spot_img

مقبول خبریں

جمع

سوکیش چندر شیکھر کا جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ کا ہیلی کاپٹر تحفہ: منی لانڈرنگ کیس کا نیا موڑ

سوکیش چندر شیکھر نے ویلنٹائن ڈے پر جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ مالیت کا ہیلی کاپٹر تحفہ میں دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ جانئے منی لانڈرنگ کیس اور ای ڈی کی تحقیقات کی مکمل تفصیلات اس خصوصی رپورٹ میں۔

5G سپیکٹرم نیلامی: پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب اور پی ٹی اے کا انفارمیشن میمورنڈم

5G سپیکٹرم نیلامی اور انفارمیشن میمورنڈم کا اجراء پاکستان میں ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز ہے۔ پی ٹی اے اور وزارت آئی ٹی کی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل کی تفصیلی رپورٹ۔

آئی ایم ایف اور پاکستان: بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور توانائی اصلاحات پر اہم مذاکرات

آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں اضافے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر تفصیلی تجزیہ۔ گردشی قرضے اور عوامی ریلیف کا احاطہ۔

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی وائرل ویڈیو: میرب علی کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی پرانی ویڈیو وائرل ہونے پر میرب علی کی پراسرار انسٹاگرام اسٹوری نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ تفصیلات اور تجزیہ جانئے۔

ایران جوہری مذاکرات: جنیوا میں جاری کشیدگی، امریکہ اور تہران کا نیا تنازعہ

ایران جوہری مذاکرات جنیوا میں فیصلہ کن موڑ پر۔ امریکہ اور تہران کے درمیان ایٹمی پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر تفصیلی تجزیہ پڑھیے۔

امریکی ڈالر کا پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ترین ریٹ اور معاشی اثرات

امریکی ڈالر کی قیمت اور پاکستانی روپے کی قدر میں توازن ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی معاشی تاریخ میں کرنسی کا اتار چڑھاؤ ہمیشہ سے ہی سرمایہ کاروں، تاجروں اور عام عوام کے لیے تشویش کا باعث رہا ہے۔ 15 فروری 2026 تک کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں اور ملکی سیاسی و معاشی حالات نے روپے کی قدر کو شدید دباؤ میں رکھا ہے۔ یہ مضمون نہ صرف موجودہ ایکسچینج ریٹ کا احاطہ کرے گا بلکہ ان محرکات کا بھی گہرائی سے جائزہ لے گا جو اس عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ ایک ترقی پذیر معیشت ہونے کے ناطے، پاکستان کے لیے زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنا اور ڈالر کی مانگ اور رسد میں توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

امریکی ڈالر کی موجودہ اہمیت اور پس منظر

امریکی ڈالر عالمی تجارت میں بطور ‘ریزرو کرنسی’ استعمال ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی طلب ہر وقت برقرار رہتی ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات، مشینری اور دیگر اہم اشیاء کی درآمد کے لیے ڈالر پر انحصار کرتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں یا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کا وقت آتا ہے، تو مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ ڈالر کی قدر میں غیر معمولی تیزی نے درآمدی اشیاء کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق، جب تک پاکستان اپنی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتا، ڈالر پر انحصار کم کرنا ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ، جغرافیائی سیاسی حالات اور خطے میں ہونے والی تبدیلیاں بھی براہ راست کرنسی مارکیٹ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ میں فرق

پاکستان میں ڈالر کے دو اہم ریٹ ہوتے ہیں: ایک انٹر بینک ریٹ اور دوسرا اوپن مارکیٹ ریٹ۔ انٹر بینک مارکیٹ وہ جگہ ہے جہاں بینک آپس میں غیر ملکی کرنسی کا لین دین کرتے ہیں اور یہ زیادہ تر درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دوسری جانب، اوپن مارکیٹ عام عوام، مسافروں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے ہوتی ہے۔

