Table of Contents
برڈ فلو، جسے ایویئن انفلوئنزا بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسی بیماری ہے جو برسوں سے دنیا بھر کی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہ وائرس پرندوں میں تیزی سے پھیلتا ہے اور بعض اوقات انسانوں سمیت دیگر ممالیہ کو بھی متاثر کر سکتا ہے، جس کے مہلک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ حال ہی میں، آسٹریلیا، جو کہ اب تک H5 برڈ فلو سے پاک واحد براعظم تھا، اس وائرس کی زد میں آ گیا ہے، جس نے ماہرین کو ایک ممکنہ بڑے خطرے سے خبردار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ مغربی آسٹریلیا کے ساحلی علاقوں میں ہجرت کرنے والے سمندری پرندوں میں H5 برڈ فلو کی خطرناک قسم کی تصدیق نے حکام اور عوام دونوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف آسٹریلیا کی منفرد جنگلی حیات کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے بلکہ پولٹری کی صنعت اور عالمی صحت عامہ کے لیے بھی نئے چیلنجز کھڑے کر رہی ہے۔ یہ وائرس اب دنیا کے ہر براعظم میں پھیل چکا ہے۔
برڈ فلو: ایک عالمی وبا جو اب آسٹریلیا میں
برڈ فلو، جسے ایویئن انفلوئنزا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک وائرل انفیکشن ہے جو بنیادی طور پر پرندوں کو متاثر کرتا ہے، لیکن بعض اوقات یہ انسانوں اور دوسرے جانوروں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ H5N1 اور H7N9 جیسی اقسام خاص طور پر انسانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ماہرین نے عالمی سطح پر انسانوں سمیت ممالیہ میں برڈ فلو کے پھیلاؤ کو صحت عامہ کے لیے ایک نمایاں خطرہ قرار دیا ہے، خاص طور پر اس خدشے کے پیش نظر کہ وائرس خود کو تبدیل کر کے انسانوں میں آسانی سے پھیلنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔
H5 برڈ فلو کی خطرناک قسم 2021 سے دنیا بھر میں جنگلی پرندوں اور ممالیہ کی آبادی میں پھیل چکی ہے، جس سے لاکھوں پرندوں کی ہلاکت ہوئی ہے اور پولٹری فارمز پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے، آسٹریلیا دنیا کا واحد براعظم تھا جہاں H5 برڈ فلو کی کوئی تصدیق شدہ مین لینڈ کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا، تاہم 2025 کے آخر میں ملک کے زیر انتظام دور دراز علاقے ہرڈ آئی لینڈ پر وائرس کی موجودگی رپورٹ ہوئی تھی، جس نے ہاتھی سیل کے بچوں کی ہلاکت کا سبب بنا تھا۔ لیکن اب، مین لینڈ آسٹریلیا میں H5 تناؤ کا پتہ لگنا ایک گیم چینجر ثابت ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ انتہائی متعدی قسم اب ہر براعظم میں پھیل چکی ہے۔
یہ وائرس مغربی آسٹریلیا کے کیپ لی گرانڈ نیشنل پارک میں ہجرت کرنے والے سمندری پرندوں، خاص طور پر ایک براؤن سکوا میں پایا گیا، اور مزید ٹیسٹنگ کے بعد اس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایک اور بیمار پرندے، ایک ناردرن جائنٹ پیٹرل میں بھی وائرس کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی ہے، جو اسی علاقے میں پایا گیا تھا۔ حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ بیماری آسٹریلیا کے زیریں انٹارکٹک سے ہجرت کرنے والے پرندوں کے ذریعے پہنچی۔
آسٹریلیا میں H5 برڈ فلو کی پہلی تصدیق: تفصیلات
آسٹریلیا میں H5 برڈ فلو کی پہلی مین لینڈ پر موجودگی 2026 کے جون میں مغربی آسٹریلیا کے ساحلی علاقے ایسپرینس کے قریب رپورٹ کی گئی۔ ایک براؤن سکوا نامی ہجرت کرنے والے سمندری پرندے میں H5 تناؤ کی تصدیق ہوئی، جو کہ ملک میں اس خطرناک قسم کا پہلا کیس تھا۔ اس کے چند روز بعد ہی، اسی علاقے میں ایک اور بیمار پرندے، ایک ناردرن جائنٹ پیٹرل میں بھی H5N1 وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ یہ دونوں کیسز پرتھ سے تقریباً 570 سے 630 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ایک دور دراز ساحلی علاقے سے ملے ہیں۔
آسٹریلوی حکام نے فوری طور پر اس صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے لیا۔ وفاقی وزیر زراعت، ماہی گیری اور جنگلات، جولی کولنز نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ بیماری دور دراز مغربی آسٹریلیا میں ایک ہجرت کرنے والے سمندری پرندے میں پائی گئی تھی، اور اس کے نتیجے کی تصدیق قومی سائنس ایجنسی نے کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بڑے پیمانے پر پرندوں کی اموات یا کسی پولٹری فارم میں انفیکشن کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ تاہم، تشویش اس بات پر مرکوز ہے کہ یہ وائرس آسٹریلیا کی منفرد جنگلی حیات میں پھیل سکتا ہے، جو پہلے ہی معدومیت کے خطرات سے دوچار ہے۔
یہ پیش رفت آسٹریلیا کے لیے خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ ملک نے کئی سالوں سے H5 برڈ فلو سے بچاؤ کے لیے سخت اقدامات کر رکھے تھے۔ آسٹریلوی حکومت نے پہلے ہی ایویئن انفلوئنزا کے پھیلنے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے AUD 113 ملین (تقریباً USD 79 ملین) مختص کیے تھے۔ اب، اس کیس کا پتہ لگنے کے بعد، ملک بھر میں ایک قومی ردعمل پر غور کرنے کے لیے جانوروں کی صحت اور زراعت کے حکام کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔
مختلف اقسام اور انسانوں پر اثرات
برڈ فلو کی کئی اقسام ہیں، جن میں سے کچھ انسانوں کے لیے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ H5N1 اور H7N9 سب سے زیادہ مشہور اور تشویشناک اقسام ہیں جنہوں نے ماضی میں انسانوں کو متاثر کیا ہے۔ H5N1 کو پرندوں کے لیے ایک مہلک وائرس سمجھا جاتا ہے اور یہ آسانی سے انسانوں اور دیگر جانوروں کو متاثر کر سکتا ہے جو متاثرہ پرندوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں آتے ہیں۔
آسٹریلیا میں H5N1 کا پہلا انسانی کیس مئی 2024 میں ریکارڈ کیا گیا تھا، جب ایک بچہ جو ہندوستان سے وکٹوریہ واپس آیا تھا، اس وائرس سے متاثر پایا گیا۔ بچہ “شدید انفیکشن” کا شکار ہوا تھا لیکن بعد میں مکمل صحت یاب ہو گیا۔ حکام نے واضح کیا کہ آسٹریلیا میں یہ H5N1 کا پہلا انسانی کیس تھا، اور اس کیس سے جڑے مزید انسانی کیسز کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایویئن انفلوئنزا آسانی سے انسانوں کے درمیان نہیں پھیلتا۔
| برڈ فلو کی قسم | پھیلاؤ کی نوعیت | انسانوں پر اثرات | آسٹریلیا میں موجودگی (مین لینڈ) |
|---|---|---|---|
| H5N1 | انتہائی متعدی، پرندوں میں وسیع پیمانے پر پھیلاؤ، ممالیہ کو بھی متاثر کر سکتا ہے | زیادہ شرح اموات، عالمی ادارہ صحت کی تشویش | تصدیق شدہ (جنگلی سمندری پرندوں میں) |
| H7N7 | مقامی پھیلاؤ، پولٹری فارمز کو متاثر کر سکتا ہے | کم تشویش، مگر محتاط رہنا ضروری | وکٹوریہ کے ایک فارم میں تصدیق شدہ |
| H7N9 | چین میں انسانوں کو متاثر کیا ہے | انسانی انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں | آسٹریلیا کے مین لینڈ پر ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی |
| H5 (عمومی) | عالمی سطح پر پھیل چکا ہے، لاکھوں پرندوں کی ہلاکت | انسانوں میں کم خطرہ، مگر mutation کا خدشہ | مغربی آسٹریلیا میں تصدیق شدہ |
ماہرین صحت کے مطابق، برڈ فلو کا سبب بننے والا وائرس اگر ایک ایسی شکل میں تبدیل ہو جائے جو ایک سے دوسرے انسان میں آسانی سے پھیل جائے تو ایک عالمی وبا (پینڈیمک) پھیل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سائنس دان اس بیماری پر قابو پانے کے لیے نئے اقدامات اور ویکسین تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ انسانوں میں انفیکشن کی علامات ہلکے سے شدید تک ہو سکتی ہیں جن میں کھانسی، اسہال، سانس کی مشکلات، بخار، سر درد اور پٹھوں میں درد شامل ہیں۔ اگرچہ عام آبادی کے لیے خطرہ کم ہے، تاہم بیمار پرندوں یا ان کے فضلے سے آلودہ سطحوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے والے افراد کو زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، یہ بھی اہم ہے کہ برڈ فلو سے بچنے کے لیے حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کیا جائے اور اگر کسی کو بیمار پرندہ نظر آئے تو اسے چھونے سے گریز کیا جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صحیح طریقے سے پکایا ہوا چکن اور انڈے کھانے سے انسانوں میں انفیکشن کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔
ماہرین کی تشویش: جنگلی حیات اور ماحول پر خطرات
آسٹریلیا میں H5 برڈ فلو کی آمد نے وہاں کی منفرد جنگلی حیات کے مستقبل کے بارے میں شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ آسٹریلیا کی جنگلی پرندوں کی تقریباً نصف اقسام، اور اس کے 83 فیصد ممالیہ، دنیا میں کہیں اور نہیں پائے جاتے ہیں۔ وائلڈ لائف ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ مہلک H5 برڈ فلو آسٹریلیا کے ساحلوں پر مستحکم ہو جاتا ہے تو ملک کو ممکنہ تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تسمانیائی شیطان، بلیک سوان، چھوٹا پینگوئن اور آسٹریلوی سمندری شیر جیسی کئی خطرے سے دوچار انواع اس وائرس سے خاص طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔
یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور وائلڈ لائف ویٹرنریرین وین بورڈ مین نے کہا ہے کہ یہ وائرس آسٹریلیا کی مقامی جنگلی حیات کو تباہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ “برڈ فلو کے اس تناؤ کی وجہ سے پرندوں اور سمندری ستنداریوں کی بڑی تعداد میں موت واقع ہوئی ہے۔” ماہرین خاص طور پر کالے ہنسوں (Black Swans) اور کاکاٹو (Cockatoos) جیسی علامتی اقسام کے بارے میں فکرمند ہیں، جن میں اس وائرس کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اور ان کی نسل کشی کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
جنوبی آسٹریلیا میں بھی حکام نگرانی اور ٹیسٹنگ کو بڑھا رہے ہیں، جہاں حال ہی میں مزید مردہ پرندے ملے ہیں، جن میں دو سب انٹارکٹک سمندری پرندے اور ایک پیلیکن شامل ہیں۔ اگرچہ ان میں ابھی تک H5N1 کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ آسٹریلیا کی خطرناک پرجاتیوں کی کمشنر فیونا فریزر نے کہا ہے کہ 35 پرجاتیوں کی حفاظت کا منصوبہ قیدی افزائش کو بڑھا کر کیا جائے گا تاکہ انہیں اس خطرے سے بچایا جا سکے۔
اس سے قبل، 2025 کے اواخر میں آسٹریلیا کے زیر انتظام دور دراز علاقے ہرڈ اور میکڈونلڈ جزائر پر H5 برڈ فلو کے تناؤ نے 13,000 سے زیادہ ہاتھی سیل کے بچوں کو ہلاک کر دیا تھا، جو اس وائرس کی مہلک صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، خاص طور پر آسٹریلیا جیسے براعظم کے لیے جہاں کی زیادہ تر جنگلی حیات منفرد اور حساس ہے۔
پولٹری صنعت پر ممکنہ اثرات اور حفاظتی اقدامات
آسٹریلیا میں H5 برڈ فلو کی موجودگی نے پولٹری صنعت میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ اب تک H5 تناؤ کی کمرشل پولٹری فارمز میں کوئی تصدیق شدہ موجودگی نہیں ملی ہے، تاہم ممکنہ خطرات کے پیش نظر بڑے آپریٹرز نے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔ آسٹریلیا کی سب سے بڑی پولٹری کمپنی، انگھمز (Inghams) نے مغربی آسٹریلیا میں اپنے تمام فارمز اور پروسیسنگ آپریشنز میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد وائرس کو تجارتی پولٹری کے نظام تک پہنچنے سے روکنا ہے۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اب تک ان کے تجارتی پولٹری، آپریشنز یا سپلائی چین میں برڈ فلو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔
پولٹری کی صنعت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے، اور چھوٹے انڈے پیدا کرنے والے فارمز نے بھی اپنے پرندوں کو شیڈز کے اندر بند کر کے اور عوامی رسائی کو محدود کر کے حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔ یہ اقدامات اس لیے بھی ضروری ہیں کیونکہ دنیا بھر میں برڈ فلو نے حالیہ برسوں میں لاکھوں پرندوں کو متاثر کیا ہے، جس سے پولٹری سپلائی میں خلل پڑا ہے اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
حکومتی اور زرعی حکام پولٹری صنعت اور انڈوں کے شعبے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ بائیو سکیورٹی کے اقدامات کو بہتر بنایا جا سکے اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ تاہم، یہ کہنا مشکل ہے کہ اس وائرس کو ہمیشہ کے لیے پولٹری فارمز سے دور رکھا جا سکے گا یا نہیں۔ پڑوسی ملک پاپوا نیو گنی نے بھی آسٹریلیا سے پولٹری کی تمام درآمدات پر پابندی لگا دی ہے، جو اس صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
آسٹریلیا کی پولٹری صنعت کو اس بیماری کے ممکنہ تباہ کن اثرات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ماضی میں، آسٹریلیا میں ایویئن انفلوئنزا کے پھیلنے کے واقعات ہوئے ہیں، لیکن وہ زیادہ تر H7 وائرسز سے متعلق تھے، جبکہ H5N1 ایک زیادہ جارحانہ اور عالمی سطح پر غالب قسم ہے۔ اس صورتحال میں، صنعت کو نہ صرف اپنی بائیو سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ہوگا بلکہ فوری ردعمل کے منصوبوں کو بھی تیار رکھنا ہوگا۔ مزید معلومات کے لیے، آپ ڈان نیوز کی برڈ فلو سے متعلق رپورٹ دیکھ سکتے ہیں۔
حکومت کا ردعمل اور آئندہ چیلنجز
آسٹریلیا میں H5 برڈ فلو کی تصدیق کے بعد وفاقی اور ریاستی حکومتوں نے تیزی سے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وزیر زراعت جولی کولنز نے تصدیق کی ہے کہ قومی ردعمل پر غور کرنے کے لیے جانوروں کی صحت اور زراعت کے حکام کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔ حکومت اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات شروع کر چکی ہے، جس میں پولٹری فارمز پر بائیو سکیورٹی کے اقدامات کو سخت کرنا، ساحلی پرندوں کی نگرانی اور ٹیسٹنگ کو بڑھانا، اور خطرے سے دوچار پرندوں کے لیے ویکسینیشن اور ہنگامی مشقیں شامل ہیں۔
وزیراعظم انتھونی البانی نے بھی اس کیس کا پتہ لگانے کو تشویشناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی حکومت اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یہ کوئی بڑے پیمانے پر اموات کا واقعہ نہیں ہے اور صنعت محفوظ ہے۔ تاہم، وہ عوام سے محتاط رہنے اور کسی بھی مردہ یا بیمار پرندے کو نہ چھونے اور اس کی اطلاع دینے کی اپیل کر رہے ہیں۔
آئندہ چیلنجز میں وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنا، خاص طور پر آسٹریلیا کے وسیع جنوبی ساحلی علاقے پر جہاں نگرانی کرنا مشکل ہو سکتا ہے، شامل ہے۔ مزید برآں، یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ آیا یہ وائرس جنگلی حیات میں مستحکم ہو چکا ہے یا صرف ہجرت کرنے والے پرندوں میں موجود ہے جو جزوی طور پر ہلاک ہو گئے ہیں۔ اگر یہ وائرس جنگلی آبادی میں جڑ پکڑ لیتا ہے، تو اسے کنٹرول کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا اور اس کے ماحولیاتی نظام پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی اس وائرس کے ممکنہ انسانی پھیلاؤ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور ویکسین کی تیاری پر کام جاری ہے۔
حالیہ رپورٹوں کے مطابق، جنوبی آسٹریلیا میں مزید مردہ پرندوں کی موجودگی نے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، اور ان پرندوں کے نمونوں کے نتائج آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ آسٹریلیا کو ایک طویل اور مشکل جنگ کا سامنا ہے تاکہ اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور اپنی منفرد جنگلی حیات اور زرعی صنعت کو محفوظ رکھا جا سکے۔
نتیجہ
آسٹریلیا تک H5 برڈ فلو کی آمد ایک اہم اور تشویشناک عالمی پیش رفت ہے۔ یہ نہ صرف آسٹریلیا کو H5 سے پاک براعظم ہونے کے اعزاز سے محروم کرتا ہے بلکہ اس کی منفرد جنگلی حیات، خاص طور پر خطرے سے دوچار پرجاتیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ہے۔ اگرچہ حکام نے فوری اور جامع اقدامات کیے ہیں، جن میں پولٹری صنعت میں بائیو سکیورٹی کو سخت کرنا اور جنگلی پرندوں کی نگرانی شامل ہے، لیکن وائرس کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کو روکنا ایک مشکل چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
انسانوں میں H5N1 کے کیسز ابھی تک نایاب ہیں اور انسان سے انسان میں منتقلی کے شواہد نہیں ملے ہیں، تاہم عالمی ادارہ صحت اس کی ممکنہ تبدیلی اور عالمی وبا کے خطرے سے خبردار کر رہا ہے۔ پولٹری صنعت کو بھاری مالی نقصان سے بچانے اور خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ آسٹریلیا میں یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ برڈ فلو ایک مسلسل ارتقا پذیر خطرہ ہے جس کے لیے عالمی سطح پر نگرانی، تحقیق اور تیاری ضروری ہے۔ آئندہ مہینے آسٹریلیا کے لیے بہت اہم ثابت ہوں گے کیونکہ یہ وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے اور اس کے ممکنہ تباہ کن اثرات کو کم کرنے کی کوشش کرے گا۔
