پمز آتشزدگی میں جاں بحق نومولود بچوں کے لواحقین کیلئے 50،50 لاکھ روپے کا اعلان حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس دلخراش سانحے کے بعد کیا گیا ہے، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ مالی امداد، اگرچہ قیمتی انسانی جانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی، غمزدہ خاندانوں کی مشکلات کو کم کرنے اور ان کے دکھ کا کچھ مداوا کرنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں 26 اگست 2026 بروز بدھ کو ہونے والی ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ اس واقعے نے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ المناک واقعہ نہ صرف جاں بحق بچوں کے والدین کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنا، بلکہ اس نے پورے ملک میں صحت کے بنیادی ڈھانچے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موجود وسائل پر بھی گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم اس سانحے کے مختلف پہلوؤں، حکومتی اقدامات، تحقیقاتی پیش رفت اور مستقبل کے لیے ضروری اصلاحات کا جائزہ لیں گے۔
سانحہ پمز: قیامت خیز لمحے اور ابتدائی تفصیلات
26 اگست 2026 کی صبح، اسلام آباد کا پمز ہسپتال ایک ایسے المیے کا گواہ بنا جس کی بازگشت پورے ملک میں سنی گئی۔ پمز کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی تیسری منزل پر واقع نرسری، جہاں معصوم نومولود اپنی زندگی کی پہلی سانسیں لے رہے تھے، اچانک آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، صبح تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر چنگاری نکلی اور ایک منٹ کے اندر 6 بج کر 39 منٹ پر زوردار دھماکے کے ساتھ آگ پوری نرسری میں پھیل گئی، جس سے چھت کا حصہ بھی گرا۔ یہ نرسری اس وقت 15 سے 16 نومولود بچوں کی پناہ گاہ تھی۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ موقع پر موجود عملہ اور ریسکیو اہلکار فوری طور پر تمام بچوں کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے، اور صرف ایک بچے کو بحفاظت نکالا جا سکا، جبکہ 14 نومولود معصوم زندگیاں لقمہ اجل بن گئیں۔ جاں بحق ہونے والے بچوں میں دو جڑواں بچے بھی شامل تھے۔
آگ لگنے کے بعد ہسپتال میں قیامت خیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ والدین اپنے جگر گوشوں کی تلاش میں سرگرداں تھے اور ہسپتال کے باہر رقت آمیز مناظر چھا گئے۔ کئی مائیں اپنے نومولودوں کی جدائی پر زار و قطار رو رہی تھیں، اور ایک ماں کو ہسپتال کے باہر زمین پر بیٹھے یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ “مجھے میرا بچہ دو، ورنہ میں یہاں سے نہیں اٹھوں گی”۔ غمزدہ خاندانوں کو اپنے بچوں کی میتیں بھی ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد حوالے کی گئیں، کیونکہ آگ کی شدت کے باعث شناخت مشکل ہو گئی تھی۔ اس واقعے نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو ناقابل تلافی صدمہ پہنچایا، بلکہ پوری قوم کو سوگوار کر دیا۔
آگ لگنے کی وجوہات اور ابتدائی تحقیقاتی رپورٹس
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کی وجوہات کے حوالے سے ابتدائی طور پر متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔ بعض رپورٹس میں ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر پھٹنے کو آگ لگنے کی وجہ قرار دیا گیا۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں اے سی بلاسٹ ہونے کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔ ان کے مطابق وارڈ میں آکسیجن کی موجودگی کے باعث آگ نے شدت اختیار کی۔
تاہم، بعد ازاں پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک ابتدائی رپورٹ میں کچھ مختلف تفصیلات سامنے آئیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، نرسری میں انکیوبیٹر کے ساتھ منسلک آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹ گیا، جس کے باعث آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ آگ ابتدا میں کم تھی لیکن آکسیجن کے باعث تیزی سے پھیل گئی، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا دھواں پائپ کے ذریعے نومولود بچوں کے سانس میں داخل ہو گیا۔ بچوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ آکسیجن کی فراہمی متاثر ہونا اور جھلسنا بھی بتایا گیا۔ کچھ رپورٹس میں شارٹ سرکٹ کو بھی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا۔ یہ متضاد بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے تھے، جس کے باعث حکومت نے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا۔
امدادی کارروائیاں اور ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات
آگ لگنے کی اطلاع صبح 6 بج کر 54 منٹ پر کیپٹل ایمرجنسی سروس (سی ای ایس) کو موصول ہوئی، اور فائر اینڈ ریسکیو ٹیمیں سات منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا۔ تاہم، ریسکیو آپریشن کے دوران متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
عینی شاہدین اور جاں بحق بچوں کے لواحقین نے ہسپتال انتظامیہ اور عملے کی کارکردگی پر سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں مناسب طبی عملہ موجود نہیں تھا، اور بعض کے مطابق این آئی سی یو کا دروازہ بھی لاک تھا۔ والدین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیمیں تاخیر سے پہنچیں اور انہیں اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کو بچانے کی کوشش کرنا پڑی۔ ایک عینی شاہد خاتون کے مطابق، پمز کا عملہ انہیں بتائے بغیر وہاں سے چلا گیا اور کسی قسم کی مدد نہیں کی، بلکہ انہیں باہر جانے سے بھی روکا گیا تاکہ “بات پھیل نہ جائے”۔ مزید برآں، ہسپتال میں فائر سیفٹی کے مناسب آلات کی عدم موجودگی اور عملے کے غیر تربیت یافتہ ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ فائر بریگیڈ کو آگ بجھانے کے لیے دیواریں توڑ کر اندر جانا پڑا۔
دوسری جانب، پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے عملے کی عدم موجودگی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی یو میں 2 ڈاکٹرز، 4 نرسز اور دیگر عملہ موجود تھا، اور ہسپتال میں فائر سیفٹی کا تسلی بخش نظام موجود ہے۔ سی ڈی اے فائر بریگیڈ کی ایک رپورٹ نے بھی اسپتال میں آگ سے نمٹنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کو ناکافی قرار دیا۔ یہ واضح تضاد اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہا تھا تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
| تفصیل | معلومات |
|---|---|
| سانحہ کی تاریخ | 26 اگست 2026، بدھ |
| مقام | پمز ہسپتال، میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری، تیسری منزل، اسلام آباد |
| جاں بحق نومولود | 14 |
| آگ لگنے کی ابتدائی وجہ | ایئر کنڈیشنر کمپریسر کا پھٹنا، یا انکیوبیٹر سے منسلک نیبولائزر کا پھٹنا جس سے آکسیجن نے آگ پکڑی |
| اعلان کردہ معاوضہ (فی نومولود) | 50 لاکھ روپے |
| معاوضے کا اعلان | 27 اگست 2026 |
| وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ | سابق سیکریٹری شاہد خان |
| معطل شدہ عہدیدار | وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری |
حکومتی ردعمل اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز
سانحہ پمز پر وزیراعظم شہباز شریف نے شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور اس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا۔ وزیراعظم نے بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال کو ناقابل تلافی قرار دیتے ہوئے واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لینے، ذمہ داروں کا تعین کرنے اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی۔ اسی سلسلے میں، وزیراعظم نے ایک پانچ رکنی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کر رہے ہیں۔ اس کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر ابتدائی رپورٹ اور پانچ روز میں جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ کمیٹی آتشزدگی کی وجوہات، ٹائم لائن، ہسپتال عملے، فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کے آپریشن کا جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ، بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ایس او پیز، فائر سیفٹی کا ڈھانچہ اور حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
اس واقعے کے بعد فوری طور پر وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے معطل کر دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے بھی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں ایک 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی، جسے 24 گھنٹے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ان تحقیقات کا مقصد نہ صرف ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس سفارشات مرتب کرنا بھی ہے۔
لواحقین کے غم اور 50 لاکھ روپے کے مالی معاوضے کا اعلان
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد، حکومتِ پاکستان نے جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کے لواحقین کے لیے مالی معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ 27 اگست 2026 کو Associated Press of Pakistan (APP) کی رپورٹ کے مطابق، حکومت کی جانب سے ہر جاں بحق نومولود بچے کے لواحقین کو فی کس 50 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
وفاقی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ “وفاقی حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم اور دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ مالی معاوضے سے قیمتی انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں، جاں بحق ہونے والے بچے واپس نہیں لائے جا سکتے، تاہم حکومت کی جانب سے یہ معاونت غمزدہ خاندانوں کی مشکلات کم کرنے اور ان کے دکھ میں کچھ مداوا کرنے کی ایک کوشش ہے”۔ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون اور معاونت فراہم کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
اگرچہ یہ مالی امداد والدین کے زخموں کو بھرنے کے لیے کافی نہیں، یہ ان کی مالی مشکلات میں کچھ کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، بالخصوص ان حالات میں جب وہ اپنے بچوں کی تدفین اور دیگر اخراجات کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ والدین کی طرف سے انصاف اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔ ایکسپریس نیوز کی ایک رپورٹ میں شوبز شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین کے شدید ردعمل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے جنہوں نے ملک کے ہیلتھ کیئر اور انتظامی نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر بڑے حادثے کے بعد صرف چند روز مذمتی بیانات اور افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے اور پھر اگلے سانحے تک سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے تفصیلی خبر آپ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں پڑھ سکتے ہیں۔
ماضی کے واقعات اور ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کی خامیوں پر سوالات
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کا یہ واقعہ کوئی پہلا نہیں۔ ایک ماہ قبل، 6 جولائی 2026 کو پمز نرسنگ ہاسٹل میں بھی ایک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں استقبالیہ میں رکھے 3 صوفے جل گئے تھے۔ اس واقعے میں اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، لیکن انکشاف ہوا تھا کہ ہاسٹل میں سی سی ٹی وی کیمرے، فائر الارم اور ہنگامی منصوبہ (ایمرجنسی پلان) سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ اس کے علاوہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کے فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 2018 سے پمز انتظامیہ کو فائر سیفٹی کی خامیوں پر مسلسل نوٹس جاری کیے جاتے رہے تھے۔ ان نوٹسز میں فائر پریوینشن، فائر پروٹیکشن اور لائف سیفٹی آلات کی تنصیب مکمل نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی، اور 24 گھنٹے ماہر عملہ تعینات کرنے اور ملازمین کو فائر سیفٹی کی تربیت دینے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ 2024 کے نوٹس میں بھی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تمام ضروری اقدامات تین ماہ میں مکمل کرنے کا کہا گیا تھا۔ ان تمام نوٹسز کے باوجود، سانحہ پمز کا رونما ہونا ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی غفلت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
اس سانحے کے بعد یونیسیف پاکستان نے بھی ملک کے طبی مراکز میں فوری حفاظتی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ یونیسیف کے سربراہ ڈاکٹر گنٹر بوسری نے فائر سیفٹی، آکسیجن کے محفوظ استعمال، تربیت یافتہ عملے اور باقاعدہ ہنگامی مشقوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ صورتحال صرف پمز تک محدود نہیں، بلکہ پاکستان کے دیگر ہسپتالوں میں بھی فائر سیفٹی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات کی حالت تشویشناک ہے۔ پمز کے بعد اسلام آباد کے ایک اور بڑے سرکاری ہسپتال پولی کلینک میں بھی فائر سیفٹی مکمل نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب نے بھی سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں آگ لگنے کے واقعات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان تمام واقعات اور انکشافات کے بعد، یہ واضح ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں، بالخصوص انتہائی نگہداشت میں موجود مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع اصلاحات اور اقدامات کی ضرورت ہے۔
نتیجہ: مستقبل کے لیے سبق اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت
پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی آتشزدگی سے جاں بحق ہونے کا سانحہ ایک المناک قومی المیہ ہے جس نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو بلکہ پوری قوم کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے 50،50 لاکھ روپے کا مالی معاوضہ اگرچہ ایک مثبت قدم ہے، لیکن یہ ان معصوم جانوں کا بدل نہیں ہو سکتا۔ اس سانحے نے ایک بار پھر ملک بھر کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔
مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ تحقیقاتی کمیٹیاں اپنی رپورٹس میں نہ صرف ذمہ داروں کا تعین کریں بلکہ ٹھوس اور قابل عمل سفارشات بھی پیش کریں۔ ان سفارشات میں ہسپتالوں کے فائر سیفٹی آڈٹ، جدید فائر فائٹنگ آلات کی تنصیب، عملے کی باقاعدہ تربیت، ہنگامی اخراج کے راستوں کو ہمیشہ کھلا رکھنا، اور ہسپتال کے اندر آکسیجن اور دیگر آتش گیر مواد کے محفوظ انتظام کو یقینی بنانا شامل ہونا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف بیان بازی اور وقتی اقدامات کے بجائے صحت کے شعبے میں طویل مدتی اصلاحات پر توجہ دے تاکہ آئندہ کسی بھی خاندان کو ایسے ناقابل تلافی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس سانحے سے سبق سیکھنا اور ہسپتالوں کو حقیقی معنوں میں محفوظ پناہ گاہیں بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
