Table of Contents
2025-26: صارفین ملکی تاریخ کا مہنگا پیٹرول اورڈیزل خریدنے پر مجبور ہوئے، جو کہ پاکستانی عوام کے لیے ایک کڑوا سچ ثابت ہوا۔ مالی سال 2025-26 (جو 30 جون 2026 کو ختم ہوا) کے دوران پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ اس دوران ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 2025- 26مجموعی طور پر 257 روپے 76 پیسے جبکہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 199 روپے 98 پیسے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری تھا، لیکن اس کے باوجود پاکستانی صارفین کو ایندھن کی بلند ترین قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال نے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا بلکہ مجموعی مہنگائی میں بھی اضافہ کر دیا، جس کا براہ راست اثر عام شہریوں کی روزمرہ زندگی اور قوت خرید پر پڑا۔ حکومت نے اس دوران پٹرولیم لیوی کا ریکارڈ بوجھ بھی عوام پر ڈالا، جس نے مالی دباؤ میں مزید نمایاں اضافہ کیا۔ یہ صورتحال پاکستان کی معاشی چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے، جہاں عالمی منڈی کے رجحانات، حکومتی پالیسیاں اور داخلی معاشی مجبوریاں عوام کی جیبوں پر بھاری پڑتی ہیں۔
پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا تاریخی تناظر
پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں ہمیشہ سے ایک حساس معاملہ رہی ہیں اور ان میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی معیشت اور عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ ماضی میں بھی تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث ایندھن مہنگا ہوتا رہا ہے، لیکن مالی سال 2025-26 میں جو اضافہ دیکھا گیا وہ بے مثال تھا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی خام تیل کی قیمتوں، امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر، اور حکومت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکسز اور لیویز پر منحصر ہوتا ہے۔ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 80 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے، جس میں خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات دونوں شامل ہیں۔ اس شدید انحصار کی وجہ سے عالمی منڈی میں ذرا سی بھی تبدیلی پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے۔
ماضی کے کئی سالوں میں حکومتوں نے ایندھن کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سبسڈی کا سہارا لیا، لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں اور مالیاتی دباؤ کے پیش نظر یہ طریقہ کار اب زیادہ دیر تک قابل عمل نہیں رہا۔ نتیجے کے طور پر، ایندھن کی حقیقی قیمتیں، جو عالمی منڈی اور ڈالر کی شرح مبادلہ سے طے ہوتی ہیں، صارفین کو منتقل کی جاتی ہیں۔ 2025-26 کے دوران بھی یہی رجحان غالب رہا، جہاں حکومت مالی خسارے کو کم کرنے اور محصولات میں اضافہ کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز پر زیادہ انحصار کرتی رہی، جس کا بوجھ بالآخر عوام نے اٹھایا۔ اس تاریخی پس منظر میں، حالیہ مالی سال میں ایندھن کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا، بلکہ عالمی اور داخلی معاشی عوامل کے ایک پیچیدہ جال کا نتیجہ تھا۔
عالمی تیل منڈی کے رجحانات اور پاکستان پر اثرات
مالی سال 2025-26 کے دوران عالمی تیل منڈی میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے، جن میں سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران پر حملوں کے خدشات نے تیل کی سپلائی اور قیمتوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے امکانات اور سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان بھی دیکھا گیا۔ مثال کے طور پر، جون 2026 میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 72.91 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل ویسٹرن ٹیکساس 69.63 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔ اسی طرح، 26 جون 2026 کو عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت 91.68 ڈالر فی بیرل اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 104.79 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو چند روز پہلے کے مقابلے میں کم تھی۔
تاہم، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اس کمی کا فائدہ پاکستانی صارفین کو پوری طرح منتقل نہیں کیا گیا۔ حکومت نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے یا لیوی میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکام کے مطابق، مالیاتی دباؤ اور محصولات میں اضافے کی ضرورت نے حکومت کو یہ فیصلے کرنے پر مجبور کیا۔ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کے بڑھتے ہوئے اثرات سے شہریوں کو بچانا حکومت کی اولین ترجیح تھی، اور اس مقصد کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی ماڈل کی طرف منتقلی کی گئی تاکہ فوائد براہ راست عوام تک پہنچیں۔ اس کے باوجود، یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار رہی کہ پاکستانی صارفین کو عالمی منڈی میں کمی کا مکمل فائدہ نہیں مل سکا، اور انہیں تاریخی طور پر مہنگا ایندھن خریدنا پڑا۔
حکومتی پالیسیاں، ٹیکس اور لیوی
مالی سال 2025-26 کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی ایک بڑی وجہ حکومتی پالیسیاں، بالخصوص پٹرولیم لیوی (PDL) اور دیگر ٹیکسز میں اضافہ تھا۔ حکومت نے مالیاتی استحکام برقرار رکھنے اور ریونیو بڑھانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں نمایاں اضافہ کیا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، ڈیزل پر لیوی کی شرح 72 روپے 97 پیسے سے بڑھا کر 79 روپے 54 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔ اسی طرح، پٹرول پر عائد لیوی میں بھی 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد یہ 66 روپے 25 پیسے سے بڑھ کر 66 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی۔
حکومت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ یہ اقدامات ملکی معیشت کو سہارا دینے اور آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت کیے جانے والے اصلاحات کا حصہ تھے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینیٹ میں بتایا کہ حکومت نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے ابتدائی مرحلے میں پٹرولیم مصنوعات پر 129 ارب روپے کی اعانت دی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت ٹارگٹڈ سبسڈی ماڈل کی طرف منتقل ہو گئی ہے تاکہ اس کے فوائد براہ راست عوام تک پہنچیں، بالخصوص موٹر سائیکل سواروں، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور چھوٹے کسانوں کو۔ تقریباً آٹھ لاکھ موٹر سائیکل سوار اس اقدام سے مستفید ہو چکے ہیں، جن میں 1.53 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔
تاہم، ان اقدامات کے باوجود، پٹرولیم لیوی کا ریکارڈ بوجھ عوام پر پڑا۔ دوسری جانب، تیل کمپنیوں نے حکومت کے یکطرفہ قیمتوں کے فیصلوں پر شدید احتجاج کیا، اور 104 ارب روپے کے نقصان کا دعویٰ کیا۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (OCAC) نے انتباہ کیا کہ اگر موجودہ پالیسی برقرار رہی تو غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سے نکل سکتے ہیں اور نسبتاً کمزور آئل کمپنیاں دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال نے حکومتی پالیسیوں اور اس کے معاشی اثرات پر ایک گرما گرم بحث کو جنم دیا۔
صارفین اور صنعتوں پر معاشی بوجھ
مالی سال 2025-26 کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے پاکستانی صارفین اور صنعتوں پر ایک بھاری معاشی بوجھ ڈالا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق، ایندھن کی بلند قیمتوں نے نہ صرف نقل و حمل کو مہنگا کیا بلکہ مجموعی مہنگائی میں بھی اضافہ کیا، جس کا براہ راست اثر عام شہریوں کی روزمرہ زندگی اور ان کی قوت خرید پر پڑا۔
کسانوں کو بھی مہنگے ڈیزل کا سامنا کرنا پڑا، جس نے زرعی پیداواری لاگت میں اضافہ کیا اور بالآخر خوراک کی قیمتوں پر اثر ڈالا۔ صنعتوں کے لیے، خاص طور پر وہ جو نقل و حمل اور مشینری کے لیے ڈیزل پر انحصار کرتی ہیں، آپریٹنگ لاگت میں اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال اس مالی سال کی ایک تلخ حقیقت تھی، جہاں ہر شہری، چاہے وہ موٹر سائیکل سوار ہو، ٹرانسپورٹر ہو یا کسان، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات محسوس کر رہا تھا۔ اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور افراط زر میں اضافے سے ملکی جی ڈی پی گروتھ متاثر ہوئی، جو 4.2 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 3.7 فیصد رہی۔
| اشیاء | قیمت میں اضافہ (مالی سال 2025-26) | کل قیمت (تقریباً جون 2026) | وجوہات |
|---|---|---|---|
| ہائی سپیڈ ڈیزل | 257.76 روپے فی لیٹر | 311.47 روپے فی لیٹر | عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، پٹرولیم لیوی |
| پیٹرول | 199.98 روپے فی لیٹر | 299.50 روپے فی لیٹر | عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، پٹرولیم لیوی |
| پیٹرولیم لیوی (ڈیزل) | 6.57 روپے فی لیٹر اضافہ | 79.54 روپے فی لیٹر | حکومتی ریونیو بڑھانے کی کوشش |
| پیٹرولیم لیوی (پیٹرول) | 0.39 روپے فی لیٹر اضافہ | 66.64 روپے فی لیٹر | حکومتی ریونیو بڑھانے کی کوشش |
مہنگائی کا دباؤ اور شہری زندگی پر اثرات
مالی سال 2025-26 میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے ملک بھر میں مہنگائی کو مزید فروغ دیا، جس سے عام شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی۔ ایندھن کی قیمتیں بڑھنے کا مطلب ہے کہ ٹرانسپورٹ، صنعت اور زراعت کی لاگت میں اضافہ، جو بالآخر صارفین کو اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان شماریات بیورو (پی بی ایس) کے مطابق، اکتوبر 2025 میں مہنگائی کی مجموعی شرح 6.24 فیصد تک پہنچ گئی، جس کی بنیادی وجہ کھانے پینے کی اشیاء اور توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ تھا۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے چار ماہ (جولائی سے اکتوبر) کے دوران اوسط مہنگائی 4.73 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے زیادہ تھی۔
مہنگائی میں یہ اضافہ صرف ابتدائی مہینوں تک محدود نہیں رہا۔ مئی 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح تقریباً 2 سال (23 ماہ) کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو 11.66 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جاری مالی سال کے پہلے 11 مہینوں (جولائی 2025 سے مئی 2026 تک) کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 6.69 فیصد رہی۔ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں مہنگائی کے اثرات یکساں شدت سے محسوس کیے گئے، جہاں خوراک، ٹرانسپورٹ اور یوٹیلیٹی سروسز (بجلی، گیس) سمیت تمام ضروری اشیاء و خدمات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی تھیں۔ ڈان نیوز اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2025 میں ٹماٹر (127 فیصد)، چینی (345 فیصد)، گندم (23 فیصد) جیسی اہم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ غیر خوراکی اشیاء میں گیس (23 فیصد) اور ٹرانسپورٹ خدمات (11 فیصد) مہنگی ہوئیں۔ اس صورتحال نے شہریوں کی قوت خرید کو شدید متاثر کیا اور ایک بڑے طبقے کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
سماجی و سیاسی مضمرات
ایندھن کی ہوشربا قیمتوں اور اس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے نہ صرف معاشی بلکہ سماجی اور سیاسی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ عام آدمی کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی، جس سے حکومت کے خلاف عوامی غصہ اور مایوسی میں اضافہ ہوا۔ جب بنیادی ضروریات کی اشیاء مہنگی ہوتی ہیں تو معاشرے کے کمزور طبقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جس سے غربت میں اضافہ اور سماجی ناہمواری پیدا ہوتی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کے لیے جینا مزید مشکل بنا دیا۔
سیاسی سطح پر، حکومت کو عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا اور انہیں عوام دشمن قرار دیا۔ اس صورتحال نے حکومت کے لیے عوامی حمایت برقرار رکھنا مشکل بنا دیا اور آئندہ انتخابات میں اس کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگایا۔ مشرق وسطیٰ میں جاری عالمی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی پر دباؤ بڑھنے کے امکانات بھی سیاسی حلقوں میں تشویش کا باعث بنے۔ اگرچہ حکومت نے ٹارگٹڈ سبسڈی جیسے اقدامات اٹھائے، لیکن ان کا اثر عوامی سطح پر محسوس نہیں کیا جا سکا، جس سے حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہوا۔
معاشی استحکام کی بجائے ریونیو جنریشن اور قرضوں کی ادائیگی پر زور دینے والی حکومتی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈیلی جسارت کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی معیشت کی حکمت عملی ترقیاتی توسیع کے بجائے ریونیو بڑھانے پر زیادہ مرکوز ہو گئی ہے، جس میں پیٹرولیم لیوی اور توانائی کی قیمتیں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ماڈل ریاستی آمدن کے لحاظ سے وقتی سہارا فراہم کرتا ہے، مگر اس کے اثرات عام شہری کی زندگی پر مسلسل مہنگائی اور مالی دباؤ کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
مستقبل کے امکانات اور ممکنہ حل
مالی سال 2025-26 کے تلخ تجربے کے بعد، پاکستان کے معاشی مستقبل اور ایندھن کی قیمتوں کے استحکام کے حوالے سے کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی سطح پر عوام کو ریلیف نہ ملنے کا مسئلہ اب بھی موجود ہے۔ مستقبل میں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ اور پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔
- مقامی ریفائننگ کی صلاحیت میں اضافہ: پاکستان کو تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی ریفائننگ کی صلاحیت کو بڑھانا ہو گا۔ اس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو بھی کم کیا جا سکے گا۔
- پٹرولیم لیوی میں توازن: حکومت کو پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کے اطلاق میں توازن برقرار رکھنا ہو گا تاکہ صارفین پر بلا ضرورت بوجھ نہ پڑے۔ آمدنی بڑھانے کے دیگر ذرائع تلاش کرنا ہوں گے تاکہ ایندھن پر انحصار کم ہو سکے۔
- متبادل توانائی کے ذرائع: ملک کو متبادل اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر سرمایہ کاری بڑھانی ہو گی، جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار۔ یہ نہ صرف توانائی کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے گا بلکہ ایندھن کی درآمدات پر دباؤ بھی کم کرے گا۔
- معاشی اصلاحات کا تسلسل: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے خبردار کیا ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور پائیدار ترقی کے لیے اصلاحات کے تسلسل اور محتاط معاشی پالیسیوں پر عمل ناگزیر ہے۔ سخت معاشی پالیسیاں اور اصلاحات پاکستان کی معیشت کو سہارا دے سکتی ہیں اور استحکام کی بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔
- عوامی ریلیف کے موثر پروگرام: حکومت کو ٹارگٹڈ سبسڈی پروگراموں کو مزید موثر بنانا ہو گا تاکہ حقیقی مستحقین تک ریلیف پہنچ سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے جامع پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی۔
ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، بڑے صنعتی شعبے کی ترقی، زرعی شعبے کی مضبوطی اور روپے کی قدر میں استحکام ضروری ہے۔ مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت ان چیلنجز سے کس طرح نمٹتی ہے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔
نتیجہ
مالی سال 2025-26 بلاشبہ پاکستانی صارفین کے لیے ایک انتہائی مشکل اور مہنگا سال ثابت ہوا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے نے ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا اور عام آدمی کی کمر توڑ دی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، حکومتی پٹرولیم لیوی اور داخلی معاشی مجبوریوں کا ایک پیچیدہ امتزاج اس صورتحال کا ذمہ دار تھا۔ اگرچہ حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے کچھ اقدامات کا ذکر کیا، لیکن ان کا اثر بڑے پیمانے پر محسوس نہیں کیا جا سکا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، گرتی ہوئی قوت خرید اور صنعتی شعبے پر بڑھتے ہوئے بوجھ نے ملکی معیشت کو مزید کمزور کیا اور سماجی بے چینی کو جنم دیا۔
اس سنگین صورتحال سے نکلنے کے لیے پاکستان کو نہ صرف فوری طور پر توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے ہوں گے بلکہ اپنی معاشی پالیسیوں کا بھی ازسرنو جائزہ لینا ہو گا۔ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز اور لیویز کا بوجھ کم کرنے، مقامی ریفائننگ کی صلاحیت بڑھانے اور پائیدار معاشی اصلاحات کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک ایندھن کی قیمتوں کا استحکام اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اختیار نہیں کی جاتی، پاکستانی صارفین کو اسی طرح کے معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا اور انہیں ملکی تاریخ کے مہنگے ترین ایندھن خریدنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
