مقبول خبریں

پاکستان میں مالی شمولیت میں شاندار بہتری: انڈیکس 59.5 کی نئی بلندی

پاکستان میں مالی شمولیت کے شعبے نے ایک نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، جہاں پاکستان فنانشل انکلوژن انڈیکس (P-FII) 2025 میں بڑھ کر 59.5 کی نئی بلندی پر پہنچ گیا ہے۔ یہ ترقی ملک میں مالیاتی خدمات تک رسائی اور استعمال کو بہتر بنانے کی حکومتی اور ریگولیٹری اداروں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف افراد بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے بھی معاشی مواقع پیدا کر رہا ہے۔

مالی شمولیت کا مطلب تمام افراد اور کاروباری اداروں کو سستی، مفید اور ذمہ دار مالیاتی مصنوعات اور خدمات تک رسائی فراہم کرنا ہے، جو ان کی ضروریات کو پورا کرتی ہوں۔ اس میں ادائیگیاں، بچت، قرض، اور بیمہ جیسی خدمات شامل ہیں۔ مالی شمولیت غربت میں کمی، معاشی ترقی کو فروغ دینے اور معاشرتی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے ایک اہم محرک ہے۔

سپارکو کی عظیم کامیابی: پاکستان کا الیکٹرانک خلا میں مقام

پاکستان مالی شمولیت انڈیکس (P-FII) کیا ہے؟

پاکستان مالی شمولیت انڈیکس (P-FII) اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے ملک میں مالی شمولیت کی کیفیت کا جائزہ لینے کے لیے متعارف کرایا گیا ایک جامع ٹول ہے۔ یہ اشاریہ صرف بینک اکاؤنٹ کی ملکیت تک محدود نہیں ہے بلکہ مالیاتی خدمات تک رسائی، ان کے استعمال اور معیار جیسے تین اہم پیمانوں کے ذریعے مالی شمولیت کو بڑے پیمانے پر جانچتا ہے۔ یہ اس بات کا تعین کرنے میں مدد کرتا ہے کہ کتنے لوگ مالیاتی نظام کا حصہ ہیں اور وہ کس حد تک اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اس انڈیکس کا مقصد پالیسی سازوں کو باخبر فیصلے کرنے کے قابل بنانا ہے تاکہ ملک کی معاشی ترقی اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ مالیاتی خدمات کے فراہم کنندگان کو بھی اپنی حکمت عملیوں کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے، تاکہ وہ آبادی کے وسیع تر حصے تک پہنچ سکیں۔ ایک مضبوط P-FII اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک مالیاتی طور پر زیادہ جامع اور لچکدار ہے۔

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں بڑی کمی

حالیہ ترقی اور اہم عوامل: انڈیکس 59.5 تک کیسے پہنچا؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کو 2025 کے لیے پاکستان مالی شمولیت انڈیکس (P-FII) کے نتائج جاری کیے، جو 59.5 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 2024 میں یہ 58.1 تھا۔ یہ 1.4 فیصد کا اضافہ ملک کی مالیاتی ترقی کی رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کامیابی کئی اہم عوامل کے مجموعی اثر کا نتیجہ ہے۔

اس پیشرفت میں قابل ذکر عوامل میں ‘راست’ مرچنٹ آن بورڈنگ اور پیمنٹ ایکو سسٹم، ڈیجیٹل بینکوں کی آمد، اور اکاؤنٹ کھولنے کی مہمات شامل ہیں۔ ان اقدامات نے مالیاتی خدمات کو زیادہ قابل رسائی اور آسان بنا دیا ہے۔ صارف کی تربیت اور مالی خواندگی کے ذریعے بھی یہ پیشرفت مزید مستحکم ہوئی۔ اسٹیٹ بینک اور حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جس نے اس بہتری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

انسٹاگرام ڈائریکٹ میسجز سے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا خاتمہ

حکومت کے درمیانی مدت کے پروگرام کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے مالی معاونت کو جون 2028 تک 20 کھرب روپے تک بڑھانے اور قرض لینے والوں کی تعداد کو 7 لاکھ 75 ہزار تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف مالی شمولیت کو بڑھا رہے ہیں بلکہ معیشت کے مختلف شعبوں میں پائیدار ترقی کی بنیاد بھی فراہم کر رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی پاکستان کے معاشی استحکام اور اصلاحات کو سراہا ہے، جس سے عالمی سطح پر پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا انقلاب

پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو مالی شمولیت کو فروغ دینے میں ایک انقلابی کردار ادا کر رہا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ریٹیل ادائیگیوں کے حجم میں 58 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام تیزی سے نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ذرائع کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی سالانہ پیمنٹ سسٹمز ریویو 2025-26 کے مطابق، مجموعی ریٹیل ادائیگیوں میں ڈیجیٹل چینلز کا حصہ 92 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو مالی سال 2025 میں 88 فیصد تھا۔ موبائل فون پر مبنی ادائیگیوں کی تعداد 11.1 ارب سے تجاوز کر گئی، جس میں 79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے بھی ٹرانزیکشنز میں سالانہ 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ایران کے خلاف کارروائیاں، پینٹاگون نے کیا کہا؟

  • تیز اور آسان لین دین: ڈیجیٹل ادائیگیاں صارفین کو فوری اور بغیر کسی پریشانی کے رقم منتقل کرنے اور وصول کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔
  • بڑھتی ہوئی رسائی: دور دراز کے علاقوں میں بھی لوگ موبائل بینکنگ اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے مالیاتی خدمات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
  • شفافیت اور سیکورٹی: ڈیجیٹل نظام مالیاتی لین دین میں شفافیت کو فروغ دیتا ہے اور روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔
  • مالیاتی ریکارڈ کی دستیابی: صارفین اپنے تمام لین دین کا ریکارڈ آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں، جو بجٹ بنانے اور مالی منصوبہ بندی میں معاون ہوتا ہے۔

مالیاتی خواندگی: ایک بنیادی ستون

مالیاتی شمولیت کی کامیابی کے لیے مالیاتی خواندگی ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم، پاکستان میں بالغ افراد کی مالیاتی خواندگی کی شرح تشویشناک حد تک کم یعنی صرف 23% ہے۔ یہ کمی کمزور مالیاتی فیصلہ سازی اور مالی اہداف کے حصول میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ مالی خواندگی صرف بالغوں کے لیے ہی نہیں بلکہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے بھی یکساں طور پر اہم ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان مالیاتی خواندگی کے فروغ کے لیے قومی مالی خواندگی پروگرام (NLFP) پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں، 4 تا 8 مارچ 2024 کے دوران “ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے مالی شمولیت” کے عنوان کے تحت پاکستان مالی خواندگی ہفتہ (PFLW) کا پہلا ایڈیشن منعقد کیا گیا۔ PFLW کا مقصد ڈیجیٹل خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مالی خواندگی کو بڑھانا اور پاکستان بھر میں مالی شمولیت کو فروغ دینا تھا۔

پاکستان کی سیاست میں وفاداری، فراموشی اور دھوکہ

مالیاتی خواندگی کا شعبہ اثرات اور اہمیت
بجٹ سازی آمدنی اور اخراجات کا مؤثر انتظام، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور مالی استحکام۔
بچت اور سرمایہ کاری مستقبل کے مالی اہداف کا حصول، ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری، اور دولت میں اضافہ۔
قرض کا انتظام مناسب قرضوں کا انتخاب، وقت پر ادائیگی، اور قرض کے جال سے بچنا۔
ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا استعمال جدید مالیاتی ٹولز کا فائدہ اٹھانا، آن لائن دھوکہ دہی سے بچنا، اور مالیاتی لین دین میں آسانی۔

مالیاتی خواندگی کے ذریعے، افراد مالی گھپلوں کی شناخت اور ان سے بچنے، سستی مصنوعات کا انتخاب کرنے، اور اپنے پیسے کو مزید بڑھانے کے لیے بجٹ بنانے میں مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔

خواتین کی مالی شمولیت: بااختیار بنانے کا سفر

پاکستان میں خواتین کی مالی خودمختاری ایک اہم مسئلہ ہے، جہاں آج بھی بالغ خواتین کی نصف سے زیادہ آبادی کے بینک اکاؤنٹس نہیں ہیں۔ یہ صورتحال خواتین کو معاشی طور پر کمزور کرتی ہے اور انہیں اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں محدود کر دیتی ہے۔ خواتین کی معاشی خودمختاری کی راہ میں محدود نقل و حرکت، مہارتوں تک رسائی میں حائل رکاوٹیں، اور منڈیوں، ٹیکنالوجی اور سرمائے تک رسائی کا فقدان شامل ہیں۔

یو این ویمن (UN Women) جیسی تنظیمیں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ وہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والی خواتین کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تکنیکی تربیت کے مواقع فراہم کر رہی ہیں، تاکہ انہیں ملازمت اور ذرائع معاش کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، حکومت بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات کے ذریعے خواتین کو مالی امداد فراہم کر رہی ہے، جس کا مقصد ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدترین مندی

مالیاتی اداروں کو بھی خواتین کو قرضہ دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے کی بجائے انہیں یکساں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ خواتین کی مالی شمولیت کو یقینی بنانے سے نہ صرف ان کی ذاتی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ یہ قومی معیشت کی مجموعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو خواتین کی طاقت میں اضافہ کریں اور انہیں بااختیار بنائیں۔

زرعی شعبے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے مالی معاونت

زرعی شعبہ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان شعبوں کو مالیاتی خدمات تک بہتر رسائی فراہم کرنا مجموعی معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وزیر خزانہ نے مائیکرو فنانس اداروں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ چھوٹے کاروباری اداروں کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔

حکومت نے جون 2028 تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے مالی معاونت کو 20 کھرب روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، قرض لینے والوں کی تعداد کو 3 لاکھ 24 ہزار سے بڑھا کر 7 لاکھ 75 ہزار تک پہنچانے کا بھی ہدف ہے۔ یہ اقدامات کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہیں۔ سمیڈا (SMEDA) کو بھی ملک بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروباری افراد کی مالی معاونت، فنی استعداد میں اضافے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے جامع حکمت عملی مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

افریقی ملک کا خطرناک ایبولا وائرس سے 42 افراد ہلاک

اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فنانس تک رسائی کے اجلاس میں زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں زرعی قرضوں میں 94.7 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا اور ان کا مجموعی حجم 1.35 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا۔ یہ ترقی دیہی علاقوں میں مالی شمولیت کو مزید بہتر بنائے گی اور زرعی پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گی۔