افغان طالبان کی عبوری حکومت نے فروری 2026 کے اوائل میں ایک نیا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے خواتین کی سماجی اور معاشی زندگی پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس نے نہ صرف افغان خواتین کو مزید تنہائی کا شکار کر دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ اقدامات ان امیدوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہیں جو بین الاقوامی برادری نے طالبان کے ساتھ مشروط تعامل کے ذریعے وابستہ کر رکھی تھیں۔ حالیہ احکامات کے تحت، خواتین کو اب ان چند محدود شعبوں سے بھی بے دخل کیا جا رہا ہے جہاں وہ اب تک کام کرنے کی مجاز تھیں۔ یہ صورتحال افغانستان کے پہلے سے کمزور معاشی ڈھانچے کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے، جہاں آبادی کا نصف حصہ پیداواری عمل سے مکمل طور پر کاٹ دیا گیا ہے۔
نئی پابندیوں کا اطلاق اور پس منظر
افغان طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلسل ایسے فرمان جاری کیے جاتے رہے ہیں جن کا مقصد خواتین کو عوامی زندگی سے محدود کرنا ہے۔ تاہم، 2026 کے آغاز میں سامنے آنے والی پالیسیاں شدت کے اعتبار سے گزشتہ تمام اقدامات سے زیادہ سخت ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، کابل اور دیگر بڑے شہروں میں خواتین کو نجی دفاتر، بیوٹی سیلونز (جو پہلے ہی بند کیے جا چکے تھے) کے بعد اب گھریلو دستکاری اور آن لائن فری لانسنگ جیسے شعبوں میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شریعت کے نفاذ کا حصہ ہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں افغان معاشرے کو پسماندگی کی جانب دھکیل رہی ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں دیگر ممالک معاشی ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں، افغانستان کا یہ رجحان اسے عالمی دھارے سے مزید کاٹ رہا ہے۔ مثال کے طور پر، پڑوسی ممالک کے مابین ہونے والا بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ اور علاقائی اثرات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دنیا کس تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جبکہ افغانستان اندرونی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
خواتین کے روزگار اور معاشی سرگرمیوں پر کاری ضرب
افغانستان میں خواتین کا روزگار محض صنفی برابری کا مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی بقا کا سوال ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، بہت سے گھرانوں کی واحد کفیل خواتین تھیں، خاص طور پر وہ بیوہ خواتین جن کے شوہر گزشتہ چار دہائیوں کی جنگوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ افغان طالبان کے نئے احکامات نے ان خواتین سے روٹی کمانے کا حق بھی چھین لیا ہے۔
بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی رپورٹ کے مطابق، خواتین کے کام کرنے پر پابندی سے افغانستان کی جی ڈی پی کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ زراعت، صحت اور تعلیم کے شعبوں کے علاوہ، چھوٹے پیمانے پر چلنے والے کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ کابل کی مارکیٹوں میں جہاں کبھی خواتین خریدار اور دکاندار نظر آتی تھیں، اب وہاں ہو کا عالم ہے۔ طالبان حکام نے خواتین دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی دکانیں مرد رشتہ داروں کے حوالے کر دیں یا کاروبار بند کر دیں۔
کابل صنعتی نمائش اور خواتین کی شرکت پر پابندی
حالیہ دنوں میں کابل ایکسپو کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد ملکی مصنوعات کو فروغ دینا تھا۔ تاہم، اس نمائش میں خواتین تاجروں کی عدم شرکت نے بہت سے سوالات کو جنم دیا۔ ماضی میں، کابل صنعتی نمائش خواتین کی تیار کردہ دستکاری، قالین اور دیگر مصنوعات کی نمائش کا ایک اہم ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ افغان خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بتایا کہ طالبان حکام نے خواتین کو نمائش میں اسٹال لگانے سے منع کر دیا اور یہاں تک کہ خواتین کے داخلے کے لیے بھی سخت شرائط عائد کیں۔
یہ اقدام نہ صرف خواتین کی حوصلہ شکنی کا باعث بنا بلکہ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی منفی پیغام گیا۔ غیر ملکی وفود، جو اکثر ایسی نمائشوں میں شرکت کرتے ہیں، نے خواتین کی غیر موجودگی کو نوٹ کیا اور اسے افغانستان کے کاروباری ماحول کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا۔
وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کریک ڈاؤن
افغان طالبان کی حکومت میں وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر سب سے زیادہ بااثر ادارہ بن چکا ہے۔ اس وزارت کے اہلکار گلی محلے کی سطح پر خواتین کے لباس، ان کی نقل و حرکت اور محرم کے ساتھ ہونے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ فروری 2026 میں وزارت نے نئے ضوابط جاری کیے جن کے تحت ٹیکسی ڈرائیوروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ بغیر محرم اور مکمل پردے کے بغیر خواتین کو گاڑی میں نہ بیٹھائیں۔
یہ سختیاں صرف سڑکوں تک محدود نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، گھروں کی تلاشی اور نجی محفلوں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ خواتین غیر شرعی سرگرمیوں میں ملوث تو نہیں ہیں۔ اس خوف کے ماحول نے خواتین کی نفسیاتی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
تعلیمی اور سماجی زندگی میں خواتین کا کردار
تعلیم کے شعبے میں صورتحال بدستور سنگین ہے۔ لڑکیوں کے لیے ثانوی اسکول اور یونیورسٹیاں بند ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں، اور اب پرائمری سطح پر بھی نصاب میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ افغان طالبان کا موقف ہے کہ جب تک


