یوتھ کارڈ سندھ رجسٹریشن کا عمل صوبہ سندھ کی تاریخ میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سندھ حکومت نے اپنے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، انہیں تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے اس انقلابی کارڈ کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایات پر شروع کیا جانے والا یہ منصوبہ نہ صرف طلباء بلکہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے بھی ایک امید کی کرن ہے۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم آپ کو یوتھ کارڈ کے حصول، اس کے فوائد، اہلیت کے معیار اور اپلائی کرنے کے مکمل طریقہ کار سے آگاہ کریں گے۔
یوتھ کارڈ سندھ رجسٹریشن: ایک تعارف
یوتھ کارڈ سندھ رجسٹریشن محض ایک کارڈ کا حصول نہیں بلکہ یہ ایک جامع ڈیٹا بیس کا حصہ بننے کا نام ہے جو حکومت کو نوجوانوں کے مسائل حل کرنے میں مدد دے گا۔ حالیہ اجلاس میں، جو سندھ سیکریٹریٹ میں صوبائی وزیر برائے کھیل و امور نوجوانان سردار محمد بخش مہر کی زیر صدارت منعقد ہوا، اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ سندھ کے نوجوانوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس کارڈ کا مقصد نوجوانوں کو درپیش معاشی مشکلات کا ازالہ کرنا اور انہیں معاشرے کا فعال رکن بنانا ہے۔
اس منصوبے کے تحت، حکومت کا ارادہ ہے کہ جون 2026 تک اس کارڈ کا باقاعدہ اجراء کر دیا جائے۔ اس کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو نہ صرف تعلیمی وظائف ملیں گے بلکہ انہیں ٹیکنیکل ٹریننگ اور سرکاری و نجی شعبوں میں نوکریوں کے حصول میں بھی ترجیح دی جائے گی۔ یہ اقدام سندھ کے پسماندہ اضلاع سے لے کر کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر کے نوجوانوں تک سب کے لیے یکساں مفید ثابت ہوگا۔
سندھ یوتھ کارڈ سکیم کیا ہے؟
سندھ یوتھ کارڈ دراصل ایک سمارٹ شناختی کارڈ کی طرز پر مبنی دستاویز ہوگی جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی۔ اس کارڈ میں نوجوان کا تمام ڈیٹا، بشمول اس کی تعلیمی قابلیت، ہنر، ڈومیسائل اور رہائشی پتہ موجود ہوگا۔ یہ کارڈ ایک ‘ون ونڈو آپریشن’ کی طرح کام کرے گا۔ یعنی اگر کسی نوجوان کو لائبریری کی رکنیت چاہیے، سپورٹس کمپلیکس میں داخلہ لینا ہو، یا حکومت کی جانب سے جاری کردہ کسی انٹرنشپ پروگرام میں حصہ لینا ہو، تو یہ ایک کارڈ ہی کافی ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، اس سکیم کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماضی میں نوجوانوں کو مختلف محکموں کے چکر لگانے پڑتے تھے، لیکن اب محکمہ کھیل و امور نوجوانان، محکمہ تعلیم اور محکمہ لیبر مل کر اس کارڈ کے ذریعے خدمات فراہم کریں گے۔ یہ کارڈ ان نوجوانوں کے لیے بھی ایک ڈیجیٹل شناخت ہوگا جو فری لانسنگ یا ڈیجیٹل اکانومی سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں۔
کارڈ کے نمایاں فوائد اور سہولیات
یوتھ کارڈ سندھ رجسٹریشن کروانے والے خوش نصیب نوجوانوں کو متعدد فوائد حاصل ہوں گے جو کہ درج ذیل ہیں:
- تعلیمی وظائف اور رعایت: کارڈ ہولڈرز کو سرکاری جامعات اور کالجوں کی فیسوں میں خصوصی رعایت ملنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، ہونہار طلباء کے لیے سکالرشپس کا حصول اس کارڈ کے ذریعے آسان بنایا جائے گا۔
- سکل ڈویلپمنٹ پروگرامز: سندھ حکومت مختلف فنی تربیتی اداروں کے اشتراک سے شارٹ کورسز کرواتی ہے۔ یوتھ کارڈ کے حامل نوجوان ان کورسز میں ترجیحی بنیادوں پر داخلہ لے سکیں گے اور انہیں ماہانہ وظیفہ بھی دیا جا سکتا ہے۔
- روزگار کے مواقع: یہ کارڈ ایک ‘جاب پورٹل’ سے منسلک ہوگا جہاں پرائیویٹ اور سرکاری نوکریوں کے اشتہارات سب سے پہلے ان رجسٹرڈ نوجوانوں تک پہنچیں گے۔
- سپورٹس کی سہولیات: سندھ بھر میں موجود سٹیڈیمز، جمناسٹک کلبز اور دیگر کھیلوں کے مراکز تک مفت یا رعایتی رسائی اس کارڈ کا ایک اہم جزو ہے۔
- سفری سہولیات: حکومت سندھ اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ یوتھ کارڈ رکھنے والے طلباء کو پبلک ٹرانسپورٹ (جیسے کہ پیپلز بس سروس) میں کرائے میں رعایت دی جائے۔
- ڈیجیٹل لائبریری تک رسائی: نوجوانوں کو ای بکس اور آن لائن ریسرچ پیپرز تک مفت رسائی دی جائے گی تاکہ وہ اپنی تعلیمی استعداد بڑھا سکیں۔
اہلیت کا معیار: کون اپلائی کر سکتا ہے؟
اس سکیم کا حصہ بننے کے لیے حکومت نے کچھ بنیادی شرائط رکھی ہیں تاکہ صرف حقدار اور متعلقہ افراد ہی اس سے مستفید ہو سکیں۔ متوقع اہلیت کا معیار درج ذیل ہے:
- عمر کی حد: درخواست گزار کی عمر 18 سے 35 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔ یہ وہ عمر ہے جس میں نوجوان تعلیم مکمل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں۔
- سندھ کا رہائشی: درخواست گزار کے پاس صوبہ سندھ کا ڈومیسائل اور مستقل رہائشی پتہ (PRC) ہونا لازمی ہے۔ یہ سکیم صرف سندھ کے ڈومیسائل ہولڈرز کے لیے مختص ہے۔
- تعلیمی قابلیت: کم از کم میٹرک یا اس کے مساوی تعلیم۔ تاہم، کچھ فنی تربیت کے پروگراموں کے لیے تعلیمی شرط میں نرمی کی جا سکتی ہے تاکہ ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے ہنرمند بھی فائدہ اٹھا سکیں۔
- شناختی کارڈ: نادرا کا جاری کردہ درست کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ (CNIC) ہونا لازمی ہے۔ جن کی عمر 18 سال سے کم ہے ان کے لیے بے فارم کی شرط ہو سکتی ہے (اگر پالیسی میں سکول کے بچوں کو شامل کیا گیا)۔
- روزگار کی حیثیت: یہ کارڈ بنیادی طور پر طلباء اور بے روزگار نوجوانوں کو سپورٹ کرنے کے لیے ہے، لہذا سرکاری ملازمین شاید اس کے لیے اہل نہ ہوں (حتمی پالیسی کا انتظار ضروری ہے)۔
رجسٹریشن کا متوقع طریقہ کار
یوتھ کارڈ سندھ رجسٹریشن کا عمل مکمل طور پر جدید اور آن لائن ہونے کی توقع ہے۔ حکومت ایک مخصوص ویب پورٹل اور موبائل ایپلیکیشن لانچ کرے گی۔ طریقہ کار کچھ یوں ہو سکتا ہے:
- آن لائن پورٹل پر جائیں: سب سے پہلے امیدوار کو سندھ حکومت کی نامزد کردہ ویب سائٹ پر جانا ہوگا (جس کا اعلان جلد کیا جائے گا)۔
- اکاؤنٹ بنائیں: اپنے شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر کے ذریعے رجسٹر ہوں اور ایک محفوظ پاس ورڈ سیٹ کریں۔
- فارم پُر کریں: درخواست فارم میں اپنی ذاتی معلومات، تعلیمی ریکارڈ، اور رہائشی تفصیلات احتیاط سے درج کریں۔
- دستاویزات اپ لوڈ کریں: اپنی تصویر اور ضروری کاغذات کی سکین شدہ کاپیاں اپ لوڈ کریں۔
- تصدیقی عمل: نادرا کے ڈیٹا بیس سے آپ کی معلومات کی تصدیق کی جائے گی۔
- کارڈ کا حصول: درخواست منظور ہونے کے بعد، کارڈ آپ کے دیئے گئے پتے پر ارسال کر دیا جائے گا یا آپ اپنے قریبی ڈسٹری بیوشن سینٹر سے وصول کر سکیں گے۔
مزید برآں، ان اضلاع میں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت کم ہے، وہاں حکومت فزیکل رجسٹریشن سینٹرز بھی قائم کرے گی جو ڈپٹی کمشنر کے دفاتر یا اسپورٹس کمپلیکسز میں ہو سکتے ہیں۔
درخواست کے لیے ضروری دستاویزات
اپلائی کرنے سے پہلے نوجوانوں کو مندرجہ ذیل دستاویزات تیار رکھنی چاہئیں تاکہ رجسٹریشن کے وقت کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے:
- اصل شناختی کارڈ (CNIC) کی کاپی۔
- ڈومیسائل اور پی آر سی (D-Form)۔
- میٹرک، انٹر یا گریجویشن کی سندیں۔
- حالیہ پاسپورٹ سائز تصاویر (نیلے یا سفید پس منظر کے ساتھ)۔
- اگر کوئی ہنرمندی کا سرٹیفکیٹ ہے تو اس کی کاپی۔
- معذور افراد کے لیے معذوری کا سرٹیفکیٹ (تاکہ وہ خصوصی کوٹہ سے فائدہ اٹھا سکیں)۔
بے نظیر بھٹو شہید یوتھ پروگرام کا کردار
سندھ میں نوجوانوں کی ترقی کے لیے ‘بے نظیر بھٹو شہید یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام’ (BBSYDP) کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پروگرام سالوں سے نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں ٹریننگ دے رہا ہے۔ یوتھ کارڈ دراصل اسی وژن کی ایک جدید شکل ہے۔ جہاں BBSYDP صرف ٹریننگ تک محدود تھا، وہاں یوتھ کارڈ اس دائرہ کار کو وسیع کر کے اس میں روزگار، کھیل اور سماجی تحفظ کو بھی شامل کر رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ پرانے ڈیٹا کو بھی نئے سسٹم میں ضم کیا جائے تاکہ جو نوجوان پہلے ٹریننگ لے چکے ہیں، انہیں اب روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
نوجوانوں کی معاشی ترقی اور حکومتی وژن
سندھ حکومت کا ماننا ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ موجودہ معاشی حالات میں جہاں مہنگائی اور بے روزگاری نے نوجوانوں کو ذہنی دباؤ کا شکار کیا ہے، وہاں یوتھ کارڈ ایک مسیحا ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور چیئرمین بلاول بھٹو کا وژن ہے کہ سندھ کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور ای کامرس کی دنیا میں آگے لایا جائے۔ اس کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو سافٹ لونز (آسان قرضے) دینے کی بھی تجویز زیر غور ہے تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔
تقسیم کا شیڈول اور اضلاع
ابتدائی طور پر، یوتھ کارڈ کا اجراء صوبے کے بڑے اضلاع جیسے کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور نوابشاہ میں کیا جائے گا۔ اس کے بعد مرحلہ وار اسے ٹھٹھہ، بدین، تھرپارکر اور دیگر اضلاع تک پھیلایا جائے گا۔ حکومت نے جون 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے، تاہم رجسٹریشن کا عمل اس سے پہلے شروع ہونے کی توقع ہے۔
عام غلطیاں اور ان کا حل
رجسٹریشن کے دوران اکثر نوجوان کچھ ایسی غلطیاں کرتے ہیں جن کی وجہ سے ان کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے۔ ان سے بچنا ضروری ہے:
- نام کا فرق: اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے تعلیمی اسناد اور شناختی کارڈ پر نام کے ہجے (Spelling) ایک جیسے ہوں۔
- غیر واضح تصاویر: دستاویزات کو صاف سکین کریں تاکہ پڑھنے میں آسانی ہو۔ دھندلی تصاویر مسترد ہو سکتی ہیں۔
- غلط موبائل نمبر: ہمیشہ وہ موبائل نمبر دیں جو آپ کے اپنے نام پر رجسٹر ہو اور آن ہو، کیونکہ تمام تصدیقی کوڈز (OTP) اسی پر آئیں گے۔
- مقررہ تاریخ: آخری تاریخ کا انتظار نہ کریں اور جیسے ہی رجسٹریشن کھلے، فوراً اپلائی کریں۔
مزید رہنمائی اور اپ ڈیٹس کے لیے آپ ہماری ویب سائٹ کے دیگر سیکشنز بھی دیکھ سکتے ہیں۔ براہ کرم ویب سائٹ کا نقشہ ملاحظہ کریں یا ہماری ٹیمپلیٹس کی فہرست دیکھیں تاکہ آپ کو نیویگیشن میں آسانی ہو۔
دیگر سکیموں کے ساتھ موازنہ
ذیل میں یوتھ کارڈ اور سندھ حکومت کی دیگر موجودہ سکیموں کا ایک مختصر موازنہ پیش کیا گیا ہے تاکہ آپ فرق سمجھ سکیں:
| خصوصیات | یوتھ کارڈ سندھ | بے نظیر مزدور کارڈ |
|---|---|---|
| ہدف (Target Audience) | نوجوان اور طلباء (18-35 سال) | رجسٹرڈ مزدور اور محنت کش |
| بنیادی مقصد | تعلیم، ہنر، کھیل، روزگار | صحت کی سہولیات، سوشل سیکیورٹی |
| رجسٹریشن کا ادارہ | محکمہ کھیل و امور نوجوانان | سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی (SESSI) |
| مالی امداد | وظائف اور انٹرنشپ | جہیز گرانٹ، ڈیتھ گرانٹ، پنشن |
نتیجہ
یوتھ کارڈ سندھ رجسٹریشن بلاشبہ ایک خوش آئند اقدام ہے جو نوجوانوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف انہیں معاشی طور پر مستحکم کرے گا بلکہ انہیں معاشرے میں ایک باوقار مقام دلانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ سندھ کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کاغذات تیار رکھیں اور حکومت کے اس اقدام کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ جیسے ہی پورٹل لانچ ہوگا، اس میں تاخیر کیے بغیر شمولیت اختیار کریں۔ یہ کارڈ آپ کے روشن مستقبل کی چابی ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید مستند معلومات کے لیے آپ حکومت سندھ کی آفیشل ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔


