نیپرا فکسڈ چارجز کا نفاذ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک بڑی اور بنیادی تبدیلی ہے جس نے نہ صرف عام صارفین بلکہ صنعتی حلقوں اور سولر انرجی استعمال کرنے والوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری کردہ ان نئے قواعد و ضوابط کا مقصد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی آمدنی کو مستحکم کرنا اور گردشی قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم پر قابو پانا ہے۔ تاہم، اس فیصلے کے نتیجے میں بجلی کے بلوں کی ساخت مکمل طور پر تبدیل ہو رہی ہے، جہاں اب بجلی کے استعمال کے ساتھ ساتھ منظور شدہ لوڈ (Sanctioned Load) پر بھی ماہانہ بنیادوں پر بھاری رقوم ادا کرنی ہوں گی۔ یہ مضمون ان تمام پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لے گا کہ کس طرح یہ فکسڈ چارجز ہر طبقے کے صارف کو متاثر کریں گے۔
نیپرا فکسڈ چارجز: ایک تعارف اور پس منظر
پاکستان میں بجلی کی قیمتوں کا تعین روایتی طور پر استعمال شدہ یونٹس کی بنیاد پر کیا جاتا رہا ہے۔ یعنی صارف جتنی بجلی استعمال کرتا تھا، اسے اتنی ہی قیمت ادا کرنی پڑتی تھی۔ تاہم، حالیہ برسوں میں بجلی کی کھپت میں کمی اور نجی سولر پینلز کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے گرڈ کی بجلی کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب، حکومت کو بجلی گھروں کو ‘کیپیسٹی پیمنٹس’ کی مد میں اربوں روپے ادا کرنے پڑتے ہیں، چاہے بجلی استعمال ہو یا نہ ہو۔
نیپرا فکسڈ چارجز دراصل وہ ماہانہ کرایہ ہے جو صارف کو اپنے میٹر کے منظور شدہ لوڈ (کلو واٹ) کے حساب سے ادا کرنا ہوگا۔ یہ چارجز بجلی کے استعمال سے مشروط نہیں ہیں؛ اگر آپ پورا مہینہ ایک یونٹ بھی بجلی استعمال نہیں کرتے لیکن آپ کا کنکشن فعال ہے، تب بھی آپ کو اپنے لوڈ کے مطابق یہ رقم ادا کرنی ہوگی۔ نیپرا کا موقف ہے کہ گرڈ اسٹیشنز اور ٹرانسمیشن لائنز کی دیکھ بھال کے اخراجات مستقل ہوتے ہیں، لہٰذا صارفین کو ان بنیادی ڈھانچے کے استعمال کا کرایہ ادا کرنا چاہیے۔
نئے ریگولیشنز کی بنیادی وجوہات اور آئی ایم ایف کا دباؤ
ان نئے قوانین کے نفاذ کے پیچھے متعدد معاشی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط ہیں، جو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سبسڈی کے خاتمے پر زور دیتی ہیں۔ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ 2.6 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جسے کم کرنے کے لیے حکومت کے پاس محصولات بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
مزید برآں، ملک میں نیٹ میٹرنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان نے امیر طبقے کو گرڈ کی مہنگی بجلی سے نجات دلا دی ہے، جس کا سارا بوجھ کم آمدنی والے صارفین اور صنعتوں پر آ رہا تھا۔ فکسڈ چارجز کے ذریعے نیپرا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ سولر پینل لگانے والے صارفین، جو گرڈ کو بطور ‘بیک اپ’ استعمال کرتے ہیں، وہ بھی سسٹم کی دیکھ بھال کا حصہ ڈالیں۔ اس اقدام سے حکومت کو امید ہے کہ وہ سالانہ اربوں روپے کی اضافی آمدنی حاصل کر سکے گی۔
گھریلو صارفین کے لیے فکسڈ چارجز کی نئی شرحیں
گھریلو صارفین کو ان نئے ضوابط کے تحت مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس سے قبل گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز یا تو سرے سے نہیں تھے یا بہت معمولی تھے۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ خاص طور پر وہ صارفین جو 301 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرتے ہیں یا جن کے پاس ٹائم آف یوز (TOU) میٹرز نصب ہیں، وہ اس کی زد میں آئیں گے۔
