فہرست مضامین
- مشرق وسطیٰ میں مغربی مداخلت اور روسی تشویش کا پس منظر
- ایران عرب تعلقات: معمول پر لانے کا عمل اور رکاوٹیں
- سرگئی لاوروف کا دو ٹوک موقف اور سفارتی انتباہ
- اسرائیلی مداخلت اور خطے میں تقسیم کی حکمت عملی
- خلیج فارس کی سیکیورٹی: روسی اجتماعی سلامتی کا تصور
- امریکہ اور مغربی طاقتوں کا “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کا ایجنڈا
- تہران اور ریاض کے درمیان تعلقات کی بحالی میں عالمی کردار
- مستقبل کا تزویراتی منظرنامہ اور علاقائی اتحاد کی ضرورت
روسی سفارتکاری نے حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ، خاص طور پر خلیج فارس کے خطے میں مغربی اور اسرائیلی مداخلت کے خلاف ایک سخت اور اصولی موقف اختیار کیا ہے۔ روس کی وزارت خارجہ اور کریملن کے اعلیٰ حکام، بشمول وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ خطے میں بیرونی طاقتوں کی فوجی اور سیاسی مداخلت نہ صرف علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان ابھرتے ہوئے مثبت تعلقات اور معمول پر لانے (Normalization) کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی ہے۔ یہ مضمون روسی سفارتی نقطہ نظر سے ان پیچیدہ جیو پولیٹیکل حالات کا گہرائی سے جائزہ لیتا ہے، جہاں ماسکو نے واشنگٹن اور تل ابیب کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں مغربی مداخلت اور روسی تشویش کا پس منظر
مشرق وسطیٰ ہمیشہ سے ہی عالمی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی کا مرکز رہا ہے، لیکن موجودہ دور میں یہ کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ روسی فیڈریشن کا خیال ہے کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی خطے میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے مصنوعی بحران پیدا کر رہے ہیں۔ روس کے مطابق، مغربی طاقتیں خلیجی ممالک کو ایران کے مبینہ خطرے سے ڈرا کر اپنے مہنگے ہتھیار فروخت کرنے اور خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
ماسکو کا کہنا ہے کہ جب بھی مشرق وسطیٰ کے ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور ایران، اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مغربی مداخلت کا عنصر متحرک ہو جاتا ہے۔ روس کی نظر میں، یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کا مقصد خطے کو مستقل عدم استحکام کا شکار رکھنا ہے تاکہ تیل کی سپلائی اور تزویراتی راستوں پر مغربی کنٹرول برقرار رہ سکے۔ بین الاقوامی خبریں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر اس طرز عمل کی مذمت کی ہے۔
ایران عرب تعلقات: معمول پر لانے کا عمل اور رکاوٹیں
ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی، جس میں چین نے ایک کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، روس کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت تھی۔ تاہم، روسی سفارتکاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل مغربی طاقتوں اور اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ ایران عرب نارملائزیشن کا عمل درحقیقت اس “ایران فوبیا” کے بیانیے کو کمزور کرتا ہے جسے مغرب اور اسرائیل نے دہائیوں سے پروان چڑھایا ہے۔
روس کا ماننا ہے کہ اگر تہران اور ریاض کے درمیان تعلقات مکمل طور پر بحال ہو جاتے ہیں اور اعتماد سازی کے اقدامات کامیاب ہوتے ہیں، تو خلیج فارس میں امریکی سیکیورٹی چھتری کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں روس مغربی اور اسرائیلی کوششوں کو تخریبی قرار دیتا ہے۔ ماسکو کے مطابق، مغربی میڈیا اور تھنک ٹینکس مسلسل ان اختلافات کو ہوا دینے میں مصروف ہیں جو ماضی کا حصہ بن چکے ہیں، تاکہ عرب عوام کے ذہنوں میں ایران کے حوالے سے شکوک و شبہات برقرار رہیں۔
| تزویراتی عنصر | روسی نقطہ نظر | مغربی (امریکہ/اسرائیل) حکمت عملی |
|---|---|---|
| علاقائی سلامتی | اجتماعی سلامتی (ایران کی شمولیت کے ساتھ) | ایران کو تنہا کرنا اور عرب نیٹو کا قیام |
| تنازعات کا حل | مذاکرات اور سفارتی معمول | پابندیاں اور فوجی دباؤ |
| فوجی موجودگی | غیر ملکی افواج کا انخلاء | فوجی اڈوں میں توسیع |
| توانائی کی سیاست | اوپیک پلس (OPEC+) میں تعاون | قیمتوں پر کنٹرول اور منڈیوں میں مسابقت |
سرگئی لاوروف کا دو ٹوک موقف اور سفارتی انتباہ
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے متعدد بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے مسائل کا حل خطے کے اندر سے ہی آنا چاہیے۔ اپنے حالیہ بیانات میں، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی “قوانین پر مبنی آرڈر” (Rules-based Order) کی آڑ میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ لاوروف کے مطابق، مغربی طاقتیں ایران کو ایک اچھوت ریاست بنا کر رکھنا چاہتی ہیں، جبکہ روس ایران کو خطے کا ایک ناگزیر اور ذمہ دار اسٹیک ہولڈر سمجھتا ہے۔
لاوروف نے خصوصی طور پر اسرائیل کی جانب سے شام اور دیگر مقامات پر ہونے والی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو ان کے مطابق ایران کو اشتعال دلانے اور وسیع پیمانے پر جنگ چھیڑنے کی کوشش ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی یہ پالیسی نہ صرف خود اسرائیل کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ پورے مشرق وسطیٰ کو آگ میں جھونک سکتی ہے، جس سے عرب ممالک کی معیشتیں بھی بری طرح متاثر ہوں گی۔
اسرائیلی مداخلت اور خطے میں تقسیم کی حکمت عملی
روس کی تزویراتی سوچ کے مطابق، اسرائیل کا عرب دنیا کے ساتھ تعلقات قائم کرنا (ابراہیمی معاہدے) اپنی اصل روح میں امن کا قیام نہیں بلکہ ایران کے خلاف ایک عسکری اتحاد تشکیل دینا ہے۔ ماسکو اس بات پر گہری تشویش رکھتا ہے کہ اسرائیل ان معاہدوں کو استعمال کرتے ہوئے خلیجی ممالک کے سیکیورٹی انفراسٹرکچر میں داخل ہو رہا ہے۔ روسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی موجودگی خلیج فارس میں جاسوسی اور تخریب کاری کے نیٹ ورکس کو مضبوط کرنے کا باعث بن رہی ہے، جس کا براہ راست ہدف ایران ہے۔
روسی سفارتکاری اس بات پر زور دیتی ہے کہ عرب ممالک کو اسرائیل کے اس جال میں نہیں پھنسنا چاہیے کہ ان کا اصل دشمن ایران ہے۔ ماسکو کے مطابق، ایک مستحکم اور باہمی تعاون پر مبنی مشرق وسطیٰ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے راستے میں رکاوٹ ہے، اسی لیے تل ابیب تہران اور ریاض کے درمیان کسی بھی قسم کی قربت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
خلیج فارس کی سیکیورٹی: روسی اجتماعی سلامتی کا تصور
روس نے مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے باقاعدہ طور پر “خلیج فارس میں اجتماعی سلامتی کا تصور” (Collective Security Concept) پیش کیا ہے۔ یہ منصوبہ مغربی ماڈل کے بالکل برعکس ہے۔ جہاں مغرب تقسیم اور اتحاد سازی (Alliances) پر یقین رکھتا ہے، وہاں روسی منصوبہ شمولیت (Inclusivity) پر مبنی ہے۔ اس تصور کے تحت، خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک اور ایران کو ایک میز پر بیٹھ کر مشترکہ سیکیورٹی میکانزم بنانا چاہیے۔
اس روسی تجویز میں یہ بھی شامل ہے کہ خطے سے تمام غیر ملکی افواج کا انخلاء کیا جائے اور علاقائی ممالک خود اپنی سمندری گزرگاہوں اور فضائی حدود کی حفاظت کریں۔ یہ تجویز براہ راست امریکی مفادات پر ضرب لگاتی ہے، کیونکہ اگر خلیجی ممالک اور ایران مل کر سیکیورٹی سنبھال لیتے ہیں، تو امریکی بحری بیڑوں کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ ہماری ویب سائٹ کے سیکشنز کا وزٹ کر سکتے ہیں۔
امریکہ اور مغربی طاقتوں کا “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کا ایجنڈا
تاریخی طور پر، سامراجی طاقتوں نے ہمیشہ “تقسیم کرو اور حکومت کرو” (Divide and Rule) کی پالیسی پر عمل کیا ہے۔ روسی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی امریکہ اسی پرانی برطانوی حکمت عملی کو اپنائے ہوئے ہے۔ شیعہ اور سنی مسالک کے درمیان اختلافات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا، اور عرب بمقابلہ فارس کی نسلی تقسیم کو ابھارنا، اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
روس کا موقف ہے کہ جب چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات بحال کیے، تو امریکہ نے فوراً ردعمل میں انسانی حقوق اور جوہری پروگرام کے مسائل کو دوبارہ اٹھانا شروع کر دیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن خطے میں امن نہیں چاہتا بلکہ “منظم افراتفری” (Controlled Chaos) کا خواہاں ہے تاکہ وہ ثالث کے طور پر اپنی ضرورت کو برقرار رکھ سکے۔
تہران اور ریاض کے درمیان تعلقات کی بحالی میں عالمی کردار
روس اور چین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مشرق وسطیٰ اب یک قطبی دنیا (Unipolar World) کے اثر سے نکل رہا ہے۔ ماسکو نے تہران اور ریاض کے درمیان تعلقات کی بحالی کا زبردست خیرمقدم کیا اور اسے خطے کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا۔ روس کے لیے یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ مغربی پابندیوں کے شکار ایران کو معاشی اور سیاسی سانس لینے کا موقع فراہم کرتی ہے، اور ساتھ ہی سعودی عرب کو امریکی انحصار سے نکلنے کا راستہ دکھاتی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی کئی مواقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ایرانی قیادت کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہیں۔ اوپیک پلس (OPEC+) کے پلیٹ فارم پر روس اور سعودی عرب کا تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ تیل کی پیداوار اور قیمتوں کے تعین میں اب امریکہ کا حکم نہیں چلتا۔ یہ توانائی کا اتحاد بھی مغربی طاقتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور وہ اسے توڑنے کے لیے ایران عرب دشمنی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس بتاتی ہیں کہ توانائی کی منڈیوں میں یہ تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے۔
مستقبل کا تزویراتی منظرنامہ اور علاقائی اتحاد کی ضرورت
مستقبل قریب میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی نازک دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف علاقائی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران، اقتصادی ترقی اور
