مقبول خبریں

دم دار ستارہ: نظام شمسی میں داخل ہونے والا تیسرا اور قدیم ترین بین الثاروی مہمان

دم دار ستارہ سائنس دانوں کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا تیسرا تصدیق شدہ مہمان ہے جو کسی دوسرے شمسی نظام سے ہمارے ہاں پہنچا ہے اور امکان ہے کہ یہ اب تک دریافت ہونے والے تمام دم دار ستاروں میں سب سے قدیم ہو۔ فلکیات کی دنیا میں یہ ایک ایسا انکشاف ہے جس نے ماہرین اور خلائی تحقیق کے شائقین کو یکساں حیرت میں ڈال دیا ہے۔ بین الثاروی خلا (Interstellar Space) سے آنے والے ان پراسرار اجسام کا مطالعہ ہمیں نہ صرف ہماری اپنی کائنات کی ابتدا بلکہ دیگر نامعلوم اور دور دراز نظام ہائے شمسی کی ساخت، ارتقا اور تشکیل کے بارے میں بھی بے بہا اور قیمتی معلومات فراہم کرتا ہے۔ جب ہم آسمان کی جانب دیکھتے ہیں تو یہ ستارے ہمیں محض روشنی کے نقطے محسوس ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ اربوں سال کی تاریخ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ٹائم کیپسول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فلکیاتی تحقیق کے میدان میں ہر نیا دن ایک نئی جدت لے کر آتا ہے، اور جب بات ہو خلا کی اتھاہ گہرائیوں سے آنے والے ان پراسرار مسافروں کی، تو سائنس دانوں کی دلچسپی اور جستجو عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ نیا اور منفرد بین الثاروی مہمان ایک انتہائی پیچیدہ اور غیر معمولی مدار میں سفر کر رہا ہے جو اس بات کا حتمی اور قطعی ثبوت ہے کہ یہ ہمارے سورج کی کشش ثقل کا پابند ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ نظام شمسی کی وسعتوں کی حدوں سے باہر کسی بہت دور دراز مقام اور نامعلوم ستارے کے نظام سے بے دخل ہو کر ہمارے ہاں آیا ہے۔

دم دار ستارہ: ایک تاریخی سائنسی دریافت اور اس کا پس منظر

ماضی میں جب ہم نے نظام شمسی کا گہرا اور تفصیلی مطالعہ کیا تو ہم نے یہ دریافت کیا کہ ہمارے نظام کے زیادہ تر دم دار ستارے سورج کے گرد انتہائی دور دراز علاقوں، جنہیں اوورٹ کلاؤڈ (Oort Cloud) یا کوئپر بیلٹ (Kuiper Belt) کہا جاتا ہے، سے آتے ہیں۔ یہ علاقے دراصل ان برفانی اور چٹانی اجسام کا گھر ہیں جو نظام شمسی کی ابتدا کے وقت بنے تھے اور اربوں سالوں سے وہیں منجمد حالت میں موجود ہیں۔ جب بھی کسی قریبی ستارے کی کشش ثقل ان کے مدار میں خلل ڈالتی ہے، تو یہ اجسام سورج کی جانب سفر شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن اس نئے اور پراسرار مسافر کی کہانی اس روایتی تصور سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی حیرت انگیز رفتار، اس کے مدار کا غیر معمولی زاویہ اور اس کی ہائپربولک (Hyperbolic) حرکیات اس بات کی کھلی اور واضح گواہی دیتی ہیں کہ یہ کسی دوسرے ستارے کے گرد گھومنے والے سیاروی نظام کا حصہ تھا جسے کسی بڑے سیارے یا ستارے کی زبردست کشش ثقل نے شدید دھچکا لگا کر ہمیشہ کے لیے خلا کے اندھیروں میں دھکیل دیا اور اب یہ اربوں سال کے طویل سفر کے بعد ہمارے نظام شمسی میں داخل ہوا ہے۔

تیسرے تصدیق شدہ مہمان کی خصوصیات اور اہمیت

اس سے قبل ماہرین فلکیات نے دو اور ایسے اجسام کی باقاعدہ تصدیق کی تھی جو مکمل یقین کے ساتھ نظام شمسی کی حدود سے باہر سے آئے تھے۔ ان میں سب سے پہلا اور مشہور نام ‘اومواموا’ (Oumuamua) کا ہے، جسے سال 2017 میں دوربینوں کی مدد سے دریافت کیا گیا تھا۔ یہ ایک انتہائی عجیب و غریب اور لمبوترا سگار نما جسم تھا جس کی نوعیت اور شکل و صورت کے بارے میں آج تک سائنس دانوں کے درمیان زبردست بحث جاری ہے۔ اومواموا نے کسی دم دار ستارے کی طرح کوئی دم نہیں بنائی تھی جس نے اس کے ایک چٹانی سیارچہ ہونے کا تاثر دیا۔ اس کے بعد دوسرا مہمان ‘بوریزوف’ (2I/Borisov) تھا، جو 2019 میں دریافت ہوا اور وہ مکمل طور پر ایک فعال دم دار ستارے جیسا برتاؤ کر رہا تھا، اس کی واضح دم اور گیسوں کا اخراج اس کے برفانی ہونے کی دلیل تھا۔ اب، یہ دریافت ہونے والا تیسرا تصدیق شدہ جسم سائنس دانوں کے لیے اس لیے بھی کہیں زیادہ اہم اور توجہ کا مرکز ہے کیونکہ اس کی کیمیائی ساخت ابتدائی تجزیوں اور سپیکٹرو اسکوپی کے مطابق پہلے دریافت ہونے والے دونوں اجسام اور ہمارے اپنے نظام شمسی کے عام دم دار ستاروں سے یکسر مختلف اور منفرد ہے۔ اس پر موجود گرد، گیسوں کا تناسب اور برف کے ذرات کی نوعیت انتہائی قدیم معلوم ہوتی ہے جو اسے اب تک کا سب سے پرانا بین الثاروی جسم بناتی ہے۔ مزید معلومات کے لیے آپ ہماری تفصیلی اشاعت ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

یہ دم دار ستارہ کتنا قدیم ہے؟ عمر کا تعین کیسے ہوا؟

فلکیات کی دنیا میں کسی بھی فلکیاتی جسم کی درست عمر کا تعین کرنا ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے جس کے لیے اس کی تفصیلی کیمیائی ساخت، کاسمک شعاعوں اور تابکاری کے اثرات، اور اس کے مختلف آئسوٹوپس کے انتہائی حساس تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس نئے دریافت ہونے والے دم دار ستارے میں موجود کاربن مونو آکسائیڈ اور پانی کے مالیکیولز کا خاص تناسب، نیز نائٹروجن اور دیگر بھاری عناصر کی مقدار کا مکمل اور باریک بین مطالعہ یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ اپنے پیدائشی نظام سے اربوں سال قبل، ممکنہ طور پر کائنات کے ابتدائی ادوار میں ہی، الگ ہو گیا تھا۔ جب کوئی جسم اتنے لمبے عرصے تک بین الثاروی خلا کی شدید سردی اور تاریکی میں تنہا سفر کرتا ہے، تو اس پر موجود کاسمک تابکاری (Cosmic Radiation) اس کی بیرونی سطح پر کیمیائی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے جسے سائنس دان بڑی آسانی سے ناپ سکتے ہیں۔ ماہرین اور فلکیات دانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کی ابتدائی تشکیل کے وقت جو مخصوص حالات تھے، اس ستارے کے اندر گہرائی میں جمی ہوئی برف نے ان حالات کو بالکل اصلی حالت میں اپنے اندر محفوظ کر رکھا ہے۔ یہ جسم بالکل ایک قدرتی ٹائم کیپسول کی طرح ہے جو ہمیں وقت میں اربوں سال پیچھے لے جا کر کائنات کے ان سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کا ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے جن تک رسائی کسی اور طریقے سے ممکن نہیں ہے۔

خصوصیت تفصیل اور سائنسی وضاحت
جسم کی نوعیت اور درجہ بندی قدیم ترین بین الثاروی دم دار ستارہ
سائنسی دریافت کی ترتیب نظام شمسی کا تیسرا باقاعدہ تصدیق شدہ مہمان
مدار کی شکل و قسم ہائپربولک (کشش ثقل سے آزاد)
توقع کی جانے والی تخمینی عمر ہمارے نظام شمسی سے بھی قدیم (اربوں سال کا عرصہ)
بنیادی کیمیائی اجزا پانی، کاربن مونو آکسائیڈ، نامعلوم نامیاتی مرکبات

کیمیائی ساخت اور نظام شمسی سے موازنہ

جب ہم اس منفرد اور قدیم جسم کی کیمیائی ساخت کا موازنہ براہ راست ہمارے اپنے نظام شمسی کے عام دم دار ستاروں سے کرتے ہیں، تو ہمارے سامنے کئی حیرت انگیز اور ناقابل یقین پہلو ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ ہمارے نظام کے زیادہ تر ستارے سورج کی تشکیل کے بعد بچے کھچے مادے یعنی نیبولا کی باقیات سے بنے ہیں، جن میں آکسیجن، کاربن اور ہائیڈروجن کا ایک خاص اور طے شدہ تناسب پایا جاتا ہے۔ جبکہ یہ نیا مہمان یقیناً کسی ایسے نامعلوم ستارے کے گرد بنا ہو گا جس کی کیمیائی نوعیت اور درجہ حرارت ہمارے سورج سے قطعی مختلف تھی۔ اس کی ساخت میں موجود ایسے مالیکیولز بھی دریافت ہوئے ہیں جو عام حالات میں ہمارے ارد گرد نہیں پائے جاتے۔ یہ فرق ہمیں یہ سمجھنے میں بے حد مدد دیتا ہے کہ کائنات کے مختلف حصوں میں ستاروں کی تشکیل کے مراحل ایک دوسرے سے کتنے مختلف ہو سکتے ہیں اور مادہ کس طرح مختلف شکلوں میں ارتقا پذیر ہوتا ہے۔

فلکیاتی سائنس پر اس دریافت کے گہرے اثرات

اس تاریخی دریافت نے پوری دنیا میں فلکی طبیعیات اور سائنس کے میدان میں ایک نئی اور زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ اب تک ہم صرف اور صرف دور دراز ستاروں کے گرد گھومنے والے سیاروں کا مطالعہ روشنی میں ہونے والی معمولی تبدیلیوں، جسے ٹرانزٹ میتھڈ (Transit Method) کہا جاتا ہے، کے ذریعے ہی کرتے تھے۔ ہم ان سیاروں کے ماحول کو دور سے سپیکٹرو اسکوپی کی مدد سے جانچتے تھے، لیکن اب ان نامعلوم اور دور دراز سسٹمز کا خالص مادہ بذات خود ہمارے پاس چل کر آ رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے قدرت کا ایک ایسا تحفہ ہے جسے کسی انسان ساختہ خلائی جہاز کے ذریعے حاصل کرنا موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ قطعی ناممکن تھا۔ اس دریافت سے سائنس دانوں کو موقع ملا ہے کہ وہ اپنے ان تمام پرانے نظریات کا دوبارہ جائزہ لیں جو سیاروں کی تشکیل کے ابتدائی مراحل کے بارے میں قائم کیے گئے تھے۔

دیگر نظام ہائے شمسی اور کائنات کی تفہیم

اس سے ہمیں ان مشہور نظریات کو بھی عملی طور پر پرکھنے کا بہترین موقع ملے گا جو کائنات میں زندگی کے وجود اور اس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی، جسے سائنس کی زبان میں پیناسپرمیا (Panspermia) کہا جاتا ہے، کے حوالے سے پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر اس دور دراز سے آنے والے دم دار ستارے کی برف اور گرد میں پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز (Complex Organic Molecules) پائے جاتے ہیں یا امینو ایسڈز کی موجودگی کے شواہد ملتے ہیں، تو یہ اس بات کی طرف ایک انتہائی طاقتور اور بڑا اشارہ ہو گا کہ زندگی کے بنیادی اور لازمی اجزا پوری کائنات میں بڑی مقدار میں بکھرے ہوئے ہیں اور صرف زمین تک محدود نہیں ہیں۔ مزید سائنسی مضامین کے لیے ہمارے صفحات سے جڑے رہیں۔

دوربینوں اور جدید ٹیکنالوجی کا کلیدی کردار

اس طرح کی ناقابل یقین دریافتیں جدید ترین دوربینوں اور انتہائی حساس آپٹیکل آلات کے بغیر کبھی بھی ممکن نہیں تھیں۔ ناسا کی جدید ترین جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (James Webb Space Telescope) جو حال ہی میں خلا میں بھیجی گئی ہے اور جس نے کائنات کو دیکھنے کے ہمارے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے، نیز ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ (Hubble Space Telescope) نے خلا میں موجود ان نہایت تیز رفتار اجسام کی انتہائی باریک بینی سے تصویر کشی کی ہے اور ان کے انفراریڈ (Infrared) کیمیائی تجزیے کیے ہیں۔ ناسا کی جاری کردہ تحقیق کے مطابق، ان جدید دوربینوں نے ہمیں وہ صلاحیت دی ہے جو پچھلی چند دہائیوں میں محض ایک خواب معلوم ہوتی تھی۔ زمین پر موجود بڑے اور طاقتور آبزرویٹریز جیسے کہ ویری لارج ٹیلی اسکوپ (VLT) اور ہوائی میں موجود کیک آبزرویٹری (Keck Observatory) نے بھی اس ستارے کی روشنی کے تجزیے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

دم دار ستارے کی دم کیسے بنتی ہے اور شمسی ہواؤں کا کردار

جب کوئی بھی دم دار ستارہ، چاہے وہ ہمارے نظام کا ہو یا کسی اور نظام کا، خلا کی تاریکیوں سے سفر کرتا ہوا سورج کے قریب آتا ہے تو اس پر موجود درجہ حرارت تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔ سورج کی شدید حرارت اور روشنی کی وجہ سے ستارے کے اندر جمی ہوئی برف، جس میں پانی، امونیا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہوتی ہے، براہ راست گیس میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتی ہے (جسے Sublimation کہتے ہیں)۔ اس عمل سے ستارے کے گرد ایک گیس اور گرد کا بادل بن جاتا ہے جسے کوما (Coma) کہا جاتا ہے۔ پھر سورج سے آنے والی خطرناک شعاعیں اور تیز رفتار شمسی ہوائیں (Solar Winds) اس کوما میں موجود ذرات کو پیچھے کی طرف دھکیلتی ہیں، جس سے ایک انتہائی شاندار، چمکدار اور لمبی دم بنتی ہے جو لاکھوں کلومیٹر طویل ہو سکتی ہے۔ اس بین الثاروی مہمان کی دم کے مطالعے سے سائنس دانوں کو یہ جاننے میں بے پناہ مدد ملی ہے کہ اس میں موجود گیسیں شمسی ہواؤں کے ساتھ کس طرح کا منفرد ردعمل ظاہر کر رہی ہیں۔

مداری حرکیات اور ہائپربولک راستے کی تفہیم

جب ہم فلکی طبیعیات میں مداری حرکیات (Orbital Dynamics) کی پیچیدہ بات کرتے ہیں تو نظام شمسی کے اندر موجود تقریباً تمام اجسام کا مدار بیضوی (Elliptical) ہوتا ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ ایک خاص وقت کے بعد سورج کے گرد اپنا چکر پورا کر کے لازمی واپس آتے ہیں۔ مشہور زمانہ ہیلی کا دم دار ستارہ اس کی سب سے بہترین اور مشہور مثال ہے جو ہر 76 سال کے طویل وقفے کے بعد باقاعدگی سے نظر آتا ہے۔ لیکن خلا کی گہرائیوں سے آنے والے ان بین الثاروی اجسام کا راستہ مکمل طور پر ہائپربولک (Hyperbolic) ہوتا ہے۔ ہائپربولک مدار کا مطلب آسان الفاظ میں یہ ہے کہ اس جسم کی رفتار فرار (Escape Velocity) سے کہیں زیادہ تیز ہے اور سورج کی زبردست کشش ثقل بھی اسے ہمیشہ کے لیے اپنے پاس نہیں روک سکتی۔ یہ صرف سورج کی کشش کے باعث اپنے راستے سے تھوڑا سا مڑے گا، سورج کی ثقلی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے سلنگ شاٹ (Slingshot) اثر کے تحت اپنی رفتار میں مزید ہوشربا اضافہ کرے گا، اور پھر ہمیشہ کے لیے واپس نہ لوٹنے کی غرض سے تاریک اور گہری خلا میں کھو جائے گا۔

مستقبل کی خلائی مہمات اور سائنسی توقعات

اس عظیم دریافت کے بعد سائنسی ادارے اب ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے ہیں۔ اس وقت یورپی خلائی ایجنسی (ESA) ‘کومٹ انٹرسیپٹر’ (Comet Interceptor) نامی ایک انتہائی پرجوش اور جدید مشن پر تیزی سے کام کر رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اسے خلا میں پہلے سے لانچ کر کے پارک کر دیا جائے گا اور جیسے ہی کسی بھی نئے دریافت ہونے والے بین الثاروی جسم یا انتہائی طویل عرصے بعد آنے والے نامعلوم مقامی جسم کی نشاندہی ہو گی، یہ مشن فوراً حرکت میں آ کر اس کے قریب پہنچ کر اس کا انتہائی قریب سے اور براہ راست مطالعہ کرے گا۔ یہ ایک ایسا مشن ہے جو خلا کی کھوج میں انسان کی کامیابیوں کو ایک نئی بلندی تک لے جائے گا۔ آپ مستقبل کی دریافتوں کے بارے میں یہاں بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ مستقبل قریب میں کام شروع کرنے والی ویرا سی روبن آبزرویٹری (Vera C. Rubin Observatory) جس کا وسیع کیمرہ ہر چند دنوں میں پورے آسمان کا نقشہ بنائے گا، اس حوالے سے ایک گیم چینجر ثابت ہو گی اور ماہرین کو امید ہے کہ اس کی مدد سے ہم مستقبل میں ہر سال کئی درجن ایسے بین الثاروی اجسام دریافت کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

کیا یہ دم دار ستارہ زمین کے لیے کوئی خطرہ ہے؟

ایسی کسی بھی بڑی دریافت کے بعد عوام الناس کے ذہنوں میں عموماً سب سے پہلے یہ تشویش ناک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خلا سے آنے والے یہ نامعلوم اجسام زمین کی طرف رخ کر کے ہماری بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور کیا یہ زمین سے ٹکرا سکتے ہیں؟ سائنس دانوں اور ماہرین نے انتہائی محتاط، تفصیلی اور سپر کمپیوٹرز کی مدد سے تیار کردہ حسابی ماڈلز کے ذریعے اس دم دار ستارے کے مدار اور مستقبل کے راستے کی درست نشاندہی کی ہے اور یہ بات پورے یقین، وثوق اور حتمی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ یہ جسم زمین کے لیے قطعاً کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہ ہمارے سیارے سے کروڑوں کلومیٹر کے ایک انتہائی محفوظ فاصلے سے گزر جائے گا۔ اس کے مدار کی سمت اور رفتار اتنی زیادہ ہے کہ اسے زمین کے قریب آنے کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم ان اجسام کو خوف کے بجائے علم کی تشنگی بجھانے اور کائنات کو سمجھنے کے ایک بہترین ذریعے کے طور پر دیکھیں۔

حتمی نتیجہ اور سائنسی برادری کا پرجوش ردعمل

پوری دنیا کی سائنسی برادری اس منفرد دریافت پر انتہائی پرجوش، خوش اور حیرت زدہ ہے۔ دنیا بھر کے سائنس دان، ماہرین فلکیات، محققین اور طلبہ اپنے ڈیٹا کا مسلسل تبادلہ کر رہے ہیں تاکہ اس نامعلوم مسافر کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کر سکیں اور زیادہ سے زیادہ معلومات کو اکٹھا کیا جا سکے۔ یہ دریافت محض ایک عام پتھر، گرد یا برف کے ٹکڑے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا خاموش قاصد ہے جو اربوں سال کا تاریک سفر طے کر کے اپنے ساتھ ان نامعلوم دنیاؤں، ستاروں، اور سیاروں کے پیغامات لے کر آیا ہے جنہیں شاید ہم انسان اپنی محدود زندگی اور موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ کبھی بھی بذات خود نہ دیکھ سکیں۔ ہماری ویب سائٹ کیٹیگریز سے سائنس اور ٹیکنالوجی کی دیگر خبریں بھی آپ کے علم میں اضافے کا باعث بنیں گی۔ جدید اور ترقی یافتہ خلائی تحقیق کے اس روشن دور میں اس طرح کے اجسام کا ملنا اس بات کی بین اور واضح غمازی کرتا ہے کہ ہماری کائنات کس قدر وسیع و عریض، پراسرار اور آپس میں جڑی ہوئی ہے۔ ایک دور دراز ستارے کا پیدا کردہ مادہ دوسرے ستارے کے نظام میں بڑی آسانی سے سفر کر سکتا ہے، اور کائنات کا یہ طویل ارتقائی سفر ایک نہ ختم ہونے والے تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ ماہرین فلکیات کو پوری امید ہے کہ آنے والے سالوں اور دہائیوں میں ٹیکنالوجی کے ارتقا اور اس طرح کے مزید اجسام کی مسلسل دریافت سے کائنات کے کئی چھپے ہوئے اور سربستہ رازوں سے رفتہ رفتہ پردہ اٹھے گا، جس سے انسانی تاریخ اور فلکیاتی معلومات کے ذخیرے میں بے پناہ، انوکھا اور شاندار اضافہ ہوگا۔