Table of Contents
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ان کے تعین کے طریقہ کار پر بحث چھیڑ دی ہے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا تھا، عوام کی جانب سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ حکومت بھی اس کا فائدہ فوری طور پر صارفین تک پہنچائے گی۔ تاہم، وزیر پیٹرولیم نے اس سلسلے میں ایک “انوکھی منطق” پیش کی، جس کے مطابق خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود مقامی سطح پر تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند رہنے کی وجوہات ہیں۔ ان کے اس استدلال نے نہ صرف عوام بلکہ ماہرین کی جانب سے بھی مختلف نوعیت کے ردعمل کو جنم دیا ہے۔ پاکستان کی معیشت کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، کیونکہ یہ براہ راست مہنگائی، نقل و حمل کے اخراجات اور بالواسطہ طور پر ہر شعبہ زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔ موجودہ حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے درمیان مقامی صارفین کو کس طرح زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے، خاص طور پر جب کہ معاشی استحکام اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو بھی مدنظر رکھنا ہو۔
وزیر پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی سے متعلق انوکھی منطق: ایک تفصیلی جائزہ
حالیہ مہینوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں خاصی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ بھی ہے۔ اس معاہدے کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ تیل کی سپلائی میں بہتری آئے گی اور قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوگی۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بھی 18 جون 2026 کو اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی “اچھی خبر” دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی سفارتی کوششوں کو سراہا، جنہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے کو ممکن بنایا۔ وزیر موصوف نے یہ بھی کہا تھا کہ وزیراعظم کی واضح ہدایت ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اس کمی کا پورا فائدہ بلا تاخیر عوام کو منتقل کیا جائے، اور اس مقصد کے لیے ایک نیا اور شفاف فارمولا تیار کیا جا رہا ہے۔
تاہم، 7 جولائی 2026 کو ایک پریس کانفرنس اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک مختلف منطق پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہیں، تاہم پاکستان جو پیٹرول درآمد کرتا ہے وہ اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 15 سے 20 ڈالر فی بیرل زیادہ مہنگا ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 70 سے 80 فیصد پیٹرول بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، اور یہ درآمد شدہ پیٹرول ریفائنڈ شکل میں ہوتا ہے، جس پر پریمیم، انشورنس اور شپنگ کے اضافی اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ اس طرح، خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ فوری طور پر صارفین تک منتقل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ منطق بظاہر تکنیکی ہے، لیکن عوامی سطح پر اسے پوری طرح قبول نہیں کیا جا رہا، جہاں لوگ سادہ طور پر یہ دیکھتے ہیں کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہو رہا ہے لیکن مقامی پمپ پر قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہیں آ رہی۔
عالمی منڈی کے تناظر میں مقامی قیمتیں: وزیر پیٹرولیم کا استدلال
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے استدلال کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل (Crude Oil) کی قیمتیں اور تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات (Refined Petroleum Products) کی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں۔ پاکستان خام تیل کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل بھی درآمد کرتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوتا ہے، تو اس کا اثر تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے لیکن یہ اثر براہ راست اور فوری نہیں ہوتا۔ درآمد کنندگان کو تیار شدہ مصنوعات خریدنے کے لیے شپنگ، انشورنس اور دیگر پریمیم اخراجات ادا کرنے پڑتے ہیں جو عالمی سطح پر بڑھ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 22 جون سے 26 جون 2026 کے درمیان جب برینٹ کروڈ آئل، ڈبلیو ٹی آئی اور عرب لائٹ آئل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، تب بھی وزیر پیٹرولیم نے وضاحت کی کہ صارفین تک ریفائنڈ پیٹرول اور ڈیزل پہنچتا ہے، جس کی قیمتوں کا موازنہ ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق، 22 جون کو عالمی منڈی میں پیٹرول 98.35 ڈالر فی بیرل تھا، جو 26 جون کو کم ہو کر 91.68 ڈالر پر آ گیا، جبکہ ڈیزل 109 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 104.79 ڈالر پر آ گیا۔ ان اعداد و شمار سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ عالمی سطح پر تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی رفتار خام تیل کی قیمتوں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ پیچیدگی عوام کے لیے سمجھنا مشکل ہے، جو صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ عالمی ریلیف کا فائدہ انہیں کب اور کتنا ملے گا۔ حکومت نے ماضی میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے 130 ارب روپے کی سبسڈی بھی فراہم کی ہے، خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو سستا ایندھن فراہم کرنے کے لیے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اور حکومتی مداخلت
