Table of Contents
فہرست
پاکستان کی تاریخ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے لیے 13 ٹریلین روپے سے زائد کا ٹیکس وصولی کا ہدف پہلی بار کامیابی سے حاصل کر کے ایک نیا سنگ میل عبور کیا ہے۔ یہ نہ صرف ایف بی آر بلکہ پوری قوم کے لیے ایک غیر معمولی معاشی کامیابی ہے، جو ملک کی مالی خود مختاری اور استحکام کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس کامیابی کو پاکستان کی تاریخ میں غیر معمولی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ گزشتہ ڈھائی سال کے مسلسل اصلاحاتی سفر کا نتیجہ ہے۔ اس اہم حصول نے ملک کو درپیش شدید معاشی چیلنجز کے باوجود محصولات میں ایک قابل ذکر اضافہ دکھایا ہے۔
ایف بی آر کی تاریخی کامیابی: 13 ٹریلین کا ہدف عبور
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے اختتام پر 13 ٹریلین روپے سے زائد کے محصولات جمع کر کے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے۔ یہ اعداد و شمار، اگرچہ دو بار نظرثانی شدہ اہداف کے تحت حاصل کیے گئے، ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی رقم جمع کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق، ایف بی آر نے مالی سال 2025-26 کے لیے اپنے نظرثانی شدہ سالانہ خالص ٹیکس وصولی کے ہدف 12.983 ٹریلین روپے کو سوفیصد کامیابی سے حاصل کر لیا۔ مجموعی ٹیکس وصولیاں 13.601 ٹریلین روپے رہیں، جبکہ ریفنڈز کی ادائیگی کے بعد نیٹ ٹیکس وصولی 13.003 ٹریلین روپے پر مستحکم ہوئی۔ اس کامیابی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معاشی بحالی اور مالیاتی استحکام کے لیے حکومتی پالیسیاں اور ایف بی آر کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ یہ کامیابی پچھلے مالی سال 2024-25 کی 11.745 ٹریلین روپے کی نیٹ ٹیکس وصولی کے مقابلے میں 10.7 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے، جو محصولات میں نمایاں ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔
ہدف کی تفصیلات اور حصول
مالی سال 2025-26 کے لیے ایف بی آر کا ابتدائی ٹیکس ہدف 14.130 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا تھا، لیکن معاشی صورتحال اور عالمی عوامل کی روشنی میں اسے دو بار نظرثانی کیا گیا۔ پہلے اسے کم کر کے 13.979 ٹریلین روپے کیا گیا، اور پھر بالآخر 12.957 ٹریلین روپے یا 12.983 ٹریلین روپے کے نظرثانی شدہ ہدف پر لایا گیا۔ اس نظرثانی شدہ ہدف کو حاصل کرنا بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق، مالی سال کے اختتام پر خالص ٹیکس وصولی 13.001 سے 13.003 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔ اس میں جون 2026 کی محصولات بھی شامل ہیں، جو 1.757 ٹریلین روپے کے ہدف کے مقابلے میں 1.812 ٹریلین روپے سے زائد رہی۔
ایف بی آر نے مالی سال 2025-26 کے دوران 597 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز بھی جاری کیے، جو پچھلے سال کے 493 ارب روپے کے مقابلے میں 21.3 فیصد زیادہ ہیں۔ اس سے کاروباری برادری، خاص طور پر برآمد کنندگان کو سہولت ملی، جو معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔
ایف بی آر کی کامیابی کے محرکات
ایف بی آر کی اس غیر معمولی کامیابی کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں۔
- براہ راست ٹیکسوں پر توجہ: حکومت نے بالواسطہ ٹیکسوں کے بجائے براہ راست ٹیکسوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے۔ مالی سال 2023-24 میں محصولات جمع کرنے میں براہ راست ٹیکسوں کا حصہ 47 فیصد رہا، اور رواں ماہ کے دوران براہ راست ٹیکسوں میں 30 فیصد کا قابل قدر اضافہ دیکھا گیا۔ یہ پالیسی معاشرے کے امیر اور باوسائل طبقات پر ٹیکس کا بوجھ منتقل کرنے کی حکومتی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔
- ٹیکس انتظامیہ میں بہتری: ایف بی آر کے چیئرمین اور ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) کی نگرانی میں ٹیکس وصولی، نفاذ اور انتظامی اقدامات کو بہتر بنایا گیا، جس کے ساتھ ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے سے بھی گریز کیا گیا۔ انٹیلی جنس بیورو اور ایف بی آر کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں ٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے گئے، جس سے 178 ارب روپے کی ریکوری ممکن ہوئی۔
- حکومتی سرپرستی اور پالیسی شفٹ: وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کی براہ راست دلچسپی نے سالانہ ہدف کو عبور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ حکومت نے مقامی وسائل کو متحرک کرنے پر زیادہ توجہ مرکوز کی اور کاروبار کرنے والوں اور برآمد کنندگان کو ریفنڈز جاری کر کے آسانیاں فراہم کیں۔
- ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال: وزیر خزانہ نے جدید ٹیکس نظام، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایف بی آر کو مزید مؤثر، شفاف اور ٹیکس دہندگان کے لیے سہولت فراہم کرنے والا ادارہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ اقدامات ٹیکس وصولیوں کو بہتر بنانے اور ریونیو لیکچرز کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
پاکستانی معیشت پر اثرات
ایف بی آر کی اس تاریخی کامیابی کے پاکستانی معیشت پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے ملک کا مالی خسارہ کم ترین سطح پر اور بنیادی مالی سرپلس بلند ترین سطح پر پہنچا ہے۔ حکومت نے اخراجات پر بھی قابو پایا ہے، لیکن محصولات میں ریکارڈ اضافے کے بغیر یہ اہداف حاصل کرنا ممکن نہ تھا۔
یہ کامیابی ملک کو بیرونی امداد پر انحصار کم کرنے اور خود انحصاری کی جانب بڑھنے میں مدد دے گی۔ یہ قومی منصوبوں جیسے دفاعی اخراجات، بڑے آبی ذخائر کی تعمیر، خوراک اور ایندھن کے تحفظ کے لیے ضروری وسائل فراہم کرے گا۔ معیشت کی بنیادیں مزید مضبوط ہوں گی، اور یہ پاکستان کے بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔ وزیر خزانہ کے مطابق، اتنے مختصر عرصے میں کسی ملک کی ٹیکس وصولیوں کا تقریباً دو گنا ہو جانا ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
| ٹیکس ہیڈ | مالی سال 2025-26 کی وصولیاں (ارب روپے) | مالی سال 2024-25 کی وصولیاں (ارب روپے) | اضافے کی شرح (فیصد) |
|---|---|---|---|
| انکم ٹیکس | 6,578 (تقریباً) / 6,651.90 | 6,45 | 14% |
| سیلز ٹیکس | 4,262 (تقریباً) / 4,731.70 | 4,731 | 9% |
| فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) | 840 (تقریباً) / 84 | 84 | 10% |
| کسٹمز ڈیوٹی | 1,330 (تقریباً) / 1,385.30 | 1,331 | 4% |
| مجموعی (گراس) | 13,601 | 12,237 | |
| خالص (نیٹ) | 13,003 | 11,745 | 10.7% |
ٹیکس نیٹ میں وسعت اور اصلاحات کی ضرورت
اس کامیابی کے باوجود، پاکستان میں ٹیکس بیس کو وسیع کرنے اور اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے اور ٹیکس چوری کو ختم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے شعبے جو جی ڈی پی میں 19 سے 20 فیصد حصہ ڈالتے ہیں، لیکن سرکاری خزانے میں ان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے، انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔
حکومت نے چھوٹے دکانداروں اور غیر رجسٹرڈ کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے فکس ٹیکس اسکیم جیسے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنے اور ٹیکس نظام کو آسان بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں اضافہ بنیادی طور پر انکم ٹیکس کی مضبوط رسیدوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ مزید برآں، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح کو کم کرنے اور ماہانہ 80 ہزار روپے تک کی آمدن پر ٹیکس چھوٹ دینے جیسی تجاویز بھی زیر غور ہیں، تاکہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ حکومت نے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک آمدنی رکھنے والے کاروباروں پر عائد سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
مستقبل کے چیلنجز اور نئے اہداف
مالی سال 2025-26 کی کامیابی کے بعد، حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے ایف بی آر کو 15.264 ٹریلین روپے کا ایک اور بلند ہدف دیا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے مزید سخت ٹیکس اقدامات اور اصلاحات درکار ہوں گی، جن میں تقریباً 17.4 فیصد اضافی نمو کی ضرورت ہے۔ ایف بی آر کو ابھی بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں زیر التوا ٹیکس مقدمات کی بھاری تعداد (5.7 ٹریلین روپے) اور ٹیکس چوری کا خاتمہ شامل ہیں۔ ایف بی آر کے حکام کو ٹیکس وصولی، نفاذ اور انتظامی اقدامات کی نگرانی کے ساتھ ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے سے بھی گریز کرنا ہوگا۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹیکس نظام میں مزید ساختیاتی بہتری اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔
نتیجہ
ایف بی آر کا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 13 ٹریلین روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا ایک اہم اقتصادی کامیابی ہے جو ملک کے مالیاتی استحکام کی جانب ایک مثبت اشارہ ہے۔ یہ کامیابی حکومتی اصلاحات، براہ راست ٹیکسوں پر توجہ اور ایف بی آر کے عملے کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ اس سے نہ صرف مالی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملی ہے بلکہ قومی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی وسائل فراہم ہوئے ہیں۔ تاہم، ملک کو اب بھی ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس نظام کو مزید شفاف بنانے اور ٹیکس دہندگان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے چیلنجز درپیش ہیں۔ مستقبل کے اہداف کے حصول اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنا اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال رکھنا ناگزیر ہے۔ یہ کامیابی پاکستان کو ایک مضبوط اور خود انحصار معیشت بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
