مقبول خبریں

ایک وقت تھا: سیاسی وفا، بے لوث خدمات اور بے اعتنائی کا المیہ

📅 Thursday, May 21, 2026

ایک وقت تھا جب پاکستان کی سیاسی گلیاروں میں کچھ ایسے نام گونجتے تھے جن کی موجودگی خبرناموں کا لازمی حصہ سمجھی جاتی تھی۔ یہ وہ شخصیات تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال کسی ایک سیاسی نظریے، کسی ایک جماعت، اور کسی ایک قیادت کے لیے وقف کر دیے۔ ان کی وفاداری بے مثال، ان کی خدمات بے لوث، اور ان کی محنت قابلِ رشک تھی۔ لیکن تاریخ کا ستم دیکھیے کہ یہی بے لوث وفاداری بعض اوقات ایسے المناک انجام سے دوچار ہوتی ہے کہ انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا سیاسی تعلقات میں صرف لین دین کا رشتہ ہوتا ہے یا اس میں انسانی اقدار کی بھی کوئی جگہ ہے؟ یہ کہانی ہے رحمان ملک، مشاہد اللہ خان اور عرفان صدیقی جیسی شخصیات کی، جنہوں نے اپنی اپنی جماعتوں کا سارا وزن اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا لیکن پھر جب زندگی کا سفر ختم ہوا تو سیاسی وفاداری کا یہ رشتہ بکھرتا نظر آیا۔

رحمان ملک: پیپلز پارٹی کی ڈھال، ایک فعال کردار

سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے ان رہنماؤں میں ہوتا تھا جو ہر وقت خبروں میں رہتے تھے۔ ایک وقت تھا جب کوئی بھی خبرنامہ ان کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا تھا اور وہ پاکستان کی سیاست کے سب سے فعال اور سب سے زیادہ اہم شخص تصور کیے جاتے تھے۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایک افسر کے طور پر ہوا، جہاں سے وہ ترقی کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ 90 کی دہائی میں ایف آئی اے کی ملازمت چھوڑنے کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور جلد ہی بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے قریب ترین ساتھیوں میں شامل ہو گئے۔ رحمان ملک نے 2008 سے 2013 تک وفاقی وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دیں، جو پاکستان کی تاریخ میں وزارت داخلہ کا ایک طویل ترین دور تھا۔ اس دوران انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ملکی سکیورٹی کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔ انہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان “میثاق جمہوریت” میں بھی کلیدی کردار ادا کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ رحمان ملک کو میڈیا میں رہنے کا فن خوب آتا تھا اور وہ اپنے دورِ حکومت میں دن میں کئی مرتبہ میڈیا سے مخاطب ہوتے تھے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ شجاعت اور نشانِ امتیاز جیسے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے مشکل ترین ادوار میں وہ پارٹی کے دفاع کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے اور انہوں نے پیپلز پارٹی کا سارا وزن اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا تھا۔ تاہم، ان کی وفات 23 فروری 2022 کو 70 سال کی عمر میں کورونا وائرس سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے اسلام آباد میں ہوئی۔

رحمان ملک کی وفات کے بعد یہ مشاہدہ کیا گیا کہ پارٹی کا کوئی ایک راہنماء بھی ان کے جنازے میں شریک نہ ہو سکا۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے جو سیاسی وفاداری کے تقاضوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ اگرچہ ان کی وفات پر پیپلز پارٹی کی قیادت اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ و غم کا اظہار کیا، لیکن جنازے میں مرکزی قیادت کی عدم شرکت نے بہت سے سوالات کو جنم دیا۔ ذرائع کے مطابق رحمان ملک خود بھی اپنی آخری زندگی میں پارٹی سے دوری کا گلہ کیا کرتے تھے۔ یہ صورتحال ان کی بے لوث خدمات کے تناظر میں ایک تلخ حقیقت کو نمایاں کرتی ہے۔

مشاہد اللہ خان: جرات مندانہ لہجہ اور مسلم لیگ (ن) کی آواز

مشاہد اللہ خان ایک اور ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا بیشتر حصہ ایک ہی جماعت یعنی پاکستان مسلم لیگ (ن) سے وابستہ رہ کر گزارا۔ وہ اپنی تند مزاجی، جرات مندانہ لہجے اور باتوں کو مروڑ کر طنز کے تیر برسانے کی صلاحیت کے لیے مشہور تھے۔ مشاہد اللہ خان کی پیدائش 1952 میں راولپنڈی میں ہوئی اور انہوں نے اپنی تعلیم گورڈن کالج راولپنڈی اور بعد میں کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف تحریکوں میں سرگرم حصہ لے کر کیا اور 1990 کی دہائی سے مسلم لیگ (ن) کا حصہ بن گئے۔ وہ نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور کئی مرتبہ سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ نواز شریف کے آخری دورِ حکومت میں وہ وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ مشاہد اللہ خان حبِ شریفین (شریف خاندان سے محبت) میں اتنے مست تھے کہ وہ پارلیمنٹ کے فلور پر بھی بازاری جملے کسنے سے نہ جھجکتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں اکثر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ وہ پارٹی کے بیانیے کا دفاع انتہائی جارحانہ انداز میں کرتے اور مخالفین پر کھل کر برس پڑتے تھے۔

