضافے اور ایران کی جوابی حکمت عملی کے نتیجے میں، معمولی غلط فہمی یا حادثہ بھی ایک بڑے تنازع کو جنم دے سکتا تھا، جس کے اثرات کئی ممالک تک پھیل سکتے تھے۔
عالمی ردعمل اور عالمی طاقتوں کا کردار
ٹرمپ کے “ایران پر حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک میں نہ کہہ دوں بس بہت ہوگیا” جیسے بیانات کو عالمی برادری میں ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں امریکہ کے روایتی اتحادی جیسے سعودی عرب اور اسرائیل نے اس پالیسی کی کسی حد تک حمایت کی، وہیں یورپی ممالک، روس اور چین نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ یورپی یونین، جو JCPOA کی ایک اہم فریق تھی، نے امریکہ کے یکطرفہ معاہدے سے دستبرداری کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ایران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ان ممالک نے کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا۔
- یورپی یونین: JCPOA کو بچانے اور ایران کو اس پر قائم رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں، اور امریکہ کی پابندیوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
- روس اور چین: دونوں ممالک نے امریکہ کی جانب سے ایران پر دباؤ اور دھمکیوں کی شدید مذمت کی اور جوہری معاہدے کی حمایت جاری رکھی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو برقرار رکھا۔
- اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے ہمیشہ فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی اپیل کی۔
عالمی طاقتوں کا کردار اس حوالے سے انتہائی اہم تھا کہ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی تصادم کو روکنے میں مدد کی۔ ان ممالک نے سفارتی چینلز کو کھلا رکھا اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں، حالانکہ امریکہ کے سخت موقف کی وجہ سے ان کوششوں کو محدود کامیابی ملی۔ اس تناظر میں، بین الاقوامی اداروں اور ممالک کی یہ کوششیں قابل تحسین ہیں جنہوں نے عالمی امن کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ اس صورتحال کو مزید بہتر طور پر سمجھنے کے لیے بی بی سی اردو کی رپورٹ پڑھنا مفید ہو سکتا ہے، جو امریکی-ایرانی کشیدگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔
ایران کا موقف اور جوابی حکمت عملی
ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات اور “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم کے جواب میں، ایران نے بھی اپنا سخت موقف اختیار کیا۔ ایران نے امریکی پابندیوں کو “اقتصادی دہشت گردی” قرار دیا اور کہا کہ وہ دباؤ میں آکر کسی نئے معاہدے پر بات چیت نہیں کرے گا۔ ایران کے رہنماؤں نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ امریکی دھمکیوں کے سامنے جھکیں گے نہیں اور اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
- جوہری معاہدے کی خلاف ورزی: امریکہ کے JCPOA سے دستبرداری کے ایک سال بعد، ایران نے بھی بتدریج معاہدے کی کچھ شرائط کی خلاف ورزی کرنا شروع کر دی، جس میں یورینیم کی افزودگی کی سطح اور ذخیرہ کو بڑھانا شامل تھا۔ ایران کا موقف تھا کہ جب تک باقی فریق معاہدے پر عمل نہیں کرتے، وہ بھی پابند نہیں رہے گا۔
- علاقائی پراکسیز کی حمایت: ایران نے اپنے علاقائی اتحادیوں اور پراکسی گروپس کی حمایت جاری رکھی، اور انہیں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنے کے اشارے بھی دیے۔ خلیجی پانیوں میں تیل بردار جہازوں پر حملے، امریکی اڈوں پر راکٹ حملے، اور ڈرون حملے اس جوابی حکمت عملی کا حصہ تھے۔
- سفارتی مزاحمت: ایران نے اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر امریکہ کے خلاف شکایت کی اور اپنی پوزیشن کا دفاع کیا۔ اس نے یورپی ممالک کو JCPOA کو بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے پر زور دیا۔
- مقامی دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینا: ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی کو تیزی سے ترقی دی تاکہ کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کا مقابلہ کر سکے۔
ایران کی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم سے گریز کرتے ہوئے، اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو برقرار رکھے اور امریکی دباؤ کا مقابلہ کرے۔ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران نے عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے، تاہم اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کوئی بڑا فوجی تصادم نہیں ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران بھی ایک مکمل جنگ سے گریزاں تھا لیکن وہ اپنی طاقت اور عزم کا اظہار کرنے سے بھی باز نہیں آیا۔
مستقبل کے امکانات اور علاقائی امن کی راہ
ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد بھی، “ایران پر حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک میں نہ کہہ دوں بس بہت ہوگیا” جیسے بیانات کے اثرات اور ان سے پیدا ہونے والی کشیدگی پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔ بائیڈن انتظامیہ نے اگرچہ سفارت کاری کی بحالی اور JCPOA میں دوبارہ شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی، لیکن مذاکرات کا عمل سست روی کا شکار رہا اور کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ ایران کے جوہری پروگرام میں پیش رفت اور اس کی علاقائی سرگرمیاں اب بھی ایک چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
- مذاکرات کی بحالی: مستقبل میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے مذاکرات کی بحالی اہم ہوگی۔ تاہم، دونوں فریقوں کے مطالبات اور توقعات میں نمایاں فرق موجود ہیں۔
- علاقائی استحکام: مشرق وسطیٰ کے ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت اور اعتماد سازی کے اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
- امریکی داخلی سیاست: امریکہ میں آئندہ انتخابات اور اس کے نتائج بھی ایران پالیسی پر گہرا اثر ڈالیں گے۔ ایک نئی انتظامیہ کا رخ ایران کے حوالے سے مختلف ہو سکتا ہے۔
- ایرانی قیادت کا ردعمل: ایران میں آنے والی قیادت بھی اپنے ملک کی خارجہ پالیسی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اہم فیصلے کرے گی۔
خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین فوجی حل کے بجائے سفارتی اور سیاسی حل کو ترجیح دیں۔ عالمی طاقتوں کو ایک متفقہ حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی جو ایران کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کرے، لیکن ساتھ ہی اسے اس کے جائز سکیورٹی خدشات پر بھی توجہ دی جائے۔ فوجی دھمکیاں اور دباؤ کی پالیسیاں ماضی میں بھی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوئی ہیں، اور ان سے صرف کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ لہٰذا، جامع اور طویل مدتی حل کے لیے مفاہمت اور سفارتی حکمت عملی ہی واحد راستہ ہے۔
نتیجہ
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ “ایران پر حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک میں نہ کہہ دوں بس بہت ہوگیا” ایک ایسی پالیسی کا عکاس تھا جس نے امریکہ اور ایران کے تعلقات کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا۔ اس بیان نے نہ صرف خطے میں شدید عدم استحکام پیدا کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم، جس میں اقتصادی پابندیاں اور فوجی دھمکیاں شامل تھیں، نے ایران کو پسپا کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے نتیجے میں ایران نے بھی جوابی اقدامات کیے اور اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھایا۔ اگرچہ ٹرمپ کے بعد کشیدگی میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن امریکہ اور ایران کے تعلقات اب بھی حساس ہیں اور ایک متوازن اور جامع سفارتی حل کی ضرورت ہے۔ عالمی امن کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ تمام فریقین مذاکرات اور باہمی احترام کا راستہ اپنائیں تاکہ مشرق وسطیٰ کو ایک بڑے تنازع سے بچایا جا سکے۔ صرف گفت و شنید اور عالمی تعاون سے ہی اس پیچیدہ مسئلے کا پائیدار حل نکالا جا سکتا ہے۔


