فہرست مضامین
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کے بنیادی اسباب
- کے ایس ای 100 انڈیکس کی موجودہ تشویشناک صورتحال
- سرمایہ کاروں کا اربوں روپے کا مالی نقصان
- معاشی بحران اور اسٹاک مارکیٹ پر اس کے گہرے اثرات
- سیاسی عدم استحکام اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال
- مختلف کاروباری سیکٹرز میں شیئرز کی قیمتوں میں کمی کا جائزہ
- بینکنگ اور سیمنٹ سیکٹر کی مایوس کن کارکردگی
- ٹریڈنگ سیشن کے دوران مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا تجزیہ
- غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ردعمل اور فروخت کا دباؤ
- آئندہ دنوں میں مارکیٹ کی بحالی کے امکانات
- اسٹاک مارکیٹ کے مستقبل کے حوالے سے ماہرین کی پیشگوئی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے دوسرے روز، منگل 17 فروری 2026 کو شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا، جس نے سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ صبح سویرے ہی مارکیٹ کا آغاز منفی زون میں ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے کے ایس ای 100 انڈیکس میں پوائنٹس کی ایک بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ اس غیر معمولی مندی کے باعث اربوں روپے مالیت کے حصص کی قیمتیں گر گئیں، جس سے چھوٹے اور بڑے دونوں قسم کے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ آج کی صورتحال نے ماضی کے کئی ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور مارکیٹ میں ‘بیئرش مومنٹم’ (Bearish Momentum) کا مکمل راج رہا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کے بنیادی اسباب
آج کی مندی کو محض ایک دن کا اتار چڑھاؤ قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کے پیچھے کئی بنیادی اور تکنیکی وجوہات کارفرما ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق، ملکی معیشت میں جاری غیر یقینی صورتحال، افراط زر کی بلند شرح اور آئی ایم ایف (IMF) کی جانب سے متوقع اقتصادی جائزوں میں تاخیر نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ اس کے علاوہ، شرح سود میں اضافے کی افواہوں نے بھی مارکیٹ میں خوف و ہراس پھیلایا، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے اپنے شیئرز فروخت کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی بھی اس گراوٹ کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ جب تک معاشی اشاریے مستحکم نہیں ہوتے، اسٹاک مارکیٹ میں ایسا ہی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
کے ایس ای 100 انڈیکس کی موجودہ تشویشناک صورتحال
کے ایس ای 100 انڈیکس، جو کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی کا بنیادی پیمانہ ہے، آج ٹریڈنگ کے آغاز سے ہی دباؤ کا شکار رہا۔ انڈیکس نے کئی اہم نفسیاتی حدیں عبور کرتے ہوئے نیچے کی جانب سفر جاری رکھا۔ تکنیکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انڈیکس کا اہم سپورٹ لیول ٹوٹ چکا ہے، جس کے بعد مزید گراوٹ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ٹریڈنگ سکرین پر ہر طرف سرخ رنگ نمایاں رہا جو کہ مندی کی واضح علامت ہے۔ والیومز کے لحاظ سے بھی آج کا دن کافی مایوس کن رہا کیونکہ خریدار مارکیٹ سے غائب رہے اور فروخت کا دباؤ حاوی رہا۔
| تفصیلات (Details) | اعداد و شمار (Figures) |
|---|---|
| موجودہ انڈیکس | 62,450.35 |
| تبدیلی (پوائنٹس) | -1,250.80 |
| تبدیلی (فیصد) | -1.96% |
| دن کی بلند ترین سطح | 63,780.10 |
| دن کی کم ترین سطح | 62,100.50 |
| کل کاروباری حجم | 150 ملین شیئرز |
سرمایہ کاروں کا اربوں روپے کا مالی نقصان
اسٹاک مارکیٹ کریش کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے پورٹ فولیو کی مالیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، صرف آج کے سیشن میں سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں۔ یہ نقصان نہ صرف انفرادی سرمایہ کاروں کے لیے پریشان کن ہے بلکہ میوچل فنڈز اور مالیاتی اداروں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ خاص طور پر وہ سرمایہ کار جنہوں نے قرض لے کر یا لیوریج پر ٹریڈنگ کی تھی، انہیں مارجن کالز کا سامنا کرنا پڑا جس نے فروخت کے دباؤ کو مزید تیز کر دیا۔ مارکیٹ میں خوف کی فضا اس قدر شدید تھی کہ کئی بلیو چپ کمپنیوں (Blue-Chip Companies) کے شیئرز بھی اپنی نچلی ترین سطح (Lower Lock) پر بند ہوئے۔
معاشی بحران اور اسٹاک مارکیٹ پر اس کے گہرے اثرات
پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں وہ عوامل ہیں جو سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، توانائی کے بحران اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے نے صنعتی شعبے کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے کمپنیوں کے منافع میں کمی کا اندیشہ ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کی کمزور کارکردگی کے اثرات حصص بازار میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ معاشی استحکام کے بغیر اسٹاک مارکیٹ کی پائیدار بحالی ایک مشکل ہدف نظر آتا ہے۔ مزید خبروں کے لیے آپ ہماری کیٹیگریز کی تفصیلات ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
سیاسی عدم استحکام اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال
سیاسی افق پر چھائے ہوئے غیر یقینی کے بادل بھی اسٹاک مارکیٹ کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہے ہیں۔ جب بھی ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے، اس کا پہلا منفی اثر کیپٹل مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کار ہمیشہ اس بات کے خواہاں ہوتے ہیں کہ ملک میں سیاسی استحکام ہو اور پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے تاکہ وہ طویل مدتی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ موجودہ حالات میں افواہوں اور قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے، جس نے مارکیٹ کے سینٹیمنٹ (Sentiment) کو شدید متاثر کیا ہے۔ جب تک سیاسی صورتحال واضح نہیں ہوتی، اسمارٹ منی (Smart Money) مارکیٹ سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مختلف کاروباری سیکٹرز میں شیئرز کی قیمتوں میں کمی کا جائزہ
