مقبول خبریں

ایران کے ساتھ جوکچھ ہوا، وہ روایتی جنگ نہیں تھی، امریکی صدر

ایران کے ساتھ جوکچھ ہوا، وہ روایتی جنگ نہیں تھی، یہ امریکی صدر کا وہ بیان ہے جس نے عالمی سطح پر جاری امریکہ-ایران تنازع کی نوعیت کو ایک نئی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ یہ بیان محض ایک سیاسی رائے نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں دہائیوں سے جاری کشیدگی، اس کی بدلتی صورتحال اور جدید جنگی حکمت عملیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ روایتی جنگ عموماً ریاستوں کے درمیان فوجوں کے براہ راست ٹکراؤ، اعلانِ جنگ اور واضح محاذوں کے ساتھ لڑی جاتی ہے، جبکہ امریکی صدر کا یہ کہنا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے واقعات روایتی جنگ نہیں تھے، اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ دور کے تنازعات کہیں زیادہ پیچیدہ، کثیر جہتی اور غیر روایتی طریقوں پر مبنی ہیں۔ یہ مضمون امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی بدلتی نوعیت، غیر روایتی جنگ کے مختلف پہلوؤں، اس کے عالمی اور علاقائی اثرات اور مستقبل کے امکانات کا گہرائی سے جائزہ لے گا۔

امریکی صدر کا بیان: روایتی اور غیر روایتی جنگ کا فرق

امریکی صدر کا یہ بیان کہ “ایران کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ روایتی جنگ نہیں تھی“، جدید جنگی نظریات اور بین الاقوامی تعلقات کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ روایتی جنگ کی تعریف میں واضح طور پر دو یا دو سے زیادہ ریاستوں کے درمیان مسلح افواج کا باقاعدہ تصادم، جنگ کا اعلان، اور جغرافیائی سرحدوں پر ہونے والی لڑائیاں شامل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، غیر روایتی جنگ، جسے “ہائیبرڈ وارفیئر” یا “گرے زون” تنازعات بھی کہا جاتا ہے، میں فوجی، اقتصادی، سائبر، اطلاعاتی اور پراکسی کارروائیوں کا ایک مجموعہ شامل ہوتا ہے جو روایتی جنگ کی حدوں سے باہر ہوتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں کئی دہائیوں سے کشیدگی پائی جاتی ہے، لیکن یہ کشیدگی اکثر براہ راست روایتی جنگ کی شکل اختیار نہیں کر سکی ہے۔ اس کے بجائے، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف ایسی حکمت عملیاں اپنائی ہیں جو روایتی جنگ کے قوانین اور حدود سے ہٹ کر ہیں۔

ایران کے ساتھ کوئی نقصان دہ معاہدہ نہیں کروں گا: امریکی صدر

ان واقعات میں فوجی اڈوں پر محدود حملے، تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانا، اہم شخصیات کی ٹارگٹڈ ہلاکتیں، اور سائبر حملے شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، 3 جنوری 2020 کو امریکی ڈرون حملے میں ایرانی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو ایران نے “ریاستی دہشت گردی” قرار دیا تھا اور یہ ایک غیر روایتی کارروائی تھی جو باقاعدہ اعلان جنگ کے بغیر کی گئی تھی۔ اس کے ردعمل میں ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے، جسے جوابی کارروائی قرار دیا گیا لیکن یہ بھی مکمل جنگ میں تبدیل نہیں ہوا۔ امریکی صدر کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگ کے تصور میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے، جہاں روایتی فوجی تصادم کی بجائے ایک وسیع تر اور غیر علانیہ جنگ کا دائرہ کار موجود ہے۔

امریکہ-ایران کشیدگی کی بدلتی نوعیت اور تاریخی پس منظر

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی تاریخ 1979 کے ایرانی انقلاب سے قبل ہی شروع ہو چکی تھی، جب امریکہ نے ایران میں سیاسی مداخلت کی اور 1953 میں بغاوت کے ذریعے محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر شاہ ایران محمد رضا پہلوی کو مکمل اختیارات واپس دلائے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد، جب آیت اللہ خمینی نے اقتدار سنبھالا اور امریکہ کو “شیطانِ بزرگ” قرار دیا، دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید بگاڑ پیدا ہو گیا اور امریکی سفارت خانے پر قبضے کے بعد سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے۔ تب سے، دونوں ممالک براہ راست فوجی محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے، مختلف سفارتی واقعات اور مشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگوں میں ملوث رہے ہیں، جس نے ان کے تعلقات کو ایک “بین الاقوامی بحران” کی شکل دے دی ہے۔

