📅 Thursday, May 21, 2026
فہرست
وفاداری، قربانی اور رشتوں کی گہرائی کسی بھی شعبے میں کامیابی کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن پاکستانی سیاست میں ان الفاظ کے معنی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں وہ شخصیات جو اپنی جماعتوں کے لیے سرمایہ ثابت ہوئیں، اپنی جانیں نچھاور کر گئیں، اکثر اوقات اپنی موت کے بعد بے گانہ ٹھہرائی جاتی ہیں۔ یہ امر حیران کن ہی نہیں بلکہ پاکستانی سیاست کی ایک تلخ حقیقت بھی ہے کہ جس کے لیے آپ اپنی زندگی کا ہر لمحہ وقف کر دیں، آخر میں آپ کی وفات پر آپ کے قریبی ساتھی بھی منہ موڑ لیتے ہیں۔ یہ محض چند واقعات نہیں بلکہ ایک عمومی طرز عمل بن چکا ہے، جہاں سیاسی رہنماؤں کی خدمات کو زندہ رہتے تو سراہا جاتا ہے، مگر ان کی آنکھیں بند ہوتے ہی انہیں فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم رحمان ملک، مشاہد اللہ خان اور عرفان صدیقی جیسے نامور سیاستدانوں کی کہانیوں کا جائزہ لیں گے جنہوں نے اپنی جماعتوں کے لیے بے مثال قربانیاں دیں، مگر افسوس کہ ان کی آخری رسومات میں بھی وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کے وہ حقدار تھے۔
رحمان ملک اور پیپلز پارٹی: ایک غیر معمولی تعلق کا اختتام
ایک وقت تھا جب پاکستان پیپلز پارٹی اور رحمان ملک لازم و ملزوم سمجھے جاتے تھے۔ رحمان ملک کا شمار محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے بااعتماد اور وفادار ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ وہ پیپلز پارٹی کی طرف سے 2018 سے سینیٹ کے رکن تھے، اور 2008 سے 2013 تک پاکستان کے وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ سیاست میں آنے سے قبل انہوں نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میں بھی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور بالآخر 1993 سے 1996 تک ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل بھی رہے۔ رحمان ملک کو ان کی بہترین کارکردگی کی بنیاد پر حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ شجاعت اور نشان امتیاز جیسے اعلیٰ اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
انہوں نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان میثاق جمہوریت میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ رحمان ملک میڈیا میں رہنے کا فن خوب جانتے تھے اور اپنے دور حکومت میں دن میں متعدد مرتبہ میڈیا سے مخاطب ہوتے تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ان کی خدمات کو سراہا جاتا ہے۔ تاہم، اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل ان کا اپنی پارٹی کے ساتھ تعلق ماضی جیسا نہیں رہا تھا اور انہیں اہم اجلاسوں میں بھی نہیں بلایا جا رہا تھا۔ کئی سال تک لگاتار سینیٹر رہنے کے باوجود، انہیں آخری سینیٹ انتخاب میں نظر انداز کیا گیا اور ان کی سینیٹر شپ ختم ہو گئی، جس کے بعد وہ اپنے گھر تک محدود رہے۔
23 فروری 2022 کو، 70 سال کی عمر میں، رحمان ملک کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان کے پھیپھڑے کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔ ان کی وفات پر پیپلز پارٹی کی قیادت اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے دکھ کا اظہار کیا اور مغفرت کے لیے دعا کی تھی۔ تاہم، ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان کے جنازے میں پیپلز پارٹی کا کوئی ایک بھی بڑا رہنما شریک نہیں ہو سکا۔ بعض اطلاعات کے مطابق خاندان کے افراد اور چند قریبی دوستوں نے ہی ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی، اور انہیں اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات کے بعد پیپلز پارٹی گلف مڈل ایسٹ کی جانب سے دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ان کی خدمات کو سراہا گیا، لیکن پارٹی کی مرکزی قیادت کی غیر موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دیا۔
مشاہد اللہ خان کی بے باک سیاست اور یادگار تقریریں
مشاہد اللہ خان (30 نومبر 1952 – 18 فروری 2021) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک معروف سیاستدان تھے جنہوں نے بطور سینیٹر اور وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی خدمات انجام دیں۔ وہ اپنی تند مزاجی، بے باک گفتگو اور طنزیہ اسلوب کے لیے مشہور تھے، اور پارلیمنٹ کے فلور پر بھی کسی قسم کے جملے کسنے سے نہیں جھجھکتے تھے۔ مشاہد اللہ خان ایک شعلہ بیان مقرر تھے اور اردو شاعری کا عمدہ ذوق رکھتے تھے، وہ ہر موقع کے لیے موزوں اشعار جانتے تھے۔
مشاہد اللہ خان نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز اسلامیہ جمیعت طلبا سے کیا اور بعد ازاں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) میں ورکرز یونین میں سرگرم ہو گئے۔ ضیاء الحق کے دور حکومت کے خلاف انہوں نے کھل کر آواز اٹھائی اور اسی دوران انہیں پی آئی اے کی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ 1990 کی دہائی سے وہ مسلم لیگ (ن) کا حصہ تھے اور نواز شریف کے آخری دور حکومت میں وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی کے عہدے پر فائز رہے۔
12 اکتوبر 1999 کو جب پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا، اس وقت مشاہد اللہ خان کراچی کے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ انہوں نے اس مارشل لا کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی اور جمہوریت کے لیے اپنی قربانیوں کا لوہا منوایا۔ مشاہد اللہ خان کو جمہوریت کے ساتھ اپنے عشق اور اس عشق کے لیے دی گئی قربانیوں کے لیے جانا جاتا تھا۔
مشاہد اللہ خان 18 فروری 2021 کو 68 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے انہیں نواز شریف کا “وفادار اور غیر معمولی ساتھی” قرار دیتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی ان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کو سراہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے بھی مشاہد اللہ خان کو ایک بہادر اور جمہوریت پسند سیاسی کارکن قرار دیا۔ ان کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر اسلام آباد کے ایچ-11 قبرستان میں ادا کی گئی۔
| سیاسی شخصیت | وابستگی | اہم عہدے | وفات کی تاریخ | سیاسی قیادت کا ردعمل | جنازے میں شرکت (قابل ذکر) |
|---|---|---|---|---|---|
| رحمان ملک | پاکستان پیپلز پارٹی | سابق وزیر داخلہ، سینیٹر، ایف آئی اے ایڈیشنل ڈی جی | 23 فروری 2022 | پیپلز پارٹی قیادت کا دکھ کا اظہار، تعزیتی پیغامات | اہل خانہ اور قریبی دوست (پارٹی کا کوئی بڑا رہنما نہیں) |
| مشاہد اللہ خان | پاکستان مسلم لیگ (ن) | سینیٹر، وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی | 18 فروری 2021 | مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا خراج تحسین اور دکھ کا اظہار | خاندان، پارٹی کے چند رہنما، دیگر سیاسی و سماجی شخصیات |
| عرفان صدیقی | پاکستان مسلم لیگ (ن) | سینیٹر، وزیراعظم کے سابق مشیر، معروف کالم نگار | 11 نومبر 2025 | نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز سمیت متعدد رہنماؤں کے تعزیتی پیغامات | اہل خانہ، قریبی دوست، محدود سیاسی شخصیات (شریف خاندان سے کوئی نہیں) |
عرفان صدیقی: نواز شریف کے قلمکار اور بے دام غلام
عرفان صدیقی، جن کا اصل نام عرفان الحق صدیقی تھا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما، سینیٹر، معروف کالم نگار، شاعر، استاد اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ وہ اپنے قلمی نام عرفان صدیقی سے زیادہ معروف تھے۔ عرفان صدیقی کو نواز شریف کے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا، اور یہ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کے کل سیاسی کیریئر میں جتنے بھی جملے ادا کیے گئے، ان میں سے 60 فیصد عرفان صدیقی کے قلم سے ہی تراشے گئے تھے۔ وہ بے دام غلام کی حیثیت سے اپنے آقا کے ہر سیاہ کو سفید کرنے میں لگے رہے۔
عرفان صدیقی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک پرائمری اسکول ٹیچر کے طور پر کیا اور بعد ازاں کالج میں اردو کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ جولائی 2019 میں، انہیں ایک معمولی الزام پر ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا، جس پر معاشرتی سطح پر اساتذہ کی تحقیر سے تعبیر کیا گیا اور اس وقت وہ 70 سال کے تھے۔
سینیٹر عرفان صدیقی 11 نومبر 2025 کو مختصر علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ وہ دو ہفتے سے اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے اور سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر تھے۔ ان کی وفات پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز سمیت دیگر حکومتی و سیاسی رہنماؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ نواز شریف نے عرفان صدیقی کو “انتہائی مخلص اور بااعتماد ساتھی” اور “ایک عزیز ترین بھائی” قرار دیا، جس کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ تاہم، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان کی وفات کے وقت نواز شریف یا شہباز شریف میں سے کوئی بھی ان کے جنازے میں شرکت نہ کر سکا۔ شریف خاندان سے کوئی فرد بھی ان کے جنازے میں شامل نہیں ہوا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو سیاسی وفاداری کے دعوؤں پر سوال اٹھاتا ہے اور دکھاتا ہے کہ سیاست میں رشتوں کی گہرائی محض لفظی حد تک ہی رہ جاتی ہے۔
سیاسی وفاداری اور بعد از وفات بھلا دیے جانے کی روایت
پاکستانی سیاست میں وفاداری ایک ایسا عنصر ہے جس کے بارے میں اکثر بحث ہوتی رہتی ہے۔ یہ ایک ایسی دلدل ہے جہاں بڑے بڑے نام بھی پھسل جاتے ہیں، اور بسا اوقات اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ کسی خاص نظریے یا شخصیت کے لیے وقف کر دینے کے بعد بھی، انہیں وہ عزت و احترام نہیں ملتا جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ رحمان ملک، مشاہد اللہ خان اور عرفان صدیقی کی مثالیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سیاسی قربانیوں اور وفاداریوں کا صلہ ہمیشہ اسی طرح نہیں ملتا جس کی توقع کی جاتی ہے۔ ان تینوں شخصیات نے اپنی اپنی جماعتوں کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دیں، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اور اپنی فکری و عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
رحمان ملک نے پیپلز پارٹی کو اس وقت سہارا دیا جب وہ مشکل حالات سے گزر رہی تھی۔ ان کی صلاحیتیں اور محنت پارٹی کے لیے ایک اثاثہ تھیں۔ تاہم، آخری ایام میں پارٹی سے ان کا تعلق کمزور پڑ گیا، اور ان کی وفات کے وقت، پارٹی کی مرکزی قیادت کی غیر موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ مشاہد اللہ خان نے مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک توانا آواز کا کردار ادا کیا، اور اپنی بے باک تقریروں سے ہمیشہ پارٹی کے موقف کا دفاع کیا۔ لیکن ان کی وفات پر بھی پارٹی قیادت کی طرف سے محض تعزیتی پیغامات ہی دیکھنے کو ملے۔ عرفان صدیقی نے نواز شریف کے لیے ایک خاموش سپاہی کی طرح کام کیا، ان کے ہر بیان اور تقریر کو قلم بند کیا، مگر ان کی وفات پر شریف خاندان کا کوئی فرد بھی ان کے جنازے میں شریک نہیں ہوا۔
یہ رویہ صرف ان تین شخصیات تک محدود نہیں، بلکہ پاکستانی سیاست کی ایک عمومی روایت بن چکا ہے۔ ایسے کئی گمنام کارکن اور چھوٹے درجے کے رہنما ہیں جنہوں نے اپنی جماعتوں کے لیے سب کچھ قربان کر دیا، مگر انہیں کبھی وہ پذیرائی نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے۔ یہ سیاسی رویہ نہ صرف کارکنان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، بلکہ سیاست کے اس شعبے سے ایماندار اور وفادار لوگوں کو دور کرتا جا رہا ہے۔ وفاداری کا یہ یکطرفہ رشتہ سیاست کو ایک ایسا کاروبار بنا دیتا ہے جہاں مفادات کی آبیاری تو ہوتی ہے، مگر انسانی رشتوں اور قربانیوں کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہتی۔
اس رویے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں:
- شخصیت پرستی: پاکستانی سیاست میں شخصیت پرستی کا رجحان بہت گہرا ہے، جہاں جماعتیں کسی نظریے سے زیادہ ایک فرد کے گرد گھومتی ہیں۔ جب وہ فرد منظر سے ہٹ جاتا ہے، تو اس کے قریبی ساتھی بھی غیر اہم ہو جاتے ہیں۔
- مفادات کی سیاست: سیاست کو محض مفادات کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جب کسی فرد کا سیاسی یا انتخابی فائدہ نظر نہیں آتا، تو اس کی خدمات کو بھلا دیا جاتا ہے۔
- نئے چہروں کی تلاش: ہر آنے والی نسل نئے چہروں اور نئے طریقوں کی تلاش میں رہتی ہے، جس کے نتیجے میں پرانے اور تجربہ کار افراد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
- تنظیمی کمزوریاں: سیاسی جماعتوں کی اندرونی تنظیمیں کمزور ہیں جہاں میرٹ اور وفاداری سے زیادہ خاندانی یا گروہی تعلقات کو اہمیت دی جاتی ہے۔
یہ صورتحال جمہوری عمل کے لیے بھی نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ سیاسی جماعتوں کو حقیقی معنوں میں جمہوری نہیں رہنے دیتی۔ جب وفاداروں کو ان کی خدمات کا صلہ نہیں ملتا، تو سیاست میں اخلاقی اقدار کا بھی زوال ہوتا ہے، جس سے معاشرے پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سیاسی قربانیوں کا صلہ: ایک تلخ حقیقت
پاکستانی سیاست میں ایسے بے شمار واقعات دیکھنے میں آتے ہیں جہاں سیاسی رہنماؤں نے اپنی زندگی کی بہترین توانائیاں اپنی پارٹی اور ملک کے لیے وقف کر دیں، لیکن جب مشکل وقت آیا یا ان کی موت ہوئی، تو انہیں وہ احترام اور پذیرائی نہ مل سکی جس کے وہ حقدار تھے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاست میں وفاداری کو اکثر ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا جاتا ہے؛ کام ختم ہونے کے بعد اسے پھینک دیا جاتا ہے۔
رحمان ملک کی مثال ہمارے سامنے ہے، جنہوں نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے ملک کو دہشت گردی کے ایک مشکل دور سے نکالا۔ ان کی دن رات کی محنت اور میڈیا کے ساتھ رابطے میں رہنے کی حکمت عملی نے انہیں ایک نمایاں مقام دلایا۔ لیکن آخری دنوں میں انہیں پارٹی سے بے اعتنائی کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کی وفات کے بعد پارٹی کی مرکزی قیادت کا جنازے سے غیر حاضر رہنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف رحمان ملک جیسے وفا شعار رہنما کے لیے تکلیف دہ تھا بلکہ ان تمام کارکنان کے لیے بھی مایوسی کا باعث بنا جنہوں نے اپنی زندگیاں پارٹی کے لیے قربان کر رکھی ہیں۔
مشاہد اللہ خان، جنہوں نے اپنے منفرد لب و لہجے اور بے باک انداز سے مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کی، ہمیشہ پارٹی کی ڈھال بنے رہے۔ 1999 کے مارشل لا کے خلاف ان کی مزاحمت اور جمہوریت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ لیکن ان کی وفات پر بھی سیاسی دنیا میں محض رسمی تعزیتی پیغامات کا تبادلہ ہوا، اور وہ اجتماعی پذیرائی نہ مل سکی جو ایسے قد آور رہنما کا حق تھی۔
اسی طرح عرفان صدیقی، جنہوں نے نواز شریف کے قلم کے سپاہی کے طور پر ایک منفرد حیثیت حاصل کی، پارٹی کے بیانیے کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ذہانت، علمیت اور نواز شریف کے ساتھ ان کی فکری ہم آہنگی نے انہیں ایک بے مثال مقام دیا تھا۔ تاہم، ان کی وفات پر شریف خاندان کے کسی فرد کا جنازے میں شرکت نہ کرنا، وفاداری کے اس رشتہ پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستانی سیاست میں اکثر رشتے ذاتی نہیں بلکہ مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں، اور جب مفادات بدل جاتے ہیں تو وفاداریوں کو بھی پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال سیاسی کارکنوں کے لیے حوصلہ شکن ہوتی ہے اور انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ان کی خدمات کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔
پاکستانی سیاست میں رشتوں کی اہمیت اور ان کا زوال
پاکستانی سیاست میں رشتوں کی بنیاد ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے۔ ایک طرف خاندانی سیاست، جس میں رشتوں کو ہی سیاسی وراثت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی وفاداریاں جو کسی نظریے، شخصیت یا مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ بدقسمتی سے، ان رشتوں میں پختگی اور دوام کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ آج کی سیاست میں رشتوں کی اہمیت اس حد تک گر چکی ہے کہ مفادات کے ٹکراؤ پر قریبی ساتھی بھی ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔
رحمان ملک جیسے رہنما، جنہوں نے پیپلز پارٹی کے لیے بے شمار قربانیاں دیں اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ مضبوط وفاداری کا رشتہ قائم کیا، آخر میں خود کو تنہا محسوس کرنے پر مجبور ہوئے۔ ان کی وفات پر پارٹی قیادت کی عدم شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی تعلقات اکثر عارضی اور مصلحت پسندانہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح مشاہد اللہ خان اور عرفان صدیقی کے ساتھ ہونے والا سلوک بھی اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
سیاسی رشتوں کے اس زوال کی کئی وجوہات ہیں:
- طاقت کا مرکز: طاقت کا حصول اور اسے برقرار رکھنا ہی واحد مقصد بن چکا ہے، جس کے لیے انسانی رشتوں کو قربان کر دیا جاتا ہے۔
- معاشی مفادات: سیاست میں معاشی مفادات کا دخل بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں نظریاتی وابستگیاں کمزور پڑ گئی ہیں۔
- جمہوری اقدار کا فقدان: اندرونی پارٹی جمہوریت اور میرٹ کی بجائے اقربا پروری اور ذاتی پسند و ناپسند کو ترجیح دی جاتی ہے۔
- میڈیا کا کردار: میڈیا بھی اکثر سنسنی خیزی اور ذاتیات پر مبنی خبروں کو ترجیح دیتا ہے، جس سے سیاسی رہنماؤں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف سیاسی جماعتوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ مجموعی طور پر پاکستانی سیاست کے وقار کو بھی مجروح کرتی ہے۔ جب عوام یہ دیکھتے ہیں کہ اپنے ہی ساتھیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے، تو ان کا سیاسی نظام پر اعتماد کم ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیاستدانوں اور عوام کے درمیان ایک گہرا خلیج پیدا ہوتا ہے، جو ملک میں سیاسی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ جب تک سیاسی جماعتیں اپنے وفادار کارکنان اور رہنماؤں کی قدر نہیں کریں گی، اور انہیں ان کی خدمات کا حق نہیں دیں گی، تب تک پاکستانی سیاست اسی طرح وفاداریوں کے امتحان سے دوچار رہے گی۔ ہمیں ایک ایسی سیاسی ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جہاں قربانیوں کو سراہا جائے اور رشتوں کو مفادات پر ترجیح دی جائے، تاکہ حقیقی جمہوریت فروغ پا سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی پالیسیوں اور رویوں کا جائزہ لیں اور ایک ایسی مثبت تبدیلی لائیں جو انہیں اپنے کارکنان کے ساتھ دیرپا اور مضبوط رشتے قائم کرنے میں مدد دے۔
نتیجہ
پاکستانی سیاست میں وفاداری، قربانی اور رشتوں کی نوعیت ایک پیچیدہ حقیقت ہے۔ رحمان ملک، مشاہد اللہ خان اور عرفان صدیقی جیسے رہنماؤں کی کہانیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ کس طرح بعض اوقات اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ کسی نظریے یا شخصیت کے لیے وقف کر دینے کے بعد بھی، انہیں وہ اجتماعی پذیرائی اور احترام نہیں ملتا جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ ان شخصیات نے اپنی اپنی جماعتوں کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں، سیاسی جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا، مگر افسوس کہ ان کی وفات کے بعد انہیں وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی توقع کی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے رحمان ملک کے جنازے میں مرکزی قیادت کی عدم شرکت ہو، یا عرفان صدیقی کے جنازے میں شریف خاندان کی غیر حاضری، یہ واقعات پاکستانی سیاست کی ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف وفادار کارکنان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے بلکہ سیاست سے ایماندار اور نظریاتی لوگوں کو دور کرتا ہے۔
اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی اندرونی تنظیموں اور اقدار کا از سر نو جائزہ لیں۔ انہیں حقیقی معنوں میں جمہوری بننے، میرٹ کو فروغ دینے، اور اپنے کارکنان کی خدمات کو سراہنے کی ضرورت ہے۔ جب تک سیاسی رشتوں کو مفادات پر قربان کیا جاتا رہے گا، تب تک پاکستانی سیاست میں وفاداری کا امتحان جاری رہے گا۔ ضروری ہے کہ ایک ایسی سیاسی ثقافت کو پروان چڑھایا جائے جہاں انسانی رشتوں اور قربانیوں کو اہمیت دی جائے، تاکہ سیاسی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ سیاستدانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے کارکنان اور ساتھی ہی ان کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں، اور ان کی وفاداریوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔
سیاسی جماعتوں کو اپنے اندرونی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہوگا اور ایسے میکانزم وضع کرنے ہوں گے جہاں وفا شعار کارکنان کو نہ صرف زندہ رہتے ہوئے عزت دی جائے بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے۔ یہ نہ صرف ان افراد کے ساتھ انصاف ہوگا بلکہ پاکستان کی جمہوری پختگی کے لیے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہوگا۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ ڈان نیوز کی متعلقہ رپورٹ بھی دیکھ سکتے ہیں۔
