Table of Contents
میں نہ ہوتا تو اسرائیل کا وجود اب تک ختم ہوچکا ہوتا، یہ وہ جرات مندانہ اور اکثر متنازعہ بیان ہے جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار دہرایا ہے، اور حال ہی میں جون 2026 میں بھی وہ اس طرح کے بیانات دیتے نظر آئے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ان کی غیر معمولی اور غیر روایتی پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے، جس نے اسرائیل اور خطے کے تعلقات کو ایک نئی سمت دی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، ان کی صدارت کے دوران اسرائیل کو جو بے مثال حمایت حاصل ہوئی، وہ اس کے بقا کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ مضمون ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کا گہرائی سے جائزہ لے گا، ان کی ان پالیسیوں کا تجزیہ کرے گا جن کا حوالہ دے کر وہ یہ بات کہتے ہیں، اور ان اقدامات کے اسرائیل کی سلامتی اور خطے پر پڑنے والے اثرات کا بھی احاطہ کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ اور اس کی بنیاد
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ان کے بغیر اسرائیل کا وجود ختم ہو چکا ہوتا، ان کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک رہا ہے۔ وہ اپنی صدارت کے دوران اسرائیل کی بھرپور حمایت پر فخر کرتے ہیں، جسے وہ امریکہ کے ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان کی جڑیں ان کے ان فیصلوں میں پیوست ہیں جو انہوں نے اپنے دور اقتدار میں اسرائیل کے حق میں کیے، جن میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا، امریکی سفارت خانے کی منتقلی، گولان ہائٹس پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنا اور ابراہم معاہدوں کے ذریعے عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانا شامل ہیں۔ ان اقدامات کو ٹرمپ نے اسرائیل کی سلامتی کو مضبوط بنانے اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔
ٹرمپ انتظامیہ سے قبل اسرائیل کی سلامتی کا تناظر
اسرائیل کے قیام کے بعد سے ہی اسے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ متعدد تنازعات کا سامنا رہا ہے۔ تاریخی طور پر امریکہ نے اسرائیل کی سلامتی کو ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون سمجھا ہے اور اسے بھاری فوجی، اقتصادی اور سفارتی مدد فراہم کی ہے۔ تاہم، امریکہ کی روایتی پالیسی مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کی حمایت اور فلسطینیوں کے حقوق کو بھی تسلیم کرنے پر مبنی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ سے قبل، اگرچہ اسرائیل کو امریکہ کی غیر متزلزل حمایت حاصل تھی، لیکن واشنگٹن کی جانب سے بعض اسرائیلی اقدامات، جیسے مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر، پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا تھا۔ سابق امریکی صدور نے بھی امن عمل میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی، جس میں فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد ریاست کے قیام کا تصور شامل تھا۔ ٹرمپ کا دعویٰ اس تناظر میں ان کی پالیسیوں کو سابقہ امریکی پالیسیوں سے نمایاں طور پر مختلف قرار دیتا ہے، جہاں اسرائیل کے حق میں یکطرفہ فیصلوں کو ترجیح دی گئی۔
یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا
ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل کے حق میں سب سے اہم اور متنازعہ فیصلوں میں سے ایک 6 دسمبر 2017 کو یروشلم (بیت المقدس) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان تھا۔ اس اقدام نے کئی دہائیوں سے جاری امریکی پالیسی کو یکسر تبدیل کر دیا اور عالمی سطح پر، خصوصاً مسلم دنیا میں، شدید ردعمل کو جنم دیا۔ فلسطینی رہنماؤں نے اسے امن عمل کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا، جبکہ عرب اور اسلامی ممالک نے اس کی شدید مذمت کی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یروشلم کی حیثیت کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ٹرمپ نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایک زمینی حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں اور یہ امن کے حصول کے لیے ایک ضروری قدم تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے اس فیصلے کو “تاریخی” قرار دیا۔
گولان ہائٹس پر اسرائیلی خودمختاری کی تسلیم
مارچ 2019 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے گولان ہائٹس پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ علاقہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے اسرائیل کے قبضے میں ہے اور اسے عالمی سطح پر شامی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی گولان ہائٹس پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیتی ہیں۔ ٹرمپ کے اس فیصلے پر روس، ترکی اور شام سمیت کئی ممالک نے شدید تنقید کی۔ شام نے اسے “غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا جبکہ روس نے اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اس فیصلے کو بھی اسرائیلی قیادت نے سراہا اور اسے ٹرمپ کی اسرائیل کے لیے غیر متزلزل حمایت کا ایک اور ثبوت قرار دیا۔ گولان ہائٹس کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت کے پیش نظر، اس پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنا اسرائیل کی دفاعی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے مترادف سمجھا گیا۔
| اہم ترین ٹرمپ پالیسیاں اور ان کا سال | تفصیل | اثرات (اسرائیل کے تناظر میں) |
|---|---|---|
| 2017: یروشلم کو دارالحکومت تسلیم کرنا | بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے وہاں منتقل کیا۔ | اسرائیل کی خودمختاری کو مضبوط کیا، فلسطینیوں اور عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل۔ |
| 2019: گولان ہائٹس پر خودمختاری کی تسلیم | گولان ہائٹس پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کیا، جو عالمی سطح پر متنازعہ شامی علاقہ ہے۔ | اسرائیل کی تزویراتی پوزیشن مضبوط ہوئی، شام اور عالمی برادری کی جانب سے تنقید۔ |
| 2020: ابراہم معاہدے | متعدد عرب ممالک (متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان، مراکش) کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لایا۔ | اسرائیل کو علاقائی تنہائی سے نکالا، نئے اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کے راستے کھلے۔ |
| 2020: “صدی کا معاہدہ” کا اعلان | ایک جامع امن منصوبہ پیش کیا جس میں یروشلم کو اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت تسلیم کیا گیا اور مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں کو بھی شامل کیا گیا۔ | اسرائیلی موقف کی بھرپور حمایت، فلسطینیوں کی جانب سے مکمل ردعمل۔ |
ابراہم معاہدے: علاقائی تعلقات میں تبدیلی
ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران سب سے اہم سفارتی کامیابیوں میں سے ایک ابراہم معاہدوں (Abraham Accords) کا آغاز تھا۔ ستمبر 2020 میں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے تاریخی معاہدوں پر دستخط کیے۔ بعد ازاں سوڈان اور مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ ایسے ہی معاہدے کیے۔ ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کو علاقائی تنہائی سے نکالنا اور اسے عرب دنیا کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات قائم کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ان معاہدوں کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک نئی صبح قرار دیا، جب کہ ان کے نقادوں نے اسے فلسطینی کاز کو پس پشت ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔ ان معاہدوں کے ذریعے، اسرائیل کو عرب ممالک سے ایک نئی سطح پر قبولیت ملی، جس کے نتیجے میں تجارت، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے نئے دروازے کھلے۔ ان معاہدوں کے محرکات میں ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کے خلاف مشترکہ تشویش اور اقتصادی فوائد کی تلاش شامل تھی۔ حالانکہ، بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یہ معاہدے فلسطینیوں کے زمینی قبضے اور الاقصیٰ مسجد پر اسرائیلی ریڈ کے تناظر میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، اور یہ مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ تاہم، ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان معاہدوں نے اسرائیل کی علاقائی پوزیشن کو مستحکم کیا اور اس کی سلامتی میں اضافہ کیا، جس سے ٹرمپ کے اس دعوے کو تقویت ملتی ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے وجود کو خطرے سے بچایا۔ ان معاہدوں کے بارے میں مزید تفصیلات ڈان نیوز کی ایک رپورٹ میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
’صدی کا معاہدہ‘ اور فلسطینی ردعمل
جنوری 2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی قیادت میں ایک مشرق وسطیٰ امن منصوبہ پیش کیا جسے “صدی کا معاہدہ” (Deal of the Century) کا نام دیا گیا۔ اس منصوبے میں یروشلم کو اسرائیل کا “غیر منقسم دارالحکومت” تسلیم کیا گیا، جبکہ فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم میں ایک دارالحکومت اور مغربی کنارے میں اضافی علاقہ دینے کی تجویز دی گئی۔ اس منصوبے میں مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بھی تسلیم کر لیا گیا اور نئی بستیوں کی تعمیر پر چار سال کی پابندی لگائی گئی۔
