مقبول خبریں

پاکستان کی سیاست میں وفاداری، فراموشی اور اقتدار کا سراب

📅 Thursday, May 21, 2026

پاکستان کی سیاست میں وفاداری، قربانی اور وابستگی کی داستانیں اکثر اس وقت ایک تلخ حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں جب سیاسی رہنماؤں کا اختتام خاموشی اور فراموشی کی دھول میں دب جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جہاں زندگی بھر کی جدوجہد، پارٹی کے لیے دی گئی قربانیاں اور نظریاتی وابستگیاں اقتدار کے بدلتے موسموں کی نذر ہو جاتی ہیں۔ اس سیاسی منظرنامے میں کئی ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے اپنی جماعتوں کے لیے کلیدی کردار ادا کیا، طوفانی حالات میں پارٹی کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا، مگر جب ان پر آخری وقت آیا تو انہیں اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ یہ سطور چند ایسی ہی شخصیات، رحمان ملک، مشاہد اللہ خان اور عرفان صدیقی، کے سیاسی سفر اور ان کے المناک انجام کا احاطہ کرتی ہیں، جو پاکستانی سیاست کی ایک گہری اور تلخ حقیقت کو عیاں کرتی ہیں۔

رحمان ملک: پیپلز پارٹی کا کندھا اور خاموش الوداع

ایک وقت تھا جب کوئی بھی خبرنامہ رحمان ملک کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا تھا۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سب سے ایکٹیو اور سب سے زیادہ اہم شخص ہوا کرتے تھے۔ بطور سابق وزیر داخلہ اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر، رحمان ملک نے ملک کی داخلی سلامتی اور سیاسی استحکام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہیں بے نظیر بھٹو کے بااعتماد ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا اور انہوں نے پارٹی کے مشکل ترین ادوار میں اس کا سارا وزن اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا۔ رحمان ملک میڈیا میں رہنے کا فن خوب جانتے تھے اور اپنے دورِ حکومت میں دن میں متعدد بار میڈیا سے مخاطب ہوتے تھے۔ وہ 2008 سے 2013 تک وزیر داخلہ کے منصب پر فائز رہے جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل مدت ہے۔ پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت میں وہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اختلافات کی صورت میں پل کا کردار بھی ادا کرتے رہے تھے۔

ان کی سیاسی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے، انہیں کئی تنازعات کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن وہ مرتے دم تک پیپلز پارٹی کے وفادار رہے۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی انہوں نے آصف علی زرداری کو اپنی حمایت کا یقین دلایا اور ان کے قریبی ساتھیوں میں شامل رہے۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ شجاعت اور نشان امتیاز جیسے اعزازات سے بھی نوازا۔

لیکن پھر جب وہ کورونا وائرس کے باعث طویل علالت کے بعد 23 فروری 2022 کو 70 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، تو پارٹی کا کوئی ایک راہنماء بھی ان کے جنازے میں شریک نہ ہو سکا۔ اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جہاں خاندان کے افراد اور چند دوستوں کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت محدود رہی۔ یہ ایک تلخ حقیقت تھی کہ جس شخص نے اپنی زندگی پیپلز پارٹی کے لیے وقف کر دی، اس کے آخری سفر میں پارٹی قیادت کی عدم موجودگی نے بہت سے سوالات کو جنم دیا۔

مشاہد اللہ خان: تند مزاجی، پارلیمانی نوک جھونک اور نظرانداز ہوتا وراثہ

مشاہد اللہ خان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک اور وفادار اور نڈر رہنما تھے۔ وہ اپنی تند مزاجی، باتوں کو مڑوڑنے اور طنز کے تیر برسانے کے فن میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کی پارلیمانی تقاریر ہمیشہ زوردار اور مخالفین کے لیے مشکل پیدا کرنے والی ہوتی تھیں۔ وہ حب شریفین میں اتنے مست تھے کہ پارلیمنٹ کے فلور پر بھی بازاری جملے کسنے سے نہ جھجھکتے تھے۔ ان کا شمار مسلم لیگ (ن) کے سینئر ترین رہنماؤں میں ہوتا تھا اور وہ 1990 کی دہائی سے اس جماعت کا حصہ تھے۔ 2009 سے وہ پارٹی کے ٹکٹ پر مسلسل سینیٹر چلے آ رہے تھے اور نواز شریف کے آخری دورِ حکومت میں ماحولیاتی تبدیلی کے وفاقی وزیر بھی رہے۔ جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے دوران بھی مشاہد اللہ خان نے بھرپور مزاحمت کی، جلوس نکالے، گرفتاریاں دیں اور ٹریڈ یونینز کو متحرک کیا۔

17 فروری 2021 کو 68 برس کی عمر میں بیماری کی حالت میں اسلام آباد کے نجی ہسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی نماز جنازہ 18 فروری 2021 کو اسلام آباد کے ایچ-11 قبرستان میں ادا کی گئی۔ ان کی وفات پر چند تعزیتی پیغامات ضرور آئے، صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ اور پارٹی قیادت کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا گیا، مریم نواز نے انہیں پارٹی کا وفادار اور سینئر رہنما قرار دیا، لیکن پھر وہ ہمیشہ کے لیے یادوں سے فراموش کر دیے گئے۔ ان کی تند مزاجی، سیاسی جدوجہد اور پارٹی کے لیے قربانیاں وقت کے دھندلکے میں گم ہوتی چلی گئیں۔

عرفان صدیقی: قلم کا سپاہی اور بے دام غلامی کا المیہ

عرفان صدیقی کا نام مسلم لیگ (ن) کی سیاست میں کاتب شریفین کے طور پر جانا جاتا تھا۔ وہ نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور ان کے کل سیاسی کیریئر میں جتنے بھی جملے ادا کیے گئے ان میں سے 60 فیصد عرفان صدیقی کے قلم سے ہی تراشے گئے تھے۔ وہ ایک معروف صحافی، کالم نگار اور استاد تھے جنہوں نے بعد ازاں سیاست میں قدم رکھا۔ 1997 تک وہ جنگ اخبار میں “نقش خیال” کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہے۔ نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت میں انہیں وزیر اعظم کا مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ مقرر کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے کالم لکھنا ترک کر دیا تھا، تاہم ذرائع کے مطابق نواز شریف کی تقاریر صدیقی صاحب ہی لکھا کرتے تھے۔

عرفان صدیقی کو بے دام غلام تصور کیا جاتا تھا، جو آقا کے ہر سیاہ کو سفید کرنے میں لگے رہے۔ وہ اپنی فکری گہرائی، شائستگی اور متانت کے ذریعے ایک پوری نسل پر اثر انداز ہوئے۔ ان کے کالم اور تقاریر علم و ادب سے بھرپور ہوتی تھیں اور وہ دلیل کے ذریعے اپنی بات منوانے کے قائل تھے۔

ان کی وفات بھی ایک ایسے وقت ہوئی جب پارلیمنٹ کا سیشن اہم تھا، اور انہیں بیماری کے باوجود منظر عام پر بیمار ہی بتایا جاتا رہا۔ 11 نومبر 2025 کو مختصر علالت کے بعد سینیٹر عرفان صدیقی اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی تدفین ایچ-11 قبرستان میں ہوئی۔ ان کے انتقال پر صدر مملکت، وزیر اعظم اور مریم نواز سمیت دیگر سیاسی شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا اور نواز شریف نے انہیں اپنا “عزیز ترین بھائی” قرار دیا۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ ان کی وفات کے موقع پر ناں تو نواز شریف، ناں ہی شہباز شریف نے ان کے جنازے میں شرکت کی، حتیٰ کہ شریف خاندان سے کوئی فرد بھی شامل نہ ہوا۔ یہ بات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک بار پھر وفاداری اور قربانیوں کے انجام پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے، جہاں پارٹی کے اہم ترین رہنما کو اس کے آخری وقت میں تنہا چھوڑ دیا گیا۔

اہم سیاسی شخصیات: ایک تقابلی جائزہ

نام سیاسی جماعت نمایاں کردار وفات کا سال جنازہ میں پارٹی قیادت کی شرکت
رحمان ملک پاکستان پیپلز پارٹی سابق وزیر داخلہ، بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھی، پیپلز پارٹی کا دفاع 2022 محدود (پارٹی قیادت کی عدم شرکت)
مشاہد اللہ خان پاکستان مسلم لیگ (ن) سینیٹر، وفاقی وزیر، شعلہ بیان مقرر، پارٹی کے وفادار 2021 محدود (چند تعزیتی پیغامات)
عرفان صدیقی پاکستان مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے مشیر اور تقریر نویس، معروف صحافی، سینیٹر 2025 عدم شرکت (شریف خاندان سے کوئی نہیں)

وفاداری کی قیمت اور اقتدار کی ریت

یہ تینوں مثالیں پاکستانی سیاست کے ایک گہرے سچ کی عکاسی کرتی ہیں: اقتدار کی ریت پر لکھی گئی وفاداری کی داستانیں اکثر ہوا کا جھونکا ثابت ہوتی ہیں۔ سیاست میں وفاداری کی قیمت بہت مہنگی ہوتی ہے، اور اکثر اوقات یہ قیمت وفات کے بعد مکمل فراموشی کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین اپنے نظریاتی، مخلص اور برسوں سے قربانیاں دینے والے کارکنوں کو اکثر نظر انداز کرتے ہیں، جبکہ اثر و رسوخ رکھنے والے اور وقتی سیاسی مفادات رکھنے والے افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو سیاست کو خدمت سے زیادہ ایک کاروباری ماڈل میں تبدیل کر دیتا ہے جہاں سرمایہ، تعلقات اور طاقت کو کارکن کی قربانی پر فوقیت دی جاتی ہے۔

یہ ایک اہم نکتہ ہے کہ سیاست میں وفاداری اکثر اقتدار کے ساتھ ہوتی ہے، مقتدر شخص کے ساتھ نہیں۔ جب تک کوئی شخص اقتدار کے لیے مفید رہتا ہے، اسے سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے، لیکن جیسے ہی اس کی افادیت ختم ہوتی ہے یا وہ کمزور پڑ جاتا ہے، تو اسے پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف سیاسی کارکنوں کی مایوسی کا باعث بنتا ہے بلکہ جمہوری عمل کو بھی کمزور کرتا ہے۔ جن افراد نے اپنی زندگی کی بہترین توانائیاں اور وقت ایک جماعت کے لیے صرف کیا، انہیں آخری لمحات میں جس تنہائی اور نظر اندازی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ بہت سے سوالات کھڑے کرتا ہے۔

سیاسی کارکن صرف جلسوں کا ہجوم بڑھانے والا فرد نہیں ہوتا؛ وہ جماعت کی روح ہوتا ہے۔ اگر یہی لوگ مایوس ہو جائیں تو جماعتیں وقتی طور پر نشستیں تو حاصل کر سکتی ہیں، مگر عوامی اعتماد کھو دیتی ہیں۔ ایکسپریس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، قربانیاں دینے والا کارکن اب اپنی سیاسی جماعتوں اور قائدین سے باغی ہوتا دکھائی دیتا ہے اور اس کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس بھی جماعت کا کوئی پرانا کارکن فوت ہو گیا، اس کی جگہ اس کے خاندان سے کوئی آنے کو تیار نہیں۔

یادوں سے فراموشی کا سفر: ایک تلخ حقیقت

پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں کئی سیاسی قائدین اور کارکنان آئے اور چلے گئے۔ ان میں سے بہت سے ایسے تھے جنہوں نے ملک و قوم کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، قید و بند کی صعوبتیں کاٹیں، لیکن ان کا نام آج شاید ہی کسی کو یاد ہو۔ یہ سیاسی فراموشی کی ایک ایسی داستان ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں روشنی زیادہ دیر نہیں ٹھہرتی۔ جب کوئی سیاسی شخصیت منظر عام سے ہٹ جاتی ہے تو اس کی خدمات، جدوجہد اور قربانیوں کو بھلا دیا جاتا ہے۔ یہ بات نہ صرف ان افراد کے ساتھ ناانصافی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں ملک اور پارٹی کے نام کر دیں، بلکہ یہ ایک ایسا پیغام بھی دیتی ہے جو مستقبل کے سیاسی کارکنوں کو حوصلہ نہیں دیتا۔

سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر بعض اوقات جذباتی سرگرمیاں قانونی حدود اور معاشرتی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال دیتی ہیں۔ اس صورتحال میں ان کارکنوں کی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے جنہوں نے بے لوث ہو کر جماعت کی خدمت کی ہوتی ہے۔ لیکن جب ان کا یہ اخلاص اور قربانی رائیگاں چلی جاتی ہے تو یہ پورے سیاسی نظام پر ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

نتیجہ

رحمان ملک، مشاہد اللہ خان اور عرفان صدیقی کی داستانیں پاکستانی سیاست کی ایک گہری اور تلخ حقیقت کو بیان کرتی ہیں۔ یہ کہ کس طرح زندگی بھر کی وفاداریاں، قربانیاں اور جدوجہد اقتدار کے بدلتے موسموں کی نذر ہو جاتی ہیں۔ یہ مثالیں اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا ہماری سیاسی جماعتیں اور قیادت حقیقی طور پر اپنے مخلص کارکنوں کی قدر کرتی ہے؟ کیا سیاسی تعلقات صرف مفادات کے تابع ہوتے ہیں، یا ان میں اخلاص اور انسانیت کی بھی کوئی جگہ ہوتی ہے؟

حقیقی جمہوری نظام میں سیاسی کارکن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیا جائے گا اور انہیں آخری وقت میں تنہا چھوڑ دیا جائے گا تو یہ نہ صرف ان افراد کے ساتھ ناانصافی ہو گی بلکہ یہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک مایوس کن مثال بنے گا۔ ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کی قدر کریں اور ان کی خدمات کو نہ صرف زندگی میں بلکہ ان کے بعد بھی یاد رکھیں۔ بصورت دیگر، وفاداری اور قربانی کی یہ داستانیں صرف اقتدار کے سراب میں گم ہو کر رہ جائیں گی، اور سیاست سے اخلاقی اقدار کا مزید خاتمہ ہوتا چلا جائے گا۔