مقبول خبریں

کیا سخت سزائیں جرائم کی روک تھام کیلئے کافی ہیں؟ خاقان شاہنواز کا اہم سوال

کیا سخت سزائیں جرائم کی روک تھام کیلئے کافی ہیں؟ یہ ایک ایسا بنیادی اور اہم سوال ہے جو معاشرتی مباحث میں اکثر زیرِ بحث آتا ہے، اور حال ہی میں پاکستانی اداکار اور سوشل میڈیا انفلوئنسر خاقان شاہنواز نے اس سوال کو دوبارہ اٹھا کر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ خاقان شاہنواز نے خصوصاً بچوں کے خلاف ہونے والے سنگین جرائم کے تناظر میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ محض سخت سزائیں ایسے واقعات کی مؤثر روک تھام کے لیے کافی نہیں ہیں۔ ان کا یہ سوال اس دیرینہ بحث کو ایک بار پھر زندہ کر گیا ہے کہ کیا واقعی قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دینے سے معاشرے سے جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہے، یا اس کے لیے مزید گہری اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے؟ یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں ماہرین قانون، سماجی سائنسدان اور حکومتیں اس پر غور و خوض کرتی رہتی ہیں۔

خاقان شاہنواز کا سوال اور معاشرتی بحث کا آغاز

پاکستانی معاشرہ حالیہ عرصے میں بچوں کے ساتھ ہونے والے دلخراش واقعات اور دیگر سنگین جرائم سے دوچار رہا ہے۔ انہی واقعات کے پیش نظر، خاقان شاہنواز نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اس اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ اگرچہ حکام ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہیں اور انہیں سخت سزائیں دینے کا اعلان بھی کیا جاتا ہے، تاہم اس کے باوجود ایسے واقعات کا تسلسل یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آیا یہ سزائیں واقعی مؤثر ثابت ہو رہی ہیں یا نہیں؟ خاقان شاہنواز کے مطابق، توجہ صرف مجرموں کو سزا دینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایسے واقعات کی بنیادی وجوہات پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہمارا معاشرہ جنسی آگاہی، عوامی شعور اور بچوں کے تحفظ جیسے اہم موضوعات پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ وہ پہلو ہیں جن پر مؤثر آگاہی ہی جرائم کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کا یہ نقطہ نظر صرف قانونی اصلاحات سے ہٹ کر سماجی اور تعلیمی سطح پر تبدیلی لانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جو کسی بھی معاشرے کو پائیدار امن کی طرف لے جانے کے لیے ناگزیر ہے۔

یہ بحث صرف بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات تک محدود نہیں ہے، بلکہ قتل، ڈکیتی، اور دیگر جرائم کے تناظر میں بھی سخت سزاؤں کی افادیت پر گہرا غور و خوض ہو رہا ہے۔ عوام کی جانب سے اکثر یہ مطالبہ سامنے آتا ہے کہ مجرموں کو سرعام پھانسی دی جائے یا عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بنے اور جرم کا سدباب ہو سکے۔ تاہم، ماہرین کا ایک طبقہ یہ دلیل دیتا ہے کہ صرف سزاؤں کی سختی جرم کی شرح میں نمایاں کمی نہیں لا سکتی، جب تک کہ جرم کی اصل وجوہات کو نہ سمجھا جائے اور انہیں دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے جائیں۔

سخت سزاؤں کا فلسفہ اور انسدادی اثر

جرائم کی روک تھام میں سخت سزاؤں کا فلسفہ صدیوں پرانا ہے۔ اس فلسفے کی بنیاد “ڈیٹرنس تھیوری” (Deterrence Theory) پر ہے، جس کے مطابق اگر کسی جرم کی سزا اتنی سخت اور یقینی ہو کہ مجرم کو اس کا ارتکاب کرنے سے پہلے ہی خوف محسوس ہو، تو وہ جرم کرنے سے باز رہے گا۔ یہ نظریہ دو قسم کے انسدادی اثرات پر زور دیتا ہے:

