مقبول خبریں

بہت زیادہ گرم چائے یا کافی: غذائی نالی کے کینسر کا بڑھتا ہوا خطرناک امکان 2024

بہت زیادہ گرم چائے یا کافی کا استعمال صحت کے لیے کئی خطرات کا باعث بن سکتا ہے، جن میں غذائی نالی کا کینسر سرفہرست ہے۔ حالیہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت گرم مشروبات پینے سے اس موذی مرض میں مبتلا ہونے کا امکان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے لیے چائے اور کافی روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں، لیکن ان کا غلط طریقے سے استعمال سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آپ بھی اپنے دن کا آغاز انتہائی گرم چائے یا کافی سے کرتے ہیں تو پہلا گھونٹ لینے سے پہلے چند لمحے انتظار کرنا آپ کو ایک خطرناک بیماری سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

نیب ترمیمی بل اور عدالتی معاملات پر تازہ ترین معلومات

گرم مشروبات اور کینسر کا بڑھتا ہوا خطرہ

طبی ماہرین نے طویل عرصے سے گرم مشروبات اور غذائی نالی کے کینسر کے درمیان ممکنہ تعلق پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اب آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق نے اس تعلق کی تصدیق کی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، جو لوگ 65 ڈگری سیلسیس (149 ڈگری فارن ہائیٹ) یا اس سے زیادہ درجہ حرارت پر مشروبات پیتے ہیں، ان میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

یہ خطرہ نیم گرم چائے یا کافی پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں تقریباً دس لاکھ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ نتائج ایشیا، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی امریکہ میں کی جانے والی متعدد تحقیقات کے بعد مغربی ممالک میں بھی اس تعلق کی تصدیق کرتے ہیں۔

عالمی خبریں: بیجنگ میں اہم رہنماؤں کے دورے کا اختتام

غذائی نالی کا کینسر (Esophageal Cancer) کیا ہے؟

غذائی نالی ایک لمبی، عضلاتی نالی ہے جو ہمارے حلق سے معدے تک خوراک اور مائع پہنچاتی ہے۔ غذائی نالی کا کینسر اس وقت ہوتا ہے جب اس کی اندرونی پرت میں خلیات بے قابو ہو کر بڑھنے لگتے ہیں۔ یہ ایک سنگین بیماری ہے جو عام طور پر اس وقت تک غیر علامتی رہتی ہے جب تک کہ یہ ترقی یافتہ مراحل میں نہ پہنچ جائے۔

غذائی نالی کے کینسر کی دو اہم اقسام ہیں: اسکویمس سیل کارسینوما (SCC) اور اڈینو کارسینوما (AC)۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بہت زیادہ گرم مشروبات ایس سی سی کے خطرے کو بڑھاتے ہیں، جبکہ اے سی سے اس کا واضح تعلق نہیں ملا۔ اس مرض کی علامات میں نگلنے میں دشواری، بدہضمی، سینے میں جلن، اور وزن میں کمی شامل ہو سکتی ہیں۔

ایرانی معاہدے پر بین الاقوامی پیش رفت

سائنس کیا کہتی ہے؟ تحقیقاتی نتائج

آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں 9 لاکھ 77 ہزار 282 درمیانی عمر کے مردوں اور خواتین کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں شرکاء سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی چائے یا کافی کس درجہ حرارت پر پینا پسند کرتے ہیں اور روزانہ کتنے کپ استعمال کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایک دہائی سے زائد عرصے تک برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے ریکارڈز کے ذریعے مانیٹر کیے گئے۔

نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ بہت زیادہ گرم مشروبات پینے والوں میں غذائی نالی کے اسکویمس سیل کارسینوما کا خطرہ نیم گرم مشروبات پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعلق مشروب کے اجزا سے زیادہ اس کے زیادہ گرم ہونے سے جڑا ہو سکتا ہے۔ یہ بھی دریافت ہوا کہ روزانہ چھ یا اس سے زیادہ گرم مشروبات استعمال کرنے والے افراد میں ایس سی سی کا خطرہ 71 فیصد زیادہ تھا۔

آبنائے ہرمز: بین الاقوامی سمندری گزرگاہ پر ٹرمپ کا مؤقف

حرارتی نقصان کا طریقہ کار

محققین کے مطابق، انتہائی گرم مشروبات غذائی نالی کی اندرونی سطح پر موجود خلیات کو بار بار حرارتی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ، یہ مسلسل جلن اور نقصان خلیاتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے جو کینسر کے آغاز میں کردار ادا کرتی ہیں۔ غذائی نالی معدے کی طرح مضبوط نہیں ہوتی؛ یہ نرم اور حساس ہے، اور بار بار جلن خلیوں کے رویے کو تبدیل کر سکتی ہے۔

مشروبات کا درجہ حرارت صحت پر اثرات
65°C (149°F) سے زیادہ غذائی نالی کے کینسر کا بہت زیادہ خطرہ
60-65°C (140-149°F) ممکنہ طور پر نقصان دہ، احتیاط ضروری ہے
58°C (136°F) یا اس سے کم محفوظ درجہ حرارت سمجھا جاتا ہے
ابلتے پانی سے فوری بعد (90-95°C) شدید جلن اور نقصان کا خطرہ

دیگر صحت کے مسائل

بہت زیادہ گرم مشروبات صرف کینسر کا ہی سبب نہیں بنتے بلکہ دیگر صحت کے مسائل بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ ان میں منہ اور گلے میں جلن، چھالے، اور بار بار جلن کی وجہ سے ٹشوز کو ہونے والا نقصان شامل ہے۔ اگرچہ چائے اور کافی کے متعدد فوائد بھی ہیں، لیکن ان کا غلط استعمال ان فوائد پر بھی بھاری پڑ سکتا ہے۔

بہت زیادہ کیفین کا استعمال بے خوابی، بے چینی، دل کی دھڑکن میں اضافہ اور ہاضمے کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ حاملہ خواتین کے لیے دن میں ایک کپ سے زیادہ کافی پینا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، کیفین کیلشیم کے اخراج کو بڑھا کر ہڈیوں کو کمزور کر سکتی ہے۔

پب جی موبائل 3.1 اپ ڈیٹ: نئے فیچرز اور گیمنگ کی دنیا

احتیاطی تدابیر اور محفوظ استعمال کے طریقے

غذائی نالی کے کینسر اور دیگر مضر اثرات سے بچنے کے لیے، بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے کی عادت کو ترک کرنا ضروری ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ مشروب کو پینے سے پہلے چند منٹ انتظار کریں تاکہ اس کا درجہ حرارت کم ہو جائے۔ ایک چمچ سے ہلانے یا ڈھکن کھول کر بخارات جانے دینے سے بھی درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ٹھنڈا پانی یا دودھ ملا کر بھی مشروب کے درجہ حرارت کو محفوظ سطح پر لایا جا سکتا ہے۔ محققین کے مطابق، تقریباً 58 ڈگری سینٹی گریڈ (136 ڈگری فارن ہائیٹ) پر مشروب پینا محفوظ رہتا ہے۔ یہ چھوٹی عادات بظاہر معمولی لگتی ہیں، لیکن گلے کے نرم ٹشوز کے لیے بہت اہم ہیں اور صحت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

پیدائشی شہریت کا خاتمہ: امریکی قانون سازی اور اس کے مضمرات

صحت مند مشروبات کے انتخاب

شدید گرمی یا سردی کے موسم میں ہائیڈریٹ رہنا اور صحت مند مشروبات کا انتخاب کرنا نہایت اہم ہے۔ گرمیوں میں سادہ پانی کی مقدار بڑھانا، لیموں پانی، کچی لسی، ستو شربت، اور تازہ پھلوں کے جوسز کا استعمال فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ یہ مشروبات نہ صرف پیاس بجھاتے ہیں بلکہ جسم کو ٹھنڈا اور توانا رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

  • کافی اور چائے کا اعتدال میں استعمال: دن میں 2 سے 3 کپ چائے یا کافی کا استعمال عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
  • مناسب درجہ حرارت پر پینا: مشروبات کو 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت پر پئیں۔
  • کیفین کی زیادہ مقدار سے پرہیز: اگر آپ کو کیفین سے حساسیت ہے تو اس کی مقدار کم کریں یا ڈیکیفینیٹڈ مشروبات استعمال کریں۔
  • ہائیڈریشن پر توجہ: پانی اور دیگر صحت بخش مشروبات کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔

توانائی کے بحران کا حل: کے-سولر منصوبہ اور سرمایہ کاری

مقبول مشروبات اور صحت مند عادات

چائے اور کافی دنیا کے مقبول ترین مشروبات ہیں، جن کے اپنے فوائد بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، چائے میں اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ کافی دماغی چستی بڑھاتی ہے اور جسمانی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ تاہم، ان فوائد کو حاصل کرنے کے لیے ان کا صحیح طریقے سے استعمال کرنا ضروری ہے۔

طبی ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ تمباکو نوشی اور الکحل کا استعمال بھی غذائی نالی کے کینسر کے اہم خطرے والے عوامل میں شامل ہیں۔ لہذا، صرف مشروبات کے درجہ حرارت پر ہی نہیں بلکہ مجموعی طرز زندگی پر بھی توجہ دینا انتہائی اہم ہے۔ صحت مند عادات اپنا کر بہت سے موذی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔

رمضان 2026: پاکستان میں پہلے روزے کی ممکنہ تاریخ