نیپرا کی دستاویزات کے مطابق، 5 کلو واٹ یا اس سے زائد کے لوڈ والے گھریلو صارفین پر 500 سے 1000 روپے فی کلو واٹ ماہانہ فکسڈ چارجز عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی گھر کا منظور شدہ لوڈ 5 کلو واٹ ہے اور شرح 1000 روپے فی کلو واٹ مقرر کی جاتی ہے، تو بل میں 5000 روپے کا اضافہ لازمی ہوگا۔ یہ اضافہ ان یونٹس کی قیمت کے علاوہ ہوگا جو صارف نے استعمال کیے ہیں۔ اس سے متوسط طبقے کے بجٹ پر شدید دباؤ پڑے گا۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ ہماری دیگر رپورٹس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
سولر نیٹ میٹرنگ صارفین پر فکسڈ چارجز کا اثر
سولر نیٹ میٹرنگ کے صارفین کے لیے یہ خبر کسی دھچکے سے کم نہیں ہے۔ نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کا مقصد قابل تجدید توانائی کو فروغ دینا تھا، لیکن فکسڈ چارجز اس مراعاتی اسکیم کی افادیت کو کم کر دیں گے۔ سولر صارفین عموماً دن کے وقت گرڈ کو بجلی فروخت کرتے ہیں اور رات کو گرڈ سے بجلی لیتے ہیں۔ ان کا خالص بل اکثر منفی یا بہت کم ہوتا ہے۔
نئے نظام کے تحت، سولر صارفین کو اپنے نصب شدہ سسٹم کی صلاحیت (Capacity) یا منظور شدہ لوڈ کے مطابق فکسڈ چارجز ادا کرنے ہوں گے۔ اگر کسی صارف نے 10 کلو واٹ کا سسٹم لگایا ہے، تو اسے ماہانہ ہزاروں روپے فکسڈ چارجز کی مد میں دینے ہوں گے، چاہے اس کا بجلی کا بل منفی میں ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے سولر سسٹم کی ‘پے بیک پیریڈ’ (Payback Period) طویل ہو جائے گا اور نئے صارفین کے لیے سولر لگوانا کم پرکشش ہو جائے گا۔ یہ پالیسی حکومت کے ‘گرین انرجی’ کے دعووں کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
صنعتی اور کمرشل صارفین کے لیے ٹیرف میں تبدیلیاں
صنعتی شعبہ پہلے ہی پیداواری لاگت میں اضافے کا رونا رو رہا ہے۔ نیپرا فکسڈ چارجز کا نفاذ صنعتوں کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف، حکومت کا دعویٰ ہے کہ فکسڈ چارجز بڑھانے سے فی یونٹ (Variable) قیمت کم ہو جائے گی، جس سے ان صنعتوں کو فائدہ ہوگا جو 24 گھنٹے اپنی پوری صلاحیت پر چلتی ہیں۔
دوسری طرف، وہ صنعتیں جو موسمی نوعیت کی ہیں یا جن کی پیداوار مارکیٹ کی طلب کے مطابق کم زیادہ ہوتی رہتی ہے، انہیں نقصان ہوگا۔ اگر فیکٹری بند بھی ہو، تب بھی انہیں بھاری فکسڈ چارجز ادا کرنے ہوں گے۔ کمرشل صارفین، جیسے شاپنگ مالز اور دفاتر، جن کا لوڈ فیکٹر کم ہوتا ہے، ان کے بلوں میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ تاجر برادری نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے کاروبار دشمن قرار دیا ہے۔
پرانے اور نئے نظام کا موازنہ (ڈیٹا ٹیبل)
ذیل میں دیے گئے جدول میں پرانے اور مجوزہ نئے نظام کا موازنہ کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو تبدیلی کی نوعیت سمجھنے میں آسانی ہو:
| خصوصیت | پرانا نظام (موجودہ) | نیا مجوزہ نظام (نیپرا فکسڈ چارجز) |
|---|---|---|
| چارجز کی بنیاد | زیادہ تر استعمال شدہ یونٹس پر | منظور شدہ لوڈ (kW) + استعمال شدہ یونٹس |
| گھریلو صارفین (5kW+) | معمولی یا کوئی فکسڈ چارجز نہیں | 500 سے 2000 روپے فی کلو واٹ (متوقع) |
| سولر نیٹ میٹرنگ | صرف نیٹ یونٹس کا بل | نیٹ بل + مکمل لوڈ کے فکسڈ چارجز |
| صنعتی ٹیرف | زیادہ انحصار کھپت پر | فکسڈ چارجز میں 300% سے 400% اضافہ |
| یونٹ ریٹ (Variable) | بہت زیادہ | نسبتاً کم (حکومتی دعویٰ) |
ڈسکوز (DISCOs) کا کردار اور وصولی کا طریقہ کار
بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (DISCOs) جیسے کہ لیسکو، کے الیکٹرک، اور میپکو وغیرہ اس نئے نظام کے نفاذ میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ ان کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام صارفین کے منظور شدہ لوڈ (Sanctioned Load) کا ازسرنو جائزہ لیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ صارفین کا منظور شدہ لوڈ کم ہوتا ہے لیکن وہ بجلی زیادہ استعمال کرتے (MDI) ہیں۔ اب صارفین پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے لوڈ کو ریگولرائز کروائیں، ورنہ انہیں جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وصولی کے طریقہ کار میں تبدیلی سے بلنگ سافٹ ویئرز میں بھی ترامیم کی جا رہی ہیں۔ صارفین کے بلوں میں اب ‘فکسڈ چارجز’ کا ایک واضح کالم ہوگا جو ہر ماہ ایک مستقل رقم ظاہر کرے گا۔ ڈسکوز کے لیے یہ ایک مستحکم ذریعہ آمدنی ہوگا کیونکہ بجلی چوری یا لائن لاسز کے باوجود فکسڈ چارجز کی وصولی یقینی بنائی جائے گی۔ مزید خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔
عوامی ردعمل اور معاشی ماہرین کا تجزیہ
عوامی حلقوں میں اس فیصلے کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اور اب بجلی استعمال کیے بغیر بھی بل ادا کرنا سراسر ظلم ہے۔ سوشل میڈیا پر مہمات چل رہی ہیں جن میں نیپرا سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کی رائے منقسم ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ توانائی کے شعبے کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے یہ ناگزیر تھا۔ ان کے مطابق، دنیا بھر میں یوٹیلیٹی کمپنیاں ‘ٹو پارٹ ٹیرف’ (Two-Part Tariff) سسٹم استعمال کرتی ہیں۔ تاہم، دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی چوری اور نااہلی کا بوجھ ایماندار صارفین پر ڈالنا دانشمندی نہیں ہے۔ یہ اقدام معیشت کو مزید سکیڑ دے گا اور قوت خرید میں کمی کا باعث بنے گا۔
کیپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ اور مستقبل کا لائحہ عمل
مسئلے کی جڑ دراصل ‘کیپیسٹی پیمنٹس’ ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ دہائی میں ضرورت سے زیادہ بجلی گھر لگائے، جن کے معاہدے ‘ٹیک آر پے’ (Take or Pay) کی بنیاد پر کیے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم ان کارخانوں سے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں، ہمیں ان کی تنصیب اور صلاحیت کا کرایہ ڈالروں میں ادا کرنا ہے۔ فکسڈ چارجز دراصل انہی کیپیسٹی پیمنٹس کو صارفین سے وصول کرنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔
مستقبل قریب میں بجلی سستی ہونے کے امکانات کم ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ صنعتی ٹیرف سے کراس سبسڈی ختم کر کے اسے علاقائی سطح پر مسابقتی بنایا جائے، لیکن اس کی قیمت گھریلو صارفین کو ادا کرنی پڑے گی۔ اگر یہ فکسڈ چارجز مکمل طور پر نافذ ہوتے ہیں، تو پاکستان میں توانائی کا استعمال کرنے کا کلچر تبدیل ہو جائے گا، اور لوگ گرڈ کنکشن کٹوانے یا آف گرڈ سولر سلوشنز کی طرف مزید تیزی سے بڑھیں گے۔
نتیجہ
نیپرا فکسڈ چارجز کا معاملہ انتہائی پیچیدہ اور حساس ہے۔ جہاں حکومت کے لیے گردشی قرضوں پر قابو پانا ضروری ہے، وہیں عام آدمی کی معاشی مشکلات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نئے ضوابط یقینی طور پر بجلی کے بلوں میں اضافے کا سبب بنیں گے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو کم بجلی استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا کنکشن لوڈ زیادہ ہے۔ سولر نیٹ میٹرنگ کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بجلی گھروں کے معاہدوں پر نظر ثانی کرے اور اپنی نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے نظام کی اصلاح پر توجہ دے۔ مزید مستند معلومات کے لیے آپ نیپرا کی سرکاری ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔


