مقبول خبریں

پاکستان کی تحقیق نے دنیا کو حیران کردیا؛ 34 ہزار سے زائد نایاب جینی صورتیں دریافت

پاکستان کی حالیہ جینیاتی تحقیق نے عالمی سائنسی برادری میں تہلکہ مچا دیا ہے، جس میں 34 ہزار سے زائد ایسے نایاب جینی صورتیں (Rare Genetic Variants) دریافت کی گئی ہیں جو انسانی صحت اور بیماریوں کے بارے میں ہمارے موجودہ علم کو یکسر تبدیل کر سکتی ہیں۔ اس غیر معمولی سائنسی پیشرفت نے نہ صرف پاکستان کو عالمی جینومک نقشے پر ایک نمایاں مقام دلایا ہے بلکہ یہ دنیا بھر میں نئی ادویات اور علاج کی راہ ہموار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس تحقیق کو دنیا کے معروف سائنسی جریدے “نیچر” میں شائع کیا گیا ہے، جو اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

پاکستان کی تاریخی جینیاتی تحقیق کا تعارف

اس سے قبل جینیاتی تحقیق میں جنوبی ایشیا کی آبادی کو نمایاں طور پر نظر انداز کیا گیا تھا، جو عالمی جینومک ڈیٹا بیس میں صرف 2 فیصد نمائندگی رکھتی تھی جبکہ دنیا کی 25 فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے پاکستانی سائنسدانوں نے ایک بے مثال مطالعہ کا بیڑا اٹھایا۔ یہ تحقیق 1 لاکھ 73 ہزار 303 پاکستانیوں کے جینوم کے جامع تجزیے پر مشتمل ہے، جس کے نتیجے میں 31 لاکھ سے زائد ایسے جینیاتی تغیرات دریافت ہوئے جو اس سے پہلے دنیا میں ریکارڈ نہیں ہوئے تھے۔ ان دریافتوں میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تقریباً 34 ہزار ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں کم از کم ایک جین مکمل طور پر غیر فعال ہے، جنہیں سائنسی اصطلاح میں “ہیومن ناک آؤٹس” (Human Knockouts) کہا جاتا ہے۔

یہ دریافتیں انسانی جینوم کی تنوع کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں اور یہ ان بیماریوں کے نئے علاج کی تشکیل میں مدد کر سکتی ہیں جو انسانی جسم کو متاثر کرتی ہیں۔ خاص طور پر، یہ تحقیق یہ بھی واضح کرتی ہے کہ چوہوں کے ماڈلز کی بنیاد پر زندگی کے لیے “ضروری” سمجھے جانے والے جینز انسانوں میں دراصل متغیر ہوتے ہیں، جس کے دواسازی کی ترقی کے لیے گہرے مضمرات ہیں۔

بانی پاکستان کی پوشیدہ تصویر میں چھپے ہندسے۔۔۔ آپ کے بٹوے میں موجود پانچ ہزار کا نوٹ اصلی ہے یا جعلی؟ - BBC News اردو

تحقیق کی تفصیلات اور طریقہ کار

یہ تاریخی تحقیق “پاکستان جینوم ریسورس (PGR)” نامی بائیو بینک پر مبنی ہے، جس میں ملک کے 23 شہروں سے جمع کیے گئے افراد کے مکمل جینوم اور ایکسوم سیکوئنس محفوظ ہیں۔ تحقیق کے دوران 1 لاکھ 66 ہزار 625 ایکسومز اور 6 ہزار 678 مکمل جینومز کا تجزیہ کیا گیا۔ اس وسیع مطالعے کی قیادت پروفیسر دانش صالحین، ڈاکٹر لبنیٰ کمانی، ڈاکٹر آصف رشید اور پروفیسر شہزاد علی خان نے کی۔ انہوں نے بین الاقوامی اداروں کے سائنسدانوں کے ساتھ اشتراک میں اس تحقیق کو مکمل کیا، جو سائنسی تعاون کی ایک بہترین مثال ہے۔

اس تحقیق نے نہ صرف عالمی جینیاتی ڈیٹا بیس میں موجود خامیوں کو اجاگر کیا بلکہ پاکستانی آبادی کی منفرد جینیاتی ساخت کو بھی تفصیل سے پیش کیا ہے۔ محققین نے 19 ہزار 21 جینز میں 66 لاکھ سے زائد جینیاتی تبدیلیاں سامنے لائیں۔ ان میں سے 31 لاکھ سے زیادہ تغیرات ایسے تھے جو جنوبی ایشیا سے باہر پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے، جبکہ تقریباً 20 لاکھ تغیرات عالمی جینیاتی ڈیٹا بیسز کے مقابلے میں مکمل طور پر نئے ثابت ہوئے۔ اس وسیع ڈیٹا سیٹ نے نہ صرف بیماریوں کے بارے میں نئے بصیرت افروز نکات فراہم کیے بلکہ پاکستان کو دنیا کے بڑے جینومک ڈیٹا وسائل میں بھی شامل کر دیا ہے۔

34 ہزار سے زائد “ہیومن ناک آؤٹس” کی اہمیت

تحقیق کی سب سے اہم اور حیران کن دریافت 34 ہزار ایسے افراد کی نشاندہی ہے جو “ہیومن ناک آؤٹس” ہیں، یعنی ان کے جسم میں کم از کم ایک جین مکمل طور پر غیر فعال ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جو انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اگر کوئی شخص زندگی بھر کسی مخصوص جین کے بغیر بھی صحت مند رہتا ہے تو اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس جین کو ادویات کے ذریعے نشانہ بنانا نسبتاً محفوظ ہو سکتا ہے۔ یہ معلومات نئی اور مؤثر ادویات کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

جینومکس کی دنیا میں “ہیومن ناک آؤٹس” کی دریافت ایک گیم چینجر سمجھی جاتی ہے۔ یہ وہ افراد ہوتے ہیں جن میں قدرتی طور پر کچھ جینز کام نہیں کرتے، لیکن وہ پھر بھی صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔ ان افراد کا مطالعہ کرنے سے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ وہ کون سے جینز ہیں جنہیں محفوظ طریقے سے غیر فعال کیا جا سکتا ہے تاکہ بیماریوں کا علاج ممکن ہو سکے۔ یہ ایک قدرتی تجربہ گاہ ہے جو ہمیں دواسازی کے لیے نئے اہداف فراہم کرتی ہے۔ اس تحقیق میں 6 ہزار 476 ایسے غیر فعال جینز کی بھی نشاندہی کی گئی جو انسانی جسم کے تقریباً ایک تہائی پروٹین بنانے والے جینز کے برابر ہیں۔ ان میں سے 2 ہزار 200 سے زائد جینز پہلی مرتبہ دنیا میں اس حالت میں دریافت ہوئے۔

بیماریوں کے علاج اور نئی ادویات کی تیاری میں انقلابی صلاحیت

اس تحقیق کے نتائج نے دل کے امراض، ذیابیطس، موٹاپے، فیٹی لیور (جگر میں چربی جمع ہونا) اور پارکنسنز سمیت کئی بیماریوں سے متعلق اہم جینیاتی معلومات فراہم کی ہیں۔ محققین نے ایسے جینیاتی تغیرات بھی دریافت کیے ہیں جو نقصان دہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز کی سطح کو کم رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جو موجودہ کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات کے اثرات کو مزید تقویت بخشتے ہیں۔ مزید برآں، بعض قدرتی طور پر غیر فعال جینز فیٹی لیور سے تحفظ فراہم کرتے ہوئے پائے گئے ہیں، جو مستقبل میں نئی اور زیادہ محفوظ ادویات کی تیاری کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

پروفیسر شہزاد علی خان کا کہنا ہے کہ یہ جینیاتی معلومات بیماریوں کی جلد تشخیص، ان کی روک تھام اور انفرادی علاج (Precision Medicine) میں مدد دیں گی۔ پریسیژن میڈیسن میں ہر مریض کی جینیاتی ساخت کے مطابق علاج کیا جاتا ہے، جس سے علاج کی افادیت بڑھ جاتی ہے اور ضمنی اثرات کم ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر لبنیٰ کمانی کے مطابق، یہ تحقیق بیماریوں کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے خطرے سے دوچار افراد کی نشاندہی کرنے میں مدد دے گی۔

تحقیق کی اہم جھلکیاںتعداد/تفصیل
تحقیق میں شامل افراد کی کل تعداد1 لاکھ 73 ہزار 303
دریافت ہونے والے نئے جینیاتی تغیرات31 لاکھ سے زائد
“ہیومن ناک آؤٹس” کی تعداد34 ہزار سے زائد
جن شہروں سے نمونے جمع کیے گئے23 شہر
تحقیق کی اشاعت کا معروف جریدہنیچر (Nature)
والدین کے فرسٹ کزن ہونے کی شرح (شرکاء میں)30.6 فیصد

پاکستان کی منفرد جینیاتی ساخت اور رشتہ داروں کی شادیوں کا کردار

اس تحقیق نے پاکستانی آبادی کی منفرد جینیاتی ساخت کو عالمی سائنسی دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ پاکستان میں رشتہ داروں (خصوصاً پہلے کزن) میں شادیوں کا رواج عام ہے، جس کی شرح تقریباً 30.6 فیصد ہے۔ بعض قبائل میں تو یہ شرح 85 فیصد تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق رشتہ داروں میں شادیوں کی زیادہ شرح پاکستانی آبادی کو بیماری پیدا کرنے والے جینز کی شناخت اور نئی ادویات کے ممکنہ اہداف تلاش کرنے کے لیے منفرد اہمیت دیتی ہے۔ جب قریبی رشتہ داروں میں شادیاں ہوتی ہیں تو بچوں میں ایک ہی جینیاتی تغیرات کے دونوں والدین سے وراثت میں ملنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، جس سے جین کے مکمل غیر فعال ہونے (Human Knockouts) کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

یہ خاصیت پاکستانی آبادی کو جینیاتی بیماریوں کے مطالعے کے لیے ایک “قدرتی لیبارٹری” بناتی ہے۔ اس سے وراثتی بیماریوں کی وجوہات کو سمجھنے میں غیر معمولی مدد ملتی ہے جو عالمی سطح پر نایاب ہیں۔ ڈاکٹر امبرین فاطمہ، آغا خان یونیورسٹی کی ایک ماہر جو کزن میرجز اور بچوں میں جینیاتی بیماریوں پر تحقیق کرتی ہیں، کے مطابق پاکستان میں کزن میرجز کی وجہ سے اگلی نسل میں تھیلیسیمیا جیسے امراض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم، اسی منفرد جینیاتی تنوع نے اس تاریخی تحقیق کے ذریعے نئی طبی دریافتوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس موضوع پر مزید تفصیلات کے لیے ڈان نیوز کی ایک رپورٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے جو کزن میرجز کے اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔

عالمی شناخت اور مستقبل کے امکانات

اس تحقیق کو عالمی سطح پر بے پناہ پذیرائی ملی ہے اور اسے “نیچر” جیسے معتبر سائنسی جریدے میں شائع کیا جانا اس کی عالمی اہمیت کا ثبوت ہے۔ یہ دریافت ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں نئی ادویات اور بیماریوں کی وجوہات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ پاکستان کے پروفیسر شہزاد علی خان کا کہنا ہے کہ “پاکستان موروثی بیماریوں اور نئی ادویات کی تیاری کے لیے دنیا کا ایک اہم تحقیقی مرکز بن سکتا ہے”۔

یہ تحقیق ہمیں انسانی جینز کے کردار کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی، کیونکہ انسانی جینوم پروجیکٹ کے مکمل ہونے کے 25 سال بعد بھی تقریباً دو تہائی انسانی جینز کے افعال ایک راز ہیں۔ پاکستان جینوم ریسورس جیسی بڑی جینیاتی مطالعات جنوبی ایشیائی آبادی سے متعلق اہم معلومات فراہم کر رہی ہیں جو عالمی طبی پیش رفت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ مستقبل میں، اس تحقیق کی بنیاد پر مزید تفصیلی مطالعے کیے جائیں گے تاکہ بیماریوں کے جینیاتی میکانزم کو مزید گہرائی سے سمجھا جا سکے اور نئے علاج تیار کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان اور چین کے مابین جینیاتی تحقیق میں اشتراک کے نئے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں، جو جینیاتی ٹیسٹنگ، نایاب بیماریوں کی تحقیق اور تشخیص کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔

نتیجہ

پاکستان کی حالیہ جینیاتی تحقیق، جس میں 34 ہزار سے زائد نایاب جینی صورتیں اور 31 لاکھ سے زائد نئے جینیاتی تغیرات دریافت ہوئے ہیں، ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تحقیق نے پاکستانی سائنسدانوں کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر منوایا ہے اور یہ انسانی صحت اور بیماریوں کے بارے میں ہمارے موجودہ علم میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ “ہیومن ناک آؤٹس” کی دریافت نئی اور محفوظ ادویات کی تیاری کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے، جبکہ پاکستانی آبادی کی منفرد جینیاتی ساخت اسے عالمی جینیاتی تحقیق کا ایک اہم مرکز بناتی ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے امید کی ایک نئی کرن بھی ہے۔