مقبول خبریں

دنیا کے سب سے بڑے بیٹری سے چلنے والے طیارے نے تاریخی پرواز مکمل کرلی

دنیا کے سب سے بڑے بیٹری سے چلنے والے طیارے نے حال ہی میں اپنی پہلی تاریخی پرواز مکمل کرکے ہوا بازی کی صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ یہ سنگ میل ایسے وقت میں حاصل ہوا ہے جب دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ سویڈن میں قائم اور امریکہ میں سرگرم کمپنی ہارٹ ایرو اسپیس (Heart Aerospace) کے تیار کردہ اس طیارے، جسے ‘X1 ڈیمونسٹریٹر’ کا نام دیا گیا ہے، نے ۱۲؍ اگست ۲۰۲۶ء کو نیویارک کے پلیٹس برگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کی۔ یہ پرواز نہ صرف انجینئرنگ کا ایک شاندار کارنامہ ہے بلکہ صاف اور پائیدار فضائی سفر کے مستقبل کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔

ایک نئے دور کا آغاز: تاریخی پرواز کا جائزہ

یہ تاریخی پرواز تقریباً ۲۷؍ منٹ تک جاری رہی، جس کے دوران طیارے نے تقریباً ۳۳۵؍ میٹر (۱۱۰۰؍فٹ) کی بلندی حاصل کی۔ اس پرواز نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بڑے پیمانے پر بیٹری سے چلنے والے طیارے عملی طور پر پرواز کر سکتے ہیں اور ہوابازی کے شعبے میں روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ اس کامیابی کو ایوی ایشن کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں برقی توانائی کے قابل استعمال ہونے کی نئی راہیں کھلیں گی۔ یہ پرواز بنیادی طور پر ایک تجرباتی پلیٹ فارم کے طور پر کی گئی تھی، جس کا مقصد بیٹری، برقی موٹرز، فلائٹ کنٹرول اور دیگر نظاموں کو حقیقی پرواز میں جانچنا تھا۔ اس طرح کے تجربات مستقبل کے تجارتی الیکٹرک طیاروں کی ترقی کے لیے نہایت اہم ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔

فضائی آلودگی اور کاربن کا اخراج عالمی ماحولیاتی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ہے، اور فضائی سفر اس میں ایک بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ ایسے میں الیکٹرک طیاروں کی ترقی پائیدار حل فراہم کرنے کی امید جگاتی ہے۔ ہارٹ ایرو اسپیس نے کئی سالوں کی تحقیق اور ترقی کے بعد یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کمپنی نے ۲۰۲۱ء میں ۳۵؍ ملین ڈالر اور ۲۰۲۴ء میں مزید ۱۰۷؍ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاروں کی گہری دلچسپی ہے۔ یہ سرمایہ کاری کمپنی کو مزید جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے اور اپنے اہداف حاصل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔

ہارٹ ایرو اسپیس کا X1: تکنیکی تفصیلات

X1 ڈیمونسٹریٹر، جسے ہارٹ ایرو اسپیس نے تیار کیا ہے، ایک مکمل پیمانے کا ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریٹر ہے جس کا وزن ٹیک آف کے وقت ۲۵؍ ہزار پاؤنڈ سے زیادہ، یعنی تقریباً ۱۱۳۴۰؍ کلوگرام یا ۱۱؍ ٹن ہے۔ یہ طیارہ اپنے پروں کا پھیلاؤ تقریباً ۱۰۶؍ فٹ رکھتا ہے۔ اس میں چار برقی موٹرز نصب ہیں جو مجموعی طور پر ایک میگاواٹ سے زیادہ برقی طاقت فراہم کرتی ہیں۔ یہ موٹرز طیارے کو پرواز کے دوران درکار توانائی فراہم کرتی ہیں، جس سے یہ روایتی جیٹ ایندھن کے بغیر فضا میں رہ سکتا ہے۔

اس طیارے کی آزمائشی پرواز کے دوران ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ اس نے تقریباً ۵؍ امریکی ڈالر کی بجلی استعمال کی۔ تاہم، کمپنی نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ رقم صرف پرواز کے دوران استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت ہے اور اس میں پائلٹ، دیکھ بھال، ایئرپورٹ فیس، انشورنس، بیٹری کی قیمت یا بیٹری کی مستقبل میں تبدیلی جیسے دیگر آپریشنل اخراجات شامل نہیں ہیں۔ اس کے باوجود، یہ اعداد و شمار الیکٹرک پروپلشن کی توانائی کی لاگت کی افادیت کو نمایاں کرتا ہے، جو طویل مدت میں روایتی ایندھن سے کہیں زیادہ سستی ثابت ہو سکتی ہے۔

X1 کو خاص طور پر مستقبل کے ہائبرڈ الیکٹرک مسافر طیارے (ES-30) کی ٹیکنالوجی اور ڈیزائن کی آزمائش کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس آزمائشی طیارے کے ذریعے کمپنی پرواز کے دوران برقی نظام، بیٹری ٹیکنالوجی اور دیگر اہم اجزا کی کارکردگی کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ان معلومات کو اپنے آئندہ تجارتی طیاروں کی تیاری میں استعمال کر سکے۔

فضائی سفر میں انقلاب کا پیش خیمہ

دنیا کے سب سے بڑے بیٹری الیکٹرک طیارے کی یہ کامیاب پرواز ہوا بازی کی صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ طویل عرصے سے، ہوابازی کے شعبے میں کاربن کے اخراج کو کم کرنا ایک بڑا چیلنج رہا ہے، اور بڑے مسافر طیاروں کو بجلی پر منتقل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بیٹری کی توانائی کی کثافت اور وزن ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ، ہارٹ ایرو اسپیس نے دکھایا ہے کہ یہ چیلنجز ناقابل تسخیر نہیں ہیں۔

یہ پرواز نہ صرف تکنیکی کامیابی ہے بلکہ یہ ماحول دوست ہوا بازی کی جانب عالمی کوششوں کو بھی تقویت دیتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر، نقل و حمل کے شعبے میں پائیدار حل تلاش کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ الیکٹرک طیارے کم اخراج، کم شور اور ممکنہ طور پر کم آپریٹنگ لاگت کے ساتھ مستقبل کے فضائی سفر کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ ترقی ایسے علاقائی فضائی سفر کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے جو روایتی ایندھن پر کم انحصار کرے گا۔

مستقبل کی منزل: ES-30 علاقائی طیارہ

ہارٹ ایرو اسپیس کا حتمی ہدف ۳۰؍ نشستوں والا ES-30 علاقائی طیارہ تیار کرنا ہے۔ یہ طیارہ X1 کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائے گا اور مختصر فاصلے کی پروازوں کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے موجودہ منصوبے کے مطابق، ES-30 تقریباً ۲۰۰؍ کلومیٹر (۱۲۵؍ میل) تک مکمل الیکٹرک موڈ میں پرواز کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ اس کے علاوہ، اس میں ایک ہائبرڈ نظام بھی شامل ہو گا جس کے ذریعے اس کی منصوبہ بند رینج کو تقریباً ۸۰۰؍ کلومیٹر (۵۰۰؍ میل) تک بڑھایا جا سکے گا۔ ہائبرڈ موڈ میں یہ طیارہ بجلی کے ساتھ ساتھ ایندھن سے چلنے والے جنریٹرز بھی استعمال کرے گا تاکہ طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے اضافی توانائی فراہم کی جا سکے۔

ES-30 کو خاص طور پر چھوٹے شہروں کو ایک دوسرے سے ملانے والے روٹس کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، جہاں مختصر فاصلے کی پروازیں ہوتی ہیں اور مسافروں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل کے اس طیارے کی بیٹری کو تقریباً ۳۰؍ منٹ میں چارج کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جو آپریشنل کارکردگی کے لیے بہت اہم ہے۔ ES-30 کے فلائٹ ٹیسٹنگ کی منصوبہ بندی ۲۰۲۸ء میں کی گئی ہے اور سرٹیفیکیشن کا ہدف ۲۰۳۱ء ہے۔ یونائیٹڈ ایئر کینیڈا اور جے ایس ایکس جیسی ایئرلائنز پہلے ہی اس منصوبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں، جو اس ٹیکنالوجی کے تجارتی امکانات پر اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔

الیکٹرک ایوی ایشن کے چیلنجز

الیکٹرک ایوی ایشن کا مستقبل روشن نظر آتا ہے، تاہم اس کے راستے میں کچھ اہم چیلنجز بھی ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔ سب سے بڑا چیلنج بیٹری کی توانائی کی کثافت اور وزن کا ہے۔ روایتی جیٹ ایندھن فی کلوگرام لیتھیم آئن سیلز کے مقابلے میں تقریباً ۴۰؍ گنا زیادہ توانائی رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طویل فاصلے اور بڑے بوجھ اٹھانے والے طیاروں کے لیے بہت بھاری اور بڑی بیٹریاں درکار ہوں گی، جو طیارے کے وزن اور رینج پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ روایتی طیارے جیسے جیسے ایندھن جلاتے ہیں، وہ ہلکے ہوتے جاتے ہیں، جبکہ بیٹری سے چلنے والے طیارے کا وزن پرواز کے دوران وہی رہتا ہے، جو رینج کو محدود کرتا ہے۔

دیگر چیلنجز میں چارجنگ کا بنیادی ڈھانچہ، بیٹریاں ٹھنڈا رکھنے کا نظام، اور ان کی پائیداری شامل ہیں۔ بیٹریاں ریچارجنگ کے عمل میں خصوصی کیسنگ اور درست کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ تیزی سے لیک ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، الیکٹرک طیاروں کی ابتدائی لاگت زیادہ ہو سکتی ہے، حالانکہ طویل مدت میں آپریٹنگ لاگت کم ہوتی ہے۔ بیٹری کی تیاری اور اس کے ضیاع کے ماحولیاتی اثرات بھی تشویش کا باعث ہیں، کیونکہ لیتھیم، کوبالٹ اور نکل جیسے خام مال کی کان کنی اور ری سائیکلنگ کے چیلنجز موجود ہیں۔

الیکٹرک طیارے بمقابلہ روایتی طیارے: ایک موازنہ

خصوصیتالیکٹرک طیارے (X1/ES-30)روایتی طیارے (جیٹ/ٹربو پراپ)
ایندھن کا ذریعہبیٹریاں (بجلی)، ممکنہ طور پر ہائبرڈ میں ایندھن سے چلنے والے جنریٹرزجیٹ فیول (پیٹرولیم مصنوعات)
کاربن کا اخراجصفر (خالص الیکٹرک موڈ میں) / کم (ہائبرڈ موڈ میں)زیادہ
شور کی سطحبہت کمزیادہ
آپریٹنگ لاگت (ایندھن)بجلی کے لحاظ سے کم (مثلاً، X1 پرواز $5)ایندھن کی قیمتوں کے مطابق زیادہ
رینجفی الحال محدود (ES-30 کے لیے 200 کلومیٹر الیکٹرک، 800 کلومیٹر ہائبرڈ)طویل
بیٹری وزن/توانائینسبتاً زیادہ وزن بمقابلہ توانائی کی کثافتایندھن ہلکا، پرواز کے ساتھ وزن میں کمی

ماحولیاتی فوائد اور پائیدار ہوا بازی

الیکٹرک طیاروں کی ترقی کے سب سے اہم فوائد میں سے ایک ماحولیاتی اثرات میں کمی ہے۔ روایتی جیٹ طیارے فضا میں بھاری مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتے ہیں، جو عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں۔ الیکٹرک طیارے، خاص طور پر اگر قابل تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی سے چارج کیے جائیں، تو کاربن کا اخراج صفر کر سکتے ہیں۔ اس سے فضائی آلودگی میں نمایاں کمی آئے گی، جو شہروں اور ایئرپورٹس کے آس پاس کی آبادیوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔

کم شور کی آلودگی بھی الیکٹرک طیاروں کا ایک اور اہم ماحولیاتی فائدہ ہے۔ روایتی طیاروں کا شور ایئرپورٹس کے قریب رہنے والے افراد کے لیے ایک مسلسل پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ الیکٹرک موٹرز بہت خاموشی سے کام کرتی ہیں، جس سے شور کی آلودگی میں کمی آئے گی اور شہری علاقوں میں فضائی سفر کو زیادہ قابل قبول بنایا جا سکے گا۔ یہ پائیدار ہوا بازی کے مقصد کو حاصل کرنے میں ایک کلیدی عنصر ہو سکتا ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں ماحولیاتی آلودگی کے خوفناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اور ایسے میں الیکٹرک گاڑیاں اور طیارے اس مسئلے سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے اثرات کے بارے میں مزید جاننے کے لیے، آپ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں۔

اس ٹیکنالوجی کا مقصد ہوا بازی کے شعبے کو زیادہ ماحول دوست بنانا ہے، اور ہارٹ ایرو اسپیس کا یہ اقدام اس سمت میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ان طیاروں کے تجارتی استعمال سے ایندھن کے استعمال اور کاربن اخراج میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس سے عالمی سطح پر آب و ہوا کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔

معاشی پہلو اور آپریشنل لاگت

الیکٹرک طیاروں کی معاشی افادیت پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ ان کی ابتدائی خریداری کی لاگت روایتی طیاروں کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں ان کی آپریٹنگ لاگت کافی کم ہونے کی امید ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بجلی کی سستی قیمت ہے، خاص طور پر اگر یہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے حاصل کی جائے۔ جیسا کہ X1 کی پرواز کے دوران صرف ۵؍ ڈالر کی بجلی استعمال ہوئی، یہ ظاہر کرتا ہے کہ الیکٹرک پروپلشن کی توانائی کی لاگت بہت کم ہو سکتی ہے۔

کمپنی کا ES-30 طیارہ تقریباً ۴۰؍ فیصد کم آپریٹنگ لاگت کا وعدہ کرتا ہے جو آج کے علاقائی طیاروں کے مقابلے میں ہے۔ یہ اخراجات میں کمی ایندھن کی بچت، کم دیکھ بھال کی ضروریات اور ممکنہ حکومتی مراعات کی وجہ سے ہو گی جو ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے دی جاتی ہیں۔ یہ معاشی فوائد ایئرلائنز کو الیکٹرک طیاروں کی طرف راغب کرنے اور انہیں فضائی سفر کے نئے ماڈل میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دیں گے۔

تاہم، یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ ۵؍ ڈالر کی لاگت صرف تجرباتی پرواز میں استعمال ہونے والی بجلی کی قیمت تھی اور اس میں طیارے کو چلانے کے دیگر تمام اخراجات شامل نہیں تھے۔ تجارتی پروازوں میں مکمل آپریٹنگ لاگت میں پائلٹ کی تنخواہ، ایئرپورٹ فیس، انشورنس، بیٹری کی تبدیلی یا دیکھ بھال اور دیگر انتظامی اخراجات شامل ہوں گے۔ پھر بھی، بجلی کی کم قیمت بنیادی بچت کا باعث بنتی ہے جو اس ٹیکنالوجی کو معاشی طور پر قابل عمل بناتی ہے۔

سرمایہ کاری اور مستقبل کے امکانات

الیکٹرک ایوی ایشن کے شعبے میں سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو اس ٹیکنالوجی کے مستقبل پر اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہارٹ ایرو اسپیس نے ۲۰۲۱ء میں ۳۵؍ ملین ڈالر اور ۲۰۲۴ء میں مزید ۱۰۷؍ ملین ڈالر کی اہم سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ ایئرلائنز جیسے یونائیٹڈ، ایئر کینیڈا اور جے ایس ایکس نے بھی ہارٹ ایرو اسپیس کے ES-30 طیارے کے لیے پیشگی آرڈرز اور سرمایہ کاری کے وعدے کیے ہیں۔

یہ سرمایہ کاری اور شراکت داریاں نہ صرف تحقیق و ترقی کو آگے بڑھا رہی ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ فضائی صنعت کے اہم کھلاڑی اس تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال سے قبل طیارے کو مزید آزمائشی مراحل، تکنیکی جانچ اور حفاظتی تقاضوں سے گزرنا ہو گا، لیکن X1 کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی عملی طور پر قابل حصول ہے۔ مستقبل میں، ہم علاقائی پروازوں میں الیکٹرک اور ہائبرڈ الیکٹرک طیاروں کا بڑھتا ہوا استعمال دیکھ سکتے ہیں، جو آخر کار طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے بھی راہیں کھولے گا۔

نتیجہ

دنیا کے سب سے بڑے بیٹری سے چلنے والے طیارے، ہارٹ ایرو اسپیس کے X1 ڈیمونسٹریٹر، کی کامیاب پرواز ہوا بازی کی تاریخ میں ایک نمایاں موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس نے نہ صرف تکنیکی قابلیت کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ پائیدار فضائی سفر کے لیے ایک ٹھوس بنیاد بھی فراہم کی ہے۔ اگرچہ الیکٹرک ایوی ایشن کو ابھی بھی بیٹری کی توانائی کی کثافت اور بنیادی ڈھانچے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن جاری تحقیق و ترقی، بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، اور ماحولیاتی ذمہ داری کے شعور کے ساتھ، یہ شعبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ X1 کی پرواز اور ES-30 جیسے منصوبے مستقبل میں کم اخراج، کم شور اور زیادہ کفایتی فضائی سفر کی امید دلاتے ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف ہوا بازی کے لیے بلکہ کرہ ارض کے ماحولیاتی مستقبل کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے۔