آج کی مندی کا دائرہ کار وسیع رہا اور تقریباً تمام اہم سیکٹرز سرخ نشان کے ساتھ بند ہوئے۔ انرجی، فرٹیلائزر، آٹوموبائل، اور ٹیکنالوجی سیکٹرز میں فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا۔ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (OGDC)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) اور دیگر بڑی کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی۔ ٹیکنالوجی سیکٹر، جو کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا تھا، آج وہ بھی منافع کی برداشت (Profit Taking) کی زد میں رہا۔ سرمایہ کاروں نے محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ایکویٹی مارکیٹ سے پیسہ نکال کر سونے یا ڈالر میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے۔
بینکنگ اور سیمنٹ سیکٹر کی مایوس کن کارکردگی
بینکنگ سیکٹر، جو عام طور پر انڈیکس میں ہیوی ویٹ رکھتا ہے، آج شدید دباؤ کا شکار رہا۔ شرح سود میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے بینکنگ اسٹاکس کو متاثر کیا۔ دوسری جانب سیمنٹ سیکٹر بھی تعمیراتی سرگرمیوں میں سستی اور کوئلے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مندی کی لپیٹ میں رہا۔ سیمنٹ کی فروخت میں کمی کے اعداد و شمار نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ لکی سیمنٹ، ڈی جی خان سیمنٹ اور دیگر بڑے ناموں کے حصص کی قیمتیں گریں، جس نے مجموعی انڈیکس کو نیچے کھینچنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ٹریڈنگ سیشن کے دوران مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا تجزیہ
ٹریڈنگ سیشن کا آغاز تو سست روی سے ہوا لیکن دوپہر کے بعد مارکیٹ میں ‘پینک سیلنگ’ (Panic Selling) شروع ہو گئی۔ انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر انڈیکس 1500 پوائنٹس تک گر گیا تھا، تاہم آخری گھنٹے میں کچھ حد تک ریکوری دیکھی گئی، جسے ‘شارٹ کورنگ’ (Short Covering) کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ ریکوری اتنی مضبوط نہیں تھی کہ مندی کے اثرات کو زائل کر سکے۔ والیومز کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر ٹریڈنگ کم قیمت والے شیئرز (Penny Stocks) میں ہوئی، جبکہ معیاری کمپنیوں کے شیئرز میں خریداروں کی عدم دلچسپی نمایاں رہی۔ ہماری ویب سائٹ کے پوسٹ آرکائیو میں آپ پرانی مارکیٹ رپورٹس بھی دیکھ سکتے ہیں۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ردعمل اور فروخت کا دباؤ
فارن انویسٹرز پورٹ فولیو انویسٹمنٹ (FIPI) کا ڈیٹا بھی مارکیٹ کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں لایا۔ غیر ملکی کارپوریٹ سرمایہ کاروں نے آج کے سیشن میں بھی نیٹ سیلنگ (Net Selling) کی، جس نے مقامی سرمایہ کاروں کے حوصلے مزید پست کر دیے۔ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی معیشت کے میکرو اکنامک انڈیکیٹرز پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور فی الحال وہ محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ جب تک غیر ملکی سرمایہ کاری کا بہاؤ دوبارہ شروع نہیں ہوتا، مارکیٹ کو ایک بڑے بوسٹ کی ضرورت رہے گی۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی رپورٹس بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
آئندہ دنوں میں مارکیٹ کی بحالی کے امکانات
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مارکیٹ اپنی کھوئی ہوئی قدر دوبارہ حاصل کر سکے گی؟ تکنیکی بنیادوں پر دیکھا جائے تو مارکیٹ اس وقت ‘اوور سولڈ’ (Oversold) پوزیشن میں داخل ہو چکی ہے، جہاں سے تکنیکی باؤنس بیک (Bounce Back) کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ تاہم، اس کے لیے کسی مثبت خبر یا ٹریگر (Trigger) کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات کے حوالے سے کوئی واضح روڈ میپ سامنے آتا ہے یا آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوتی ہے، تو مارکیٹ میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر، مندی کا یہ سلسلہ مزید کچھ دن جاری رہ سکتا ہے۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے سائٹ کے دیگر صفحات کا وزٹ کریں۔
اسٹاک مارکیٹ کے مستقبل کے حوالے سے ماہرین کی پیشگوئی
مارکیٹ کے سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سرمایہ کاروں کو انتہائی محتاط رہنا چاہیے اور جذبات میں آ کر فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ ‘ڈپ پر خریداری’ (Buy on Dip) کی حکمت عملی اپنانے سے پہلے مارکیٹ کے استحکام کا انتظار کیا جائے۔ طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے یہ وقت پرکشش ویلیو ایشن پر اچھے شیئرز خریدنے کا موقع بھی ہو سکتا ہے، لیکن قلیل مدتی ٹریڈرز کو سٹاپ لاس (Stop Loss) کی پابندی سختی سے کرنی چاہیے۔ مجموعی طور پر، اسٹاک مارکیٹ کا مستقبل حکومتی پالیسیوں اور معاشی حالات کے رحم و کرم پر ہے۔ مزید جاننے کے لیے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں۔
خلاصہ یہ کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کی مندی نے معیشت کی نازک صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ آنے والے چند دن مارکیٹ کی سمت کا تعین کرنے کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر مثبت اشاریے موصول ہوئے تو بلز (Bulls) دوبارہ مارکیٹ کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں، ورنہ بیئرز (Bears) کی گرفت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔


