Table of Contents
کورونا وائرس نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے، اور اگرچہ وبائی مرض کا شدید مرحلہ بڑی حد تک قابو میں آ چکا ہے، اس کے دیرپا اثرات توقع سے کہیں زیادہ سنگین اور پیچیدہ ثابت ہو رہے ہیں۔ نئی تحقیقات اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ COVID-19 کا ہمارے جسم اور ذہنی صحت پر طویل مدتی اثرات بہت گہرے ہیں، اور یہ وائرس صرف نظام تنفس کو ہی نہیں بلکہ کئی دیگر جسمانی نظاموں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ تازہ ترین سائنسی انکشافات بتاتے ہیں کہ کورونا انفیکشن کس طرح دائمی بیماریوں کو جنم دے سکتا ہے اور پہلے سے غیر فعال وائرسز کو دوبارہ بیدار کر سکتا ہے، جس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ یہ مضمون ان نئی تحقیقات کا گہرائی سے جائزہ لے گا اور کورونا کے ان پوشیدہ اثرات کو اجاگر کرے گا جو ہماری صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
لانگ کوویڈ: ایک پیچیدہ اور طویل مدتی صحت کا مسئلہ
کورونا وائرس کی بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد بھی بہت سے لوگ مہینوں بلکہ سالوں تک مختلف علامات کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔ اس کیفیت کو عام طور پر ‘لانگ کوویڈ’ یا ‘پوسٹ کوویڈ-19 سنڈروم’ کہا جاتا ہے۔ میو کلینک کی 23 اگست 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق، لانگ کوویڈ کی کوئی عالمی تعریف نہیں ہے، لیکن امریکہ میں اسے COVID-19 وائرس سے پیدا ہونے والی ایک دائمی حالت کے طور پر بیان کیا گیا ہے جسے ‘انفیکشن سے منسلک دائمی حالت’ کہتے ہیں۔ محققین ابھی بھی لانگ کوویڈ کی صحیح وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کچھ نظریات میں مدافعتی نظام میں خلل، پرانے وائرسز کی بیداری، اور جسم میں وائرس کے باقیات کا مستقل موجود رہنا شامل ہیں۔
لانگ کوویڈ کی علامات کی تعداد 200 سے زیادہ ہے جو مریضوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہ علامات وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں، بگڑ سکتی ہیں، یا آ کر چلی جا سکتی ہیں۔ عام علامات میں شدید تھکاوٹ (خاص طور پر سرگرمی کے بعد)، یادداشت کے مسائل (برین فوگ)، سر چکرانا، ذائقہ یا سونگھنے کی حس میں کمی یا مکمل خاتمہ شامل ہیں۔ دیگر علامات میں نیند کے مسائل، سانس کی قلت، کھانسی، سر درد، دل کی دھڑکن کا تیز یا بے قاعدہ ہونا، ہاضمے کے مسائل، پٹھوں اور جوڑوں کا درد، اور موڈ میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ یہ علامات کسی بھی عمر کے فرد کو متاثر کر سکتی ہیں، چاہے ان کی ابتدائی انفیکشن کی شدت کتنی بھی کم رہی ہو۔ 6 جون 2025 کی ایک تحقیق کے مطابق، انفیکشن کے 3 سال بعد بھی 20% مریضوں میں کم از کم ایک علامت برقرار رہتی ہے، جن میں سانس کی قلت، تھکاوٹ، اور نیند کی خرابی سب سے زیادہ عام ہیں۔
نئی تحقیقات کے اہم انکشافات: غیر فعال وائرسز کی بیداری
حالیہ سائنسی تحقیق نے کورونا کے اثرات کے بارے میں کچھ اہم اور پریشان کن انکشافات کیے ہیں۔ 6 اگست 2026 کو ‘نیچر’ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، یونیورسٹی آف ٹیکساس کے محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شدید COVID-19 انفیکشن جسم میں موجود غیر فعال (dormant) وائرسز کو دوبارہ متحرک کر سکتے ہیں، جس سے بیماری کے نتائج مزید خراب ہو سکتے ہیں، خودکار مدافعتی بیماریاں (autoimmune diseases) پیدا ہو سکتی ہیں اور لانگ کوویڈ جیسی طویل مدتی حالتیں جنم لے سکتی ہیں۔
اس تحقیق میں 2020 سے 2021 کے دوران امریکہ کے 20 ہسپتالوں میں داخل 1,154 COVID-19 مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ محققین نے پایا کہ تقریباً نصف مریضوں میں کم از کم ایک ایسا وائرس دوبارہ متحرک ہو گیا تھا جو پہلے سے ان کے جسم میں غیر فعال حالت میں موجود تھا۔ ان میں ہرپیس وائرس خاندان کے ارکان جیسے ایپسٹین بار وائرس (Epstein-Barr virus)، سائٹومیگالو وائرس (Cytomegalovirus)، اور ہرپیس سمپلیکس وائرس، نیز اینیلو وائرسز شامل تھے۔ یہ وائرسز عام طور پر بے ضرر ہوتے ہیں لیکن دباؤ، ہارمونل عدم توازن، نیند کی کمی، سرجری یا شدید بیماری کے جواب میں دوبارہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔ سائٹومیگالو وائرس کی موجودگی کا تعلق نموتھوریکس (collapsed lung)، بیکٹریمیا، پلمونری ویسکولر بیماری، گردے کی پیچیدگیوں، فالج اور صدمے سے بھی پایا گیا۔ یہ انکشافات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ COVID-19 کے بعد کچھ مریضوں میں نئے اور غیر متوقع صحت کے مسائل کیوں پیدا ہوتے ہیں۔
24 فروری 2026 کو ٹولین یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق میں، جو ‘فرنٹیئرز ان ایمیونولوجی’ میں شائع ہوئی، یہ ظاہر کیا گیا کہ COVID-19 کی ہلکی سی بیماری بھی فلو کے مقابلے میں دماغ پر زیادہ دیرپا اور سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ محققین نے چوہوں پر کی گئی تحقیق میں پایا کہ فلو اور COVID-19 دونوں پھیپھڑوں کو دیرپا نقصان پہنچا سکتے ہیں، لیکن صرف SARS-CoV-2 انفیکشن نے دماغ میں مستقل سوزش اور چھوٹی خون کی نالیوں کو نقصان پہنچایا، یہاں تک کہ وائرس کے قابل شناخت نہ ہونے کے بعد بھی۔ اس تحقیق سے لانگ کوویڈ میں برین فوگ، تھکاوٹ اور موڈ کی تبدیلیوں جیسی نیورولوجیکل علامات کی وضاحت ہوتی ہے۔
جسمانی نظام پر گہرے اثرات: پھیپھڑے، دل اور دماغ
کورونا وائرس جسم کے مختلف نظاموں پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتا ہے۔ نئی تحقیقات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ وائرس صرف سانس کی نالی تک محدود نہیں رہتا بلکہ پھیپھڑوں، دل، دماغ، گردوں اور دیگر اعضاء کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ COVID-19 کے دیرپا اثرات کا تعلق جسم میں پیدا ہونے والی شدید سوزش سے ہے، جو خون کی نالیوں میں خون کے جمنے کا باعث بنتی ہے اور مختلف اعضاء کو نقصان پہنچاتی ہے۔
پھیپھڑوں پر اثرات
بہت سے مریض جو COVID-19 سے صحت یاب ہوتے ہیں، پھیپھڑوں کی طویل مدتی پیچیدگیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ان میں سانس لینے میں دشواری اور سانس کی قلت شامل ہے، اور کچھ لوگ کبھی بھی پھیپھڑوں کے معمول کے افعال کو دوبارہ حاصل نہیں کر پاتے۔ ٹولین یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، COVID-19 کے بعد پھیپھڑوں میں ایسے مدافعتی خلیات باقی رہتے ہیں جو مکمل طور پر غیر فعال نہیں ہوتے، اور کولیجن کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے، جو کہ زخموں سے منسلک ایک پروٹین ہے۔ یہ تبدیلیاں پھیپھڑوں کے بافتوں کو سخت کر سکتی ہیں اور سانس لینے کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ COVID-19 کے بعد پھیپھڑوں میں مرمت کا وہ ردعمل بڑی حد تک غائب ہوتا ہے جو فلو کے بعد دیکھا جاتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس پھیپھڑوں کے قدرتی شفا یابی کے عمل میں مداخلت کر سکتا ہے۔
دل اور خون کی نالیوں پر اثرات
COVID-19 دل پر بھی دیرپا اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ کچھ مریضوں میں دل کی غیر معمولی دھڑکن یا ہارٹ اٹیک جیسے مسائل بھی دیکھے گئے ہیں۔ یہ وائرس خون کی نالیوں میں سوزش اور خون کے جمنے کا باعث بنتا ہے، جو دل اور دیگر اہم اعضاء کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ طویل مدتی اثرات دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
دماغ پر اثرات
دماغی صحت اور اعصابی نظام پر COVID-19 کے اثرات سب سے زیادہ نمایاں اور پریشان کن ہیں۔ ٹولین کی تحقیق نے خاص طور پر دماغ میں دیرپا سوزش اور خون کی چھوٹی نالیوں کو پہنچنے والے نقصان کو اجاگر کیا ہے۔ یہاں تک کہ وائرس کے دماغ کے بافتوں میں موجود نہ ہونے کے باوجود، کئی ہفتوں بعد بھی دماغ میں سوزش اور خون کے چھوٹے چھوٹے رساؤ کے آثار دیکھے گئے ہیں۔ جین کے اظہار کے تجزیے سے جاری سوزش کے اشارے اور سیروٹونن اور ڈوپامین کے ضابطے میں خلل ظاہر ہوا ہے، جو موڈ، ادراک اور توانائی کی سطح سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
| جسمانی نظام | لانگ کوویڈ کی عام علامات | تحقیق کے اہم انکشافات |
|---|---|---|
| سانس کا نظام | سانس کی قلت، مسلسل کھانسی، سینے میں درد | پھیپھڑوں کے ٹشوز میں سوزش اور فائبروسس، مرمت کے قدرتی عمل میں رکاوٹ |
| دماغی/اعصابی نظام | برین فوگ، یادداشت کے مسائل، تھکاوٹ، سر چکرانا، سر درد، ذائقہ/سونگھنے کی حس میں کمی | دماغ میں مستقل سوزش، چھوٹی خون کی نالیوں کو نقصان، سیروٹونن/ڈوپامین کے ضابطے میں خلل |
| قلبی نظام | دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، سینے میں درد، ہارٹ اٹیک کا خطرہ | خون کی نالیوں میں سوزش، خون کے جمنے، دل کے خلیات کو نقصان |
| مدافعتی نظام | دائمی تھکاوٹ، خودکار مدافعتی امراض، بار بار انفیکشن | غیر فعال وائرسز کی دوبارہ بیداری، مدافعتی نظام کا ضرورت سے زیادہ ردعمل یا کمزوری |
| ہاضمے کا نظام | متلی، قے، اسہال، پیٹ میں درد، نظام ہاضمہ کی خرابی | آنتوں میں سوزش، مائیکرو بایوم میں تبدیلی |
| جنرل | شدید تھکاوٹ، پٹھوں اور جوڑوں کا درد، نیند کی خرابی | جسمانی دفاعی نظام میں کمزوری، پوسٹ ایکسرشنل میلائس (PEM) |
ذہنی صحت اور نیورولوجیکل پیچیدگیاں
کورونا وائرس نے نہ صرف جسمانی صحت بلکہ عالمی سطح پر ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ وبائی مرض کے دوران لاک ڈاؤن، معاشرتی دوری، معاشی دباؤ اور بیماری کا خوف جیسے عوامل نے لوگوں میں بے چینی، ڈپریشن، تناؤ اور تنہائی کے احساسات کو بڑھاوا دیا۔
لانگ کوویڈ کے مریضوں میں ذہنی صحت کے مسائل کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ 23 اگست 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق، لانگ کوویڈ سے متاثرہ افراد کو موڈ ڈس آرڈرز اور بے چینی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ برین فوگ (دماغی دھند) ایک عام اور پریشان کن نیورولوجیکل علامت ہے جس میں یادداشت کے مسائل، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، اور سوچنے کی صلاحیت میں کمی شامل ہے۔ مارچ 2026 میں شائع ہونے والی ایک میٹا انالیسس نے اومی کرون ویرینٹ کو برین فوگ اور پارستھیسیا (سن ہونا اور جھنجھناہٹ) سے جوڑا ہے، جبکہ پہلے کے ویرینٹ سانس کی قلت اور سونگھنے کی حس کے نقصان کا زیادہ سبب بنتے تھے۔
سائنس دانوں نے 3 سال بعد بھی مریضوں میں یادداشت کے مسائل، پارکنسن جیسی بیماریاں، الکحل کے استعمال کی خرابی، پردیی نیورو پیتھی اور بصارت کی خرابی جیسے نیورو سائیکائٹرک علامات کی اطلاع دی ہے۔ اس کے علاوہ، شدید COVID-19 کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں میں پوسٹ ٹرومیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) اور شدید تھکاوٹ کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ یہ سب علامات مریضوں کی روزمرہ کی زندگی اور کام کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔
لانگ کوویڈ کی علامات کا تناسب اور اقسام میں فرق
لانگ کوویڈ کی شرحیں بدستور زیادہ ہیں، اور 2024 کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کے بڑے ڈیٹا سیٹس میں لانگ کوویڈ کا خطرہ وقت کے ساتھ کم نہیں ہوا، 2024 میں سب سے زیادہ خطرہ 2021 کے مقابلے میں تھا۔ امریکہ میں 10-26% بالغ افراد لانگ کوویڈ کا شکار ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر لانگ کوویڈ کا پھیلاؤ غیر ہسپتال میں داخل تصدیق شدہ کیسز کے 29% پر تخمینہ لگایا گیا ہے، جو 144 مطالعات کے میٹا تجزیہ پر مبنی ہے۔
حالیہ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ لانگ کوویڈ کی علامات کا نمونہ COVID-19 کے مختلف ویرینٹس اور انفیکشن کے بعد کے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اومی کرون ویرینٹ سے متاثر ہونے والوں میں برین فوگ اور سن ہونے یا جھنجھناہٹ کا زیادہ امکان دیکھا گیا، جبکہ ابتدائی ویرینٹس جیسے الفا، بیٹا، گاما، اور ڈیلٹا سے سانس کی قلت اور سونگھنے کی حس میں کمی زیادہ عام تھی۔ یہ تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پوسٹ کوویڈ کی حالت ایک یکساں سنڈروم نہیں ہے بلکہ ایک متحرک اور کثیر الجہتی حالت ہے جو وائرس کی قسم اور وقت کے عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ نتائج لانگ کوویڈ کے انتظام کے لیے مخصوص حکمت عملیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ زیادہ تر لانگ کوویڈ کے مریضوں کو شدید ایکیوٹ COVID انفیکشن نہیں ہوا تھا۔ ہلکے COVID کیسز لانگ کوویڈ کے زیادہ تر کیسز بناتے ہیں، کیونکہ ہلکے انفیکشن والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ اگرچہ شدید COVID کے بعد لانگ کوویڈ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، لیکن ہلکے ایکیوٹ انفیکشن بھی طویل مدتی بیماری کا ایک اہم خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ 76% سے 90% لانگ کوویڈ کے کیسز ہلکے انفیکشن سے تھے۔ لانگ کوویڈ سے مکمل صحت یابی بھی ایک نایاب صورتحال ہے؛ 2-3 سال بعد صرف 5-9% مریض صحت یابی کی اطلاع دیتے ہیں۔
مستقبل کے چیلنجز اور حفاظتی تدابیر
کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات، جیسا کہ نئی تحقیقات سے سامنے آ رہا ہے، عالمی صحت کے نظام اور معاشرت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ لانگ کوویڈ کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اس کی پیچیدگیاں صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں۔ 28 جون 2023 کو اقوام متحدہ کی ایک خبر کے مطابق، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے علاقائی دفتر نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ COVID-19 اب عالمی طبی ہنگامی صورتحال نہیں رہی، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات یورپ جیسے خطوں میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتے رہیں گے۔ ہر ہفتے یورپ میں کورونا وائرس سے کم از کم 1,000 نئی اموات ہو رہی ہیں۔ عالمی ہنگامی طبی صورتحال کے پہلے تین برس کے دوران یورپ بھر میں 36 ملین لوگوں کو ‘طویل مدتی کوویڈ’ لاحق ہوا، جو کہ ایک پیچیدہ طبی حالت ہے جس کے بارے میں سائنس دان تاحال زیادہ نہیں جانتے۔
آج 2026 میں بھی، لانگ کوویڈ کے لیے ابھی تک کوئی FDA سے منظور شدہ علاج موجود نہیں ہے۔ علاج علامات پر مبنی اور کثیر شعبہ جاتی ہوتا ہے۔ میٹفارمین جیسی دوائیں شدید COVID-19 کے دوران لانگ کوویڈ کو روکنے میں مضبوط ثبوت دکھاتی ہیں اگر اسے انفیکشن کے 3 دن کے اندر شروع کیا جائے، جس سے خطرہ 63% تک کم ہو سکتا ہے۔ تاہم، لانگ کوویڈ کے علاج کے طور پر میٹفارمین کے نتائج مثبت نہیں رہے۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، لانگ کوویڈ کی تشخیص اور علاج کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔ دوسرا، عوامی صحت کے پروگراموں کو لانگ کوویڈ کے بارے میں آگاہی بڑھانی چاہیے اور متاثرہ افراد کے لیے سپورٹ سسٹم قائم کرنے چاہئیں۔ تیسرا، ویکسینیشن مہمات کو جاری رکھنا چاہیے، کیونکہ ویکسینز شدید بیماری اور ہسپتال میں داخل ہونے کے خطرے کو کم کرتی ہیں، اور بالواسطہ طور پر لانگ کوویڈ کے خطرے کو بھی کم کر سکتی ہیں۔ چوتھا، لوگوں کو اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے، جس میں متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے صحت مند حکمت عملیاں شامل ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں، جہاں صحت کا بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، لانگ کوویڈ ایک اضافی بوجھ بن سکتا ہے۔ بیماری کے آغاز میں ڈان نیوز نے کورونا وائرس کے جسم پر اثرات کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی، جو بنیادی علامات پر روشنی ڈالتی تھی لیکن طویل مدتی پیچیدگیوں کا مکمل احاطہ نہیں کرتی تھی۔ ڈان نیوز کی 2020 کی رپورٹ تاہم، اب ضرورت ہے کہ ملک میں لانگ کوویڈ کے کیسز اور ان کے اثرات پر خصوصی توجہ دی جائے، اور صحت کے اداروں کو اس نئی حقیقت کے لیے تیار کیا جائے۔
نتیجہ
نئی سائنسی تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ کورونا وائرس کے اثرات نہ صرف شدید مرحلے میں بلکہ طویل مدت میں بھی توقع سے زیادہ سنگین ہیں۔ غیر فعال وائرسز کی بیداری، جسمانی نظاموں پر دائمی سوزش کے اثرات، اور ذہنی صحت پر گہرے منفی اثرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ COVID-19 محض ایک مختصر مدت کی بیماری نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور دیرپا صحت کا چیلنج ہے۔ عالمی برادری کو اس نئے طبی چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی، تحقیق کو فروغ دینا ہو گا، اور لانگ کوویڈ کے مریضوں کے لیے موثر تشخیص اور علاج کے طریقے وضع کرنے ہوں گے۔ اس دوران، افراد کو اپنی صحت کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے اور کسی بھی دیرپا علامت کی صورت میں فوری طبی مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔ کورونا کے مکمل اثرات کو سمجھنا اور ان کا مقابلہ کرنا ہی مستقبل میں صحت کے بحرانوں سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔


