مقبول خبریں

پاکستان کو معاشی خودمختاری کے لیے برآمدات پر مبنی معیشت بنانا ہوگی، احسن اقبال

پاکستان کو معاشی خودمختاری حاصل کرنے کے لیے اپنی معیشت کو برآمدات پر مبنی بنانا ہو گا، یہ ایک ایسا وژن ہے جسے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے بارہا اجاگر کیا ہے۔ ان کے مطابق، برآمدات میں تیزی پاکستان کے 11 قومی اقتصادی مشنز میں سرفہرست ہے۔ پاکستان کی معیشت کی پائیدار ترقی اور 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے جامعات، صنعت اور حکومت کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہو گا۔

موجودہ وقت میں پاکستان کو اپنی اقتصادی حالت مستحکم کرنے اور طویل المدتی ترقی کی بنیاد رکھنے کے لیے برآمدات میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو بڑھاتا ہے بلکہ مقامی صنعتوں کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ معاشی ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ ملکی ترقی کا راز برآمدات پر مبنی معیشت میں ہی پنہاں ہے۔

ملک میں استحکام اور اقتصادی بہتری کی جانب پیشرفت

برآمدات پر مبنی معیشت کی ضرورت و اہمیت

پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ درآمدات اور برآمدات پر مشتمل ہے، جو ملک کی اقتصادی ترقی اور مالی استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ برآمدات کے ذریعے پاکستان نہ صرف غیر ملکی زر مبادلہ کماتا ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی شناخت بھی قائم کرتا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے کے لیے ملک میں مصنوعات سازی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

معاشی خودمختاری کے حصول کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک اپنی درآمدات پر انحصار کم کرے اور برآمدات کو زیادہ سے زیادہ بڑھائے۔ اس سے تجارتی خسارہ کم ہوتا ہے اور ملک کی ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوتا ہے۔ مضبوط برآمدی بنیاد رکھنے والی معیشتیں عالمی جھٹکوں کو بہتر طریقے سے برداشت کرتی ہیں اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن رہتی ہیں۔

علاقائی سلامتی اور معاشی استحکام کا گہرا تعلق

برآمدات کو بڑھانے کے لیے ملکی صنعتی پیداوار کی رفتار تیز کرنا اور عالمی تقاضوں کے مطابق مصنوعات کا معیار بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ پاکستان کی اقتصادی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور کثیر جہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی قدر و مسابقت میں اضافہ کرے۔

پاکستان کے موجودہ اقتصادی چیلنجز اور ان کا حل

پاکستان کی معیشت حالیہ برسوں میں متعدد چیلنجز سے گزری ہے، جن میں بڑا مالیاتی خسارہ، بلند افراط زر اور بڑھتا ہوا قرضہ شامل ہیں۔ سال 2022-2023 کے دوران پاکستان کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا رہا، جس کی وجہ سے خوراک، گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ احسن اقبال کے مطابق، پاکستان میں مالیاتی استحکام کا حصول محصولات میں اضافے اور برآمدات بڑھانے کے بجائے ترقیاتی اخراجات میں کٹوتیاں اور مزید قرض لینے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جو طویل مدت میں معیشت کی پیداواری صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے۔

تاہم، سال 2024ء میں پاکستان کی معیشت بحالی کی جانب گامزن رہی، جس میں افراط زر ساڑھے چھ سال کی کم ترین سطح پر آ گئی اور جاری کھاتے کا سرپلس 15 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ نومبر 2024 میں مہنگائی کی شرح 4.9 فیصد تک گر گئی، جو پچھلے ساڑھے چھ سال میں سب سے کم ہے۔ حکومت کی جانب سے کیے گئے سخت فیصلوں اور معاشی اصلاحات کے نتیجے میں تیزی سے بہتری آنے لگی، اور غیر ملکی معاشی تحقیقاتی ادارے بھی اس کا اعتراف کر رہے ہیں۔

عالمی سطح پر معاشی مذاکرات اور ان کے اثرات

ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، توانائی کے سستے اور قابل اعتماد ذرائع فراہم کرنا، اور غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کمی لانا ضروری ہے۔ بہتر مالیاتی نظم و ضبط اور ترقیاتی اخراجات میں اضافہ پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنائے گا۔ عالمی بینک نے بھی پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے ساختی اصلاحات کے مستقل نفاذ پر زور دیا ہے، جن میں غیر مساوی ٹیکس نظام کی اصلاح اور توانائی کے شعبے میں نقصانات کو کم کرنا شامل ہے۔