مشاہد اللہ خان نے 18 فروری 2021 کو 68 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں وفات پائی۔ ان کی وفات پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے انہیں نواز شریف کا “وفادار اور غیر معمولی ساتھی” قرار دیتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں یہ افسوسناک خبر سن کر دھچکا لگا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور ان کی سیاسی و سماجی خدمات کو سراہا۔ لیکن اس کے باوجود یہ تاثر عام ہے کہ ان کی وفات پر چند تعزیتی پیغامات کے علاوہ وہ وقت کے ساتھ یادوں سے فراموش کر دیے گئے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاست کی دنیا میں جہاں انسان اپنے رہنماؤں کے لیے ہر قسم کی قربانی دیتا ہے، وہیں بعض اوقات ان کی خدمات کو جلد ہی بھلا دیا جاتا ہے۔

پاکستانی سیاست میں وفاداری اور انعام: ایک تقابلی جائزہ

پاکستانی سیاست میں وفاداری، خدمت اور اس کے بعد کی صورتحال ہمیشہ سے ایک بحث طلب موضوع رہی ہے۔ مندرجہ ذیل جدول تین اہم سیاسی شخصیات کے سیاسی سفر اور ان کی وفات کے بعد کی صورتحال کا ایک اجمالی جائزہ پیش کرتا ہے:

شخصیت کا نام وابستہ جماعت اہم سیاسی کردار وفات کی تاریخ وفات کے بعد کی صورتحال (مشاہدہ)
رحمان ملک پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی وزیر داخلہ، پیپلز پارٹی کے دفاعی محاذ پر فعال 23 فروری 2022 جنازے میں پارٹی قیادت کی مبینہ عدم شرکت
مشاہد اللہ خان پاکستان مسلم لیگ (ن) سینیٹر، وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی، پارٹی بیانیے کا جرات مندانہ دفاع 18 فروری 2021 وفات کے بعد جلد ہی یادوں سے فراموش کر دیے جانے کا تاثر
عرفان صدیقی پاکستان مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے مشیر اور کالم نگار، پارٹی بیانیے کی تشکیل 11 نومبر 2025 (متوقع) شریف خاندان کی جنازے میں عدم شرکت، اہم سیشن کی وجہ سے بیماری کا تاثر

عرفان صدیقی: قلم کے سپاہی، نواز شریف کے کاتب شریفین

عرفان صدیقی کا نام پاکستان کی صحافت اور سیاست دونوں میں ایک معتبر حوالہ رکھتا ہے۔ وہ ایک معروف کالم نگار، استاد اور دانشور تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ قلم کے ذریعے قوم کی فکری آبیاری میں گزارا۔ ان کی پیدائش 1949 میں راولپنڈی کے نواحی علاقے میں ہوئی اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے تدریس کے شعبے سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور بعد میں صحافت میں قدم رکھا، جہاں انہوں نے کئی ممتاز اخبارات کے لیے کالم لکھے۔ ان کے کالم “نقشِ خیال” اور “نقطہ نظر” عوام اور اہل دانش میں یکساں مقبول تھے۔

عرفان صدیقی کا سیاسی سفر نواز شریف کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ وہ نواز شریف کے “کاتبِ شریفین” (شریف خاندان کے کاتب) کہلاتے تھے، کیونکہ نواز شریف نے اپنے کل سیاسی کیریئر میں جتنے بھی جملے ادا کیے، ان میں سے 60 فیصد عرفان صدیقی کے قلم سے ہی تراشے گئے تھے۔ وہ نواز شریف کے قریبی مشیر تھے اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کی تشکیل میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ عرفان صدیقی کو نواز شریف کی فرمائش پر سیاست میں لایا گیا تھا اور وہ ایک لمبے عرصے تک بغیر کسی عہدے کے نواز شریف کے مشیر کے طور پر کام کرتے رہے۔ بعد میں انہیں سینیٹ کا رکن منتخب کیا گیا اور وہ سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر بھی رہے۔

عرفان صدیقی کی وفات 11 نومبر 2025 (متوقع تاریخ) کو مختصر علالت کے بعد اسلام آباد میں ہوئی۔ ان کی وفات پر صدر مملکت، وزیر اعظم، وفاقی وزراء، اور ن لیگ کے قائدین سمیت نواز شریف نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ نواز شریف نے انہیں “ایک عزیز ترین بھائی کا بچھڑ جانا” قرار دیا۔ تاہم، ایک حساس نکتہ یہ بھی سامنے آیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف، دونوں میں سے کوئی بھی ان کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکا، حتیٰ کہ شریف خاندان سے کوئی فرد بھی شامل نہ ہوا۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ پارلیمان کا سیشن اہم تھا، اور انہیں بیماری کی وجہ سے ہی شرکت نہ کرنے کا بتایا جاتا رہا۔ یہ بات ان کی بے لوث غلامی اور بے پایاں وفاداری کے تناظر میں ایک گہری چھلنی چھوڑ جاتی ہے، کہ ایک ایسا شخص جس نے اپنی زندگی اپنے آقا کے ہر سیاہ کو سفید کرنے میں لگا دی، اس کی آخری رسومات میں آقا کی غیر حاضری نے بہت سے سوالات کو جنم دیا۔

وفات کے بعد: فراموشی یا لازوال یاد؟

ان تینوں شخصیات کی کہانیاں پاکستانی سیاست میں وفاداری، خدمات اور اس کے بعد کی صورتحال پر روشنی ڈالتی ہیں۔ رحمان ملک، مشاہد اللہ خان اور عرفان صدیقی نے اپنی اپنی جماعتوں اور قیادت کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں، جیلیں کاٹیں، مشکلات برداشت کیں اور ہمیشہ اپنے نظریے کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کی خدمات بلاشبہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ لیکن ان کی وفات کے بعد جس قسم کی بے اعتنائی یا مبینہ فراموشی کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ سیاست کے سفاک چہرے کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ کیا سیاسی تعلقات صرف اقتدار کے حصول تک محدود ہوتے ہیں یا ان میں ایک انسانیت اور قدردانی کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے؟

عصری سیاست میں وفا کے تقاضے بدل گئے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاست مسابقتی سیاسی جماعتوں اور مفادات کے درمیان باہمی بداعتمادی، متضاد تعلقات اور تندی کیلئے مشہور ہے، جس سے کم تعمیری نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ سیاست دانوں کو عوامی پذیرائی حاصل کرنے کے لیے اکثر ایسے حربے استعمال کرنے پڑتے ہیں جو اخلاقی اصولوں سے متصادم ہوتے ہیں۔ ان حالات میں، جو افراد اپنی ذاتی انا اور مفادات کو بالائے طاق رکھ کر پارٹی کے لیے کام کرتے ہیں، ان کی قدر اکثر کم ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ ڈان نیوز کی ایک رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ کس طرح سیاست میں وفاداری اور انعام کا تصور مختلف ہوتا جا رہا ہے۔

یہ صرف ان تینوں شخصیات کا معاملہ نہیں، بلکہ پاکستانی سیاست کی مجموعی تصویر ہے جہاں اقتدار کے کھیل میں وفادار ساتھی اکثر قربانی کا بکرا بن جاتے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف شاید زبانی حد تک تو کر لیا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر ان کے جانے کے بعد انہیں جلد ہی بھلا دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسے المیے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں نظریاتی سیاست کی بجائے شخصیت پرستی اور مفاد پرستی غالب آتی ہے۔

نتیجہ: سیاسی رشتوں کی نزاکت

رحمان ملک، مشاہد اللہ خان اور عرفان صدیقی کی کہانیاں پاکستانی سیاست کے ایک مخصوص پہلو کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ سیاست میں وفاداری ایک مہنگا سودا ثابت ہو سکتی ہے۔ ان افراد نے اپنی زندگیاں اپنے رہنماؤں اور جماعتوں کے لیے وقف کر دیں، لیکن بظاہر ان کی وفات کے بعد انہیں وہ احترام اور یادگاری حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ مستحق تھے۔ یہ صورتحال موجودہ سیاسی نظام پر ایک گہرا سوال چھوڑ جاتی ہے کہ کیا ہماری سیاست میں انسانی رشتوں اور وفاداری کی کوئی مستقل قدر ہے، یا یہ محض اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے کے لیے استعمال ہونے والے زینے ہیں جنہیں منزل تک پہنچنے کے بعد فراموش کر دیا جاتا ہے؟ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر نئے سیاسی کارکن کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا اس کی خدمات کو وقت کے امتحان میں یاد رکھا جائے گا یا وہ بھی تاریخ کے اوراق میں کہیں گم ہو جائے گا؟