  • **عام انسداد (General Deterrence):** اس کا مطلب ہے کہ جب کسی مجرم کو سخت سزا دی جاتی ہے تو یہ سزا صرف اس مجرم کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک پیغام بن جاتی ہے۔ معاشرے کے دیگر افراد اس سزا سے عبرت حاصل کرتے ہیں اور جرم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
  • **خاص انسداد (Specific Deterrence):** اس کا مطلب ہے کہ جو مجرم جرم کا ارتکاب کر چکا ہے، اسے دی جانے والی سخت سزا اسے دوبارہ جرم کرنے سے روکتی ہے۔ یہ سزا اسے اپنے کیے پر پچھتانے اور آئندہ ایسی حرکت سے باز رہنے پر مجبور کرتی ہے۔

پاکستان میں تعزیراتِ پاکستان کے تحت کئی جرائم کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں سزائے موت، عمر قید، اور طویل قید با مشقت شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، قتلِ عمد کی سزا قصاص یا عمر قید ہو سکتی ہے۔ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو سزائے موت یا 10 سے 25 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے، جبکہ اجتماعی زیادتی کی صورت میں سزائے موت یا عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔ حالیہ کرمنل لا ترمیمی بل 2026 میں تیزاب گردی کے مجرموں کے لیے سزائے موت شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کا مقصد ایسے ہولناک جرائم کی مؤثر روک تھام کرنا ہے۔ ان سزاؤں کا مقصد یہ ہے کہ مجرموں کو معاشرے کے لیے خطرہ بننے سے روکا جائے اور انہیں ان کے کیے کی پاداش ملے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سزاؤں کی سختی سے ہی معاشرے میں خوفِ خدا اور قانون کی پاسداری پیدا ہوگی اور جرائم کی شرح میں کمی آئے گی۔

کیا بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے سخت سزائیں کافی ہیں؟ خاقان شاہنواز کا اہم سوال - M News

تاہم، اس نظریے کی مؤثر نفاذ کے لیے چند بنیادی شرائط ضروری ہیں: سزا کا یقینی ہونا، انصاف کی فوری فراہمی، اور قانون کی حکمرانی۔ اگر سزائیں سخت تو ہوں لیکن انصاف کا عمل سست روی کا شکار ہو، یا مجرموں کو سزا ملنے کا امکان کم ہو، تو صرف سزاؤں کی سختی انسدادی اثر پیدا کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے۔

جرائم کی جڑیں: سماجی و اقتصادی محرکات

اگرچہ سخت سزائیں بظاہر ایک فوری حل لگتی ہیں، لیکن جرائم کے گہرے سماجی و اقتصادی محرکات کو نظر انداز کرنا طویل مدتی حل فراہم نہیں کر سکتا۔ خاقان شاہنواز کے سوال کے پس پردہ یہی بنیادی حقیقت کارفرما ہے کہ جرائم کی وجوہات صرف مجرم کی ذاتی بدمعاشی نہیں ہوتیں بلکہ اکثر ان کے پیچھے پیچیدہ معاشرتی مسائل ہوتے ہیں۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جرائم کی چند بڑی وجوہات میں غربت، جہالت، بے روزگاری، ناانصافی، اور معاشرتی ناہمواری شامل ہیں۔ جب لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی میسر نہیں آتیں، تعلیم اور روزگار کے مواقع نہیں ملتے، تو وہ مایوسی اور محرومی کا شکار ہو کر جرم کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، تھانوں، کچہریوں اور جیلوں کا دورہ کرنے پر 60 سے 90 فیصد غریب لوگ ملتے ہیں جو پیٹ کا دوزخ بھرنے یا بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جرم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جہالت بھی جرائم کو فروغ دیتی ہے کیونکہ ناخواندہ افراد قانون اور اس کی پیچیدگیوں سے ناواقف ہوتے ہیں، جس کا فائدہ اکثر بااثر لوگ اٹھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، نشہ خوری، والدین کی لاپرواہی، احساس کمتری، اور میڈیا پر تشدد کی نمائش بھی جرائم کے بڑھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

معاشرے میں اعلیٰ اقدار اور اچھے اخلاق کی کمی، اور برائی کے خلاف عملی ردعمل کا فقدان بھی جرائم کو مضبوط کرتا ہے۔ جب مجرمانہ صلاحیتوں کا حامل شخص جرم کرنے کے بعد بچ نکلتا ہے اور اسے معاشرے کا کامیاب فرد سمجھا جاتا ہے، تو یہ اجتماعی بے حسی مجرمانہ سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، بعض اوقات قانون کا نظام بھی مظلوم کے بجائے ظالم کا ساتھ دیتا نظر آتا ہے یا مجرموں کی طرف داری کرتا ہے، جس سے قانون کا خوف کم ہوتا ہے اور انصاف کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں صرف سخت سزائیں جرائم کی روک تھام کے لیے کافی نہیں رہتیں، بلکہ ان بنیادی مسائل کا حل تلاش کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں عدالتی نظام اور سزاؤں کا نفاذ

پاکستان میں عدالتی نظام تعزیراتِ پاکستان کے تحت جرائم کی سزائیں مقرر کرتا ہے، تاہم ان سزاؤں کا مؤثر نفاذ اور ان سے حقیقی انسدادی اثر حاصل کرنا ایک چیلنج رہا ہے۔ پاکستان میں سزائے موت، عمر قید اور دیگر سخت سزائیں مختلف جرائم کے لیے موجود ہیں، جن میں قتل، جنسی زیادتی، اور حال ہی میں تیزاب گردی جیسے جرائم شامل ہیں۔ پاکستان کے قانون میں تقریباً 33 ایسے جرائم ہیں جن میں سزائے موت دی جا سکتی ہے، تاہم عدالتیں عموماً چند سنگین جرائم جیسے قتل یا توہینِ مذہب میں ہی سزائے موت سناتی ہیں۔

تاہم، سزاؤں کی شرح کم ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر، وزارتِ داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، سائبر کرائم کے کیسز میں سزاؤں کی شرح صرف 3 فیصد کے قریب ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ایف آئی اے کی جانب سے بے دریغ کیسز کا اندراج اور فارنزک ماہرین، پراسیکیوشن، تفتیش کاروں اور ججز کا جدید تکنیکی امور سے نابلد ہونا بتایا جاتا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ صرف قوانین کو سخت بنانا کافی نہیں، بلکہ ان کے نفاذ کے عمل کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے۔

عدالتی عمل میں سست روی، گواہوں کے تحفظ کا فقدان، اور تفتیشی نظام کی کمزوریاں بھی انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ جب انصاف میں تاخیر ہوتی ہے یا مجرموں کو سزا نہیں ملتی تو عوام کا قانون اور عدالتی نظام پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے، جس سے جرائم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اس تناظر میں، ماہرین قانون اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قوانین میں ترامیم کے ساتھ ساتھ نظامِ عدل کی مکمل اصلاح بھی ضروری ہے تاکہ سزائے موت کے حقدار جرائم کی تعداد کم کی جائے اور منصفانہ نظامِ عدل قائم ہو سکے، جس سے اکثر کیسز میں سزائے موت کی نوبت ہی نہ آئے۔

پاکستان میں جرائم اور سزاؤں کے نفاذ سے متعلق کچھ اہم حقائق درج ذیل جدول میں پیش کیے گئے ہیں:

جرم کی نوعیتتعزیرات پاکستان کے تحت سزا (مثالیں)نفاذ کی صورتحال (چیلنجز)
قتلقصاص یا عمر قید (25 سال تک)شواہد کی کمی، سست عدالتی عمل، گواہان کا عدم تحفظ
جنسی زیادتیسزائے موت یا 10 سے 25 سال قید؛ اجتماعی زیادتی پر سزائے موت یا عمر قیدمعاشرتی دباؤ، ثبوتوں کو چھپانا، متاثرین کو ہراساں کرنا
ڈکیتی/چوریڈکیتی: 3 سے 14 سال قید، چوری: مختلف سزائیں (حسب نوعیت)پولیس کا غیر مؤثر کردار، مجرموں کی پیشہ ورانہ مہارت
سائبر کرائمسزائیں موجود ہیں، لیکن سزائے قید اور جرمانے مختلف ہو سکتے ہیں۔سزاؤں کی شرح بہت کم (تقریباً 3%)، تکنیکی مہارت کا فقدان
تیزاب گردیعمر قید، 14 سال قید اور 10 لاکھ جرمانہ۔ (نئے بل میں سزائے موت کی تجویز)نفاذ کا عمل جاری، نئے قوانین کی منظوری اور مؤثر نفاذ ضروری

اسلامی نقطہ نظر سے سزاؤں کی افادیت

اسلامی نقطہ نظر سے جرائم کی سزاؤں کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ معاشرے میں امن و امان قائم کرنا، فساد کو روکنا، اور اللہ کے مقرر کردہ حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ اسلام میں سزاؤں کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: حدود، قصاص، اور تعزیرات۔

  • حدود: یہ وہ سزائیں ہیں جو قرآن و سنت میں اللہ تعالیٰ نے متعین کر دی ہیں، جیسے زنا، چوری، ڈکیتی، شراب نوشی، اور تہمتِ زنا کی سزائیں۔ ان سزاؤں کا مقصد حق اللہ کا تحفظ کرنا ہے اور ان میں کمی بیشی کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔
  • قصاص: یہ وہ سزائیں ہیں جو جان اور اعضاء کے بدلے میں دی جاتی ہیں، جیسے قتل کے بدلے قتل۔ اس کا مقصد حق العبد کا تحفظ کرنا ہے اور مقتول کے ورثاء کو بدلہ لینے یا معاف کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔
  • تعزیرات: یہ وہ سزائیں ہیں جو قرآن و سنت میں متعین نہیں کی گئیں، بلکہ حاکم وقت یا قاضی کو حالات اور جرم کی نوعیت کے مطابق انہیں مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

اسلامی قوانین میں سزاؤں کا فلسفہ اس بات پر مبنی ہے کہ یہ صرف مجرم کو سزا نہیں دیتیں بلکہ معاشرے میں ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جہاں خوفِ خدا اور قانون کی پاسداری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں سزاؤں کو نہ صرف مجرم کو روکنے بلکہ دوسروں کے لیے عبرت کا سامان مہیا کرنے کا ذریعہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی سزاؤں کے ناقدین انہیں وحشیانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہیں، تاہم اسلامی اسکالرز اس موقف کو رد کرتے ہوئے دلیل دیتے ہیں کہ یہ سزائیں عدل و انصاف پر مبنی ہیں اور معاشرے میں امن و امان کی ضمانت دیتی ہیں۔ ان کا مقصد انسانی جان، مال، عقل، نسل اور دین جیسے بنیادی مقاصد شریعت کا تحفظ ہے۔

تاہم، اسلامی سزاؤں کے نفاذ کے لیے بھی سخت شرائط اور گواہی کے معیار مقرر کیے گئے ہیں، تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے۔ مثال کے طور پر، زنا کی حد کے لیے چار عینی گواہوں کی شرط رکھی گئی ہے۔ اگر ان شرائط کو نظر انداز کیا جائے تو انصاف کا نظام اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ پاکستان میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی خواہش کئی حلقوں میں پائی جاتی ہے، لیکن اس کے مؤثر نفاذ کے لیے شریعت کے تمام پہلوؤں کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جرائم کی بنیادی وجوہات کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حل کیا جائے، جس میں تعلیم، اخلاقی تربیت، اور عدل و انصاف کی فراہمی شامل ہے۔

سزاؤں سے آگے: جامع حکمت عملی کی ضرورت

خاقان شاہنواز کے سوال کا گہرائی سے جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف سخت سزائیں جرائم کی مکمل روک تھام کے لیے کافی نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو سزاؤں کی سختی کے ساتھ ساتھ جرائم کی بنیادی وجوہات کو بھی حل کرے اور معاشرے کو اخلاقی اور سماجی طور پر مضبوط بنائے۔

اس جامع حکمت عملی میں درج ذیل اہم اقدامات شامل ہو سکتے ہیں:

  • تعلیم اور آگاہی: جنسی آگاہی، بچوں کے تحفظ، اور عوامی شعور پر کھل کر بات کرنا ضروری ہے۔ سکولوں اور تعلیمی اداروں میں عمر کے مطابق مناسب تعلیم اور شعور فراہم کرنا جامع حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔ جہالت کا خاتمہ غربت اور جرائم کی روک تھام میں معاون ثابت ہوگا۔
  • غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ: حکومت کو چاہیے کہ غربت کے خاتمے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، کیونکہ غربت اور جہالت کا خاتمہ جرائم کی شرح کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
  • عدالتی اصلاحات اور انصاف کی فوری فراہمی: انصاف کا نظام تیز اور مؤثر ہونا چاہیے تاکہ مجرموں کو وقت پر سزا ملے اور سزاؤں کی شرح میں اضافہ ہو۔ قانون کا یکساں اطلاق اور میرٹ پر فیصلے انصاف کے نظام پر عوام کے اعتماد کو بحال کریں گے۔
  • پولیس نظام میں بہتری: پولیس کا کردار محض جرم ہونے کے بعد کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ جرائم کی روک تھام، تفتیش کی مضبوطی، اور عوام کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔
  • معاشرتی اور اخلاقی تربیت: میڈیا اور تعلیمی ادارے لوگوں کو اچھی تربیت فراہم کریں اور شرم و حیا، حسنِ کردار، اور حقوق العباد کا درس دیں۔ معاشرے میں مثبت رویوں کو فروغ دیا جائے اور مجرمانہ سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
  • بحالی اور اصلاحی پروگرام: قیدیوں کے لیے اصلاحی پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ وہ رہائی کے بعد دوبارہ جرائم کا حصہ نہ بنیں۔ روزگار کے مواقع اور سماجی حمایت فراہم کی جائے تاکہ وہ ایک مثبت زندگی گزار سکیں۔

جیسا کہ خاقان شاہنواز نے اپنے پیغام میں کہا، جب تک معاشرہ تعلیم، آگاہی اور اجتماعی ذمہ داری کے ذریعے حقیقی تبدیلی کی جانب پیش رفت نہیں کرے گا، اس وقت تک ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام مکمل طور پر ممکن نہیں ہو سکے گی۔ جرائم میں کمی کے لیے تربیت اور قانون دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ڈان نیوز جیسے مستند اداروں کی رپورٹس بھی اکثر ایسے مسائل پر روشنی ڈالتی ہیں اور جامع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتی ہیں جس کے ذریعے معاشرتی اصلاحات اور قانون کا مؤثر نفاذ دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید تفصیلی معلومات کے لیے، ڈان نیوز پر اس مسئلے سے متعلق ایک رپورٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

نتیجہ: ایک متوازن سوچ کی اہمیت

جرائم کی روک تھام ایک کثیر جہتی چیلنج ہے جس کا کوئی واحد اور آسان حل نہیں ہے۔ سخت سزاؤں کا اپنا ایک مقام اور انسدادی اثر ہے، اور بعض سنگین جرائم کے لیے ان کا وجود ضروری بھی ہے تاکہ معاشرے میں قانون کا احترام قائم رہے اور متاثرین کو انصاف ملے۔ تاہم، صرف سزاؤں کی سختی پر انحصار کرنا جرائم کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ خاقان شاہنواز کا یہ اہم سوال کہ “کیا سخت سزائیں جرائم کی روک تھام کیلئے کافی ہیں؟” ہمیں اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہمیں جرائم کی بنیادی وجوہات جیسے غربت، جہالت، ناانصافی، اور معاشرتی ناہمواری پر بھی کام کرنا ہوگا۔

ایک مؤثر حکمت عملی وہ ہوگی جو قانونی سختی، انصاف کی فوری فراہمی، تعلیم و آگاہی، معاشرتی تربیت، اور سماجی و اقتصادی اصلاحات کا ایک متوازن امتزاج ہو۔ جب تک معاشرہ بحیثیت مجموعی اپنی اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھے گا اور تعلیم، شعور، اور انسانیت کے احترام کو فروغ نہیں دے گا، تب تک صرف قانون کے ڈنڈے سے جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ ضروری ہے کہ ہم فوری اقدامات کے ساتھ ساتھ دیرپا اور مؤثر حل تلاش کریں تاکہ ایک پرامن اور محفوظ معاشرہ قائم ہو سکے جہاں ہر فرد، خاص طور پر بچے، محفوظ محسوس کریں۔