مقبول خبریں

سبق نہ سیکھا تو ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا، ٹرمپ کی دھمکی1

سبق نہ سیکھا تو ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ دھمکی ایک بار پھر عالمی سطح پر سرخیوں میں ہے اور مشرق وسطیٰ کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات ایک بار پھر انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں کا تبادلہ خطے کو ایک بڑے تصادم کی جانب دھکیل رہا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر حالات نہ بدلے تو واشنگٹن اپنی فوجی کارروائیاں مزید وسیع کر سکتا ہے، اور ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب امریکہ کے لیے مزید تحمل ممکن نہ رہے اور ایران کا وجود ہی نہ رہے۔ یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ اپنے معاملات میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے، اور تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے۔

ٹرمپ کی دھمکی کا پس منظر: بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی کارروائیاں

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے وجود کو لاحق خطرے کی یہ دھمکی کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ ان کی ایران کے حوالے سے اختیار کردہ ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں اس دھمکی میں شدت اس لیے آئی ہے کہ امریکہ نے مسلسل دوسرے روز ایران پر بمباری کی ہے، جس میں سیریک، بندرِ لنگہ اور جزیرۂ قشم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی اور خطے میں ایران کی سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر یہ بھی بتایا کہ امریکی فضائیہ نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر، ساحلی ریڈار تنصیبات اور دیگر فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بھی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ حملوں اور ایران کی جانب سے جارحانہ اقدامات کے جواب میں امریکی افواج نے ایران کے فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگیں بچھانے سے متعلق صلاحیتوں کو ہدف بنایا ہے۔ یہ فوجی کارروائیاں دونوں ممالک کے درمیان اپریل میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد مزید کشیدگی کا باعث بن رہی ہیں۔ ٹرمپ نے ایران پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ وہ “فوجی کارروائی کے ذریعے کام مکمل کر دیں گے۔”

ایران پر امریکی دباؤ کی حکمت عملی اور اس کے اثرات

امریکی دباؤ کی حکمت عملی کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہی ہو گیا تھا جب 2018 میں امریکہ نے ایران کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کی اور تہران پر نئی اور سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ پابندیاں ایران کے تیل، بینکاری اور مالیاتی شعبوں کو ہدف بناتی ہیں اور ان کا مقصد ایران کی معیشت کو مفلوج کرنا اور اسے علاقائی اور عالمی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو کم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں ایرانی شہروں اور کرپٹو ایکسچینجز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، ان پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کرتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ان پابندیوں سے ایران کی خطے میں پراکسیز کی حمایت کمزور ہوئی ہے اور دہشت گردی پھیلانے کے لیے مالی وسائل تک ان کی رسائی کم ہوئی ہے۔ تاہم، ان پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے اور خطے میں اپنا کردار برقرار رکھا ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی قیادت “شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار” ہے اور نئے لوگ اقتدار میں آ چکے ہیں، لیکن اس دعوے کی حقیقت پیچیدہ ہے اور اس پر بحث جاری ہے۔ اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز کا مسئلہ بھی ہے، جہاں امریکہ نے اپنی بحری موجودگی برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے، حالانکہ فی الحال دوبارہ ناکہ بندی کا امکان کم بتایا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے یہاں تک دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کی تو “اس کا ملک باقی نہیں رہے گا۔”

تہران نے سبق نہ سیکھا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا، ٹرمپ کی دھمکی

جوہری معاہدہ، امریکی پابندیوں کا تسلسل اور معاشی چیلنجز

ایران کے جوہری معاہدے (Joint Comprehensive Plan of Action – JCPOA) سے امریکہ کی 2018 میں دستبرداری نے خطے میں کشیدگی کی ایک نئی لہر کو جنم دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو ایک “بدترین ڈیل” قرار دیا اور اسے “تباہ کن” سمجھ کر امریکہ کو اس سے الگ کر لیا۔ اس کے بعد امریکہ نے “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم کے تحت ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں، جس کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانا اور اس کی معیشت کو مفلوج کرنا تھا۔

تازہ ترین پیش رفت کے مطابق، امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اصرار کیا ہے کہ ایران نے “طویل مدت تک جوہری معائنوں کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے،” جس کا ایران نے سختی سے انکار کیا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ “ایران نے مکمل طور پر اور اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنے طویل مدت کے لیے (یہاں تک کہ لامحدود مدت تک!!!) مان لیے ہیں۔” تاہم، ایران نے واضح کیا ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت شروع نہیں کی اور نہ ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ متضاد بیانات صورتحال کی پیچیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

پابندیوں کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ نے ایک “انسانی بحران” کے پیش نظر ایران کو خوراک اور طبی امداد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والی رقوم ایک ایسکرو اکاؤنٹ میں امریکی کنٹرول کے تحت رکھی جائیں گی اور یہ صرف خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال ہوں گی، جو امریکہ سے حاصل کیے جائیں گے، جن میں مکئی، گندم اور سویا بین شامل ہیں۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ دباؤ اور مذاکرات، دونوں راستوں کو بیک وقت استعمال کر رہا ہے۔

ایران کا ردعمل: مزاحمت، دفاعی حکمت عملی اور فوجی تیاری

ایران نے امریکی دھمکیوں اور پابندیوں کا مقابلہ ہمیشہ مزاحمت اور اپنے دفاع کے حق پر زور دے کر کیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ایران کو اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا فطری اور قانونی حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں خالصتاً قومی سلامتی کے تحفظ اور خطے کے استحکام کی ضامن ہیں، اور ملک اپنی دفاعی استعداد کو ہمیشہ اسی مقصد کے لیے برقرار رکھے ہوئے ہے۔

علاقائی کشیدگی کے درمیان، ایران نے اپنی فوجی حکمت عملی اور نظریے میں تبدیلی کا بھی اعلان کیا ہے، جو ایک غیر فعال دفاعی موقف سے ایک فعال، قبل از وقت حملے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کا بھی کہنا ہے کہ کئی سالوں سے عائد پابندیوں کے باوجود ایران ڈرون صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اس کی میزائل قوت مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی اور طاقتور ہے۔

ایران کی “عظیم تر حکمتِ عملی” (Grand Strategy) مزاحمت اور پیشگی دفاع (Forward Defense) پر مبنی ہے، جس کا ایک اہم مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خطے سے باہر نکالنا ہے۔ اس مقصد کے تحت ایران پراکسی قوتوں اور مسلح جدوجہد پر انحصار کرتا ہے۔ امریکی دعووں کے برعکس، جنگ کے دوران ایرانی عوام نے جارحیت کا آغاز ہوتے ہی سڑکوں پر نکل کر ملک اور حکومت کی حمایت میں بڑے بڑے مظاہرے کیے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اندرونی سطح پر عوام کی حمایت اب بھی موجود ہے۔

فریقاہم مطالبات/موقف حالیہ اقدامات
امریکہ (صدر ٹرمپ)
  • ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے (جوہری معائنوں پر مکمل رضامندی)
  • آبنائے ہرمز کی مکمل اور بلاروک ٹوک آمد و رفت
  • خطے میں ایرانی پراکسیز کی حمایت کا خاتمہ
  • “ابراہم معاہدوں” میں مزید مسلم ممالک کی شمولیت
  • ایران پر فضائی حملے (میزائل و ڈرون ذخائر، ریڈار تنصیبات)
  • نئی مالیاتی پابندیاں (کرپٹو ایکسچینجز، شہروں پر)
  • ایران کو انسانی امداد کی فراہمی (خوراک، ادویات)
  • امریکی فوج کی آبنائے ہرمز میں موجودگی
ایران
  • اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع
  • جوہری پروگرام کا پرامن مقاصد کے لیے استعمال
  • امریکی پابندیوں کا خاتمہ
  • خطے سے امریکی اور اتحادی افواج کا انخلا
  • دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ (میزائل، ڈرون)
  • دفاعی حکمت عملی میں پیشگی حملے کی تبدیلی
  • جوہری معائنوں سے انکار (ٹرمپ کے دعوے کے برعکس)
  • خطے میں “محورِ مزاحمت” کی حمایت

خطے پر اثرات اور عالمی طاقتوں کا کردار

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خطے پر گہرے اور وسیع اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور استحکام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ لبنان، شام، عراق اور یمن جیسے ممالک میں پراکسی جنگوں اور کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستیں، اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کر رہی ہیں۔ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک بھی اس تنازع کے ممکنہ اثرات سے پریشان ہیں۔

عالمی طاقتیں، جن میں روس، چین اور یورپی یونین شامل ہیں، بھی اس تنازع میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ چین نے، مثال کے طور پر، ایران کی معیشت میں پیسہ لگا کر اسے ایک طرح کی انشورنس فراہم کی ہے۔ یورپی ممالک عمومی طور پر امریکہ کی ایران پر سخت پالیسی کے حامی نہیں رہے ہیں اور وہ جوہری معاہدے کو بچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ جرمنی کے چانسلر نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع میں امریکہ کو سبکی کا سامنا ہے اور ایرانی توقع سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی برادری میں بھی اس معاملے پر اختلافات موجود ہیں اور تمام فریقین ایک متفقہ حل پر متفق نہیں ہو پا رہے ہیں۔ کانگریس کی قرارداد، جو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو محدود کرنے سے متعلق ہے، امریکی سیاست میں صدر کے جنگی اختیارات اور کانگریس کے آئینی کردار کے درمیان توازن پر جاری بحث کا حصہ ہے۔

پاکستان کا ثالثی کا کردار اور امن کی کوششیں

اس تمام تر کشیدگی کے دوران، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف جنگ روکی۔ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی اور انہیں اپنا “بہت دوست” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دونوں ممالک کے قریب ہے اور ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے کام کر رہا ہے۔

پاکستانی قیادت نے اس موقع پر عالمی امن کے لیے ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “مدبرانہ قیادت” کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ممکن ہونے کا ذکر کیا۔ یہ پیش رفت خطے میں پاکستان کے سفارتی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان ایک متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے علاقائی تنازعات کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم، یہ ثالثی کا کردار بذات خود ایک نازک عمل ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے مطالبات اور موقف میں بہت زیادہ تضاد پایا جاتا ہے۔ پاکستان کی یہ کوششیں بلاشبہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت قدم ہیں۔ مزید معلومات کے لیے، ایکسپریس نیوز کی اس رپورٹ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، جس میں امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکی اور اس کے پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

مستقبل کے امکانات اور “وجود” کی بقا کا چیلنج

ایران کو دی جانے والی “وجود باقی نہیں رہے گا” کی دھمکی کا مفہوم صرف جغرافیائی بقا نہیں بلکہ اس کے سیاسی، معاشی اور نظریاتی وجود کو بھی چیلنج کرنا ہے۔ امریکہ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی کا مقصد ایران کے موجودہ نظام کو کمزور کرنا یا اسے تبدیل کرنا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے بعض اوقات معاہدے کے بارے میں مثبت اشارے بھی دیے ہیں، جیسے کہ ایران کا جوہری معائنوں پر رضامندی کا دعویٰ یا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے امکان کو کم قرار دینا، تاہم ان کی دھمکی آمیز زبان اور فوجی کارروائیاں صورتحال کو مسلسل غیر یقینی بنائے ہوئے ہیں۔

ایران کے لیے اپنے “وجود” کی بقا کا چیلنج کثیر الجہتی ہے۔ اسے نہ صرف امریکہ کے فوجی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے، بلکہ اسے اپنی داخلی سلامتی، معیشت اور علاقائی اثر و رسوخ کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ ایران کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے گا۔ ایران نے اپنی فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کا بھی اعلان کیا ہے، جس میں پیشگی حملے کی صلاحیت شامل ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران امریکہ کی دھمکیوں کے سامنے جھکنے کے بجائے ایک جارحانہ دفاعی موقف اختیار کر سکتا ہے۔

مستقبل میں، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ انتہائی دشوار گزار نظر آتا ہے۔ ٹرمپ نے معاہدے نہ ہونے کی صورت میں “ایران کو تباہ کرنے” اور “ایرانی وفد کے واپس نہ جا سکنے” کی دھمکی بھی دی ہے۔ اس کے باوجود، بعض اوقات مذاکرات کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں، جیسا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات جن میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ تمام صورتحال خطے کو ایک نازک توازن پر رکھے ہوئے ہے، جہاں کسی بھی وقت ایک چھوٹی سی چنگاری ایک بڑے تنازع کو جنم دے سکتی ہے۔ ایران کے “وجود” کا سوال صرف ایران کا نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی طاقتوں کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔

نتیجہ: ایک نازک موڑ پر خطے کی قسمت

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی یہ دھمکی کہ “سبق نہ سیکھا تو ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا” ایک سنگین پیغام ہے جو امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف دباؤ کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ دھمکی امریکہ اور ایران کے درمیان گہری اور جاری کشیدگی، فوجی تصادم کے خطرات، اور معاشی پابندیوں کے وسیع تر تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والی فوجی کارروائیاں، متضاد بیانات اور مذاکرات کی کوششیں، سب اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطہ ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

ایران اپنے دفاع کے حق پر سختی سے کاربند ہے اور اس نے اپنی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے، ساتھ ہی اپنی حکمت عملی میں بھی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ عالمی طاقتیں اور علاقائی کھلاڑی اس صورتحال کے اثرات سے بچنے اور استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں پاکستان کا ثالثی کا کردار قابل تعریف ہے۔ تاہم، اس پیچیدہ صورتحال کا کوئی آسان حل نظر نہیں آتا، اور دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی ایک طویل اور مشکل عمل ہے۔ ایران کے “وجود” کی بقا کا چیلنج صرف تہران کے لیے نہیں بلکہ عالمی امن اور استحکام کے لیے بھی ایک اہم سوال ہے۔ اگر دونوں فریقین حکمت اور بصیرت سے کام نہیں لیتے تو خطے کو غیر متوقع اور تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