خطے میں جاری غیریقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کی ایران سے درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ایران پر عائد پابندیوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں موجود ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے باہمی کوششیں جاری ہیں اور دونوں ممالک نے 10 ارب ڈالر تک کے تجارتی ہدف کا اعادہ کیا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2025-26ء کے دوران پاکستان نے ایران سے 1.395 ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کیں۔ یہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 12 فیصد کا اضافہ ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس بات کا بھی اشارہ دیتے ہیں کہ علاقائی چیلنجز کے باوجود اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کامیاب ہو رہی ہے۔
خطے میں کشیدگی کے باوجود بڑھتی ہوئی تجارت
علاقائی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال نے بہت سے ممالک کے تجارتی تعلقات کو متاثر کیا ہے، لیکن پاکستان اور ایران کے درمیان اس کے برعکس رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی دھمکیوں کے باوجود بھی پاکستان کی ایران سے درآمدات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اپنی باہمی تجارت کو برقرار رکھنے اور فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں، خواہ حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں۔
جولائی اور اگست 2026ء کے دوران ایران سے پاکستان کی درآمدات میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اقتصادی تعلقات اور ایک دوسرے پر بڑھتے ہوئے انحصار کی نشاندہی کرتا ہے۔ درآمدات کا یہ حجم 24 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا ایران سے درآمدات پر انحصار ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ مالی سال 2019-20ء سے لے کر 2025-26ء تک درآمدات کے حجم میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ یہ واضح رجحان پاکستان کی توانائی اور دیگر ضروریات کے لیے ایران پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
- مالی سال 2019-20ء میں درآمدات کا حجم: 44 کروڑ ڈالر
- مالی سال 2020-21ء میں درآمدات کا حجم: 51 کروڑ 86 لاکھ ڈالر
- مالی سال 2021-22ء میں درآمدات کا حجم: 77 کروڑ 38 لاکھ ڈالر
- مالی سال 2022-23ء میں درآمدات کا حجم: 88 کروڑ ڈالر
- مالی سال 2023-24ء میں درآمدات کا حجم: 1 ارب 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر
- مالی سال 2024-25ء میں درآمدات کا حجم: 1 ارب 24 کروڑ 10 لاکھ ڈالر
- مالی سال 2025-26ء میں درآمدات کا حجم: 1 ارب 39 کروڑ 50 لاکھ ڈالر
تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم
پاکستان اور ایران نے باہمی تجارت کے حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ ہدف دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار ہے۔ مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاسوں میں اس ہدف کے حصول کے لیے روڈ میپ مرتب کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اس ہدف کے حصول کے لیے سرحدی لاجسٹکس، کسٹمز اور کارگو نقل و حرکت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مشترکہ سرحدی منڈیوں کا قیام اور الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج کے نظام سے بھی دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔ یہ اقدامات تجارتی عمل کو مزید آسان اور مؤثر بنائیں گے۔
| مالی سال | ایران سے درآمدات (ملین ڈالرز میں) |
|---|---|
| 2019-20 | 440 |
| 2020-21 | 518.6 |
| 2021-22 | 773.8 |
| 2022-23 | 880 |
| 2023-24 | 1,037 |
| 2024-25 | 1,241 |
| 2025-26 | 1,395 |
آزاد تجارتی معاہدہ اور اس کی اہمیت
پاکستان اور ایران کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کو حتمی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اگست 2026ء میں ہونے والے 10ویں مشترکہ تجارتی کمیٹی (JTC) کے اجلاس میں تکنیکی امور پر اطمینان بخش پیش رفت حاصل کی گئی۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹیں کم کرنے اور اقتصادی تعاون کو وسیع کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
اس معاہدے سے صنعت، زراعت، کان کنی، توانائی اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ ملے گا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی بندرگاہوں، جیسے کراچی، گوادر اور چاہ بہار، کے ذریعے علاقائی تجارت کو وسعت دینے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ سرحدی تجارت کے فروغ اور بارٹر ٹریڈ کے طریقہ کار کو آسان بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان براہِ راست روابط اور تجارتی وفود کے تبادلوں پر بھی زور دیا گیا ہے۔ حکومتیں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار، مستحکم اور قابلِ اعتماد ماحول فراہم کرنے پر کام کر رہی ہیں۔ اس سے تجارتی اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔
امریکہ کی پابندیاں اور پاکستان کا موقف
پاکستان نے ایران پر عائد یکطرفہ امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے تہران کے ساتھ اپنی تجارت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنی تجارت بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ تجارتی معاہدوں کے مطابق جاری رکھے گا۔ یہ موقف علاقائی خود مختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی حکام نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کو پابندیوں کا سامنا کرنے کی دھمکی دی ہے۔ تاہم، پاکستان نے اصولی طور پر اقوام متحدہ کے فریم ورک سے باہر عائد یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات عموماً نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
پابندیوں کے تناظر میں، بینکاری ذرائع اور باضابطہ مالیاتی نظام کی محدود دستیابی دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ قانونی طور پر مکمل بینکاری نظام کی عدم موجودگی کے باعث تجارت کا بڑا حصہ سرحدی اور غیر رسمی نوعیت کا ہے۔ تاہم، حکومتیں ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے مختلف طریقوں پر غور کر رہی ہیں۔