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ایک باقاعدہ طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے، جس میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اوگرا ہر ہفتے عالمی نرخوں، درآمدی لاگت، اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتیں مقرر کرتی ہے۔ یہ طریقہ کار گزشتہ 20 سال سے رائج ہے۔ تاہم، حکومت کا کردار صرف ریگولیٹر تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ ٹیکس اور لیوی کے ذریعے بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ پیٹرول پر لیوی 80 روپے سے زیادہ لگائی گئی تھی، جو آئی ایم ایف سے معاہدے کی وجہ سے تھی، اور اب بھی ڈیزل پر تقریباً 70 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، کاربن لیوی بھی وصول کی جاتی ہے۔ ان ٹیکسز اور لیویز کا مقصد حکومتی آمدنی میں اضافہ کرنا ہوتا ہے، لیکن یہ صارفین پر بوجھ بنتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے، جس کے اب تک تین اجلاس ہو چکے ہیں۔ اس کمیٹی میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں ظاہر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کا مقصد زیادہ شفافیت لانا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ کسی مخصوص شعبے کو ترجیح نہیں دے رہی اور نہ ہی عوام پر کوئی غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔ تاہم، عوام کا مطالبہ ہے کہ قیمتوں میں عالمی منڈی کے مطابق خاطر خواہ کمی کی جائے تاکہ مہنگائی کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
| عامل | تفصیل | مقامی قیمتوں پر اثر |
|---|---|---|
| عالمی خام تیل کی قیمتیں | بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی طلب و رسد | بنیادی تعین کنندہ، لیکن براہ راست تعلق نہیں |
| تیار شدہ مصنوعات کی درآمدی قیمتیں | پاکستان زیادہ تر تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل درآمد کرتا ہے، جس پر پریمیم اور شپنگ کے اضافی اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ | خام تیل کی قیمتوں سے زیادہ اہمیت کا حامل، کیونکہ مقامی کھپت اسی پر منحصر ہے۔ |
| پیٹرولیم لیوی | حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس، جو حکومتی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ | قیمتوں میں براہ راست اضافہ کرتا ہے۔ |
| فارورڈ پریمیم اور ڈیمریج | تیل کی بکنگ اور جہاز رانی کے اخراجات جو بین الاقوامی تنازعات یا رسد میں تاخیر کی وجہ سے بڑھ جاتے ہیں۔ | لاگت میں اضافہ کرتا ہے اور قیمتوں کو بلند رکھتا ہے۔ |
| پاکستانی روپے کی قدر | ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی درآمدی لاگت کو بڑھا دیتی ہے۔ | قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ |
| ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن | مقامی ریفائنریوں کی جدید کاری اور یورو فائیو معیار کا ایندھن تیار کرنے کی صلاحیت۔ | مستقبل میں درآمدی انحصار کم کر کے قیمتوں میں استحکام لا سکتا ہے۔ |
عوامی توقعات اور سیاسی ردعمل: جماعت اسلامی کا احتجاج
جہاں ایک طرف حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے اپنی منطق پیش کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف عوام اور سیاسی جماعتیں اس سے مطمئن نظر نہیں آتیں۔ عوام کی توقعات یہ ہوتی ہیں کہ عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے پر انہیں فوری اور خاطر خواہ ریلیف ملے گا، جیسا کہ قیمتوں میں اضافے کے وقت ہوتا ہے۔ تاہم، جب کمی کا اعلان ہوتا ہے تو وہ اکثر معمولی ہوتا ہے، جیسا کہ 4 جولائی 2026 کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں صرف 1 روپے 97 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی۔ اس “معمولی” کمی پر جماعت اسلامی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اس فیصلے کو “شرمناک” اور “عوام دشمن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت لیوی کے نام پر عوام سے “بھتہ ٹیکس” وصول کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمتوں کو عالمی منڈی میں جنگ سے پہلے کی سطح پر لایا جائے، جو کہ 225 روپے فی لیٹر کے قریب تھی۔ حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ حکومت اپنی مالی بدانتظامی کا بوجھ عام شہریوں پر منتقل کر رہی ہے اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والے شہریوں کو خاطر خواہ ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔ یہ عوامی غم و غصہ محض پیٹرول کی قیمتوں تک محدود نہیں، بلکہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور مجموعی مہنگائی پر بھی پھیلا ہوا ہے۔ اس طرح کے معمولی ریلیف سے عام آدمی کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچتا، اور اس کا اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی نہیں پڑتا، جیسا کہ 2 جولائی 2026 کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود روزمرہ کی ضروری اشیاء کی قیمتیں کم نہ ہو سکیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل: پیٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن
حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے سے نکلنا چاہتی ہے اور اس شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں حکومت اپنا کردار محدود کرتے ہوئے انہیں مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ڈی ریگولیشن کا مطلب یہ ہے کہ پیٹرول، ڈیزل یا لائٹ ڈیزل کی قیمتیں حکومت خود نوٹیفائی کرنے کی بجائے مارکیٹ کے سپرد کر دے گی۔ اس صورت میں تیل کمپنیاں اپنی لاگت، طلب اور رسد کے مطابق خود قیمتیں مقرر کریں گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں مختلف کمپنیوں کی قیمتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔
یہ پالیسی ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی کی منظوری کے بعد شروع ہوگی، جسے کابینہ کو بھجوا دیا گیا ہے اور 15 جولائی تک اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سے منظوری ملنے کی توقع ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ملک میں جدید ریفائنری نظام اور یورو فائیو معیار کے ایندھن کی تیاری کو ممکن بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ریفائنریوں کی موجودہ خامیوں یا غیر مؤثر کارکردگی کا بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کرے گی اور عوام کو اضافی مالی دباؤ سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اگر یہ ڈی ریگولیشن کامیابی سے لاگو ہوتی ہے تو یہ پاکستان کے پیٹرولیم سیکٹر کے لیے ایک اہم تبدیلی ہوگی، جو نہ صرف قیمتوں کے تعین میں شفافیت لائے گی بلکہ مسابقت کو بھی فروغ دے سکے گی۔
تاہم، ڈی ریگولیشن کے ساتھ ساتھ حکومت کو ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ کمپنیوں کی جانب سے کارٹیلائزیشن یا قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکا جا سکے، اور عوام کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ اس اقدام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت کس حد تک مارکیٹ کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیتی ہے اور کس حد تک صارفین کو ممکنہ استحصال سے بچاتی ہے۔ اس سلسلے میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو بحال کرنا انتہائی ضروری ہوگا۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات ڈان نیوز کی ایک رپورٹ میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر عوام کا ردعمل کس نوعیت کا رہا ہے۔
پاکستان کی توانائی کی سلامتی اور پیٹرولیم کے چیلنجز
پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ پیٹرولیم مصنوعات سے پورا ہوتا ہے، اور ملک کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک تیل اور گیس کی بلا تعطل فراہمی پر ہے۔ تاہم، پاکستان پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جو اسے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا شکار بناتا ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان اپنی ڈیزل کی ضروریات کا تقریباً 33 فیصد جبکہ پیٹرول کی کھپت کا تقریباً 70 سے 80 فیصد درآمد کرتا ہے۔ یہ درآمدی انحصار ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر جب عالمی سطح پر کوئی بحران یا جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے، جیسا کہ حال ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران دیکھا گیا۔
حکومت پاکستان اس وقت ملک کے توانائی سلامتی کے نظام کا ازسر نو جائزہ لے رہی ہے۔ اس سلسلے میں طویل المدتی حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے جن میں مقامی تیل و گیس کی تلاش کے منصوبوں کو تیز کرنا اور اسٹریٹیجک آئل اسٹوریج کے قیام پر کام کرنا شامل ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ 20 سال بعد آف شور ایکسپلوریشن شروع ہو رہی ہے اور اسٹریٹیجک ذخائر پر بھی عالمی اسٹڈی کال کی گئی ہے جس پر دو فرمز کام کر رہی ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف درآمدی بل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ ملک کو عالمی قیمتوں کے جھٹکوں سے بھی بچا سکیں گے۔ اس کے علاوہ، ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن اور یورو فائیو معیار کے ایندھن کی مقامی پیداوار بھی ملک کو توانائی کے میدان میں خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ یہ تمام کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ ہے، لیکن ان کے نتائج سامنے آنے میں وقت لگے گا۔
نتیجہ: ایک پیچیدہ معاشی توازن
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی جانب سے پیٹرولیم قیمتوں میں کمی سے متعلق پیش کی گئی “انوکھی منطق” پاکستان میں توانائی کی معیشت کی پیچیدگیوں کو نمایاں کرتی ہے۔ ایک طرف عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہے اور دوسری طرف تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی لاگت، روپے کی قدر میں کمی، اور حکومتی ٹیکسز و لیویز کا بوجھ ہے۔ ان تمام عوامل کے درمیان حکومت کے لیے عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور ملکی معاشی استحکام کو برقرار رکھنا ایک نازک توازن کا کام ہے۔
عوام کی جانب سے فوری اور خاطر خواہ ریلیف کا مطالبہ اپنی جگہ درست ہے، اور حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ عالمی مارکیٹ میں کمی کا فائدہ جلد از جلد اور مکمل طور پر صارفین تک پہنچایا جائے۔ تاہم، وزیر پیٹرولیم کے اس استدلال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان تیار شدہ مصنوعات کی درآمد پر انحصار کرتا ہے، جس کی قیمتیں خام تیل سے مختلف ہوتی ہیں۔ ڈی ریگولیشن اور ریفائنری اپ گریڈیشن جیسے طویل المدتی منصوبے اگرچہ مستقبل کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں، لیکن فوری طور پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کو مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس میں ٹیکسز اور لیویز میں کمی، یا ٹارگٹڈ سبسڈی کا دائرہ وسیع کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ ultimately, شفافیت، بروقت مواصلت اور عوام دوست پالیسیاں ہی اس پیچیدہ مسئلے کا پائیدار حل فراہم کر سکتی ہیں اور عوامی اعتماد کو بحال کر سکتی ہیں۔