برآمدی شعبوں کی نشاندہی اور فروغ: کلیدی حکمت عملی

پاکستان کی برآمدات میں سب سے اہم کردار زرعی اور ٹیکسٹائل مصنوعات کا ہے۔ ٹیکسٹائل صنعت پاکستان کی برآمدات کا 60 فیصد سے زائد حصہ رکھتی ہے، جس میں کاٹن، کپڑے، گارمنٹس اور بیڈ شیٹس بین الاقوامی منڈی میں مشہور ہیں۔ سال 2025-26 میں پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 0.3 فیصد اضافے سے 18 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 4 سال کی بلند ترین سطح ہے۔

اس کے علاوہ چاول، گندم، آم، کھجور، اور دیگر زرعی اشیاء بھی بڑی تعداد میں برآمد کی جاتی ہیں۔ سال 2026 کے آغاز میں پاکستان نے چاول کی برآمدات میں ریکارڈ کامیابی حاصل کی اور دنیا میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پاکستانی قالین، چمڑے کی مصنوعات، اور کھیلوں کے سامان کی بھی عالمی منڈی میں بڑی مانگ ہے۔ حکومت ہارٹیکلچرل مصنوعات، سرجیکل اور میڈیکل آلات، قیمتی پتھروں اور جواہرات کی برآمدات بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

علاقائی صورتحال کا تجارتی راہداریوں پر اثر

برآمدی شعبے اہمیت اور چیلنجز
ٹیکسٹائل اور ملبوسات پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت، عالمی مسابقت، خام مال کی قلت (خاص طور پر کپاس) ایک بڑا چیلنج۔
زرعی مصنوعات (چاول، آم) عالمی سطح پر بڑی مانگ، چاول کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ۔ پانی کی کمی اور جدید طریقوں کا فقدان چیلنجز۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) جدید شعبہ، 2025 تک 5 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف۔ ہنر مند افرادی قوت کی دستیابی اور انٹرنیٹ کی رکاوٹیں۔
چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کا سامان بین الاقوامی مارکیٹ میں شناخت، ویلیو ایڈیشن کی ضرورت۔
آلاتِ جراحی اور قیمتی پتھر اعلیٰ معیار کی مصنوعات، عالمی ٹینڈرز میں شمولیت کی حوصلہ افزائی۔ غیر معیاری کان کنی اور اسمگلنگ پر قابو پانا ضروری۔

جدت، معیار اور عالمی منڈیوں تک رسائی

پاکستان کو عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی مسابقت بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کو فروغ دینا ہو گا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستانی مصنوعات کا معیار عالمی ہے لیکن اب ان کی پہچان بھی عالمی بنانی ہے۔ برآمدات میں ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دینے سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں قدر اور مسابقت دونوں میں اضافہ ہوگا۔

مصنوعات کی قدر میں اضافے کا مطلب صرف خام مال برآمد کرنے کے بجائے تیار شدہ مصنوعات کو عالمی منڈی میں لانا ہے۔ مثال کے طور پر، کپاس کے بجائے اعلیٰ معیار کے ٹیکسٹائل اور گارمنٹس برآمد کرنا۔ اس کے لیے جدید ترین مشینری اور ہنر مند افرادی قوت کی ضرورت ہے۔

صحت مند معاشرہ اور پیداواری صلاحیت کی اہمیت

عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے متعدد دوست ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (FTAs) اور رعایتی نرخوں پر تجارت کے معاہدوں کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، دنیا بھر میں پاکستانی مصنوعات کی نمائشوں کا انعقاد (جیسے ٹیکسپو، ہیلتھ انجینئرنگ اینڈ منرلز شو) بھی عالمی کمپنیوں کو پاکستانی مصنوعات سے روشناس کرانے میں مددگار ثابت ہو گا۔

حکومتی پالیسیاں اور اصلاحات: آگے کا راستہ

معاشی خودمختاری کے لیے حکومت کو ایک جامع اور مستحکم پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے جو برآمدات کو فروغ دے سکے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ملکی معاشی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے بڑے اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدامات برآمد کنندگان کو درپیش انتظامی اور کاروباری رکاوٹیں دور کرنے، برآمدی عمل کو مزید آسان، تیز اور شفاف بنانے پر مرکوز ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سستی اور قابل اعتماد فراہمی، فنانسنگ میں بہتری، اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے قرضوں تک آسان رسائی بھی ضروری ہے۔ احسن اقبال نے ملک کی موجودہ معاشی پالیسی کو “محدود اور ادھار پر مبنی استحکام” قرار دیتے ہوئے وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ حکومت انتخابی مرحلہ شروع ہونے سے پہلے ملک کی معاشی ترقی کی سمت تبدیل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

صوبائی سطح پر اقتصادی اصلاحات کی اہمیت

حکومت کو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس وصولیوں میں خامیوں کو دور کرنے اور کم ٹیکس دینے والے شعبوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اقدامات مالیاتی استحکام کو فروغ دیں گے اور ترقیاتی اخراجات کے لیے جگہ پیدا کریں گے۔ 2024 میں FBR کی ٹیکس وصولی 9.252 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی، جو بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔

قومی اتفاق رائے اور اداروں کا کردار

معاشی خودمختاری کا راستہ طویل اور کٹھن ہے، جس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، اداروں اور معاشرے کے ہر طبقے کے درمیان قومی اتفاق رائے اور تعاون ضروری ہے۔ ورلڈ بینک نے بھی کہا ہے کہ مضبوط قومی سیاسی اتفاق رائے اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شرکت ساختی پالیسی اصلاحات کے نفاذ کے لیے اہم ہے۔ احسن اقبال نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے امن اور سیاسی استحکام اولین شرط ہے۔

جامعات کو قومی ضروریات سے ہم آہنگ تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے پر توجہ دینا ہو گی۔ حکومت 2030 تک 1 ارب ڈالر کے AI فنڈ کے ذریعے 1,000 پی ایچ ڈیز اور 10 لاکھ نوجوانوں کو تربیت دے گی تاکہ پاکستان کے ہر شعبے کے لیے مسابقتی ورک فورس تیار ہو۔ یہ تمام اقدامات ایک مضبوط اور پائیدار معاشی مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔

عالمی تجارتی راہداریوں کی اہمیت

پاکستان کو ایک ایسا معاشرہ اور معیشت تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جہاں خوشحالی کی بنیاد پیداواری صلاحیت، پیش رفت کی بنیاد علم اور ترقی کے عمل میں توازن، ذمہ داری اور تخلیقی صلاحیتوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔ مقامی صنعتوں کی مضبوطی اور برانڈنگ پر توجہ دے کر عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کو پہچان دلائی جا سکتی ہے۔

آئی ٹی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں برآمدی صلاحیت

انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ پاکستان کی برآمدات کے لیے ایک اہم انجن بن رہا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر رہیں، اور آئندہ سال تک 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل ہنر اور برآمدی استعداد کو فروغ دینے کے لیے حکومت رواں سال 10 لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مفت تربیت فراہم کر رہی ہے۔

پاکستان کے سفیر برائے متحدہ عرب امارات فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ پاکستان جدت، سرمایہ کاری اور عالمی تعاون کے ذریعے موجودہ 4 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کو بڑھا کر 100 ارب ڈالر تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقی سے پاکستان کی معیشت کو ایک نئی جہت ملے گی۔ قیمتی پتھر اور معدنیات بھی ایسے شعبے ہیں جن میں پاکستان کی برآمدی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔

ایران امریکہ کشیدگی کا علاقائی اقتصادی اثر

وزیر اعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کو ترقی دینے، برآمدات بڑھانے اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی شناخت بنانے کے لیے ‘برانڈ پاکستان’ متعارف کرانے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستانی سرجیکل اور میڈیکل آلات کی برآمدات بڑھانے کے لیے بین الاقوامی ہسپتالوں کے ٹینڈرز میں پاکستانی ایکسپورٹرز کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ یہ تمام شعبے ملک کی برآمدات میں متنوع اضافہ کر سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف پروگرام اور بجلی کے نرخوں کے اثرات

پاکستان کے اقتصادی سروے 2023-24 کے مطابق، حکومت نے آئی ٹی، ایس ایم ایز، مائنز اینڈ منرلز، سیاحت، برآمدات اور زراعت جیسے اعلیٰ صلاحیت والے شعبوں پر دوبارہ توجہ مرکوز کی ہے، جو ملک کے بیلنس آف پیمنٹ کی پوزیشن کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ آئی ٹی اور سافٹ ویئر برآمدات میں 29 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی، جبکہ جولائی–اگست مالی سال 2026–27 کے دوران مجموعی برآمدات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ ایکسپریس نیوز کی یہ رپورٹ دیکھ سکتے ہیں: ایکسپریس نیوز کی رپورٹ۔

نتیجہ

احسن اقبال کا یہ وژن کہ پاکستان کو معاشی خودمختاری کے لیے برآمدات پر مبنی معیشت بنانا ہو گا، ایک حقیقت پسندانہ اور ناگزیر راستہ ہے۔ ملک نے 2024 میں معاشی بحالی کے کچھ مثبت اشارے دکھائے ہیں، لیکن پائیدار ترقی کے لیے مزید گہرے اور مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے۔ 2035 تک 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے صنعتی بنیادوں کو مضبوط بنانا، مصنوعات کے معیار اور جدت پر توجہ دینا، عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانا، اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل لانا انتہائی اہم ہے۔ قومی اتفاق رائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششیں ہی پاکستان کو اس اہم معاشی ہدف تک پہنچا سکتی ہیں۔