مصنوعی ذہانت کا اثر پاکستان کی ٹیکنالوجی صنعت پر تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے، خاص طور پر ابتدائی سطح کی نوکریوں پر اس کے اثرات تشویشناک ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں جونیئر سطح کے سافٹ ویئر ڈویلپرز کی ملازمتوں میں 25 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ کمی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز، جیسے کہ بڑے لسانی ماڈلز (LLMs) اور کلاؤڈ ٹولز کے بڑھتے ہوئے استعمال کا نتیجہ ہے، جنہوں نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے بہت سے معمول کے کاموں کو خودکار بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف مصنوعی ذہانت صنعتی ترقی اور کارکردگی میں انقلاب برپا کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف یہ روایتی ملازمتوں کے ڈھانچے کو چیلنج کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں افرادی قوت کے لیے نئی مہارتوں کو اپنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایک دوہرا چیلنج پیش کرتی ہے جہاں نوجوان آبادی کا ایک بڑا حصہ تعلیم اور روزگار کے مواقع کی تلاش میں ہے۔ اس مضمون میں ہم پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے روزگار پر اثرات، اس سے پیدا ہونے والے چیلنجز اور مواقع، حکومتی اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملیوں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
مصنوعی ذہانت اور پاکستان کا بدلتا روزگار کا منظرنامہ
جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا ایک ایسا شعبہ ہے جو دنیا بھر کی صنعتوں، معاشرت اور معیشت کو تیزی سے تبدیل کر رہا ہے۔ پاکستان بھی اس عالمی تبدیلی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ہے۔ یہاں بھی مصنوعی ذہانت کی آمد نے روزگار کے منظرنامے کو یکسر بدل دیا ہے۔ خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں، جہاں خودکار نظام اور الگورتھم بہت سے کاموں کو مؤثر طریقے سے انجام دے رہے ہیں، ابتدائی سطح کی نوکریاں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ سافٹ ویئر ہاؤسز اب انہی کاموں کے لیے کم جونیئر وسائل پر انحصار کر رہے ہیں جو پہلے انسانی عملے سے انجام دیے جاتے تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، سافٹ ویئر ہاؤسز میں 80 فیصد تک ترسیل کے پہلوؤں میں افرادی قوت میں کمی کی گئی ہے، جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز جیسے LLMs اور کلاؤڈ ٹولز کی دستیابی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ یہ کمی نہ صرف جونیئر ڈویلپرز کے لیے مواقع محدود کر رہی ہے بلکہ تعلیمی اداروں اور حکومتی اداروں کے لیے بھی نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے کہ وہ نوجوانوں کو ایسی مہارتوں سے آراستہ کریں جو مستقبل کی ٹیکنالوجی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت جہاں کچھ روایتی ملازمتیں ختم کر رہی ہے، وہیں یہ زیادہ مہارت والی اور بہتر تنخواہ والی نئی ملازمتیں بھی پیدا کر رہی ہے۔ تاہم، اس منتقلی کے عمل میں، پاکستانی افرادی قوت کو اپنی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرنا ہوگا تاکہ وہ اس بدلتے ہوئے ماحول میں اپنی جگہ بنا سکیں۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں ملک کو اپنی ڈیجیٹل پالیسیوں اور تعلیمی نظام میں فوری تبدیلیاں لانا ہوں گی تاکہ نوجوانوں کو مستقبل کے روزگار کے لیے تیار کیا جا سکے اور وہ مصنوعی ذہانت کے فوائد سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
ابتدائی سطح کی نوکریوں پر مصنوعی ذہانت کا براہ راست اثر