گزشتہ چند دہائیوں میں، اس کشیدگی نے کئی اہم موڑ لیے۔ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) ایک ایسا لمحہ تھا جب تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی، لیکن 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدے سے دستبرداری اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیوں کا نفاذ اس کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بنا۔ ان پابندیوں نے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا اور ملک میں غربت کی شرح میں اضافہ کیا۔ اس کے بعد کے واقعات، جیسے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں پر حملے، ڈرون گرائے جانے، اور 2020 میں جنرل سلیمانی کی ہلاکت، نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ تاہم، پھر بھی دونوں فریقین نے مکمل روایتی جنگ سے گریز کیا اور حالات کو مکمل طور پر بگڑنے سے بچانے کی کوشش کی، جو اس بات کی غمازی ہے کہ وہ ایک غیر روایتی جنگی صورتحال میں داخل ہو چکے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، 2026 میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی کوششیں جاری ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

غیر روایتی جنگ کے کلیدی پہلو: سائبر، اقتصادی اور پراکسی تصادم

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تصادم کو اگر روایتی جنگ نہیں کہا جا رہا تو اس کی سب سے بڑی وجہ اس میں غیر روایتی جنگ کے کئی کلیدی پہلوؤں کا شامل ہونا ہے۔

  • اقتصادی جنگ (Economic Warfare): امریکہ نے ایران پر وسیع پیمانے پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جن کا مقصد ایران کی معیشت کو مفلوج کرنا اور اسے اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ ان پابندیوں نے ایرانی تیل کی فروخت، مالیاتی لین دین اور بین الاقوامی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے ایرانی عوام کی زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایران کے مرکزی بینک، پاسداران انقلاب اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں تاکہ ان کی مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔
  • سائبر جنگ (Cyber Warfare): اگرچہ براہ راست سائبر حملوں کی مکمل تفصیلات ہمیشہ منظر عام پر نہیں آتیں، لیکن یہ واضح ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں سائبر میدان میں ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ سائبر حملے کسی بھی ملک کے بنیادی ڈھانچے، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور دفاعی نیٹ ورکس کو تباہ کر سکتے ہیں۔ ایران نے بھی اپنی دفاعی حکمت عملی میں سائبر صلاحیتوں کو مربوط کیا ہے اور وہ ایسے خطرات کے خلاف فعال نظر آتا ہے۔
  • پراکسی جنگیں (Proxy Wars): امریکہ اور ایران مشرق وسطیٰ کے مختلف خطوں میں براہ راست لڑنے کی بجائے پراکسی فورسز کے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف سرگرم ہیں۔ ایران لبنان میں حزب اللہ، فلسطین میں حماس، یمن میں حوثی ملیشیا (انصار اللہ) اور عراق و شام میں شیعہ ملیشیاؤں کی حمایت کرتا رہا ہے۔ ان پراکسی گروہوں کے ذریعے ایران خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو چیلنج کرتا ہے اور اپنا اثر و رسوخ بڑھاتا ہے۔ یہ پراکسی تنازعات خطے میں عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں لیکن ان میں براہ راست ریاستی افواج آمنے سامنے نہیں ہوتیں۔
  • ٹارگٹڈ حملے اور ڈرون وارفیئر (Targeted Attacks & Drone Warfare): جنرل قاسم سلیمانی کا قتل امریکی ڈرون حملے کا نتیجہ تھا، جو غیر روایتی جنگ کی ایک واضح مثال ہے۔ اس طرح کے ٹارگٹڈ حملے مخصوص اہداف کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ دشمن کی قیادت یا صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے، بغیر کسی بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کے۔ ایران نے بھی جوابی کارروائیوں میں ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں جو غیر روایتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
پہلو روایتی جنگ غیر روایتی جنگ (امریکہ-ایران تناظر)
تعریف ریاستوں کے درمیان باقاعدہ فوجی تصادم، اعلان جنگ۔ فوجی، اقتصادی، سائبر، پراکسی اور معلوماتی کارروائیوں کا مجموعہ۔
فریقین واضح ریاستی افواج۔ ریاستی افواج کے ساتھ ساتھ پراکسی گروپس اور غیر ریاستی عناصر۔
کارروائی کا دائرہ میدان جنگ، فوجی تنصیبات، واضح محاذ۔ سائبر اسپیس، اقتصادی نظام، علاقائی پراکسی محاذ، ٹارگٹڈ کارروائیاں۔
قانونی حیثیت بین الاقوامی جنگی قوانین کے تحت واضح حیثیت۔ غیر علانیہ جنگ، قانونی ابہام، “فوجی اقدام” یا “مسلح ردعمل” کا نام۔
مثالیں عالمی جنگیں، 1965 پاک-بھارت جنگ۔ اقتصادی پابندیاں، سائبر حملے، جنرل سلیمانی کا قتل، پراکسی جنگیں (حزب اللہ، حوثی)۔

