spot_img

مقبول خبریں

جمع

سوکیش چندر شیکھر کا جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ کا ہیلی کاپٹر تحفہ: منی لانڈرنگ کیس کا نیا موڑ

سوکیش چندر شیکھر نے ویلنٹائن ڈے پر جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ مالیت کا ہیلی کاپٹر تحفہ میں دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ جانئے منی لانڈرنگ کیس اور ای ڈی کی تحقیقات کی مکمل تفصیلات اس خصوصی رپورٹ میں۔

5G سپیکٹرم نیلامی: پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب اور پی ٹی اے کا انفارمیشن میمورنڈم

5G سپیکٹرم نیلامی اور انفارمیشن میمورنڈم کا اجراء پاکستان میں ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز ہے۔ پی ٹی اے اور وزارت آئی ٹی کی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل کی تفصیلی رپورٹ۔

آئی ایم ایف اور پاکستان: بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور توانائی اصلاحات پر اہم مذاکرات

آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں اضافے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر تفصیلی تجزیہ۔ گردشی قرضے اور عوامی ریلیف کا احاطہ۔

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی وائرل ویڈیو: میرب علی کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی پرانی ویڈیو وائرل ہونے پر میرب علی کی پراسرار انسٹاگرام اسٹوری نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ تفصیلات اور تجزیہ جانئے۔

ایران جوہری مذاکرات: جنیوا میں جاری کشیدگی، امریکہ اور تہران کا نیا تنازعہ

ایران جوہری مذاکرات جنیوا میں فیصلہ کن موڑ پر۔ امریکہ اور تہران کے درمیان ایٹمی پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر تفصیلی تجزیہ پڑھیے۔

رمضان المبارک کی تیاری: جسمانی و روحانی تربیت اور معمولات کا جامع لائحہ عمل

رمضان المبارک اسلامی کیلنڈر کا وہ مقدس مہینہ ہے جس کا انتظار دنیا بھر کے مسلمان بے چینی سے کرتے ہیں۔ یہ محض بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ تزکیہ نفس، جسمانی تطہیر اور روحانی بلندی کا ایک سالانہ تربیتی کورس ہے۔ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مسلمانوں میں اس کے استقبال کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں انٹرنیٹ پر سرچ والیم کے اعداد و شمار سے یہ بات عیاں ہے کہ ماہِ شعبان کے آغاز کے ساتھ ہی ‘رمضان کی تیاری’، ‘عبادت کے معمولات’ اور ‘صحت مند ڈائٹ پلان’ جیسے موضوعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم جسمانی اور روحانی تیاری کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کریں گے تاکہ آپ اس بابرکت مہینے سے بھرپور مستفید ہو سکیں۔

رمضان المبارک کی آمد اور ہماری ذمہ داریاں

رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی فضا میں ایک خاص قسم کا سکون اور روحانیت پھیل جاتی ہے۔ تاہم، اس مہینے کی برکات کو مکمل طور پر سمیٹنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تیاری پہلے سے کی جائے۔ جس طرح ایک کھلاڑی کسی بڑے مقابلے سے قبل وارم اپ کرتا ہے، بالکل اسی طرح رمضان المبارک کے روزوں اور طویل عبادات کے لیے جسم اور روح کو تیار کرنا ناگزیر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جو لوگ اچانک یکم رمضان سے اپنے معمولات تبدیل کرتے ہیں، انہیں سر درد، تھکاوٹ اور معدے کی تکالیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے، تیاری کا آغاز شعبان سے ہی کر دینا دانشمندی ہے۔

ماہِ شعبان: روحانی اور جسمانی وارم اپ کا بہترین وقت

شعبان المعظم کو رمضان کا مقدمہ کہا جاتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ شعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رمضان کے فرض روزوں سے قبل نفلی روزوں کے ذریعے جسم کو بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا عادی بنایا جائے۔ روحانی اعتبار سے، شعبان میں قرآن پاک کی تلاوت کا دورانیہ بڑھا دینا چاہیے تاکہ رمضان میں تلاوت میں روانی برقرار رہے۔ اس مہینے میں اپنی نیتوں کو خالص کرنا اور گناہوں سے توبہ کرنا روحانی تیاری کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر آپ میراج نیوز ناؤ پر ہماری سابقہ رپورٹس دیکھیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ذہنی آمادگی جسمانی مشقت کو آسان بنا دیتی ہے۔

صحت مند طرز زندگی اور غذائی عادات میں بنیادی تبدیلیاں

رمضان المبارک میں کھانے پینے کے اوقات مکمل طور پر تبدیل ہو جاتے ہیں۔ دن بھر معدہ خالی رہتا ہے اور افطار کے وقت اچانک بھاری غذا کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ شعبان کے مہینے میں ہی اپنی غذائی عادات میں بتدریج تبدیلی لائی جائے۔

سب سے پہلے کیفین (چائے اور کافی) کا استعمال کم کریں۔ جو لوگ دن میں کئی بار چائے یا کافی پینے کے عادی ہیں، انہیں روزے کے دوران شدید سر درد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ دن کے اوقات میں کیفین کا استعمال ترک کر دیں اور اسے صرف صبح یا شام تک محدود رکھیں۔ دوم، پانی کا استعمال بڑھا دیں۔ جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ رمضان میں ڈی ہائیڈریشن سے بچا جا سکے۔ سوم، تلی ہوئی اور مرغن غذاؤں کا استعمال ابھی سے کم کر دیں تاکہ معدے کو ہلکی غذا کی عادت ہو اور رمضان میں تیزابیت کا مسئلہ نہ ہو۔

عبادت کا ٹائم ٹیبل اور تلاوت قرآن پاک کی منصوبہ بندی

رمضان المبارک میں وقت کی تنظیم (Time Management) سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ سحری، دفتر یا گھر کے کام، افطار کی تیاری، تراویح اور نیند کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک فن ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ایک تحریری ٹائم ٹیبل مرتب کریں۔

تلاوت قرآن پاک کے لیے ایک ہدف مقرر کریں۔ اگر آپ پورے مہینے میں قرآن پاک ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہر نماز کے بعد چار صفحات تلاوت کرنے کا معمول بنائیں۔ اسی طرح، ذکر و اذکار کے لیے مخصوص اوقات مختص کریں۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا استعمال محدود کر دیں کیونکہ یہ قیمتی وقت کا ضیاع ہے۔ ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے دن کو پانچ نمازوں کے گرد ترتیب دیں۔ Miraj News Now کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، جو افراد پہلے سے ٹائم ٹیبل مرتب کرتے ہیں، وہ رمضان میں دوسروں کی نسبت 30 فیصد زیادہ عبادت کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

رمضان ڈائٹ پلان: سحری اور افطار میں توازن کیسے برقرار رکھیں؟

صارفین کی جانب سے سب سے زیادہ تلاش کیا جانے والا موضوع ‘رمضان ڈائٹ پلان’ ہے۔ ایک متوازن غذا ہی آپ کو دن بھر توانا رکھ سکتی ہے۔ یہاں ہم سحری اور افطار کے لیے کچھ اہم اصول بیان کر رہے ہیں:

  • سحری: سحری میں ایسی غذاؤں کا انتخاب کریں جو دیر پا توانائی فراہم کریں اور جن میں فائبر کی مقدار زیادہ ہو۔ چکی کے آٹے کی روٹی، دلیہ، انڈے، دہی اور کھجور بہترین انتخاب ہیں۔ یہ چیزیں خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھتی ہیں اور جلد بھوک نہیں لگنے دیتیں۔ سفید آٹا اور چینی سے پرہیز کریں۔
  • افطار: روزہ کھولتے وقت کھجور اور پانی کا استعمال سنت ہے۔ ایک دم بہت زیادہ پانی پینے سے گریز کریں۔ تلی ہوئی چیزوں (پکوڑے، سموسے) کی بجائے پھل، چنا چاٹ اور دہی بڑوں کو ترجیح دیں۔ پروٹین کے لیے مرغی یا مچھلی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جسمانی ہمت اور نیند کے معمولات میں بہتری