پاکستان میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ابتدائی سطح کی نوکریوں پر مصنوعی ذہانت کا اثر سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ خاص طور پر سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے میدان میں، جہاں جونیئر ڈویلپرز کو سادہ کوڈنگ، ٹیسٹنگ اور دیکھ بھال کے کاموں کے لیے رکھا جاتا تھا، اب یہ کام مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے ذریعے زیادہ تیزی اور درستگی سے انجام دیے جا رہے ہیں۔ عرب نیوز پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں جونیئر سطح کے سافٹ ویئر ڈویلپرز کی ملازمتوں میں 25 فیصد کمی آئی ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارمز، جیسے کہ ChatGPT اور دیگر LLMs، کوڈ جنریٹ کرنے، بگ فکس کرنے اور کوڈ کو بہتر بنانے میں جونیئر ڈویلپرز کی مدد کر رہے ہیں، جس سے کمپنیوں کو کم افرادی قوت کی ضرورت پڑ رہی ہے۔
یہ رجحان صرف سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ تک محدود نہیں بلکہ دیگر ابتدائی سطح کے تکنیکی کرداروں جیسے ڈیٹا انٹری آپریٹرز، ٹیکنیکل سپورٹ کے ابتدائی کردار اور سادہ ویب ڈویلپمنٹ میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ٹولز کمپنیوں کو اپنے منصوبوں کو کم وقت میں مکمل کرنے اور زیادہ کارکردگی حاصل کرنے میں مدد دے رہے ہیں، لیکن اس کا نتیجہ جونیئر سطح پر انسانی عملے کی ضرورت میں کمی کی صورت میں نکل رہا ہے۔ اس کے علاوہ، جو کام پہلے کئی افراد کرتے تھے، اب وہی کام مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک فرد زیادہ مؤثر طریقے سے کر سکتا ہے، جس سے ملازمتوں کی تعداد پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔
- خودکار کوڈ جنریشن: مصنوعی ذہانت کے ٹولز سادہ کوڈ اور کوڈ کے حصوں کو خود بخود تیار کر سکتے ہیں، جس سے جونیئر پروگرامرز کے کام کا بوجھ کم ہوتا ہے۔
- بگ فکسنگ اور ڈیبگنگ: AI ٹولز کوڈ میں غلطیوں کی نشاندہی اور انہیں ٹھیک کرنے میں مدد کر سکتے ہیں، جو عام طور پر جونیئر ڈویلپرز کا ایک اہم کام ہوتا تھا۔
- ٹیسٹنگ اور کوالٹی اشورنس: خودکار ٹیسٹنگ فریم ورک اور AI پر مبنی ٹولز سافٹ ویئر کی کوالٹی کو جانچنے میں تیزی لاتے ہیں، جس سے دستی ٹیسٹرز کی ضرورت کم ہوتی ہے۔
- دستاویزی کاری: مصنوعی ذہانت سسٹم کی دستاویزات بنانے اور اسے اپ ڈیٹ کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے انسانی وقت کی بچت ہوتی ہے۔
متاثرہ شعبے اور ملازمت کے کردار
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات صرف ٹیکنالوجی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ دیگر صنعتوں تک بھی پھیل رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، مصنوعی ذہانت کمپیوٹر کی مدد سے کی جانے والی 70 فیصد تک ملازمتوں کو تبدیل یا مکمل طور پر ختم کر سکتی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی ریسرچ (IPPR) کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ AI معیشت اور معاشرے پر زبردست اثر ڈالے گی، جس میں پروجیکٹ مینجمنٹ، مارکیٹنگ اور انتظامی معاونت جیسے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
مائیکروسافٹ کی ایک رپورٹ “ورکنگ ود اے آئی” میں ان ملازمتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو مصنوعی ذہانت کی آمد سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
- مترجم اور زبانوں کے ماہرین: مصنوعی ذہانت پر مبنی ترجمہ کے آلات کی بڑھتی ہوئی صلاحیت نے اس شعبے میں انسانی مترجمین کی ضرورت کو کم کر دیا ہے۔
- ٹکٹ ایجنٹ اور سفری کلرک: آن لائن بکنگ سسٹمز اور AI سے چلنے والے کسٹمر سروس چیٹ بوٹس نے سفری ایجنٹوں کے کردار کو متاثر کیا ہے۔
- سروسز کے سیلز نمائندے: خودکار سیلز اور مارکیٹنگ پلیٹ فارمز بہت سے سیلز کے کاموں کو انجام دے رہے ہیں۔
- نشریاتی میزبان اور ریڈیو ڈی جے: مواد کی خودکار تیاری اور AI وائس جنریشن نے اس شعبے میں نئی راہیں کھول دی ہیں۔
- مصنفین اور لکھاری: مواد کی تخلیق کے لیے AI ٹولز کا استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے ابتدائی سطح کے لکھاریوں کو چیلنجز کا سامنا ہے۔
- مورخین: معلومات کی تنظیم اور تجزیہ میں AI کے استعمال سے اس شعبے میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
- کسٹمر سروس نمائندے: AI سے چلنے والے چیٹ بوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس صارفین کے سوالات کا جواب دینے اور مسائل حل کرنے میں تیزی لاتے ہیں۔
- مسافروں کی دیکھ بھال کرنے والے: نقل و حمل کے شعبے میں خودکار نظام اور بہتر لاجسٹکس انسانی مداخلت کو کم کر سکتے ہیں۔
- ٹیلیفون آپریٹرز: خودکار فون سسٹمز اور AI وائس اسسٹنٹس کال ہینڈلنگ کو مؤثر بناتے ہیں۔
- قانونی ماہرین کے معاون: قانونی تحقیق اور دستاویزات کی تیاری میں AI کے استعمال سے معاونین کے کردار میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
اس کے برعکس، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نرسنگ اسسٹنٹ، بلڈ سیمپل لینے والے، شپ انجینئرز اور گاڑیوں کے ٹائر ٹیکنیشن جیسے عملی شعبے ابھی تک مصنوعی ذہانت سے محفوظ تصور کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان میں جسمانی موجودگی اور انسانی رابطے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
| ملازمت کا کردار | مصنوعی ذہانت کا اثر | مستقبل کا رجحان |
|---|---|---|
| جونیئر سافٹ ویئر ڈویلپر | 25% کمی، خودکار کوڈ جنریشن | اعلیٰ مہارتوں کی ضرورت (AI انجینئرنگ، کلاؤڈ) |
| مترجم | زیادہ متاثر، AI ترجمہ ٹولز | تکنیکی اور خصوصی ترجمہ کی مانگ |
| کسٹمر سروس نمائندہ | چیٹ بوٹس کی وجہ سے تبدیلی | پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے انسانی مداخلت |
| ڈیٹا انٹری آپریٹر | خودکار ڈیٹا پروسیسنگ | ڈیٹا تجزیہ اور انتظام کے کردار |
| مواد نگار (ابتدائی سطح) | AI مواد جنریشن ٹولز کا استعمال | معیاری، تخلیقی اور سٹریٹجک مواد نگاری |
| پروجیکٹ مینجمنٹ (سادہ کام) | AI کی منصوبہ بندی اور نگرانی | جدید پروجیکٹ مینجمنٹ اور ٹیم کی قیادت |
حکومتی اقدامات اور صلاحیت سازی کے پروگرام
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور روزگار پر اس کے ممکنہ چیلنجز کو سمجھتے ہوئے، حکومت نے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور افرادی قوت کو اس کے لیے تیار کیا جا سکے۔ مئی 2023 میں پاکستان کی پہلی ‘نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس’ (اے آئی) پالیسی کا ڈرافٹ تیار کیا گیا تھا۔ اس پالیسی کا مقصد ملک میں مصنوعی ذہانت کے کلچر کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مہارتیں فراہم کرنا ہے۔
پالیسی کے اہم اہداف میں سے ایک یہ ہے کہ 2027 تک 10 لاکھ آئی ٹی گریجویٹس کو مصنوعی ذہانت کی تربیت فراہم کی جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے متعدد پروگرام شروع کیے گئے ہیں:
- AI سیکھو 2026: وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے گوگل فار ڈویلپرز کے اشتراک سے “وائب کوڈنگ مقابلے” کا آغاز کیا ہے، جو حکومت کے “AI سیکھو 2026” ویژن کا حصہ ہے۔ اس مقابلے کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کو عالمی معیار کے چیلنجز فراہم کرنا اور انہیں آئی ٹی کی عالمی مارکیٹ کے لیے تیار کرنا ہے، جس میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے ڈویلپرز اور کوڈرز کے لیے مجموعی طور پر 25 لاکھ روپے کی خطیر انعامی رقم رکھی گئی ہے۔
- NAVTTC اور Huawei کا اشتراک: نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) Huawei کے اشتراک سے پاکستانی نوجوانوں کو AI، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید ICT ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں عالمی معیار کی تربیت فراہم کر رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیت دی جائے گی اور خواتین کے لیے 30 فیصد کوٹہ بھی مختص کیا گیا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ان کی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔
- جامعات میں AI تربیت: پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، ملک بھر کی تقریباً 100 جامعات میں چھ ہزار طلبہ کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دینے کا معاہدہ طے پایا ہے، جس میں چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں۔ یہ اقدام نوجوانوں کو مستقبل کی مہارتوں سے آراستہ کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
- نیشنل اے آئی پالیسی 2025: اگست 2025 میں نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی منظوری دی گئی، جس کے تحت 2030 تک ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ سرمایہ کاری زیادہ تر انسانی وسائل کی ترقی اور مختلف شعبوں میں AI کے اطلاق پر مرکوز ہوگی۔ وزیر نے ڈیٹا سیکیورٹی، عوامی تحفظ اور AI انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری پر بھی زور دیا۔
یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے چیلنجز اور مواقع سے آگاہ ہے اور فعال طور پر اس کے لیے حکمت عملی بنا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف روایتی ملازمتوں کے خاتمے سے پیدا ہونے والے مسائل کا مقابلہ کیا جا سکے گا بلکہ ملک کو مصنوعی ذہانت کے عالمی منظرنامے پر ایک اہم مقام دلانے میں بھی مدد ملے گی۔ ان کوششوں کے باوجود، یہ ضروری ہے کہ پالیسیوں پر عمل درآمد مؤثر طریقے سے ہو اور تربیت یافتہ افرادی قوت کو مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں روزگار کے مواقع مل سکیں۔
نئے مواقع اور مطلوبہ مہارتیں
مصنوعی ذہانت جہاں کچھ روایتی ملازمتوں کو ختم کر رہی ہے، وہیں یہ بے شمار نئے اور دلچسپ مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صرف ملازمتیں ختم نہیں کر رہی بلکہ زیادہ مہارت والی اور بہتر تنخواہ والی نئی ملازمتیں پیدا کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ “آپ کی نوکری مصنوعی ذہانت نہیں چھینے گی، بلکہ وہ شخص چھینے گا جو اسے استعمال کرنا جانتا ہوگا”۔ لہٰذا، کامیابی کی کنجی نئی مہارتوں کو اپنانے اور مصنوعی ذہانت کے اوزاروں کا مؤثر طریقے سے استعمال سیکھنے میں ہے۔
وی نیوز کی ایک رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کے ماہر عمار احمد نے بتایا کہ AI ٹیکنالوجیز کے استعمال سے بہت سے آسان اور نئے روزگار کے مواقع میسر آ رہے ہیں۔ ان نئے شعبوں اور مطلوبہ مہارتوں میں شامل ہیں:
- جنریٹو اے آئی (Generative AI): مواد تخلیق کرنے والی مصنوعی ذہانت میں مہارت، جیسے کہ ٹیکسٹ، تصاویر اور کوڈ تیار کرنا۔
- ڈیپ لرننگ (Deep Learning): مشین لرننگ کا ایک ذیلی شعبہ جو کمپیوٹرز کو انسانی دماغ کی طرح سیکھنے کی اجازت دیتا ہے۔
- کمپیوٹر ویژن (Computer Vision): تصاویر اور ویڈیوز کا تجزیہ اور ان کی تشریح کرنے والی AI سسٹمز کی ترقی۔
- ڈیٹا سائنس اور تجزیہ: بڑے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کرکے قیمتی بصیرت حاصل کرنا، جو کاروباری فیصلوں کے لیے اہم ہے۔
- AI ایتھکس اسپیشلسٹ: مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اور سماجی اثرات کا مطالعہ کرنے والے اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے والے ماہرین۔
- روبوٹکس ٹیکنیشن: روبوٹکس سسٹمز کی ڈیزائننگ، تعمیر، دیکھ بھال اور مرمت کرنے والے ماہرین۔
- AI پراڈکٹ منیجر: AI پر مبنی مصنوعات کی ترقی اور حکمت عملی کی نگرانی کرنے والے۔
- سائبر سیکیورٹی اسپیشلسٹ: AI کی مدد سے سائبر حملوں سے دفاع اور ڈیٹیکشن کے نظام تیار کرنے والے۔
- کلاؤڈ کمپیوٹنگ: کلاؤڈ پر مبنی AI سروسز اور انفراسٹرکچر کے انتظام میں مہارت۔
- سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل مواد تخلیق: AI ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے مؤثر مارکیٹنگ مہمات چلانا اور دلکش مواد تیار کرنا۔
فوربز نے 2024 میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں پانچ ایسی مہارتوں کو مقبول ترین قرار دیا ہے جن پر عبور رکھنے والوں کے لیے ترقی کے غیر متوقع دروازے کھلیں گے، جن میں Generative AI، SoC (System on Chip)، Deep Learning، Torch and PyTorch، اور Computer Vision شامل ہیں۔ ان مہارتوں کے حامل افراد کی ٹیک انڈسٹری میں بہت مانگ ہوگی اور ان کی سالانہ تنخواہ میں 40 سے 60 فیصد تک اضافے کی توقع ہے۔
نوجوانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے کیریئر کے دوران مسلسل سیکھنے کے لیے تیار رہیں اور نئی مہارتوں کو حاصل کرتے رہیں۔ تعلیم، تربیت اور صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ دے کر، پاکستان اپنی نوجوان افرادی قوت کو مستقبل کے لیے تیار کر سکتا ہے اور مصنوعی ذہانت کے انقلابی فوائد سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ صرف انفرادی کامیابی کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کی معاشی ترقی اور عالمی سطح پر مسابقت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا فروغ اور چیلنجز
پاکستان مصنوعی ذہانت کے دور میں قدم رکھ رہا ہے، اور حکومت نے اس ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے متعدد پالیسیاں اور پروگرام شروع کیے ہیں۔ تاہم، اس سفر میں ملک کو کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج مصنوعی ذہانت کے استعمال کی سست رفتاری ہے؛ مائیکروسافٹ کی “اے آئی ڈیفیوشن رپورٹ 2025” کے مطابق، عالمی سطح پر AI کے بڑھتے استعمال میں متحدہ عرب امارات، سنگاپور اور ناروے نے نمایاں برتری حاصل کی ہے، جبکہ پاکستان اس دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے، جہاں آبادی کا 15 فیصد سے بھی کم حصہ AI ٹولز استعمال کر رہا ہے۔
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں سست رفتاری کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں:
- انٹرنیٹ کی محدود دستیابی اور معیار: اگرچہ پاکستان کی ITU ICT ڈویلپمنٹ انڈیکس 2026 میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ملک کا سکور 56.4 سے بڑھ کر 67.7 تک پہنچ گیا ہے، جو مجموعی طور پر 20 فیصد بہتری کو ظاہر کرتا ہے، اس کے باوجود ملک کے کئی علاقوں میں تیز رفتار اور قابل اعتماد انٹرنیٹ تک رسائی اب بھی ایک مسئلہ ہے۔ سست انٹرنیٹ اور انٹرنیٹ کی آزادی پر فریڈم ہاؤس کی رپورٹ میں پاکستان کو 100 میں سے 26 نمبر دیے گئے ہیں، جو اس شعبے میں بہتری کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
- ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی: اگرچہ حکومت 10 لاکھ آئی ٹی گریجویٹس کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے، تاہم موجودہ تعلیمی نظام کے نصاب میں مستقبل کی ضروریات کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، جس کی وجہ سے بہت سے طلباء بازار کی ضروریات کے مطابق مہارتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
- مقامی زبانوں میں AI ٹولز کی عدم موجودگی: دنیا بھر میں جہاں لوگ اپنی مادری زبان میں AI استعمال کر سکتے ہیں، وہاں اس ٹیکنالوجی کی قبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن پاکستان میں مقامی زبانوں میں AI ٹولز کی کمی بھی اس کے پھیلاؤ میں رکاوٹ ہے۔
- سرمایہ کاری کی کمی: پاکستان میں مجموعی سرمایہ کاری کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے؛ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کے پہلے 5 ماہ کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 25 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ کمی AI اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مطلوبہ انفراسٹرکچر اور تحقیق و ترقی کے لیے سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتی ہے۔
ان چیلنجز کے باوجود، پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقی کے روشن امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو اس شعبے میں انسانی سرمایہ کی ایک بڑی صلاحیت ہے۔ حکومت کا قومی آرٹیفشل انٹیلیجنس فنڈ قائم کرنے کا منصوبہ اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون اس صورتحال کو بہتر بنا سکتا ہے۔ سمارٹ فارمنگ جیسے شعبوں میں AI کا استعمال زرعی پیداوار میں اضافہ اور وسائل کی بچت کا باعث بن سکتا ہے، جو ملک کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
عالمی رجحانات اور پاکستان کے لیے سبق
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک غیر معمولی رفتار سے جاری ہے، اور دنیا بھر کے ممالک اس دوڑ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 2026 میں عالمی AI مارکیٹ کی مالیت تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 2025 کے مقابلے میں 44 فیصد اضافہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اس ٹیکنالوجی کو زراعت، صحت، تعلیم اور روزگار سمیت ہر شعبے میں استعمال کر رہے ہیں تاکہ معاشی ترقی اور جدت کو فروغ دیا جا سکے۔
پاکستان کو عالمی رجحانات سے سیکھتے ہوئے اپنی حکمت عملیوں کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ انڈیا کی مثال سامنے ہے، جس نے حال ہی میں 2.1 ارب ڈالر کے “انڈیا اے آئی مشن” کو عملی شکل دی ہے، جس کا مقصد مقامی کمپیوٹنگ صلاحیت اور “سورن اے آئی” کی تعمیر ہے، جبکہ “اے آئی فار آل” حکمت عملی کے تحت بھارت خود کو عالمی سطح پر اسکیل ایبل ٹیکنالوجی کے ایک بڑے تجرباتی مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان میں اگست 2025 میں نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی منظوری دی گئی، جس کے تحت 2030 تک ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ہدف رکھا گیا ہے، مگر یہ زیادہ تر انسانی وسائل کی ترقی اور مختلف شعبوں میں AI کے اطلاق تک محدود ہے نہ کہ مہنگے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر تک۔
پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ صرف انسانی وسائل کی ترقی پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ AI کے لیے ضروری انفراسٹرکچر، تحقیق و ترقی میں بھی سرمایہ کاری کو فروغ دے۔ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون، جیسے کہ گوگل اور Huawei کے ساتھ موجودہ شراکتیں، ملک کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنا سکتی ہیں۔ دنیا بھر کے 200 سے زائد ماہرینِ معاشیات اور مصنوعی ذہانت کے محققین نے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں، کیونکہ آئندہ ایک دہائی میں AI کی صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ یہ تبدیلی بہت کم وقت میں رونما ہوگی اور یہ صنعتی انقلاب سے بھی زیادہ بڑی ہو سکتی ہے۔
پاکستان کو اس تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے فوائد کو پورے معاشرے تک پہنچایا جا سکے اور عدم مساوات اور بے روزگاری جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ، عالمی بہترین طریقوں کو اپنانا اور عالمی ماہرین کے تجربات سے سیکھنا بھی پاکستان کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔ مزید معلومات کے لیے، ڈان نیوز کی یہ رپورٹ بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے جو مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور ان کے اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل اور پائیدار ترقی
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے اثرات کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے اور اس کے فوائد کو حاصل کرنے کے لیے ایک جامع اور پائیدار لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ یہ لائحہ عمل نہ صرف فوری چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ طویل مدتی ترقی کے لیے بھی بنیاد فراہم کرے گا۔
- تعلیمی نظام میں اصلاحات: اسکولوں اور جامعات کے نصاب کو جدید مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس کی مہارتوں کے مطابق ڈھالنا انتہائی ضروری ہے۔ STEM (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، ریاضی) کی تعلیم میں سرمایہ کاری اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینے والے ماحول کو پروان چڑھانا ہوگا۔
- مسلسل تربیت اور اپ سکلنگ: افرادی قوت کو اپنی مہارتوں کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنے کی ترغیب دینا چاہیے۔ حکومت اور نجی شعبے کے اشتراک سے ایسے تربیتی پروگرامز شروع کیے جائیں جو موجودہ ملازمین کو AI کے استعمال اور نئی ٹیکنالوجیز سے واقفیت حاصل کرنے میں مدد دیں۔
- تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری: مصنوعی ذہانت کے میدان میں مقامی تحقیق و ترقی کو فروغ دینا ضروری ہے۔ جامعات، تحقیقی اداروں اور صنعتوں کے درمیان روابط کو مضبوط کیا جائے تاکہ جدید حل اور مصنوعات تیار کی جا سکیں۔
- ڈیٹا کی دستیابی اور تحفظ: مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے معیاری ڈیٹا کی دستیابی اور اس کا محفوظ انتظام بنیادی شرط ہے۔ ڈیٹا پرائیویسی اور سیکیورٹی سے متعلق مضبوط قوانین اور فریم ورک تیار کرنا ہوگا۔


