مقبول خبریں

سابق افغان بولر شاپور زادران 38 برس کی عمر میں چل بسے

سابق افغان بولر شاپور زادران 38 برس کی عمر میں چل بسے۔ افغانستان کرکٹسابق کے ایک اہم ستون اور بین الاقوامی سطح پر ٹیم کے عروج میں کلیدی کردار ادا کرنے والے فاسٹ بولر شاپور زادران 7 جولائی 2026 کو طویل علالت کے بعد 38 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات افغانستان کرکٹ کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے، کیونکہ وہ ان کھلاڑیوں میں سے تھے جنہوں نے ملک میں کرکٹ کے کھیل کو پروان چڑھانے اور اسے عالمی نقشے پر لانے میں ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔

تعارف: افغانستان کے کرکٹ ہیرو کا المناک انتقال

افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے شاپور زادران کے انتقال کی تصدیق کی، جس کے بعد دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ وہ اپنی 39ویں سالگرہ سے صرف ایک دن قبل بھارت کے شہر نئی دہلی کے ایک ہسپتال میں آخری سانسیں لیں، جہاں وہ ایک نایاب اور سنگین مدافعتی بیماری Hemophagocytic Lymphohistiocytosis (HLH) کے باعث زیر علاج تھے۔ یہ مرض مدافعتی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ شاپور زادران کا شمار افغانستان کے بانی کرکٹرز میں ہوتا تھا، جن کی لگن، جوش اور غیر متزلزل عزم نے ملک میں کرکٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

وہ 6 فٹ سے زائد قد کے حامل تھے اور اپنی تیز رفتار باؤلنگ، جارحانہ انداز اور لمبے لہراتے بالوں کی وجہ سے کرکٹ شائقین میں خاصی شہرت رکھتے تھے۔ ان کا شمار افغانستان کرکٹ کے اس ابتدائی دور کے اہم بولرز میں ہوتا تھا جب افغان ٹیم عالمی کرکٹ میں اپنی شناخت بنا رہی تھی۔ ان کی وفات نے نہ صرف ان کے ساتھی کھلاڑیوں اور مداحوں کو افسردہ کیا ہے، بلکہ افغان کرکٹ کے ایک دور کا اختتام بھی کیا ہے جس میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔

سابق افغان فاسٹ بولر شاپور زدران 38 برس کی عمر میں زندگی کی بازی ہار گئے – Pakistan Today

ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا سفر: پشاور سے عالمی اسٹیج تک

شاپور زادران کی زندگی کا ابتدائی حصہ دیگر افغان مہاجرین کی طرح پاکستان میں گزرا۔ انہوں نے بحیثیت مہاجر پاکستان کے شہر پشاور میں رہائش اختیار کی، جہاں سے انہوں نے اپنی کرکٹ کا آغاز کیا۔ پشاور کے گلی کوچوں اور میدانوں میں کرکٹ کھیلتے ہوئے انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔ اسی دوران ان کی دوستی اور کرکٹ کا سفر افغانستان کے معروف کھلاڑیوں محمد نبی، اصغر افغان اور دولت زادران کے ساتھ بھی رہا، جو بعد میں عالمی سطح پر افغان کرکٹ کی پہچان بنے۔

شاپور زادران کا سفر افغانستان کرکٹ کے عروج کی کہانی کا ایک اہم حصہ ہے، جو مشکل حالات میں پروان چڑھی۔ انہوں نے اس ٹیم کا حصہ بن کر کھیلا جس نے عالمی کرکٹ میں افغانستان کو ایک مضبوط مقام دلایا۔ وہ ان کھلاڑیوں میں سے تھے جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنے کھیل اور محنت کے بل بوتے پر بین الاقوامی کرکٹ میں جگہ بنائی اور نوجوان افغان کرکٹرز کے لیے ایک مثال قائم کی۔ ان کی کہانی بہت سے نوجوان افغان کرکٹرز کے لیے تحریک کا باعث تھی، نہ صرف افغانستان میں بلکہ دنیا بھر میں۔

شاندار کیریئر کی جھلکیاں اور بین الاقوامی کامیابیاں

شاپور زادران نے 2009 سے 2020 کے دوران افغانستان کی نمائندگی کی اور اپنے کیریئر میں 44 ایک روزہ بین الاقوامی (ODI) اور 36 ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی (T20I) میچز کھیلے۔ ان کا یہ دور افغانستان کرکٹ کے لیے انتہائی اہم تھا، کیونکہ اس دوران افغانستان نے کرکٹ کے مختصر فارمیٹس میں تیزی سے ترقی کی۔

زادران نے متعدد مواقع پر اپنی مؤثر باؤلنگ سے ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی شریک ہوئے، جہاں انہوں نے نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی باؤلنگ نہ صرف وکٹیں حاصل کرتی تھی بلکہ حریف بلے بازوں پر دباؤ بھی بڑھاتی تھی، جو ان کی جارحانہ اور بے باک شخصیت کا عکاس تھا۔ ان کی کارکردگی افغانستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم حصہ رہے گی، اور قومی ٹیم کے لیے ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔

شاپور زادران کا بین الاقوامی کیریئر میچز وکٹیں (تقریباً) ایکسانومی ریٹ (تقریباً) بہترین باؤلنگ (تقریباً)
ایک روزہ بین الاقوامی (ODI) 44 50 5.50 4/24
ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی (T20I) 36 40 7.50 3/17

جارحانہ انداز اور افغان کرکٹ پر ان کے گہرے اثرات

شاپور زادران کو ان کی تیز رفتار باؤلنگ کے لیے جانا جاتا تھا، جو بلے بازوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی تھی۔ ان کا رن اپ طویل اور ایکشن طاقتور تھا، جس کی بدولت وہ گیند کو تیز رفتاری سے پھینکتے تھے۔ ان کی شخصیت بھی میدان میں نمایاں تھی، ان کے لمبے، لہراتے بال اور جارحانہ جشن منانے کا انداز انہیں شائقین میں بے حد مقبول بناتا تھا۔ وہ صرف ایک باؤلر نہیں تھے، بلکہ افغان کرکٹ کے جذباتی چہرے کی عکاسی کرتے تھے، جو ہر میچ میں جیتنے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتے تھے۔

افغانستان کے کرکٹ سفر میں، جو کہ ایک دہائی قبل شروع ہوا، شاپور زادران نے ایک مضبوط فاسٹ باؤلر کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔ وہ ان کھلاڑیوں میں سے تھے جنہوں نے ٹیم کو کامیابیوں کی طرف گامزن کیا اور عالمی کرکٹ میں افغانستان کی پوزیشن مستحکم کی۔ ان کا اثر میدان سے باہر بھی تھا، جہاں وہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک تحریک تھے۔ وہ افغان کرکٹ کی روح تھے، جنہوں نے جنگ زدہ ملک سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے گروہ کو عالمی اسٹیج پر لایا جس نے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا۔

افغانستان کے سابق فاسٹ بولر 38 برس کی عمر میں انتقال کر گئے - ایکسپریس اردو

طویل علالت اور مرض سے مقابلہ

شاپور زادران گزشتہ کئی مہینوں سے صحت کے مسائل کا شکار تھے۔ گزشتہ سال کے آخر میں ان کی طبیعت خراب ہونے پر افغانستان کے ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں بھارت علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔ ابتداء میں ان کی حالت میں کچھ بہتری آئی اور انہیں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا، لیکن چند ہفتوں بعد ان کی صحت دوبارہ بگڑ گئی۔ انہیں دوبارہ ہسپتال میں داخل کیا گیا، اور جو ابتدائی طور پر پیٹ کی خرابی سمجھی جا رہی تھی، وہ کہیں زیادہ سنگین نکلی۔

انہیں تیز بخار ہوا اور ڈینگی کا بھی ٹیسٹ مثبت آیا، جبکہ ان کے سرخ خلیوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی تھی۔ مزید ٹیسٹوں، بشمول بون میرو کے معائنے کے بعد، انہیں اسٹیج 4 Hemophagocytic Lymphohistiocytosis (HLH) کی تشخیص ہوئی۔ یہ ایک نایاب اور جان لیوا مدافعتی عارضہ ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام خود اپنے اعضاء پر حملہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ انہوں نے بہادری سے اس بیماری کا مقابلہ کیا، لیکن بالآخر 7 جولائی کو وہ اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان کے انتقال کی خبر نے افغان کرکٹ کمیونٹی کو شدید صدمہ پہنچایا۔

افغان کرکٹ میں میراث اور خراج تحسین

شاپور زادران کے انتقال پر افغانستان کرکٹ حلقوں، سابق ساتھی کھلاڑیوں اور مداحوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے ایک بیان میں کہا کہ “شاپور زادران افغانستان کرکٹ کی بنیاد رکھنے والی شخصیات میں سے ایک تھے، جن کی لگن، جوش اور غیر متزلزل عزم نے ہمارے ملک میں کھیل کے عروج اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا”۔ بورڈ نے مزید کہا کہ “وہ ان فخر مند کرکٹرز میں سے تھے جو افغانستان کے ابتدائی کرکٹ سفر کے دل میں کھڑے تھے اور انہوں نے افغان کرکٹ کو بین الاقوامی اسٹیج پر لانے میں مدد کی”۔

شاپور زادران نے اپنے کیریئر کے دوران اعزاز، ہمت اور فخر کے ساتھ افغان کرکٹ کی خدمت کی۔ ان کی شراکت اور کامیابیاں ہمیشہ افغانستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم حصہ رہیں گی، اور قومی ٹیم کے لیے ان کی کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ان کے جانے سے افغان کرکٹ نے ایک ہیرو، ایک رہنما اور ایک متاثر کن شخصیت کھو دی ہے۔ پاکستان کے معروف میڈیا ادارے
ایکسپریس نیوز نے بھی ان کے انتقال کی خبر کو تفصیل سے شائع کیا، جو ان کی عالمی کرکٹ میں اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

نتیجہ

شاپور زادران کا المناک انتقال افغان کرکٹ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے صرف ایک کھلاڑی کے طور پر نہیں بلکہ ایک سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جس نے دنیا کو دکھایا کہ کس طرح مشکلات کے باوجود عزم اور محنت سے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کی زندگی، ان کا کھیل، اور افغان کرکٹ کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ ایک حقیقی ہیرو تھے، جنہوں نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا اور کرکٹ کے میدان میں افغانستان کا نام روشن کیا۔ ان کی میراث آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ رہے گی اور ان کا نام افغان کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