نیو دہلی میں طلبہ کے ایک ہاسٹل کے اچانک منہدم ہونے کے افسوسناک واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس تباہ کن حادثے میں کم از کم 7 طلبا اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ درجنوں دیگر کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ واقعہ نئی دہلی کے ستیا نکیتن علاقے میں پیش آیا، جو دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب طلبہ کی رہائش کے لیے ایک گنجان آباد مرکز ہے۔
اتوار، 7 ستمبر 2026 کو دوپہر کے وقت پیش آنے والے اس حادثے نے نہ صرف متاثرہ طلبا اور ان کے اہل خانہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے بلکہ شہر میں نجی ہاسٹلز کی عمارتوں کے حفاظتی معیارات پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کی گئیں، جس میں بھاری مشینری اور خصوصی ٹیموں نے حصہ لیا، لیکن تنگ گلیوں اور ملبے کی بھاری مقدار کے باعث چیلنجز کا سامنا ہے۔
سانحے کی تفصیلات اور ابتدائی ردعمل
یہ پانچ منزلہ ہاسٹل، جسے “ہاسٹل ڈیز” کے نام سے جانا جاتا تھا، اتوار کی دوپہر تقریباً 1:30 بجے اچانک منہدم ہو گیا۔ اس عمارت کی عمر تقریباً 40 سے 50 سال بتائی جاتی ہے، اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس کے تہہ خانے میں مرمتی کام جاری تھا جہاں پانی بھی جمع تھا، جس کی وجہ سے عمارت کی بنیاد کمزور پڑ گئی ہو گی۔.
حادثے کے فوری بعد مقامی رہائشیوں اور طلباء نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کر دیں، اس سے پہلے کہ ہنگامی خدمات کی ٹیمیں موقع پر پہنچتیں۔ انہوں نے ملبے سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی۔۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
امداد ی کارروائیاں اور درپیش چیلنجز
حادثے کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (NDRF)، دہلی پولیس، دہلی فائر سروس، دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA) اور CATS کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ بھاری مشینری اور ملبہ ہٹانے والے آلات کی مدد سے ملبے کے نیچے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری رہیں۔ یہ عمل انتہائی مشکل تھا کیونکہ ستیانکیتن کی تنگ گلیاں بھاری مشینری کے داخلے میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔۔
ابتدائی طور پر 11 سے 12 افراد کو ملبے سے نکالا گیا، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک تھی۔ ملبے کے نیچے 30 سے 50 طلبا کے پھنسے ہونے کا خدشہ تھا، جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو چوبیس گھنٹے کام کرنا پڑا۔ پھنسے ہوئے طلباء میں سے کچھ نے مدد کے لیے فون کالز بھی کیں، جس نے امدادی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ جلد از جلد متاثرین تک پہنچیں۔
- تنگ گلیاں: علاقے کی تنگ گلیوں کی وجہ سے بھاری امدادی ساز و سامان کو جائے حادثہ تک پہنچانے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
- ملبے کی مقدار: پانچ منزلہ عمارت کا ملبہ بہت زیادہ تھا، جسے ہٹانے میں کافی وقت لگا۔
- زندہ بچ جانے والوں کی تلاش: ملبے تلے دبے افراد کو محفوظ طریقے سے نکالنا ایک انتہائی نازک کام تھا، جس کے لیے خاص احتیاط اور تربیت یافتہ ٹیموں کی ضرورت تھی۔
- ملبے میں پھنسے افراد سے رابطہ: کچھ متاثرین نے ملبے کے نیچے سے فون پر رابطہ کیا، جس نے ریسکیو ٹیموں کو ان تک پہنچنے میں مدد دی۔
علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی خبریں
متاثرین اور ان کے اہل خانہ کا درد
اس حادثے نے کئی گھرانوں کو اجاڑ دیا اور ان کے خوابوں کو خاک میں ملا دیا۔ ہلاک ہونے والے 7 طلباء کے اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ یہ طلبا ملک کے مختلف حصوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے نئی دہلی آئے تھے اور ان کے والدین نے بڑی امیدوں کے ساتھ انہیں یہاں بھیجا تھا۔۔
بہت سے طلبا جو اس وقت ہاسٹل میں مقیم تھے، ان کا تعلق کیرالہ، ہریانہ اور اتر پردیش جیسی ریاستوں سے تھا۔ زخمی ہونے والے طلباء کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) اور جے پرکاش نارائن اپیکس ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔۔ دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ طلباء کے لیے ہر ممکن امداد کا وعدہ کیا۔۔
ہاسٹل کی ساخت اور حفاظتی معیارات
ستیا نکیتن جیسے علاقوں میں، جہاں دہلی یونیورسٹی کے متعدد کالجز واقع ہیں، طلبہ کو رہائش کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اس کمی کی وجہ سے بہت سی رہائشی عمارتوں کو نجی ہاسٹلز یا پینگ گیسٹ (PG) رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جو اکثر حفاظتی معیارات پر پورا نہیں اترتیں۔۔ ان میں سے کئی عمارتیں بہت پرانی اور خستہ حال ہیں، اور ان میں مناسب دیکھ بھال اور مرمت کا فقدان ہوتا ہے۔۔
طلبہ نے علاقے میں ہاسٹلز کی گنجان، غیر محفوظ اور غیر صحت بخش حالت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بہت سے کمرے چھوٹے اور ہوا دار نہیں ہوتے، اور طلبہ کو صحت کے خطرات اور مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔ یہی وجہ ہے کہ اس حادثے کے بعد ہاسٹلز میں عمارتوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کی ضرورت پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
| پہلو | موجودہ صورتحال (عام نجی ہاسٹلز) | تجویز کردہ معیار |
|---|---|---|
| عمارت کی عمر | اکثر 40-50 سال پرانی اور خستہ حال | باقاعدہ معائنہ اور مرمت؛ پرانی عمارتوں کی تزئین و آرائش یا متبادل |
| حفاظتی معائنہ | ناقص یا غیر موجود | متعلقہ حکام کی جانب سے لازمی اور باقاعدہ ساختیاتی آڈٹ |
| کمروں کی حالت | گنجان، وینٹیلیشن کی کمی، غیر صحت بخش | کشادہ، ہوا دار، مناسب سہولیات کے ساتھ صحت مند ماحول |
| آگ سے بچاؤ کے انتظامات | عام طور پر غیر تسلی بخش | آگ بجھانے کے آلات، ہنگامی راستے، اور آگ بجھانے کا باقاعدہ تربیت |
حکومتی اقدامات اور تحقیقات کا آغاز
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اس سانحے کا نوٹس لیتے ہوئے دارالحکومت کے تمام پینگ گیسٹ (PG) ہاسٹلز کا ساختیاتی آڈٹ کرانے کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام خصوصاً مکھرجی نگر، راجندر نگر، لکشمی نگر، ستیا نکیتن اور ساکیت جیسے گنجان طلبہ والے علاقوں میں ہاسٹلز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔۔ اس کے علاوہ، عمارت کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور اسے تلاش کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔۔
دہلی یونیورسٹی کے حکام نے بھی طلبہ کی رہائش کے مسائل پر توجہ دینے اور زیر تعمیر ہاسٹلز کے کام کو تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یونیورسٹی کیمپس میں دستیاب جگہ کا جائزہ لینے اور نئے ہاسٹلز کی تعمیر کے امکانات کو جانچنے کے لیے بھی کہا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو محفوظ رہائش فراہم کی جا سکے۔
بین الاقوامی تعلقات اور معاشی ترقی
طلبہ ہاسٹلز میں حفاظتی انتظامات کی اہمیت
اس طرح کے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے طلبہ ہاسٹلز میں حفاظتی انتظامات کو اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔ عمارتوں کے باقاعدہ ساختیاتی معائنے، دیکھ بھال اور مرمت کو یقینی بنانا چاہیے، خصوصاً پرانی عمارتوں کے لیے۔ نیشنل بلڈنگ کوڈ آف انڈیا 2016 (NBC 2016) جیسے قوانین میں عمارتوں کی حفاظت کے لیے واضح رہنما اصول موجود ہیں، جن پر سختی سے عمل درآمد ہونا چاہیے۔۔
حکومت اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے لیے محفوظ اور سستی رہائش فراہم کرنے کے لیے مزید کالج ہاسٹلز کی تعمیر کریں تاکہ انہیں نجی، غیر محفوظ رہائش گاہوں پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ قبائلی امور کی وزارت نے بھی ہاسٹلز میں صحت، صفائی اور حفاظتی معیارات کی سختی سے پابندی کو یقینی بنانے کے لیے رہنما اصول جاری کیے ہیں، جن میں میس مینجمنٹ اور ہنگامی حالات کے لیے انتظامات شامل ہیں۔۔ یہ اقدامات ملک بھر کے ہاسٹلز پر لاگو کیے جانے چاہیئیں۔
مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے سفارشات
مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچنے کے لیے متعدد اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے، تمام نجی ہاسٹلز اور پینگ گیسٹ رہائش گاہوں کا ایک جامع سروے اور ساختیاتی آڈٹ کرایا جائے تاکہ ان کی حفاظت کا اندازہ لگایا جا سکے۔۔ ایسی عمارتوں کی نشاندہی کی جائے جو حفاظتی خطرہ ہیں اور ان کی فوری مرمت یا بندش کو یقینی بنایا جائے۔۔
دوسرا، عمارتوں کی تعمیر اور دیکھ بھال سے متعلق قوانین اور ضوابط کو مزید سخت کیا جائے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ بلدیاتی اداروں کو عمارتوں کے معائنے اور حفاظتی ریکارڈ کی نگرانی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔۔ نیشنل بلڈنگ کوڈ اور دیگر متعلقہ معیارات کی تعمیل لازمی قرار دی جائے۔۔
کمیونٹی اور سول سوسائٹی کا کردار
اس طرح کے سانحات میں کمیونٹی اور سول سوسائٹی کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ مقامی باشندے، طلبہ تنظیمیں اور غیر سرکاری تنظیمیں حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر سکتی ہیں تاکہ غیر محفوظ ہاسٹلز کی نشاندہی کی جا سکے اور حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ طلباء کو بھی اپنی رہائش کے بارے میں آگاہی فراہم کی جانی چاہیے اور انہیں حفاظتی خطرات کی صورت میں رپورٹ کرنے کی ترغیب دی جائے۔۔
سول سوسائٹی کی تنظیمیں حفاظتی آڈٹ اور عوامی بیداری مہمات میں شامل ہو سکتی ہیں۔ دہلی یونیورسٹی جیسی بڑی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلباء کو محفوظ اور معیاری رہائش کی فراہمی کے لیے اپنی پالیسیاں واضح کریں اور اس میں مزید سرمایہ کاری کریں۔۔
قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے معاملات
نتیجہ
نیو دہلی میں طلبہ ہاسٹل کے انہدام کا سانحہ ایک المناک یاد دہانی ہے کہ شہری منصوبہ بندی اور عمارتوں کے حفاظتی معیارات میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔ 7 قیمتی جانوں کا ضیاع اور درجنوں طلباء کا ملبے تلے دبنا ایک قومی دکھ ہے جس کے تدارک کے لیے فوری، ٹھوس اور طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت، بلدیاتی اداروں، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ آئندہ ایسے کسی بھی سانحے سے بچا جا سکے۔ “نیشنل فریم ورک فار سٹرکچرل سیفٹی آڈٹ اینڈ سیسمک ریزیلینس آف بلڈنگز” جیسے اقدامات کو مؤثر طریقے سے لاگو کیا جانا چاہیے تاکہ تمام عمارتیں، خصوصاً وہ جہاں طلباء رہائش پذیر ہیں، مکمل طور پر محفوظ ہوں۔ پریس انفارمیشن بیورو (PIB) کی رپورٹ
