spot_img

مقبول خبریں

جمع

سوکیش چندر شیکھر کا جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ کا ہیلی کاپٹر تحفہ: منی لانڈرنگ کیس کا نیا موڑ

سوکیش چندر شیکھر نے ویلنٹائن ڈے پر جیکولن فرنینڈس کو 30 کروڑ مالیت کا ہیلی کاپٹر تحفہ میں دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ جانئے منی لانڈرنگ کیس اور ای ڈی کی تحقیقات کی مکمل تفصیلات اس خصوصی رپورٹ میں۔

5G سپیکٹرم نیلامی: پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب اور پی ٹی اے کا انفارمیشن میمورنڈم

5G سپیکٹرم نیلامی اور انفارمیشن میمورنڈم کا اجراء پاکستان میں ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز ہے۔ پی ٹی اے اور وزارت آئی ٹی کی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل کی تفصیلی رپورٹ۔

آئی ایم ایف اور پاکستان: بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور توانائی اصلاحات پر اہم مذاکرات

آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں اضافے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر تفصیلی تجزیہ۔ گردشی قرضے اور عوامی ریلیف کا احاطہ۔

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی وائرل ویڈیو: میرب علی کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ

عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی پرانی ویڈیو وائرل ہونے پر میرب علی کی پراسرار انسٹاگرام اسٹوری نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ تفصیلات اور تجزیہ جانئے۔

ایران جوہری مذاکرات: جنیوا میں جاری کشیدگی، امریکہ اور تہران کا نیا تنازعہ

ایران جوہری مذاکرات جنیوا میں فیصلہ کن موڑ پر۔ امریکہ اور تہران کے درمیان ایٹمی پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر تفصیلی تجزیہ پڑھیے۔

عمران خان کی صحت: دائیں آنکھ کی بینائی 85 فیصد متاثر، ہسپتال منتقلی کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اس وقت پاکستان کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں سب سے زیادہ زیر بحث موضوع بن چکی ہے۔ اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی طبعی صورتحال کے حوالے سے تازہ ترین میڈیکل رپورٹس نے پوری قوم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، میڈیکل بورڈ نے ان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں نمایاں کمی کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد حکومت نے انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تفصیلی رپورٹ میں ہم عمران خان کی موجودہ صحت، ڈاکٹروں کی تشخیص، حکومتی اقدامات اور سیاسی ردعمل کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔

اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں گزشتہ روز عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا۔ جیل ذرائع کے مطابق، پمز ہسپتال (PIMS) کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک خصوصی میڈیکل بورڈ نے بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کیا۔ اس بورڈ کی سربراہی پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کر رہے تھے۔ معائنے کے دوران بلڈ پریشر، شوگر لیول اور دل کی دھڑکن سمیت دیگر وائٹل سائنز (Vital Signs) چیک کیے گئے، جو بظاہر معمول کے مطابق تھے، تاہم آنکھوں کے معائنے نے ڈاکٹروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔

میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کر دی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو گزشتہ کچھ عرصے سے دائیں آنکھ میں دھندلاپن اور نظر کی کمزوری کی شکایت تھی۔ جیل میں موجود سہولیات کے باوجود ان کی آنکھ کی تکلیف میں افاقہ نہیں ہوا، جس کی وجہ سے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی ٹیم کو طلب کیا گیا۔

سنٹرل ریٹائنل وین اوکلوژن (CRVO) کی تشخیص اور ڈاکٹرز کی رائے

طبی ماہرین نے عمران خان کی دائیں آنکھ کا معائنہ کرنے کے بعد ‘سنٹرل ریٹائنل وین اوکلوژن’ (CRVO) کی تشخیص کی ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں آنکھ کے ریٹینا کی مرکزی رگ میں خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے یا رکاوٹ آ جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق، یہ حالت عام طور پر ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا عمر رسیدگی کے باعث پیدا ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹروں نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اگر اس بیماری کا فوری اور مناسب علاج نہ کیا جائے تو یہ بینائی کے مکمل خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ عمران خان کی عمر (74 سال) کے پیش نظر ڈاکٹروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انہیں جیل کے ماحول کی بجائے کسی جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال میں زیر علاج رکھا جائے تاکہ ان کی بینائی کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

بینائی میں 85 فیصد کمی: تشویشناک صورتحال

سب سے زیادہ تشویشناک انکشاف عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے۔ سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو پڑھنے اور دور کی چیزیں دیکھنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے اور وہ اپنی ایک آنکھ سے تقریبا محروم ہو چکے ہیں۔

اس انکشاف نے پی ٹی آئی کے حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ ماہرین امراض چشم کا کہنا ہے کہ 85 فیصد بینائی کا جانا ایک ایمرجنسی صورتحال ہے اور اس کے لیے لیزر ٹریٹمنٹ یا انٹرا آکیولر انجیکشنز (Intraocular Injections) کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جو جیل کے ڈسپنسری میں ممکن نہیں۔

حکومت کا عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ

عوامی دباؤ اور میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے بعد، وفاقی حکومت نے عمران خان کو ‘انسانی ہمدردی کی بنیاد پر’ ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (ٹوئٹر) پر اس فیصلے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قیدیوں کے حقوق کا احترام کرتی ہے اور عمران خان کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق، انہیں اسلام آباد کے پمز ہسپتال یا الشفاء آئی ٹرسٹ ہسپتال منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ ہسپتال منتقلی کے دوران سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے جیل انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس نے مشترکہ سیکیورٹی پلان بھی ترتیب دے دیا ہے۔ مزید سیاسی خبروں اور حکومتی فیصلوں کے لیے یہاں کلک کریں۔

پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ کے باہر دھرنا اور اہم مطالبات

عمران خان کی صحت کی خراب صورتحال پر پاکستان تحریک انصاف نے شدید احتجاج کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا کم از کم انہیں ان کے ذاتی معالج (Personal Physician) تک رسائی دی جائے۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست کر رہی ہے اور انہیں جیل میں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ دھرنے کے شرکاء نے نعرے بازی کی اور متنبہ کیا کہ اگر عمران خان کی آنکھ کو مزید نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہو گی۔

سپریم کورٹ کے احکامات اور بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے جیل حکام کو حکم دیا تھا کہ انہیں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی دی جائے۔ اس کے علاوہ، عدالت عظمیٰ کے حکم پر عمران خان کی ان کے بیٹوں، قاسم اور سلیمان، سے ٹیلی فونک گفتگو بھی کروائی گئی۔

ذرائع کے مطابق، یہ بات چیت تقریبا 20 منٹ تک جاری رہی جس میں عمران خان نے اپنے بیٹوں کو اپنی صحت اور جیل کے حالات سے آگاہ کیا۔ بیٹوں سے گفتگو کے بعد عمران خان کے حوصلے بلند بتائے جاتے ہیں، تاہم ان کی بینائی کا مسئلہ بدستور سنگین ہے۔ سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر میڈیکل بورڈ کی مکمل رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کا ردعمل

عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہن علیمہ خان نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

spot_imgspot_img