ٹرمپ کا ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کو سزا دینےکااعلان ایک بار پھر عالمی سیاست اور معیشت میں ہلچل مچا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئی، تباہ کن معاشی پابندیاں عائد کرنے اور تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھنے والے ممالک کو سخت نتائج کی دھمکی دینے کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور تیل کی عالمی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔
اقتصادی ڈی ڈے: ٹرمپ کا نیا محاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے خلاف “اقتصادی ڈی ڈے” کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد تہران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید تنہا کرنا اور اس کی معیشت کو مفلوج کرنا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ان پابندیوں کو ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا بنیادی مقصد ایران کی جانب سے پراکسی گروہوں کے ذریعے کی جانے والی کارروائیوں کی مالی معاونت اور صلاحیت کو مکمل طور پر محدود کرنا ہے۔
اس اعلان کے تحت، کوئی بھی ملک جو اپنے مالیاتی اداروں، بزنسز، ہوائی اڈوں اور حکومتی اداروں کو ایران کے لیے “لائف لائن” کا کردار ادا کرنے کی اجازت دے گا، اسے شدید معاشی نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اس میں تیل کی اسمگلنگ، کیش منتقلی، کرنسی کے تبادلے اور شپ رجسٹریز جیسی سرگرمیاں شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ معاشی دباؤ بالآخر جنگ کا رخ امریکا کے حق میں موڑ دے گا اور ایران کو “معاشی اور عسکری موت کے بھنور” میں دھکیل دے گا۔
ایران جوہری معاہدہ (JCPOA) سے امریکہ کا انخلاء اور پابندیوں کی بحالی
ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی موجودہ لہر کی جڑیں 2018 میں اس وقت پیوست ہیں جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ایران جوہری معاہدے (Joint Comprehensive Plan of Action – JCPOA) سے امریکہ کو نکال لیا تھا۔ یہ معاہدہ 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں (P5+1) کے درمیان طے پایا تھا جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی حاصل کی تھی۔
- معاہدے کی منسوخی: ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ معاہدہ ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ امریکہ کے انخلاء کے بعد، ایران نے بھی ایک سال بعد معاہدے کی بعض شرائط کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا تھا۔
- تناؤ میں اضافہ: اس انخلاء کے بعد سے ایران اور امریکہ کے تعلقات میں شدید کشیدگی رہی ہے، اور ایران نے اپنی یورینیم افزودگی کو تیز کر دیا ہے۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) تک رسائی کو بھی محدود کر دیا گیا ہے، جس سے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
- جون 2026 میں معاہدے کی کوشش: یہ بات قابل ذکر ہے کہ رواں سال جون میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ایک معاہدے کی دستخط شدہ کاپی سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔ اس معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی، تیل کی برآمدات کی بحالی اور 300 ارب ڈالر کے اقتصادی پیکیج سمیت متعدد اہم فیصلے شامل تھے۔ تاہم، اگست 2026 میں ٹرمپ کی جانب سے نئی پابندیوں کے اعلانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یا تو یہ معاہدہ مؤثر ثابت نہیں ہوسکا یا اس کے بعد دوبارہ کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ موجودہ صورتحال واضح طور پر ایک دوبارہ بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتی ہے جہاں امریکہ نے اپنی دباؤ کی پالیسی کو پھر سے فعال کر دیا ہے۔
نئی پابندیوں کا ہدف: عالمی تجارت اور مالیاتی نظام
امریکی انتظامیہ کی حالیہ پابندیاں صرف ایران تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کا دائرہ ان تمام ممالک اور اداروں تک پھیلا دیا گیا ہے جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھتے ہیں۔ واشنگٹن کا مقصد ایران کی تیل کی آمدنی، مالیاتی نظام اور بین الاقوامی تجارت پر دباؤ بڑھانا ہے۔
- تیل کی قیمتوں میں اضافہ: ان پابندیوں کے اعلان کے فوری بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 93.82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے نرخ 88.16 ڈالر فی بیرل ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اضافہ توانائی کی عالمی سپلائی لائن کے حوالے سے خدشات کا نتیجہ ہے۔
- عالمی معیشت پر اثرات: بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں، کیونکہ تیل کی لاگت میں اضافہ براہ راست مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اسٹرٹیجک پیٹرولیم ذخائر کے قیام کے لیے عالمی ادارے کو ٹینڈر بھی مل گیا ہے تاکہ ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔
- مالیاتی نظام پر دباؤ: امریکہ کا مقصد ایران کے مالیاتی نظام میں موجود تمام سوراخوں کو بند کرنا ہے، بشمول تیل کی اسمگلنگ اور نقد رقوم کی منتقلی۔ یہ پالیسی دنیا بھر کے بینکوں اور کاروباری اداروں کو ایران کے ساتھ لین دین سے باز رہنے پر مجبور کرے گی تاکہ وہ خود امریکی ثانوی پابندیوں کا شکار نہ ہوں۔
کون سے ممالک متاثر ہوں گے؟ عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات
امریکی پابندیوں سے نہ صرف ایران بلکہ اس کے کئی اہم تجارتی شراکت دار بھی متاثر ہوں گے۔ چین، ترکی، عراق، عمان، اور پاکستان جیسے ممالک جو ایران کے ساتھ گہرے اقتصادی روابط رکھتے ہیں، اب امریکی اقدامات کا سامنا کرنے کے خطرے میں ہیں۔
| ملک | ایران کے ساتھ اہم تجارتی تعلقات | امریکی پابندیوں کا ممکنہ اثر |
|---|---|---|
| چین | ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور تیل کا سب سے بڑا خریدار۔ 2025 میں یومیہ اوسطاً 1.38 ملین بیرل ایرانی تیل خریدا۔ | چینی ریفائنریوں اور بینکوں پر ثانوی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ |
| ترکی | ایران سے قدرتی گیس درآمد کرتا ہے اور تیار شدہ مصنوعات برآمد کرتا ہے، سالانہ تجارت 5-6 ارب ڈالر۔ | توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات، تجارتی حجم میں کمی کا سامنا۔ |
| عراق | ایران سے خوراک، صارفین کی اشیاء اور قدرتی گیس درآمد کرتا ہے (بجلی کی پیداوار کے لیے)، 2025 میں تجارت 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ | توانائی اور غذائی قلت کا سامنا، امریکہ سے خاص اجازت ناموں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ |
| عمان | 2025 میں ایران کے ساتھ 1.5 ارب ڈالر کی اشیاء کی تجارت رہی۔ آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایران سے بات چیت میں شامل۔ | تجارتی روابط متاثر ہو سکتے ہیں، علاقائی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا۔ |
| پاکستان | ایران کے ساتھ تیل، گندم، چاول، مویشیوں اور ادویات کی تجارت، جس کا بڑا حصہ غیر رسمی ذرائع سے ہوتا ہے۔ | پاک-ایران گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں میں تعطل کا خطرہ، غیر رسمی تجارت پر دباؤ۔ |
چین امریکی دباؤ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، کیونکہ وہ ایرانی تیل کا ایک اہم خریدار ہے۔ امریکہ پہلے ہی چین اور ہانگ کانگ میں قائم بعض اداروں پر ایرانی تیل کی خریداری اور مالی مدد فراہم کرنے کے الزام میں ثانوی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ چین نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیاں اور دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی مسائل حل نہیں کرتی۔ اگر امریکہ چینی بینکوں یا ریفائنریوں کو ایرانی لین دین پر سزا دینے کی کوشش کرتا ہے تو یہ تنازعہ تہران سے نکل کر بیجنگ تک پہنچ جائے گا۔
ایران کا سخت ردعمل اور جوابی دھمکیاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایران نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نئی امریکی پابندیوں کو “ایک ہی فلم بار بار چلنے” کے مترادف قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کی پالیسی کو “دھونس” پر مبنی کہا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی نئی پابندیوں کی مہم میں تعاون کرنے والے کسی بھی ملک کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
- بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی اقدامات کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کوئی بھی ریاست قانونی طور پر غیر ملکی بینکوں، کاروباری اداروں یا ہوائی اڈوں کو کسی تیسرے ملک کے ساتھ قانونی تجارت ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
- آبنائے ہرمز کی دھمکی: ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے پڑوسی ممالک امریکہ کی معاشی جنگ میں شریک ہوئے تو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ایک بوند بھی باہر نہیں جانے دی جائے گی۔ یہ دھمکی عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، جو پہلے ہی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر چکی ہے۔
- اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ: ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے امریکی پابندیوں کے انسانی اور انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے اقدامات کو غیر قانونی، یک طرفہ اور “اقتصادی دہشت گردی” قرار دیا ہے اور عالمی ادارے سے ان کی مذمت کرنے پر زور دیا ہے۔
مستقبل کے امکانات اور عالمی نظام کی آزمائش
ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی نے عالمی نظام کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے، جہاں اقتصادی طاقت کو سفارتی مقاصد کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ سابق امریکی وزیر دفاع نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کو زیادہ دباؤ کی پالیسی کے بجائے تہران کے ساتھ سفارتی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
- متبادل تجارتی راستے: ایران نے طویل پابندیوں کے دوران متبادل تجارتی راستے تلاش کیے ہیں اور اب چین، روس اور برکس جیسے پلیٹ فارم اس کی حکمت عملی میں مزید اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال امریکی دباؤ کو جزوی طور پر بے اثر کر سکتی ہے۔
- مذاکرات کی بحالی؟: قطر جیسے ممالک نے امریکہ اور ایران میں مذاکرات کی بحالی کے لیے رابطے جاری رکھنے کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہے اور ایران نے یورینیم افزودگی کی عارضی معطلی جیسے عبوری معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔
- علاقائی استحکام: خلیجی ممالک، جن میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی شامل ہیں، ایران سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی سے پریشان اور مایوس ہیں۔ وہ تنازعہ کے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں اور امریکہ سے سکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ علاقائی کشیدگی لبنان جیسے ممالک کے حالات پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
یہاں پر ایک بات واضح ہے کہ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی دھمکیوں کے فوری بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اس پالیسی کے وسیع تر اثرات کا ایک پیش خیمہ ہے۔ عالمی معیشت اور سیاست کو اس نئے چیلنج کا سامنا کرنا ہو گا کہ کیا اقتصادی طاقت کے ذریعے بین الاقوامی تعلقات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، یا اس سے عالمی نظام میں مزید تقسیم اور عدم استحکام پیدا ہو گا۔
نتیجہ
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کو سزا دینےکااعلان ایک کثیرالجہتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے نہ صرف ایران بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکہ اپنی اقتصادی طاقت کو ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، جبکہ ایران اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے جوابی حکمت عملی اپنا رہا ہے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہا ہے۔ عالمی برادری کو اس صورتحال میں ایک مشکل انتخاب کا سامنا ہے: یا تو وہ امریکی پابندیوں کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے اقتصادی مفادات کو قربان کرے یا پھر ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھ کر امریکی نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے عالمی نظام کی آزمائش ہے جہاں تجارتی تعلقات اعتماد کے بجائے خوف سے چلتے نظر آتے ہیں اور سفارت کاری کی جگہ دھمکیوں نے لے لی ہے۔ مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ فریقین کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں اور کیا عالمی برادری اس پیچیدہ مسئلے کا کوئی پائیدار حل تلاش کر پاتی ہے یا نہیں، بصورت دیگر یہ “اقتصادی ڈی ڈے” دنیا کو ایک طویل غیر یقینی صورتحال میں دھکیل سکتا ہے۔