عالمی قوانین اور جدید جنگی حکمت عملیاں

غیر روایتی جنگوں کے بڑھتے ہوئے رجحان نے بین الاقوامی قانون کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ روایتی جنگوں کے لیے جنیوا کنونشنز اور دیگر بین الاقوامی معاہدے موجود ہیں، لیکن سائبر حملوں، اقتصادی پابندیوں اور پراکسی جنگوں جیسی غیر روایتی کارروائیوں پر ان قوانین کا اطلاق اکثر مبہم اور متنازع رہتا ہے۔ بین الاقوامی عرفی قانون کے تحت جنگ کا باقاعدہ اعلان ضروری نہیں ہوتا، اور دشمنانہ کارروائیوں کا آغاز ہی متحارب ارادوں کو واضح کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ تاہم، “فوجی اقدام” یا “مسلح رد عمل” جیسی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے ممالک اکثر جنگ کے باضابطہ اعلان سے گریز کرتے ہیں، جس سے قانونی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرنا پڑا ہے، جہاں ہر نیا حملہ اور دفاعی کارروائی کسی بڑے تصادم کے خطرے میں اضافہ کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شہریوں اور شہری تنصیبات پر تمام حملوں کی مذمت کی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ غیر روایتی جنگ میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ جدید جنگی حکمت عملیوں میں مصنوعی ذہانت (AI) اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کا استعمال بھی شامل ہو گیا ہے جو جنگ کے انداز کو مکمل طور پر بدل رہا ہے۔ اس سے “خاموشی” (stealth) کا عنصر اور دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کو ناکارہ بنانا ممکن ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے جنگی نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔

خطے پر غیر روایتی کشیدگی کے اثرات

امریکہ اور ایران کے درمیان غیر روایتی کشیدگی کے مشرق وسطیٰ پر گہرے اور وسیع تر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ خطہ پہلے ہی کئی دہائیوں سے عدم استحکام، تنازعات اور انسانی بحرانوں کا شکار ہے۔

  • عدم استحکام میں اضافہ: پراکسی جنگوں نے شام، یمن، عراق اور لبنان جیسے ممالک میں جاری تنازعات کو مزید شدت بخشی ہے۔ یہ ممالک دونوں طاقتوں کے درمیان بالواسطہ میدان جنگ بنے ہوئے ہیں، جہاں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔
  • اقتصادی اثرات: آبنائے ہرمز، جو دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی کا اہم بحری راستہ ہے، میں کشیدگی نے عالمی تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔ اقتصادی پابندیاں نہ صرف ایران کی معیشت بلکہ خطے کے دیگر ممالک کی تجارت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
  • سفارتی تعطل: غیر روایتی جنگی صورتحال سفارتی حل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔ 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں، جن میں بعض مواقع پر پیشرفت بھی دیکھنے میں آئی ہے، جیسے حملوں کو روکنے اور قطر میں ملاقات پر اتفاق۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی نئی پابندیوں کا نفاذ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی امن کی کوششوں کو پیچیدہ بناتی ہے۔ پاکستان اور قطر جیسے ممالک نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری اس کشیدگی کے خاتمے کی خواہاں ہے۔
  • عالمی تشویش: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا ہے، اور ماہرین کے مطابق اس کے اثرات عالمی معیشت اور امن پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں دوبارہ بڑے پیمانے پر عسکری کشیدگی شروع ہوئی تو خطے کے عوام، عالمی امن و سلامتی اور معیشت پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس تناظر میں پاکستان نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ طے پانے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنے پر اتفاق ہوا ہے۔ مزید برآں، امریکہ اور ایران کے درمیان قطر میں مذاکرات پر اتفاق ہوا ہے، جس کے تحت دونوں فریقین نے حملے روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا عہد کیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایران کی جوابی حکمت عملی اور مزاحمت

امریکی دباؤ اور غیر روایتی جنگی حربوں کے جواب میں ایران نے بھی اپنی ایک منفرد جوابی حکمت عملی اپنائی ہے، جسے “فعال اور غیر معمولی دفاع” (Active and Unprecedented Deterrence) اور “جارحانہ نظریے” (Offensive Doctrine) کا نام دیا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد خطرات کو اپنی سرحدوں سے دور رکھنا اور دشمن کو غیر متوقع طور پر حیران کرنا ہے۔ ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو روایتی افواج پر انحصار کرنے کی بجائے، ایک جامع اور ارتقائی دفاعی ماڈل تشکیل دیا ہے جو اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ انسانی استعداد اور مزاحمتی فکر پر بھی استوار ہے۔

  • میزائل پروگرام: ایران نے وسیع پیمانے پر اپنے مقامی میزائل پروگرام کو ترقی دی ہے، جو پابندیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود جاری ہے۔ یہ میزائل، جنہیں زیر زمین سرنگوں میں چھپایا گیا ہے، خطے میں امریکی اور اتحادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
  • خودکش ڈرونز اور سائبر صلاحیتیں: ایران نے شاہد ڈرونز سمیت خودکش ڈرونز کی نگرانی اور سائبر صلاحیتوں کو بھی اپنی دفاعی حکمت عملی میں شامل کیا ہے۔ ان کے ذریعے ایران نہ صرف دشمن کی جاسوسی کر سکتا ہے بلکہ جوابی حملے بھی کر سکتا ہے۔
  • علاقائی اتحادی: ایران نے اپنی قدس فورس کے ذریعے خطے میں اپنے اتحادیوں اور پراکسی گروہوں کو منظم کیا ہے، جن میں حزب اللہ، حماس اور حوثی ملیشیا شامل ہیں۔ یہ گروہ ایران کے دفاع کا ایک اہم حصہ ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے خلاف ایک مؤثر مزاحمتی قوت کے طور پر کام کرتے ہیں۔
  • طویل جنگی حکمت عملی: ایران نے امریکہ-عراق جنگ اور دیگر علاقائی تنازعات سے سبق سیکھتے ہوئے ایک طویل جنگی حکمت عملی تیار کی ہے، جس میں فضائی برتری کی بجائے زیر زمین تنصیبات اور غیر روایتی طریقوں پر زور دیا گیا ہے۔

مستقبل کے امکانات: تنازعات کا نیا چہرہ

امریکہ کے صدر کے اس بیان کے بعد کہ ایران کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ روایتی جنگ نہیں تھی، یہ واضح ہو جاتا ہے کہ عالمی سطح پر تنازعات کی نوعیت بدل چکی ہے۔ مستقبل میں ریاستوں کے درمیان مکمل، اعلان شدہ جنگوں کی بجائے “گرے زون” تنازعات، ہائبرڈ وارفیئر اور غیر روایتی کارروائیوں کا رجحان غالب رہے گا۔

  • جوہری معاہدے کی بحالی اور مذاکرات: امریکہ اور ایران کے درمیان کسی پائیدار حل کے لیے جوہری معاہدے کی بحالی اور اس پر نئے سرے سے بات چیت انتہائی ضروری ہے۔ حالیہ دنوں میں قطر، پاکستان، اومان اور دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں نے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی امید پیدا کی ہے، لیکن پابندیوں کا خاتمہ اور ایران کے جوہری پروگرام پر اتفاق رائے ابھی بھی حل طلب امور ہیں۔
  • سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل دفاع: چونکہ مستقبل کی جنگیں زیادہ تر سائبر اسپیس میں لڑی جائیں گی، اس لیے سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری دونوں ممالک کے لیے اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
  • علاقائی ڈی-ایسکلیشن: مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے علاقائی ڈی-ایسکلیشن اور پراکسی تنازعات کا حل ناگزیر ہے۔ امریکہ اور ایران کو خطے میں اپنے مفادات کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا اور بالواسطہ تصادم سے گریز کرنا ہوگا۔
  • بین الاقوامی قوانین کی موافقت: بین الاقوامی قوانین کو جدید جنگی حکمت عملیوں سے ہم آہنگ کرنا پڑے گا تاکہ غیر روایتی تنازعات میں بھی انسانی حقوق اور عالمی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
امریکی صدر کے ساتھ کوئی بات نہیں ہوئی، وہ ہمارے اہداف کا سُن کر پیچھے ہٹ گئے: پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایرانی خبر رساں ادارے فارس کا دعویٰ مزید تفصیل: https://bbc.in/3NBjKfi

نتیجہ

امریکی صدر کا یہ بیان کہ “ایران کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ روایتی جنگ نہیں تھی،” ایک اہم حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ کا تصور بدل چکا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اب براہ راست فوجی محاذ آرائی تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ اقتصادی پابندیوں، سائبر حملوں، پراکسی جنگوں اور ٹارگٹڈ کارروائیوں جیسے غیر روایتی طریقوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی قوانین اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں، جہاں “گرے زون” تنازعات کا حل تلاش کرنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ پر اس غیر روایتی کشیدگی کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام، اقتصادی مسائل اور انسانی بحرانوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات اور معاہدوں کی کوششیں بھی جاری ہیں، لیکن پائیدار امن کے لیے جامع اور دیرپا حل کی ضرورت ہے جو دونوں فریقین کے مفادات کا خیال رکھے۔ مستقبل کا منظرنامہ غیر یقینی ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ جدید تنازعات کو سمجھنے اور حل کرنے کے لیے روایتی نقطہ نظر سے ہٹ کر ایک نئی سوچ اور حکمت عملی درکار ہو گی۔