اکثر اوقات ان دونوں ریٹس میں واضح فرق دیکھا جاتا ہے، جسے ‘پریمیم’ یا ‘گیپ’ کہا جاتا ہے۔ جب مارکیٹ میں سٹے بازی یا غیر یقینی صورتحال ہو، تو اوپن مارکیٹ میں ڈالر انٹر بینک کی نسبت بہت مہنگا فروخت ہوتا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس فرق کو کم سے کم رکھا جائے تاکہ غیر قانونی ذرائع (جیسے حوالہ ہنڈی) کی حوصلہ شکنی ہو۔ حالیہ اقدامات کے بعد، ایکسچینج کمپنیز پر سخت نگرانی کی گئی ہے تاکہ مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کا محاسبہ کیا جا سکے اور دونوں مارکیٹوں کے درمیان فرق کو بین الاقوامی معیار کے مطابق 1.25 فیصد تک محدود رکھا جا سکے۔

ڈالر کی قیمت میں اضافے کے بنیادی اسباب

ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے کے پیچھے کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں سے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:

تجارتی خسارہ

پاکستان کا تجارتی خسارہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جب ہم دنیا سے زیادہ مال خریدتے ہیں (درآمدات) اور کم مال بیچتے ہیں (برآمدات)، تو ہمیں ادائیگی کے لیے زیادہ ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ عدم توازن روپے کی قدر کو گرا دیتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں بھاری ادائیگیاں اس خسارے کا ایک بڑا حصہ ہیں۔

غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی

پاکستان پر واجب الادا بیرونی قرضوں کا حجم بہت زیادہ ہے۔ ہر سال ان قرضوں کی واپسی اور ان پر سود کی ادائیگی کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوتے ہیں۔ جب قرض کی قسط ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے اور روپے کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کا کردار اور مانیٹری پالیسی

سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) مرکزی بینک ہونے کی حیثیت سے کرنسی کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ مانیٹری پالیسی کے ذریعے شرح سود کا تعین کیا جاتا ہے تاکہ مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے اور روپے کی قدر کو سہارا دیا جا سکے۔ جب ڈالر کی پرواز اونچی ہوتی ہے تو سٹیٹ بینک درآمدات پر کچھ پابندیاں عائد کرتا ہے، مثلاً لیٹر آف کریڈٹ (LCs) کھولنے کے لیے سخت شرائط لاگو کرنا۔ اس کا مقصد ڈالر کے اخراج کو روکنا ہے۔ تاہم، یہ اقدامات عارضی ثابت ہوتے ہیں اگر اس کے ساتھ ساختی اصلاحات نہ کی جائیں۔ سٹیٹ بینک مارکیٹ میں مداخلت کر کے بھی ڈالر کی رسد بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن کم زرمبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے یہ صلاحیت محدود ہوتی ہے۔

اہم غیر ملکی کرنسیوں کے متوقع نرخ (فروری 2026 – تخمینہ)
کرنسی علامت خرید (Buying) فروخت (Selling)
امریکی ڈالر USD 278.50 280.25
یورو EUR 301.20 304.00
برطانوی پاؤنڈ GBP 352.10 355.50
سعودی ریال SAR 74.15 74.90
متحدہ عرب امارات درہم AED 75.80 76.40

ڈالر کی اونچی اڑان اور مہنگائی کا تعلق

ڈالر کا ریٹ بڑھنے کا براہ راست اثر پاکستان میں عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ چونکہ پاکستان تیل، خوردنی تیل، ادویات کا خام مال اور دیگر ضروری اشیاء درآمد کرتا ہے، لہٰذا ڈالر مہنگا ہونے سے ان تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے، بجلی کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے (کیونکہ زیادہ تر بجلی گھر درآمدی ایندھن پر چلتے ہیں)، اور یوں مہنگائی کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ماہرین اسے ‘امپورٹڈ انفلیشن’ یا درآمدی مہنگائی کا نام دیتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی ایک بڑی وجہ روپے کی بے قدری ہی ہے۔

ترسیلات زر اور بیرون ملک پاکستانیوں کا کردار

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم (Remittances) پاکستان کی معیشت کے لیے آکسیجن کا کام کرتی ہیں۔ یہ رقوم تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ تاہم، اگر بینکنگ چینلز کے بجائے غیر قانونی ذرائع (حوالہ/ہنڈی) کا استعمال بڑھ جائے، تو ملک کو ڈالر کی مد میں نقصان ہوتا ہے۔ حکومت اور سٹیٹ بینک نے ‘روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ’ اور دیگر سکیموں کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ قانونی راستے سے پیسہ بھیجیں۔ جب ترسیلات زر میں اضافہ ہوتا ہے تو روپے پر دباؤ کم ہوتا ہے اور ایکسچینج ریٹ میں بہتری آتی ہے۔ سال 2026 کے ابتدائی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ترسیلات زر میں معمولی بہتری آئی ہے، جو خوش آئند ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کے اثرات

پاکستان کی معیشت کا گہرا تعلق آئی ایم ایف کے پروگراموں سے جڑا ہوا ہے۔ جب بھی آئی ایم ایف کی قسط جاری ہوتی ہے یا کسی نئے معاہدے پر پیشرفت ہوتی ہے، تو مارکیٹ میں اعتماد بحال ہوتا ہے اور روپیہ مستحکم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر آئی ایم ایف کی شرائط پوری نہ ہونے پر پروگرام تاخیر کا شکار ہو جائے، تو سرمایہ کاروں میں بے چینی پھیل جاتی ہے اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔ آئی ایم ایف اکثر مطالبہ کرتا ہے کہ کرنسی ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کے مطابق آزاد (Market-determined) رکھا جائے اور حکومت اس پر مصنوعی کنٹرول نہ رکھے۔ یہ شرط قلیل مدتی طور پر مہنگائی کا باعث بنتی ہے لیکن طویل مدتی استحکام کے لیے اسے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے آپ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ پر ہفتہ وار رپورٹ دیکھ سکتے ہیں۔

سال 2026 میں معاشی منظرنامہ اور مستقبل کی پیشگوئی

سال 2026 میں داخل ہوتے ہوئے، معاشی تجزیہ نگاروں کی رائے ملی جلی ہے۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے دوست ممالک سے سرمایہ کاری لانے کی کوششیں (جیسے SIFC کے تحت منصوبے) روپے کو سہارا دینے کی نوید سنا رہی ہیں، تو دوسری طرف بھاری بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں ایک مستقل خطرہ ہیں۔ اگر سیاسی استحکام برقرار رہتا ہے اور برآمدات بڑھانے کے لیے انڈسٹری کو سستی بجلی اور گیس فراہم کی جاتی ہے، تو امید کی جا سکتی ہے کہ ڈالر کا ریٹ ایک خاص سطح پر مستحکم ہو جائے گا۔ تاہم، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ یا عالمی کساد بازاری پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

ساختی اصلاحات کی ضرورت

مستقل حل کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی معیشت کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لائے۔ ٹیکس نیٹ کو بڑھانا، ریاستی اداروں کے نقصانات کو ختم کرنا اور زراعت و ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدید اصلاحات لانا ناگزیر ہے۔ صرف قرضے لے کر یا دوست ممالک سے ڈپازٹس رکھوا کر روپے کی قدر کو عارضی طور پر ہی بچایا جا سکتا ہے۔

خلاصہ اور ماہرین کی رائے

امریکی ڈالر کا ریٹ صرف ایک عدد نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی صحت کا عکاس ہے۔ موجودہ حالات میں جہاں ڈالر کی قیمت بلند سطح پر ہے، حکومت اور متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کرنسی سمگلنگ کی روک تھام، غیر ضروری درآمدات پر کنٹرول اور برآمدات میں اضافہ ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے روپے کی کھوئی ہوئی قدر بحال کی جا سکتی ہے۔ عوام اور کاروباری طبقے کو بھی چاہیے کہ وہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے سرکاری اعدادوشمار پر انحصار کریں اور معاشی سرگرمیوں کو قانونی دائرہ کار میں رہ کر فروغ دیں۔ آنے والے چند ماہ پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہوں گے اور ڈالر کے ریٹ کا انحصار حکومتی پالیسیوں کے تسلسل اور عملدرآمد پر ہوگا۔

spot_imgspot_img