Table of Contents
فہرست
- واٹس ایپ کا نیا سیکیورٹی فیچر: دھوکہ دہی سے بچاؤ کا جدید حل
- سوشل انجینئرنگ اور اکاؤنٹ ہیکنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتیں
- نیا سیکیورٹی فیچر کیسے کام کرتا ہے؟
- “اکاؤنٹ پروٹیکٹ” فیچر: غیر مجاز منتقلی کی روک تھام
- “اسٹرکٹ اکاؤنٹ سیٹنگز”: ہائی رسک صارفین کے لیے اضافی تحفظ
- صارفین کے لیے فوائد اور احتیاطی تدابیر
- واٹس ایپ پر سیکیورٹی کے دیگر اہم فیچرز
- نتیجہ
واٹس ایپ، دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپلی کیشن، نے اپنے کروڑوں صارفین کو آن لائن دھوکہ دہی اور فراڈ سے بچانے کے لیے ایک نیا اور اہم سیکیورٹی فیچر متعارف کرا دیا ہے۔ یہ نیا فیچر صارفین کو نامعلوم نمبرز سے آنے والے مشکوک پیغامات اور روابط کے بارے میں پیشگی خبردار کرے گا، جس سے انہیں کسی بھی ممکنہ فراڈ سے بچنے کے لیے سوچ بچار کرنے اور بروقت فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ اقدام صارفین کی سب سے بڑی مشکلات میں سے ایک، یعنی سوشل انجینئرنگ کے ذریعے اکاؤنٹ ہیکنگ اور مالیاتی دھوکہ دہی، کو آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ واٹس ایپ کا یہ فیچر سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر صارفین کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور اس سے صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔
واٹس ایپ کا نیا سیکیورٹی فیچر: دھوکہ دہی سے بچاؤ کا جدید حل
واٹس ایپ نے صارفین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے حال ہی میں ایک جدید حفاظتی فیچر متعارف کرایا ہے، جسے “اسمارٹ الرٹس” یا “ٹرسٹ وارننگ” کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس فیچر کا بنیادی مقصد صارفین کو کسی بھی نامعلوم یا غیر محفوظ رابطے سے چیٹ شروع کرنے سے پہلے ضروری معلومات فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ دھوکہ دہی کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔ یہ نیا سیکیورٹی فیچر اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں پلیٹ فارمز کے لیے بیک وقت جاری کیا جا رہا ہے۔ اس فیچر کے تحت، جب کوئی صارف کسی ایسے نمبر سے چیٹ کھولنے کی کوشش کرے گا جو اس کی کانٹیکٹ لسٹ میں محفوظ نہیں ہے، تو چیٹ کھلنے سے پہلے ہی ایک انتباہی اسکرین ظاہر ہو جائے گی۔ یہ انتباہی اسکرین نامعلوم رابطے کے بارے میں کئی اہم معلومات فراہم کرے گی، جن میں فون نمبر کا ملک جہاں وہ رجسٹرڈ ہے اور یہ کہ آیا صارف اور بھیجنے والے کے درمیان کوئی مشترکہ واٹس ایپ گروپ موجود ہے یا نہیں شامل ہیں۔
اس معلومات کا مقصد صارفین کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دینا ہے کہ آیا یہ رابطہ حقیقی اور قابل اعتماد ہے یا نہیں۔ فراڈ کرنے والے اکثر خود کو واقف کار ظاہر کرکے صارفین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہ فیچر خاص طور پر دوسرے ممالک میں رجسٹرڈ نمبرز کی فوری نشاندہی کرکے ایسے فراڈ کے واقعات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ واٹس ایپ کا یہ اقدام صارفین کو غیر متوقع پیغامات پر فوری ردعمل دینے کے بجائے پہلے سوچ بچار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس فیچر کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس تمام عمل کے دوران پیغام بھیجنے والے کو کسی قسم کی اطلاع نہیں ملے گی، جس سے صارف کی پرائیویسی مکمل طور پر برقرار رہے گی۔ یہ سیکیورٹی سسٹم فراڈ، فشنگ اور سوشل انجینئرنگ جیسے جدید ہیکنگ طریقوں کے خلاف ایک مؤثر دفاع فراہم کرتا ہے، جو صارفین کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
سوشل انجینئرنگ اور اکاؤنٹ ہیکنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتیں
موجودہ ڈیجیٹل دور میں، سوشل انجینئرنگ اور اکاؤنٹ ہیکنگ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس نے صارفین کی ذاتی معلومات اور مالی تحفظ کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ سائبر کرائمینلز نئے اور پیچیدہ طریقے استعمال کر رہے ہیں تاکہ صارفین کے واٹس ایپ اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کر سکیں۔ ان طریقوں میں فشنگ، مالویئر انسٹالیشن، اور سِم سوئیپنگ جیسے حربے شامل ہیں۔ فشنگ میں صارفین کو جعلی لنکس یا صفحات پر ذاتی معلومات درج کرنے کے لیے دھوکہ دیا جاتا ہے، جبکہ مالویئر کے ذریعے ان کے ڈیوائس پر نقصان دہ سافٹ ویئر انسٹال کر دیا جاتا ہے جو ڈیٹا چوری کر سکتا ہے یا ایپ کے افعال کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ سِم سوئیپنگ کے ذریعے تو مجرم صارف کا فون نمبر اپنی سِم پر منتقل کرا لیتے ہیں، جس سے انہیں تصدیقی کوڈز موصول ہونے لگتے ہیں اور وہ اکاؤنٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں۔
ایک بار جب حملہ آور کسی واٹس ایپ اکاؤنٹ پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے، تو وہ صارف کی شناخت اختیار کر کے اس کے ذاتی پیغامات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، اس کے رابطوں کو دھوکہ دے سکتا ہے، اور یہاں تک کہ دیگر حفاظتی اقدامات کو بھی نظرانداز کر سکتا ہے۔ بہت سے کیسز میں، ہیکرز خاموشی سے اکاؤنٹ کو ہائی جیک کر لیتے ہیں، اور صارف کو اس وقت تک پتا نہیں چلتا جب تک کہ بہت دیر ہو چکی ہو۔ ان حملوں کا سب سے عام طریقہ یہ ہے کہ صارفین کو کسی نہ کسی بہانے سے اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے کوڈ درج کرنے یا کسی درخواست کی منظوری دینے پر آمادہ کیا جاتا ہے، جس سے حملہ آور اپنے ڈیوائس کو متاثرہ صارف کے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے منسلک کر لیتے ہیں۔ یہ ایک “بڑی مشکل” ہے جسے واٹس ایپ کا نیا سیکیورٹی فیچر حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ یہ فیچر اس مرحلے سے پہلے ہی صارفین کو خبردار کر دیتا ہے جہاں وہ غلطی سے اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کسی اور کو دے سکتے ہیں۔
نیا سیکیورٹی فیچر کیسے کام کرتا ہے؟
واٹس ایپ کا نیا سیکیورٹی فیچر، جسے “اسمارٹ الرٹس” یا “پری-اسکرین سیفٹی وارننگز” کہا جاتا ہے، صارفین کو دھوکہ دہی کے مختلف طریقوں سے بچانے کے لیے ایک فعال اور بروقت دفاعی نظام فراہم کرتا ہے۔ یہ فیچر اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے اور اس کا کام اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی صارف کسی نامعلوم یا غیر محفوظ نمبر سے آنے والے پیغام سے بات چیت شروع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
- پیشگی انتباہی اسکرین: روایتی حفاظتی ٹولز کے برعکس، جہاں صارف کو مشکوک چیٹ کو شروع ہونے کے بعد رپورٹ کرنا پڑتا ہے، یہ نیا فیچر ایک فوری بفر لیئر قائم کرتا ہے۔ جب کوئی صارف اپنی رابطہ فہرست میں محفوظ نہ ہونے والے کسی نمبر سے پیغام کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو ایپ خود بخود بات چیت کو روک دیتی ہے اور ایک تعارفی انتباہی کارڈ کو انٹرفیس پر دکھاتی ہے۔ یہ اسکرین چیٹ کھلنے سے پہلے ظاہر ہوتی ہے، جس سے صارف کو سوچنے کا موقع ملتا ہے۔
- پس منظر کی معلومات کا تجزیہ: یہ فیچر پس منظر کے ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے اور وصول کنندہ کو اہم معلومات سے باخبر کرتا ہے۔ اس میں یہ تفصیلات شامل ہوتی ہیں کہ متعلقہ نمبر کس ملک یا خطے میں رجسٹرڈ ہے، آیا یہ پروفائل صارف کی مقامی رابطہ فہرست میں شامل نہیں ہے، اور کیا دونوں اکاؤنٹس کے درمیان کوئی مشترکہ گروپ چیٹس ہیں۔ یہ معلومات صارفین کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہیں کہ آیا پیغام بھیجنے والا حقیقی ہے یا مشکوک۔
- دھوکہ دہی سے بچاؤ کی تلقین: انتباہی اسکرین میں ایک واضح انکشاف بھی شامل ہوتا ہے جو صارفین کو یاد دلاتا ہے کہ دھوکہ باز اکثر “سوشل انجینئرنگ” کے حربے استعمال کرتے ہیں تاکہ حساس مالیاتی معلومات، مقامی بینکنگ پاس ورڈز، یا براہ راست مالی منتقلی حاصل کر سکیں۔ یہ صارفین کو مزید محتاط رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔
- مکمل فیصلے کی گمنامی: فراہم کردہ ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد، صارفین کو یہ لچک حاصل ہوتی ہے کہ وہ یا تو خطرے کو مسترد کرتے ہوئے بات چیت کو منسوخ کر دیں یا انتباہ کو نظرانداز کر کے بات چیت جاری رکھیں۔ اس عمل کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ واٹس ایپ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بیرونی بھیجنے والے کو وصول کنندہ کے منتخب کردہ عمل کے بارے میں کوئی الیکٹرانک نوٹیفکیشن یا ریڈ رسیپٹ موصول نہ ہو، جس سے صارف کی پرائیویسی مکمل طور پر محفوظ رہتی ہے۔ یہ فیچر آن لائن فراڈ اور اسکام کی کوششوں کو نمایاں طور پر کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
“اکاؤنٹ پروٹیکٹ” فیچر: غیر مجاز منتقلی کی روک تھام
واٹس ایپ نے صارفین کے اکاؤنٹس کو سائبر حملوں اور غیر مجاز منتقلی سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اور اہم سیکیورٹی فیچر “اکاؤنٹ پروٹیکٹ” متعارف کرایا ہے۔ یہ فیچر خاص طور پر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں سائبر کرائمینلز صارف کو دھوکہ دے کر اس کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو کسی نئے ڈیوائس پر منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ “اکاؤنٹ پروٹیکٹ” اس عمل میں ایک اضافی حفاظتی تہہ کا اضافہ کرتا ہے، جس سے حملہ آوروں کے لیے آپ کی بات چیت اور ڈیجیٹل شناخت کو ہائی جیک کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
- تصدیق کا لازمی عمل: جب کوئی شخص آپ کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو ایک نئے ڈیوائس پر منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو “اکاؤنٹ پروٹیکٹ” فیچر آپ کے پرانے ڈیوائس پر ایک واضح تصدیقی پیغام بھیجتا ہے۔ یہ پیغام آپ سے پوچھے گا کہ کیا آپ واقعی اپنا اکاؤنٹ منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تصدیق آپ کے اصل ڈیوائس پر واضح طور پر درکار ہوتی ہے، جو غیر مجاز اکاؤنٹ کی منتقلی کے خلاف ایک آخری حفاظتی ڈھال کے طور پر کام کرتی ہے۔
- سائبر حملوں سے تحفظ: یہ فیچر فشنگ، مالویئر، اور سِم سوئیپنگ جیسے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے اکاؤنٹ ہائی جیکنگ کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر حملہ آور آپ کو دھوکہ دے کر حساس معلومات حاصل کرنے یا مالویئر انسٹال کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں، تب بھی وہ آپ کے پرانے ڈیوائس پر تصدیق کے بغیر اکاؤنٹ منتقل نہیں کر سکیں گے۔
- سیکیورٹی کی مضبوطی: “اکاؤنٹ پروٹیکٹ” واٹس ایپ کی سیکیورٹی میں ایک اہم اضافہ ہے، جو صارفین کو اپنے اکاؤنٹس پر زیادہ کنٹرول فراہم کرتا ہے۔ یہ فیچر خودکار طور پر غیر مجاز کوششوں کے بارے میں الرٹ بھی کرتا ہے، جس سے صارفین بروقت کارروائی کر سکتے ہیں۔ یہ واٹس ایپ کے وسیع تر حفاظتی اقدامات کا حصہ ہے، جس کا مقصد صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کو ہر ممکن طریقے سے یقینی بنانا ہے۔
“اسٹرکٹ اکاؤنٹ سیٹنگز”: ہائی رسک صارفین کے لیے اضافی تحفظ
واٹس ایپ نے “اسٹرکٹ اکاؤنٹ سیٹنگز” کے نام سے ایک اور منفرد سیکیورٹی فیچر بھی متعارف کرایا ہے، جسے خاص طور پر ہائی رسک صارفین جیسے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، اور عوامی شخصیات کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ “لاک ڈاؤن طرز” کا فیچر ہے جو موجودہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن میں مزید سخت حفاظتی اقدامات کا اضافہ کرتا ہے، تاکہ انہیں جدید سائبر حملوں اور اسپائی ویئر سے محفوظ رکھا جا سکے۔
جب اس فیچر کو فعال کیا جاتا ہے، تو یہ اکاؤنٹ کی پرائیویسی سیٹنگز کو سب سے زیادہ پابندیوں والی حالت میں لے آتا ہے اور کچھ طریقوں سے واٹس ایپ کے کام کرنے کو محدود کر دیتا ہے۔ اس میں نامعلوم رابطوں سے آنے والے منسلکات اور میڈیا کو خود بخود بلاک کرنا، نامعلوم نمبرز سے آنے والی کالز کو خاموش کرنا، اور لنک پریویو کو غیر فعال کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، آپ کی پروفائل کی معلومات اور آن لائن موجودگی صرف ان افراد کو نظر آئے گی جن پر آپ بھروسہ کرتے ہیں۔
| سیکیورٹی فیچر | تفصیل | فوائد | کس کے لیے مفید |
|---|---|---|---|
| اسمارٹ الرٹس / وارننگ (پری-چیٹ) | نامعلوم نمبر سے چیٹ شروع کرنے سے پہلے معلومات (ملک، مشترکہ گروپس وغیرہ) فراہم کرتا ہے۔ | صارفین کو ممکنہ فراڈ اور سوشل انجینئرنگ سے بچاتا ہے، بروقت فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ | تمام صارفین، خاص طور پر آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے افراد۔ |
| اکاؤنٹ پروٹیکٹ | واٹس ایپ اکاؤنٹ کو نئے ڈیوائس پر منتقل کرنے سے پہلے اصل ڈیوائس پر واضح تصدیق۔ | غیر مجاز اکاؤنٹ ہائی جیکنگ اور منتقلی سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ | تمام صارفین، خاص طور پر وہ جو سِم سوئیپنگ یا فشنگ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ |
| ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن | اکاؤنٹ میں لاگ ان یا دوبارہ رجسٹر کرنے کے لیے 6 ہندسوں کا ذاتی کوڈ۔ | اکاؤنٹ کی سیکیورٹی کی ایک اضافی مضبوط تہہ جو غیر مجاز رسائی کو روکتی ہے۔ | تمام صارفین کو اسے فعال کرنا چاہیے، یہ سب سے بنیادی سیکیورٹی اقدام ہے۔ |
| اسٹرکٹ اکاؤنٹ سیٹنگز | انتہائی سخت پرائیویسی اور سیکیورٹی کنٹرولز (نامعلوم میڈیا بلاک، کالز خاموش، لنک پریویو غیر فعال)۔ | جدید سائبر حملوں اور ٹارگٹڈ اسپائی ویئر سے ہائی رسک صارفین کو بچاتا ہے۔ | صحافی، عوامی شخصیات، اور وہ افراد جنہیں ریاست کی حمایت یافتہ ہیکنگ کا خطرہ ہو۔ |
یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کے لیے مفید ہے جو نایاب لیکن انتہائی نفیس سائبر حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ کسی بھی صارف کے لیے دستیاب ہے، واٹس ایپ کی طرف سے یہ انتباہ کیا گیا ہے کہ اس سے ایپ کے کچھ افعال محدود ہو سکتے ہیں۔ صارفین اسے اپنی پرائمری ڈیوائس سے واٹس ایپ سیٹنگز > پرائیویسی > ایڈوانسڈ میں جا کر فعال کر سکتے ہیں۔ میٹا کی جانب سے بیک گراؤنڈ میں Rust نامی پروگرامنگ لینگویج بھی متعارف کرائی گئی ہے تاکہ تصاویر، ویڈیوز اور پیغامات کو اسپائی ویئر جیسے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ ایک ایسا “ڈیجیٹل بنکر” ہے جو ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں نگرانی کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔
صارفین کے لیے فوائد اور احتیاطی تدابیر
واٹس ایپ کے یہ نئے سیکیورٹی فیچرز صارفین کے لیے کئی اہم فوائد لاتے ہیں، جن میں سب سے نمایاں آن لائن دھوکہ دہی اور اکاؤنٹ ہائی جیکنگ سے بہتر تحفظ ہے۔ “اسمارٹ الرٹس” کے ذریعے، صارفین نامعلوم نمبرز سے چیٹ شروع کرنے سے پہلے ہی ضروری معلومات حاصل کر لیتے ہیں، جس سے انہیں مشکوک پیغامات کو پہچاننے اور ان سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ فیچر خاص طور پر سوشل انجینئرنگ کے ان بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں مجرم صارفین کو دھوکہ دے کر ان کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ “اکاؤنٹ پروٹیکٹ” کے ساتھ، اکاؤنٹ کی غیر مجاز منتقلی کی کوششوں کو آپ کے اصل ڈیوائس پر تصدیق کے بغیر کامیاب بنانا ناممکن ہو جاتا ہے، جو ہیکرز کے خلاف ایک مضبوط دفاع ہے۔ مزید برآں، “اسٹرکٹ اکاؤنٹ سیٹنگز” ہائی رسک صارفین کو ایک ایسا حفاظتی بنکر فراہم کرتا ہے جہاں ان کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کی سب سے زیادہ دیکھ بھال کی جاتی ہے۔
ان فیچرز کے باوجود، صارفین کے لیے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ ان کی آن لائن سیکیورٹی مکمل طور پر یقینی بنائی جا سکے:
- ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن فعال کریں: اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کے لیے ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن کو ہمیشہ فعال رکھیں۔ یہ آپ کے اکاؤنٹ میں لاگ ان ہونے کے لیے ایک اضافی پن کوڈ کا مطالبہ کرتا ہے، جو ہیکرز کے لیے رسائی کو بہت مشکل بنا دیتا ہے۔
- لنک شدہ ڈیوائسز کی نگرانی کریں: باقاعدگی سے اپنی “Linked Devices” سیکشن کو چیک کریں اور کسی بھی مشکوک ڈیوائس کو ہٹا دیں۔ اگر آپ کو کوئی غیر معمولی سرگرمی نظر آئے تو فوری طور پر لاگ آؤٹ کریں۔
- نامعلوم لنکس اور پیشکشوں سے محتاط رہیں: کسی بھی نامعلوم یا مشکوک لنک پر کلک نہ کریں، خاص طور پر اگر وہ ذاتی معلومات یا تصدیقی کوڈ مانگیں۔ ہمیشہ کسی بھی عجیب درخواست کی تصدیق براہ راست متعلقہ شخص سے کریں۔
- سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھیں: واٹس ایپ اور اپنے آپریٹنگ سسٹم کو ہمیشہ تازہ ترین ورژن پر اپ ڈیٹ رکھیں، کیونکہ اپ ڈیٹس میں اکثر سیکیورٹی پیچ شامل ہوتے ہیں جو نئے خطرات سے بچاتے ہیں۔
- مضبوط پاس ورڈز استعمال کریں: اپنے ڈیوائس اور دیگر اکاؤنٹس کے لیے مضبوط، منفرد پاس ورڈز اور پاسکیز کا استعمال کریں۔
- پرائیویسی سیٹنگز کا جائزہ لیں: اپنی پرائیویسی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور انہیں اپنی ضروریات کے مطابق ایڈجسٹ کریں، جیسے پروفائل فوٹو کی پرائیویسی اور اسٹیٹس کی رسائی۔
ان اقدامات کے ساتھ، واٹس ایپ کے نئے سیکیورٹی فیچرز صارفین کو ڈیجیٹل دنیا میں زیادہ محفوظ اور پر اعتماد رہنے میں مدد فراہم کریں گے۔ مزید سیکیورٹی ٹپس کے لیے، آپ جیو نیوز کی رپورٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
واٹس ایپ پر سیکیورٹی کے دیگر اہم فیچرز
واٹس ایپ کی سیکیورٹی کا دائرہ صرف نئے متعارف کرائے گئے فیچرز تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ پلیٹ فارم صارفین کے تحفظ کے لیے کئی عرصے سے مختلف جدید فیچرز فراہم کر رہا ہے۔ ان میں سے کچھ کلیدی فیچرز مندرجہ ذیل ہیں جو واٹس ایپ کو ایک محفوظ میسجنگ پلیٹ فارم بناتے ہیں:
- اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن (End-to-End Encryption): یہ واٹس ایپ سیکیورٹی کا بنیادی ستون ہے۔ اس کے تحت، بھیجے جانے والے پیغامات کو صرف بھیجنے والا اور وصول کرنے والا ہی پڑھ سکتا ہے۔ واٹس ایپ سمیت کوئی تیسرا فریق ان پیغامات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا، یہاں تک کہ خود واٹس ایپ بھی نہیں۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ آپ کی تمام بات چیت ذاتی اور محفوظ رہے۔
- ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن (Two-Step Verification): یہ ایک اختیاری لیکن انتہائی اہم حفاظتی تہہ ہے۔ اسے فعال کرنے کے بعد، جب بھی آپ اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ کسی نئے ڈیوائس پر رجسٹر کرنے کی کوشش کریں گے، تو آپ کو ایک 6 ہندسوں کا پن کوڈ درج کرنا ہوگا جو صرف آپ کو معلوم ہوگا۔ یہ پن آپ کے سم کارڈ تک غیر مجاز رسائی کی صورت میں بھی اکاؤنٹ کو محفوظ رکھتا ہے۔
- ڈیوائس ویریفیکیشن (Device Verification): یہ فیچر مالویئر سے بچاؤ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ خودکار طور پر آپ کے اکاؤنٹ کی تصدیق میں مدد کرتا ہے اور اگر آپ کا ڈیوائس مالویئر سے متاثر ہو بھی جائے، تب بھی اسے آپ کے اکاؤنٹ کا غلط استعمال کرنے سے روکتا ہے۔ اس فیچر کو فعال کرنے کے لیے صارف کو کسی اضافی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
- پاسکیز (Passkeys): واٹس ایپ اب پاسکیز کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔ پاسکیز روایتی پاس ورڈز کا ایک زیادہ محفوظ متبادل ہیں جو فنگر پرنٹ، چہرے کی شناخت یا ڈیوائس کے پن کا استعمال کرتے ہوئے آپ کے اکاؤنٹ میں لاگ ان کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ فشنگ حملوں کے خلاف زیادہ مزاحمت فراہم کرتے ہیں۔
- چیٹ لاک (Chat Lock): یہ فیچر صارفین کو اپنی مخصوص اور ذاتی چیٹس کو پاس ورڈ یا بائیو میٹرک سیکیورٹی (فنگر پرنٹ/فیس آئی ڈی) کے ذریعے لاک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ لاک شدہ چیٹس چیٹ لسٹ سے پوشیدہ ہوتی ہیں اور صرف آپ کی تصدیق کے بعد ہی قابل رسائی ہوتی ہیں۔
- ایپ لاک (App Lock): واٹس ایپ نے آپ کی پوری ایپ کو لاک کرنے کا آپشن بھی فراہم کیا ہے۔ آپ فنگر پرنٹ یا فیس آئی ڈی کا استعمال کرتے ہوئے واٹس ایپ کو ان لاک کر سکتے ہیں، جس سے کوئی دوسرا شخص آپ کے فون تک رسائی حاصل کرنے کے بعد بھی آپ کی چیٹس نہیں دیکھ سکے گا۔
- ونس ویو میسجز (View Once Messages): یہ فیچر صارفین کو ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھیجنے کی اجازت دیتا ہے جو وصول کنندہ کے ایک بار دیکھنے کے بعد خود بخود غائب ہو جاتی ہیں۔ یہ خاص طور پر حساس معلومات شیئر کرنے کے لیے کارآمد ہے، جہاں آپ نہیں چاہتے کہ مواد مستقل طور پر ڈیوائس پر محفوظ ہو۔
- صارف نام (Username) فیچر: اگرچہ ابھی آزمائشی مراحل میں ہے، واٹس ایپ ایک “یوزر نیم” فیچر پر بھی کام کر رہا ہے جو صارفین کو اپنا فون نمبر شیئر کیے بغیر ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنے کی اجازت دے گا۔ یہ پرائیویسی کو مزید بہتر بنائے گا اور صارفین کو اپنی شناخت پر زیادہ کنٹرول فراہم کرے گا۔
یہ تمام فیچرز، حال ہی میں متعارف کرائے گئے “اسمارٹ الرٹس” اور “اکاؤنٹ پروٹیکٹ” کے ساتھ مل کر، واٹس ایپ کو صارفین کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور قابل اعتماد پلیٹ فارم بناتے ہیں۔ واٹس ایپ کی مسلسل کوشش ہے کہ وہ ابھرتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے سیکیورٹی میکانزم کو مضبوط کرتا رہے۔
نتیجہ
واٹس ایپ کی جانب سے نئے سیکیورٹی فیچرز، بالخصوص “اسمارٹ الرٹس” یا “پری-چیٹ وارننگ” کا تعارف، صارفین کو آن لائن فراڈ اور سوشل انجینئرنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات سے بچانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ فیچر صارفین کو نامعلوم نمبرز سے آنے والے پیغامات کی حقیقت کو چیٹ کھولنے سے پہلے ہی سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے، جس