رمضان المبارک میں نیند کا دورانیہ تقسیم ہو جاتا ہے۔ رات کو تراویح اور پھر سحری کے لیے بیدار ہونا نیند کے تسلسل کو توڑتا ہے۔ اس کے لیے ‘پولی فیزک سلیپ’ (Polyphasic Sleep) کا طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے، یعنی نیند کو حصوں میں پورا کرنا۔ مثلاً، رات کو تراویح کے بعد سو جائیں، سحری کے وقت بیدار ہوں، اور پھر فجر کے بعد یا ظہر کے وقت قیلولہ (Power Nap) کریں۔

جسمانی ہمت بڑھانے کے لیے ہلکی ورزش بھی ضروری ہے۔ افطار کے ایک گھنٹے بعد 20 سے 30 منٹ کی واک نظام انہضام کو بہتر بناتی ہے اور سستی کو دور کرتی ہے۔ یاد رکھیں، رمضان میں ورزش کا مقصد وزن کم کرنا نہیں بلکہ جسمانی فٹنس کو برقرار رکھنا ہونا چاہیے۔

موازنہ: عام دنوں اور رمضان کے معمولات

نیچے دیے گئے جدول میں عام دنوں اور رمضان المبارک کے دوران مثالی معمولات کا موازنہ پیش کیا گیا ہے تاکہ آپ بہتر منصوبہ بندی کر سکیں:

سرگرمی عام دنوں کے معمولات رمضان المبارک کے مثالی معمولات
صبح کا آغاز ناشتہ (7:00 – 8:00 بجے) سحری (فجر سے قبل) + نماز فجر
کھانے کے اوقات دن میں 3 بڑے کھانے + اسنیکس صرف دو بڑے کھانے (سحری و افطار)
نیند مسلسل 7-8 گھنٹے رات کو رات کو 4-5 گھنٹے + دوپہر کا قیلولہ
عبادت فرض نمازیں فرض نمازیں + تراویح + قیام اللیل
جسمانی سرگرمی جم یا سخت ورزش ہلکی واک یا اسٹریچنگ

دائمی امراض اور طبی ماہرین کی آراء

ذیابیطس (شوگر)، بلڈ پریشر اور دیگر دائمی امراض میں مبتلا افراد کو رمضان کی آمد سے قبل اپنے معالج سے مشورہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ادویات کے اوقات میں تبدیلی اور ڈوز کی ایڈجسٹمنٹ کے بغیر روزہ رکھنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو سحری میں ایسی غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے جو شوگر لیول کو یکدم بڑھا دیں۔ مزید براں، ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو افطار میں نمک اور چکنائی کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ صحت کے عالمی اداروں یا عالمی ادارہ صحت (WHO) کی گائیڈ لائنز بھی دیکھ سکتے ہیں۔

خیرات اور صدقہ: تزکیہ نفس اور سماجی ذمہ داری

رمضان المبارک کا ایک اہم پہلو ہمدردی اور ایثار ہے۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔ تیاری کے مرحلے میں ہمیں اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں کی فہرست تیار کرنی چاہیے۔ زکوٰۃ کا حساب لگانا اور راشن بیگز کی تقسیم کا انتظام شعبان میں ہی مکمل کر لینا چاہیے تاکہ رمضان میں آپ کا زیادہ وقت عبادت میں گزرے نہ کہ انتظامی امور میں۔ صدقہ و خیرات نہ صرف مصیبتوں کو ٹالتا ہے بلکہ یہ دل کی نرمی اور روحانی پاکیزگی کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ ہمارے پلیٹ فارم mirajnewsnow.com پر سماجی فلاح و بہبود کے حوالے سے مزید مضامین بھی دستیاب ہیں جو آپ کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔

نتیجہ

رمضان المبارک ایک عظیم تحفہ ہے اور اس کی قدر وہی جانتا ہے جو اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہو۔ اگر ہم شعبان کے ایام کو غفلت میں گزار دیں گے تو رمضان کے ابتدائی دن سستی اور تھکاوٹ کی نذر ہو جائیں گے۔ لہٰذا آج ہی سے اپنی نیت درست کریں، توبہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں، اپنی غذائی عادات کو بہتر بنائیں اور ایک مضبوط ٹائم ٹیبل کے ساتھ اس مہمان کا استقبال کریں۔ یاد رکھیں، بہترین رمضان وہ ہے جس کا اثر رمضان کے بعد بھی آپ کی زندگی میں نظر آئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہِ مقدس کی برکات سے مکمل طور پر فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

spot_imgspot_img