مقبول خبریں

زمین سے بعید خلائی جہاز: وائیجر 1 کے آلے بند، مشن کی توسیع کا فیصلہ

زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر موجود انسانیت کے تیار کردہ خلائی جہاز، ناسا کے وائیجر 1 (Voyager 1)، میں ایک اور اہم سائنسی آلے کو بند کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ خلائی جہاز کے مشن کو مزید طویل عرصے تک جاری رکھنے اور بین النجوم خلا (interstellar space) سے قیمتی سائنسی ڈیٹا جمع کرنے کی خاطر کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خلائی جہاز کو درپیش بڑھتے ہوئے توانائی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے تاکہ یہ اپنی غیر معمولی سائنسی تحقیق کو مزید کئی سالوں تک جاری رکھ سکے۔ اس حالیہ بندش کے بعد، وائیجر 1 پر اب صرف چھ سائنسی آلات باقی رہ گئے ہیں جو فعال ہیں۔ یہ وائیجر مشن کی تاریخ میں ایک اور اہم موڑ ہے، جو 1977 میں شروع ہوا اور اب بھی کائنات کے گہرے رازوں سے پردہ اٹھا رہا ہے۔

وائیجر 1 نے 46 سال سے زائد عرصے تک خلا میں سفر کیا ہے اور اب یہ ہمارے نظام شمسی کی حدود سے نکل کر بین النجوم خلا میں داخل ہو چکا ہے۔ اس کا مرکزی مقصد اس پراسرار اور وسیع علاقے کا مطالعہ کرنا ہے جہاں سے کوئی بھی انسانی ساختہ شے پہلے نہیں گزری۔ اس طویل سفر کے دوران خلائی جہاز کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں توانائی کی کمی سب سے اہم ہے۔ وائیجر 1 اپنے تین ریڈیوآئسوٹوپ تھرمو الیکٹرک جنریٹرز (RTGs) سے بجلی حاصل کرتا ہے، جن کی کارکردگی وقت کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے، ناسا کے انجینئرز اور سائنسدانوں کی ٹیم وقتاً فوقتاً اہم فیصلے کرتی ہے تاکہ دستیاب توانائی کو زیادہ سے زیادہ سائنسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

وائیجر 1 مشن کا پس منظر

وائیجر 1 اور اس کا جڑواں بھائی وائیجر 2، امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے ‘وائیجر پروگرام’ کا حصہ تھے، جو بیرونی نظام شمسی کے سیاروں، مشتری (Jupiter)، زحل (Saturn)، یورینس (Uranus) اور نیپچون (Neptune) کا مطالعہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔ ان خلائی جہازوں کو ایک ایسے وقت میں لانچ کیا گیا جب ٹیکنالوجی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی لیکن ان کا ڈیزائن اور انجینئرنگ ایسی تھی کہ وہ دہائیوں تک خلا کی سختیوں کو برداشت کر سکے۔

وائیجر کی لانچنگ اور ابتدائی کامیابیاں

وائیجر 1 کو 5 ستمبر 1977 کو لانچ کیا گیا، اس کا بنیادی مقصد مشتری اور زحل کا تفصیلی مطالعہ کرنا تھا۔ اس نے کامیابی سے ان دونوں گیسی جنات کی حیرت انگیز تصاویر اور ڈیٹا زمین پر واپس بھیجے، جن سے ان سیاروں کے ماحول، چاندوں اور حلقوں کے بارے میں ہمارے علم میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ مشتری کے چاند آئیو (Io) پر آتش فشاں کی سرگرمیوں کی دریافت اور زحل کے چاند ٹائٹن (Titan) کے گھنے ماحول کا انکشاف وائیجر 1 کی چند اہم کامیابیاں تھیں۔ یہ دریافتیں آج بھی فلکیات کے ماہرین کے لیے تحقیق کا موضوع ہیں۔

بین النجوم خلا میں وائیجر کا سفر

مشتری اور زحل کے کامیاب پروازوں کے بعد، وائیجر 1 کو نظام شمسی سے باہر بین النجوم خلا کی طرف روانہ کیا گیا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس نے اس مشن کو تاریخ کے سب سے طویل اور اہم خلائی مشنوں میں سے ایک بنا دیا۔ 2012 میں، وائیجر 1 باقاعدہ طور پر بین النجوم خلا میں داخل ہونے والا پہلا انسانی ساختہ جہاز بن گیا، جہاں یہ ہمارے سورج کے ہیلیو اسفیئر (Heliosphere) سے باہر کے ماحول کا مطالعہ کر رہا ہے۔ یہاں یہ مختلف پلازما لہروں، مقناطیسی شعبوں اور کائناتی شعاعوں کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا ہے جو زمین پر موجود سائنسدانوں کے لیے ناقابل حصول ہیں۔

آلے کو بند کرنے کا فیصلہ: تفصیلات

ناسا کے انجینئرز نے حال ہی میں وائیجر 1 کے ایک اور سائنسی آلے، جس کا نام ‘پلازما ویو سب سسٹم’ (Plasma Wave Subsystem – PWS) تھا، کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ آلہ بین النجوم پلازما کی لہروں کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا اور اس نے کئی سالوں سے قیمتی ڈیٹا فراہم کیا ہے۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نہیں کیا گیا بلکہ یہ کئی مہینوں کے غور و خوض اور تجزیے کے بعد کیا گیا ہے۔

توانائی کی کمی اور درپیش چیلنجز

وائیجر 1 کی بجلی کی فراہمی ریڈیوآئسوٹوپ تھرمو الیکٹرک جنریٹرز (RTGs) کے ذریعے ہوتی ہے، جو پلوٹونیم-238 کے تابکار زوال سے حرارت پیدا کرتے ہیں، جسے پھر بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ تاہم، پلوٹونیم-238 کی نصف حیات (half-life) کی وجہ سے وقت کے ساتھ اس کی حرارت پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار میں مسلسل کمی آتی ہے۔ اب وائیجر 1 صرف اپنے اصل پاور آؤٹ پٹ کے تقریباً 40 فیصد پر کام کر رہا ہے۔ اس قسم کے چیلنجز طویل خلائی مشنوں کے لیے عام ہیں، اور انجینئرز مسلسل ایسے طریقوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن سے موجودہ وسائل کو بہترین طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔

اس سے قبل بھی، وائیجر 1 کے کچھ دیگر آلات بند کیے جا چکے ہیں تاکہ سب سے اہم سائنسی آلات اور خلائی جہاز کے بنیادی سسٹم کو چلانے کے لیے کافی بجلی محفوظ کی جا سکے۔ ان فیصلوں میں خلائی جہاز کے مختلف حصوں کو گرم رکھنے والے ہیٹروں کو بند کرنا بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے جہاز کے کچھ حساس آلات کو شدید ٹھنڈک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے باوجود، وائیجر 1 نے اپنی کارکردگی برقرار رکھی ہے، جو اس کی حیرت انگیز پائیداری کا ثبوت ہے۔

سائنسی ترجیحات اور مشن کی توسیع

پلازما ویو سب سسٹم کو بند کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ ناسا کی ٹیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس آلے سے حاصل ہونے والا ڈیٹا دیگر فعال آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے مقابلے میں کم ترجیح کا حامل تھا۔ اس کے برعکس، وائیجر 1 اب بھی مقناطیسی شعبے، کائناتی شعاعوں اور کم توانائی والے ذرات کا مطالعہ کرنے والے آلات کے ذریعے بین النجوم خلا کے بارے میں منفرد معلومات فراہم کر رہا ہے۔ ان آلات کو فعال رکھنا مشن کی بنیادی سائنسی ترجیح ہے۔ یہ اقدام وائیجر 1 کی عملی زندگی کو 2020 کی دہائی کے وسط تک بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے، جس کے بعد اس کا ڈیٹا بھیجنا ممکنہ طور پر بند ہو سکتا ہے۔ یہ مستقبل کی سائنسی دریافتوں کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

سائنسی تحقیق پر اثرات

وائیجر 1 کے ایک آلے کی بندش یقینی طور پر بین النجوم خلا کے بعض پہلوؤں کے مطالعے کو متاثر کرے گی۔ تاہم، سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ باقی ماندہ آلات اب بھی انتہائی اہم ڈیٹا فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو کائنات کے بارے میں ہمارے فہم کو وسعت دے گا۔

کون سے آلات فعال رہیں گے؟

پلازما ویو سب سسٹم کے علاوہ، وائیجر 1 پر اب بھی چھ سائنسی آلات فعال ہیں: میگنیٹومیٹر (Magnetometer)، کائناتی شعاعوں کا سب سسٹم (Cosmic Ray Subsystem)، کم توانائی والے چارجڈ پارٹیکل (Low-Energy Charged Particle) کا آلہ، اور دو دیگر پلازما کے مطالعے کے آلات جو مختلف فریکوئنسیوں پر کام کرتے ہیں۔ یہ آلات بین النجوم خلا کے مقناطیسی میدان، اعلیٰ توانائی والے ذرات اور پلازما کی خصوصیات کے بارے میں معلومات فراہم کرتے رہیں گے۔ یہ ڈیٹا ہمارے نظام شمسی کے ماحول اور اس سے باہر کی کائنات کے درمیان تعامل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔

مستقبل کی دریافتوں کی امیدیں

وائیجر 1 کا مشن نہ صرف تاریخی اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ مستقبل کی خلائی تحقیق کے لیے بھی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ سورج کا مقناطیسی میدان اور ذرات کا اخراج (solar wind) کس طرح بین النجوم خلا کے ساتھ تعامل کرتا ہے، اور ہماری کہکشاں کے دوسرے ستاروں سے آنے والی کائناتی شعاعیں کس طرح ہمارے نظام شمسی میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ معلومات مستقبل کے بین النجوم مشنوں کے ڈیزائن اور ان کی منصوبہ بندی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گی۔ خلائی ٹیکنالوجی میں یہ پیشرفت ہمیں کائنات کے مزید گہرے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد دے گی۔

وائیجر: ایک ٹیکنالوجی کا شاہکار

وائیجر مشن ایک غیر معمولی ٹیکنالوجی کا مظہر ہے، جسے اس وقت ڈیزائن کیا گیا تھا جب کمپیوٹر کی طاقت آج کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ اس کے باوجود، یہ خلائی جہاز 46 سال سے زائد عرصے سے زمین سے 24 ارب کلومیٹر (15 بلین میل) سے زیادہ کے فاصلے پر کام کر رہا ہے۔

مشن کی غیر معمولی پائیداری

وائیجر کی غیر معمولی پائیداری اس کے مضبوط ڈیزائن، پرانے لیکن قابل اعتماد ہارڈویئر، اور ناسا کی انجینئرز کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ زمین سے اربوں میل دور، جہاں روشنی کی رفتار سے بھی معلومات پہنچنے میں کئی گھنٹے لگتے ہیں، وہاں خلائی جہاز کو برقرار رکھنا ایک ناقابل یقین کارنامہ ہے۔ ٹیم کے ارکان کو ایسے حل تلاش کرنے پڑتے ہیں جو موجودہ ہارڈویئر اور محدود توانائی کے ساتھ کام کر سکیں، اور انہیں اکثر ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کی پہلے سے کوئی مثال موجود نہیں ہوتی۔ ان چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت ہی وائیجر مشن کو ایک ٹیکنالوجی کا شاہکار بناتی ہے۔

وائیجر 1 کا آخری معلوم مواصلاتی مسئلہ نومبر 2023 میں شروع ہوا، جب اس کے فلائٹ ڈیٹا سب سسٹم (FDS) نے سائنس اور انجینئرنگ ڈیٹا کو صحیح طریقے سے زمین پر منتقل کرنا بند کر دیا۔ ناسا کے انجینئرز نے کئی مہینوں کی محنت کے بعد اپریل 2024 میں اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد وائیجر نے دوبارہ سائنسی ڈیٹا بھیجنا شروع کر دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ کس طرح وائیجر ٹیم ناممکن کو ممکن بناتی ہے۔ ناسا کی ویب سائٹ پر وائیجر مشن کے بارے میں مزید پڑھیں۔

وائیجر 1 اور 2 کا موازنہ (جدول)

وائیجر 1 اور وائیجر 2، دونوں نے نظام شمسی کی حدود سے باہر نکلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن ان کے راستے اور کامیابیاں کچھ مختلف ہیں۔

فیچر وائیجر 1 وائیجر 2
لانچ کی تاریخ 5 ستمبر 1977 20 اگست 1977
مقصد مشتری، زحل کا مطالعہ؛ بین النجوم خلا مشتری، زحل، یورینس، نیپچون کا مطالعہ؛ بین النجوم خلا
بین النجوم خلا میں داخلہ اگست 2012 نومبر 2018
زمین سے موجودہ فاصلہ (تقریباً) 24.3 ارب کلومیٹر (15.1 ارب میل) 20.3 ارب کلومیٹر (12.6 ارب میل)
فعال سائنسی آلات 6 5
سفر کی رفتار (تقریباً) 17 کلومیٹر فی سیکنڈ 15 کلومیٹر فی سیکنڈ
قابل ذکر دریافت آئیو پر آتش فشاں، ٹائٹن کا ماحول یورینس اور نیپچون کے انوکھے مقناطیسی میدان

مشن کا مستقبل اور اختتام

وائیجر 1 کا مشن، آلات کی بندش اور توانائی کے تحفظ کے ان فیصلوں کے باوجود، اب بھی جاری رہے گا۔ ناسا کے سائنسدانوں کا تخمینہ ہے کہ وائیجر 1 اور وائیجر 2 دونوں ہی 2020 کی دہائی کے وسط تک سائنسی ڈیٹا بھیجنے کے قابل رہیں گے، جس کے بعد ان کے آر ٹی جی (RTGs) اتنی کم توانائی پیدا کریں گے کہ بنیادی سائنسی آلات کو بھی برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ اس وقت، ممکنہ طور پر مزید آلات بند کیے جائیں گے یا پھر خلائی جہاز سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو جائے گا۔

اگرچہ یہ مشن بالآخر ختم ہو جائے گا، وائیجر 1 اور 2 انسانیت کی سب سے بڑی سائنسی اور انجینئرنگ کامیابیوں میں سے ہیں۔ یہ صرف خلائی جہاز نہیں بلکہ ہماری تجسس، تحقیق اور نئی دنیاؤں کو دریافت کرنے کی خواہش کی علامت ہیں۔ یہ دونوں خلائی جہاز اب بھی خلا کی گہرائیوں میں اپنا سفر جاری رکھیں گے، اپنے ساتھ انسانیت کا پیغام اور گولڈن ریکارڈ (Golden Record) لے کر، کائنات کے اس وسیع سمندر میں جہاں انسانیت کا کوئی دوسرا سفیر اب تک نہیں پہنچا۔ ان کا سفر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسانی ذہن کی وسعت اور تلاش کی پیاس کی کوئی انتہا نہیں۔