کراچی لٹریچر فیسٹیول 2026 (کے ایل ایف) کا آغاز شہر قائد میں روایتی جوش و خروش اور علمی و ادبی شان و شوکت کے ساتھ ہو چکا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اردو ادب، ثقافت اور سماجی شعور کی آبیاری کے لیے ایک اہم ترین پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ رواں برس اس میلے کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو گئی ہے کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی ہے اور ایسے میں کتاب سے محبت کرنے والوں کا یہ جمِ غفیر اس بات کا ثبوت ہے کہ کاغذ اور قلم کا رشتہ ابھی ٹوٹا نہیں ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی زیرِ نگرانی منعقد ہونے والے اس تین روزہ میلے نے کراچی کی فضاؤں کو ایک بار پھر علم کی خوشبو سے معطر کر دیا ہے۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول 2026 کا تاریخی پس منظر اور اہمیت
کراچی لٹریچر فیسٹیول 2026 کی جڑیں اس شہر کی گہری ادبی تاریخ میں پیوست ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے زائد عرصے سے جاری یہ سلسلہ اب ایک توانا تحریک بن چکا ہے۔ جب اس فیسٹیول کا آغاز ہوا تھا تو اس وقت کراچی کے حالات مختلف تھے، لیکن آج 2026 میں یہ فیسٹیول امن، رواداری اور مکالمے کی علامت بن چکا ہے۔ رواں سال فیسٹیول کا مرکزی خیال ‘امید، حقیقت اور مستقبل’ رکھا گیا ہے جو موجودہ عالمی اور ملکی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ ادبی حلقوں کا ماننا ہے کہ ایسے میلوں کا انعقاد معاشرے میں انتہا پسندی کے خاتمے اور روشن خیالی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
اس سال فیسٹیول میں نہ صرف پاکستان کے نامور ادیب، شعراء اور دانشور شریک ہیں بلکہ دنیا بھر سے مشہور مصنفین بھی اپنی تخلیقات کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ بین الاقوامی شرکت اس بات کی غماز ہے کہ کراچی لٹریچر فیسٹیول عالمی ادبی کیلنڈر کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ منتظمین نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہر عمر اور طبقے کے افراد کے لیے دلچسپی کا سامان موجود ہو، چاہے وہ سنجیدہ ادبی بحثیں ہوں یا بچوں کے لیے کہانی سنانے کے سیشنز۔
بیچ لگژری ہوٹل: یادوں اور نئی امیدوں کا سنگم
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کراچی لٹریچر فیسٹیول 2026 کا میزبان تاریخی بیچ لگژری ہوٹل ہے۔ سمندر کے کنارے واقع یہ خوبصورت مقام ادبی محفلوں کے لیے ایک بہترین ماحول فراہم کرتا ہے۔ ہوٹل کے وسیع و عریض لانز میں کتابوں کے اسٹالز، کھانے پینے کے مراکز اور مصنفین کے ساتھ بیٹھکیں شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ کھلے آسمان تلے ہونے والے سیشنز میں شرکاء کی کثیر تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی کے شہری اپنے ادبی ورثے سے کتنی محبت کرتے ہیں۔
اس سال پنڈال کی تزئین و آرائش میں خاص طور پر سندھ کی ثقافت کے رنگ نمایاں کیے گئے ہیں۔ اجرک اور ٹوپی کے ساتھ ساتھ جدید آرٹ کے نمونے بھی نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں جو روایت اور جدت کے خوبصورت امتزاج کو پیش کرتے ہیں۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود ماحول میں گھٹن نہیں بلکہ ایک کھلا پن ہے جو آزادانہ اظہار رائے کے لیے ضروری ہے۔
اس سال کے کلیدی موضوعات: ٹیکنالوجی اور ادب کا ملاپ
رواں برس کے سب سے اہم اور گرما گرم موضوعات میں سے ایک ‘مصنوعی ذہانت اور ادب’ ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، ادب بھی اس سے اچھوتا نہیں رہا۔ ایک خصوصی سیشن میں اس بات پر بحث کی گئی کہ کیا اے آئی (AI) تخلیقی لکھاریوں کی جگہ لے سکتا ہے؟ اس موضوع پر مزید گہرائی میں جانے کے لیے ماہرین نے مصنوعی ذہانت اور مستقبل کے حوالے سے حالیہ پیشرفت کا حوالہ دیا، جس میں یہ بتایا گیا کہ کس طرح جدید ماڈلز انسانی زبان کی نقل کر رہے ہیں۔ تاہم، اکثر ادیبوں کا یہ ماننا تھا کہ انسانی جذبات کی عکاسی صرف ایک انسان ہی کر سکتا ہے اور مشین کبھی بھی روح کی گہرائیوں کو نہیں چھو سکتی۔
اس کے علاوہ ڈیجیٹل پبلشنگ اور ای بکس (E-books) کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ پبلشرز کا کہنا تھا کہ پرنٹ میڈیا کو چیلنجز کا سامنا ضرور ہے لیکن اردو قارئین میں اب بھی چھپی ہوئی کتاب کو ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا لطف زندہ ہے۔
موسمیاتی تبدیلیاں اور ادبی مزاحمت
کراچی لٹریچر فیسٹیول 2026 نے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلیوں پر بھی بھرپور توجہ دی ہے۔ کراچی، جو خود موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نبرد آزما ہے، اس موضوع پر بات کرنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔ مختلف پینل ڈسکشنز میں ادیبوں نے اس بات پر زور دیا کہ فکشن اور شاعری کے ذریعے موسمیاتی شعور کیسے بیدار کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں ماہرین نے موسمیاتی تبدیلیاں اور جدید سائنسی پیش گوئیوں کے نظام پر روشنی ڈالی، تاکہ عوام کو مستقبل کے خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔
ان سیشنز میں یہ نقطہ اٹھایا گیا کہ ادیب معاشرے کا حساس ترین طبقہ ہوتا ہے اور اسے اپنی تحریروں کے ذریعے ماحول کے تحفظ کا پرچار کرنا چاہیے۔ گلوبل وارمنگ، پانی کی کمی اور آلودگی جیسے مسائل اب صرف سائنسدانوں کے موضوعات نہیں رہے بلکہ یہ ادب کا بھی حصہ بن چکے ہیں۔
عالمی سیاسی حالات اور فیسٹیول کے مباحثے
ادب کبھی بھی سیاست سے جدا نہیں ہو سکتا۔ کے ایل ایف 2026 میں بھی عالمی سیاسی منظرنامے پر گرما گرم بحثیں دیکھنے میں آئیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، جنوبی ایشیا میں امن کی کوششیں اور عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے کردار پر دانشوروں نے کھل کر اظہار خیال کیا۔ ایک اہم سیشن میں بین الاقوامی سفارت کاری کے بدلتے ہوئے اصولوں پر بات ہوئی، جس میں اٹلی اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے سفارتی تعلقات کی مثالیں دی گئیں کہ کس طرح ثقافت اور تجارت سیاست پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
مزید برآں، لاطینی امریکہ اور دیگر خطوں میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے عالمی سیاسی منظرنامہ اور وینزویلا جیسے ممالک کے حالات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ ان مباحثوں کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ عالمی سیاست کس طرح مقامی معیشت اور معاشرت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
نوجوان نسل اور اردو ادب: ایک نیا تناظر
خوش آئند بات یہ ہے کہ کراچی لٹریچر فیسٹیول 2026 میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباء نے نہ صرف سامعین کے طور پر بلکہ مقررین کے طور پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ نئے لکھنے والوں کے لیے ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا جہاں انہیں سینئر اساتذہ سے سیکھنے کا موقع ملا۔ یہ بات مشاہدے میں آئی کہ نوجوان نسل اردو ادب میں نئی اصناف اور تجربات کو متعارف کروا رہی ہے، جس میں فلیش فکشن اور نثری نظم شامل ہیں۔
سوشل میڈیا کے دور میں جہاں توجہ کا دورانیہ (Attention Span) کم ہو گیا ہے، وہاں نوجوانوں کا گھنٹوں ادبی نشستوں میں بیٹھنا اس بات کی دلیل ہے کہ ادب کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ نوجوان شعراء نے اپنی نظموں میں عصری مسائل، جیسے کہ بے روزگاری، ذہنی صحت اور شناخت کے بحران کو اجاگر کیا۔
مشاعرہ: روایت اور جدت کا حسین امتزاج
کے ایل ایف کا سب سے مقبول حصہ ہمیشہ کی طرح مشاعرہ رہا۔ رات کے وقت کھلے آسمان تلے منعقد ہونے والے اس مشاعرے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ملک کے نامور شعراء، جن میں انور شعور، افتخار عارف اور دیگر شامل تھے، نے اپنے کلام سے سامعین کو مسحور کر دیا۔ مشاعرے کی صدارت کرتے ہوئے سینئر شاعر نے کہا کہ شاعری ہمارے جذبات کی ترجمان ہے اور یہ وہ زبان ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے۔
مزاحیہ شاعری کے سیشن نے بھی خوب رنگ جمایا۔ موجودہ مہنگائی اور سیاسی حالات پر طنزیہ اشعار نے حاضرین کو ہنسنے پر مجبور کر دیا، وہیں سنجیدہ غزلوں نے ماحول پر ایک سحر طاری کر دیا۔ یہ مشاعرہ رات گئے تک جاری رہا اور کراچی والوں نے ثابت کر دیا کہ وہ زندہ دل قوم ہیں۔
نئی کتابوں کی رونمائی اور پبلشنگ انڈسٹری کا مستقبل
اس سال فیسٹیول میں 30 سے زائد نئی کتابوں کی رونمائی کی گئی۔ ان میں سوانح حیات، تاریخ، سیاست اور فکشن پر مبنی کتب شامل تھیں۔ مصنفین نے اپنی کتابوں کے اقتباسات پڑھے اور قارئین کے سوالوں کے جواب دیے۔ پبلشنگ انڈسٹری کو درپیش معاشی مسائل پر بھی گفتگو ہوئی، خاص طور پر کاغذ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور تجارتی انقلاب جو کہ ایمیزون جیسی بڑی کمپنیوں کی وجہ سے آیا ہے، کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ پبلشرز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کتابوں پر ٹیکس کم کیا جائے تاکہ علم ہر خاص و عام کی پہنچ میں ہو۔
فیسٹیول کے اعداد و شمار اور تقابلی جائزہ
ذیل میں دیے گئے جدول میں گزشتہ تین سالوں کے دوران کراچی لٹریچر فیسٹیول کی کارکردگی اور اعداد و شمار کا موازنہ کیا گیا ہے:
| سال | کل سیشنز | شریک مقررین | نئی کتابوں کی رونمائی | تخمینہ شدہ حاضری |
|---|---|---|---|---|
| 2024 | 65 | 180 | 22 | 150,000 |
| 2025 | 72 | 200 | 28 | 180,000 |
| 2026 | 85 | 235 | 34 | 210,000+ |
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ فیسٹیول کی مقبولیت اور وسعت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2026 میں سیشنز کی تعداد میں نمایاں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ منتظمین نے عوامی دلچسپی کے پیش نظر موضوعات کے دائرہ کار کو وسیع کیا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل: کے ایل ایف 2027 کی جانب پیش قدمی
اختتامی سیشن میں منتظمین نے تمام سپانسرز، رضاکاروں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ 2027 کا فیسٹیول اس سے بھی زیادہ شاندار ہوگا۔ مستقبل کے لیے یہ تجویز بھی زیرِ غور آئی کہ فیسٹیول کا دائرہ کار بڑھا کر اسے شہر کے دیگر حصوں تک بھی پھیلایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔
نتیجہ اور مجموعی تاثرات
کراچی لٹریچر فیسٹیول 2026 محض ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ یہ شہر کے دم توڑتے ہوئے ثقافتی منظرنامے میں آکسیجن کی ایک لہر تھی۔ تین دن تک جاری رہنے والے اس میلے نے لوگوں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنی دکھائی۔ غیر ملکی مندوبین نے کراچی کی مہمان نوازی کی تعریف کی اور اسے ایک محفوظ اور پرامن شہر قرار دیا۔
مجموعی طور پر، یہ فیسٹیول اس بات کا اعادہ تھا کہ کتابیں، مکالمہ اور دلیل ہی وہ راستے ہیں جو کسی بھی قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ جیسے جیسے سورج غروب ہوا اور فیسٹیول اختتام پذیر ہوا، شرکاء اپنے دلوں میں نئے خیالات، نئی کتابیں اور نئی امیدیں لے کر رخصت ہوئے، اس وعدے کے ساتھ کہ اگلے سال پھر اسی جوش و خروش کے ساتھ ملیں گے۔ ادبی حلقوں کے لیے مزید معلومات کے لیے آپ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کی ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔