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے اس منصوبے کو “غیر معمولی” اور “پائیدار امن کے لیے ایک قدم” قرار دیا۔ تاہم، فلسطینیوں نے اس منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا، اسے اپنے حقوق کی نفی اور اسرائیل کے قبضے کو مستقل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے واضح کیا کہ ایسا کوئی بھی منصوبہ جو فلسطین میں اسرائیل کے عارضی قبضے کو مستقل میں بدل دے، قابل قبول نہیں۔ عالمی برادری کے ایک بڑے حصے نے بھی اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا، کیونکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف تھا جو یروشلم کی حیثیت اور اسرائیلی بستیوں کے بارے میں ہیں۔ ٹرمپ کے حامیوں نے اسے مشرق وسطیٰ میں امن لانے کی ایک “تاریخی” اور “غیر معمولی” کوشش قرار دیا، جب کہ ناقدین نے اسے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو نظر انداز کرنے اور اسرائیل کے حق میں یکطرفہ فیصلہ قرار دیا۔
ٹرمپ کے دعوے پر تنقید اور تجزیہ
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ان کے بغیر اسرائیل کا وجود ختم ہو چکا ہوتا، بلاشبہ ایک مبالغہ آرائی پر مبنی بیان ہے اور اسے کئی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسرائیل ایک مضبوط فوجی اور اقتصادی طاقت ہے اور اسے کئی دہائیوں سے امریکہ کی غیر متزلزل حمایت حاصل رہی ہے۔ تاہم، ٹرمپ کی پالیسیوں نے یقیناً اسرائیل کو بعض پہلوؤں سے فائدہ پہنچایا اور اس کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔
- یکطرفہ حمایت: ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی خارجہ پالیسی کو اسرائیل کے حق میں یکطرفہ طور پر موڑ دیا، جس سے فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا اور مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات کو نقصان پہنچا۔
- خطے میں عدم استحکام: بعض مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلوں نے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا اور مزید عدم استحکام پیدا کیا، خاص طور پر یروشلم اور گولان ہائٹس کے فیصلوں کے بعد۔
- اسرائیل کی اندرونی طاقت: اسرائیل کی بقا کا انحصار صرف بیرونی حمایت پر نہیں بلکہ اس کی اپنی مضبوط دفاعی صلاحیتوں، تزویراتی حکمت عملیوں اور علاقائی اتحادیوں پر بھی ہے۔ اگرچہ امریکی حمایت ناگزیر ہے، لیکن یہ کہنا کہ اسرائیل ٹرمپ کے بغیر بالکل ختم ہو جاتا، حقائق سے بعید ہے۔
- امریکی عوامی رائے میں تبدیلی: حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے، خاص طور پر غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کے بعد۔ تین میں سے ایک امریکی اب اسرائیل پر نسل کشی کا الزام درست قرار دیتا ہے، اور یہودی امریکیوں میں بھی اسرائیلی پالیسیوں پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ یہ صورتحال امریکی خارجہ پالیسی پر طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتی ہے اور اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کے تصور کو چیلنج کر سکتی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی قومی مفادات کو اسرائیل سمیت ہر دوسرے اتحادی کے مفادات سے بالاتر رکھنا چاہتا ہے، اور بعض معاملات میں زیادہ خودمختار اور متوازن پالیسی اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مفادات میں مکمل یکسانیت کا تصور اب ماضی کی بات بنتا جا رہا ہے۔
نتیجہ
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ “میں نہ ہوتا تو اسرائیل کا وجود اب تک ختم ہوچکا ہوتا” ایک جرات مندانہ اور اپنی طرز کا منفرد بیان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو غیر معمولی سیاسی، سفارتی اور تزویراتی حمایت فراہم کی، جس میں یروشلم کو دارالحکومت تسلیم کرنا، گولان ہائٹس پر خودمختاری کی تسلیم اور ابراہم معاہدے جیسے اہم فیصلے شامل تھے۔ ان اقدامات نے اسرائیل کی علاقائی پوزیشن کو بلاشبہ مضبوط کیا اور اسے بعض عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے میں مدد دی۔
تاہم، یہ کہنا کہ ان کے بغیر اسرائیل کا وجود ہی ختم ہو جاتا، ایک مبالغہ آمیز دعویٰ ہے۔ اسرائیل ایک پائیدار ریاست ہے جس کی اپنی مضبوط دفاعی صلاحیتیں اور دیرینہ بین الاقوامی حمایت ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں نے جہاں اسرائیل کو فائدہ پہنچایا، وہیں فلسطینیوں کے لیے امن کی امیدوں کو دھچکا بھی لگایا اور عالمی برادری کے بعض حصوں میں شدید تحفظات کو جنم دیا۔ مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال اور عالمی قوتوں کے بدلتے ہوئے کردار کے پیش نظر، اسرائیل کی بقا ایک کثیر الجہتی حقیقت ہے جو صرف ایک رہنما کی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں ہے۔ آنے والے سالوں میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلیاں اور علاقائی حرکیات یہ طے کریں گی کہ اسرائیل کی سلامتی کا مستقبل کیا رخ اختیار کرتا ہے۔
