Table of Contents
امریکی حملے اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی مشرق وسطیٰ کی سیاست کا ایک مستقل حصہ بن چکی ہے۔ حال ہی میں، ایران نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سنگین الزام عائد کیا ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مذاکرات کے اصولوں اور بین الاقوامی معاہدات کی پابند نہیں ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ امریکی کارروائیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور تہران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات پہلے سے ہی نازک دور سے گزر رہے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل بارہا تعطل کا شکار ہوتا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کشیدگی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ اس کے عالمی معیشت اور علاقائی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران کے اس دعوے کے گہرے مضمرات ہیں، جو نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کی پیچیدگی کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور سفارت کاری کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
امریکی حملے: جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ایرانی موقف
گزشتہ کچھ عرصے سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران نے حال ہی میں ہونے والے امریکی حملوں کو “جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔ ایرانی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہ تو مذاکرات کے اصولوں کے پابند ہیں اور نہ ہی جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “امریکی اقدام پسپائی اور پشیمانی کا باعث بنے گا اور الزام تراشی کا طریقہ اب کام نہیں کرے گا”۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکی فضائی حملوں کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، امریکی افواج نے جزیرہ سیریک پر حملہ کیا تھا، لیکن ایرانی دفاعی فورسز نے اس کارروائی کو ناکام بنا کر حملہ پسپا کر دیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور امریکی کارروائی کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں امریکی فوج کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور امریکہ کے کسی بھی نئے حملے کا زیادہ سخت اور وسیع جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کیے گئے۔ سینٹکام نے دعویٰ کیا کہ ایرانی ڈرون حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی تھے۔ امریکی حملوں میں ایرانی میزائل اور ڈرون ذخائر کے علاوہ ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اختلافات ہیں تو فون اٹھائیں اور بات کریں، اور امریکہ نے جنگ بندی کی پاسداری کی ہے۔ تاہم، ایران ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے اور امریکی اقدامات کو جارحانہ قرار دیتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکراتی پالیسی اور بین الاقوامی معاہدات
ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی دور میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھی گئی، جس میں بین الاقوامی معاہدوں سے انخلا اور یکطرفہ اقدامات پر زور دیا گیا۔ ایران کے تناظر میں، ٹرمپ نے 2015 کے جوہری معاہدے (Joint Comprehensive Plan of Action – JCPOA) سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اختیار کی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ ایرانی حکام کا مستقل موقف رہا ہے کہ ٹرمپ بین الاقوامی معاہدوں اور مذاکراتی اصولوں کے پابند نہیں ہیں۔
حالیہ بیانات میں بھی ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہیں نہ مذاکرات کے اصولوں کی کوئی پاسداری ہے اور نہ ہی جنگ بندی کے معاہدے کا کوئی احترام ہے۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکہ پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے اقدامات موجودہ کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی کا جاری رہنا اور لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا۔
اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں ایک مفاہمتی معاہدے کے تحت جنگ بندی نافذ کی گئی تھی، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کرنا تھا۔ 18 جون 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط بھی ہوئے تھے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ، پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تھا۔ تاہم، اس معاہدے کے بارے میں بھی کئی تحفظات پائے جاتے ہیں، اور امریکی عوام میں بھی اس کی پائیداری کے بارے میں شکوک و شبہات موجود ہیں۔ رائٹرز/اِپسوس پول کے مطابق، صرف 24 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کی قیمت چکانی پڑی۔ گروننگن یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے اسسٹنٹ پروفیسر ولیم فیگیرو نے بھی کہا ہے کہ اسے ٹرمپ کے لیے فتح سمجھنا مشکل ہے، جب جنگ سے پہلے کی پالیسی میں تقریباً تمام مراعات یا تبدیلیاں امریکہ کی طرف سے آئی ہیں۔
ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجائی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل کو کبھی نہیں روکا، لیکن وہ اپنی مرضی مسلط کئے جانے کو قبول نہیں کرتے۔ ان کے بقول، وہ دشمن جس نے جارحیت اور دھمکیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کیے، وہ مذاکرات کی میز پر بھی اپنی شرائط مسلط نہیں کر سکتا۔ یہ صورتحال ٹرمپ کی “پہلے امریکہ” کی پالیسی اور ایران کی خودمختاری کے دفاع کے عزم کے درمیان ایک گہرے تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔
ایران-امریکہ تعلقات کی تاریخی جہتیں
ایران اور امریکہ کے تعلقات کی کہانی کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس میں قربت اور شدید دشمنی دونوں کے ادوار شامل ہیں۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے، اسلامی جمہوریہ ایران کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس انقلاب نے ایران میں امریکہ کی حمایت یافتہ شاہی حکومت کا خاتمہ کیا اور ایک ایسا نظام قائم کیا جو امریکی پالیسیوں اور اسرائیل کی کھل کر مخالفت کرتا تھا۔
1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے اور سفارت کاروں کو یرغمال بنانے کا واقعہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بڑی دراڑ کا باعث بنا، جو دہائیوں تک برقرار رہی۔ اس کے بعد سے، پابندیاں، سفارتی کشیدگی، خفیہ کارروائیاں، پراکسی جنگیں اور جوہری پروگرام کے تنازعات امریکہ اور ایران کے تعلقات کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔ عراق، شام، لبنان، یمن اور خلیج کے کئی تنازعات میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے مخالف کیمپوں میں کھڑے دکھائی دیے۔

دونوں ممالک نے اکثر ایک دوسرے پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ امریکہ نے ایران پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ایران نے امریکہ پر خطے میں مداخلت اور علاقائی استحکام کو خراب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ 1950 کی دہائی میں محمد مصدق کی حکومت کے خاتمے میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے کردار سے لے کر حالیہ فوجی کشیدگی تک، امریکہ-ایران تعلقات بد اعتمادی، تصادم اور پراکسی جنگوں کی ایک پیچیدہ تاریخ رکھتے ہیں۔
یہ تاریخی پس منظر موجودہ کشیدگی کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گہری بد اعتمادی کی جڑیں ماضی کے تلخ واقعات میں پیوست ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ کسی بھی معاہدے یا جنگ بندی کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر ایران کی جانب سے، جو امریکی وعدوں کو اکثر “ٹوٹے ہوئے وعدے” قرار دیتا ہے۔
جوہری معاہدہ (JCPOA) اور ٹرمپ کا انخلا
ایران کا جوہری پروگرام امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے طویل عرصے سے تشویش کا باعث رہا ہے، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ میں اضافہ کیا۔ اس کشیدگی کو کم کرنے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے 2015 میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، چین اور یورپی یونین کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ طے پایا، جسے باضابطہ طور پر جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن (JCPOA) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے عوض بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی حاصل کی۔
تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اس معاہدے کو ایک “بدترین ڈیل” قرار دیتے ہوئے امریکہ کو اس سے یکطرفہ طور پر الگ کر لیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف تھا کہ یہ معاہدہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ جیسے دیگر خدشات کو حل نہیں کرتا۔ امریکہ کے انخلا کے بعد، ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں، جس کے جواب میں ایران نے بھی جوہری معاہدے میں طے شدہ اپنی کچھ ذمہ داریوں سے انحراف کرنا شروع کر دیا۔
ٹرمپ کے اس اقدام نے ایران-امریکہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور خطے میں کشیدگی کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ایران نے امریکی انخلا کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یورپی یونین نے بھی جوہری معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں، جس کے تحت ایران کے مرکزی بینک اور دیگر ایرانی بینکوں کے اثاثے منجمد کر دیے گئے۔
JCPOA سے امریکہ کا انخلا ایران کے اس دعوے کی بنیاد بنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مذاکرات اور معاہدوں کی پابند نہیں ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس اقدام نے نہ صرف بین الاقوامی معاہدات کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ تہران کے لیے مستقبل کے مذاکرات پر اعتماد کرنا بھی مشکل بنا دیا ہے۔
یہاں امریکہ-ایران تعلقات میں حالیہ کشیدگی اور ماضی کے اہم واقعات کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے:
| واقعہ | تاریخ | امریکی موقف | ایرانی موقف |
|---|---|---|---|
| محمد مصدق کی حکومت کا خاتمہ | 19 اگست 1953 | سرد جنگ کے دوران کمیونسٹ اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے مداخلت۔ | جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش۔ |
| ایرانی انقلاب اور امریکی سفارت خانے پر قبضہ | 1979 | بین الاقوامی قوانین اور سفارتی استثنیٰ کی خلاف ورزی۔ | شاہی حکومت کے خاتمے اور امریکی سامراج کے خلاف عوامی ردعمل۔ |
| JCPOA سے امریکہ کا انخلا | 2018 | معاہدے میں خامیوں اور ایران کے دیگر غیر مستحکم اقدامات کا جواب۔ | بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی، ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش۔ |
| آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے | جون 2026 | ایرانی ڈرون حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی، امریکی فضائی کارروائی دفاعی اقدام۔ | امریکی حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی، اپنے دفاع کا حق محفوظ۔ |
| حالیہ امریکی فضائی حملے (سیریک) | جون 2026 | آبنائے ہرمز میں مبینہ ایرانی ڈرون حملوں کا جواب۔ | جارحیت اور جنگ بندی کی خلاف ورزی، سخت جوابی کارروائی کا انتباہ۔ |
آبنائے ہرمز کی اہمیت اور علاقائی کشیدگی پر اثرات
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جس کے ذریعے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی ہوتی ہے۔ اس کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر، یہ علاقہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ دونوں ممالک نے کئی مواقع پر اس آبنائے میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھایا ہے اور ایک دوسرے پر بحری آمدورفت میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ ڈرون حملوں نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکہ نے ایران پر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے، جسے وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب، ایران نے امریکی حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی اور جنگ بندی کا خاتمہ قرار دیا ہے۔
اس بحری راستے کی بندش یا اس میں رکاوٹیں عالمی تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور عالمی معیشت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی برادری اس علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیتی ہے۔ اگرچہ حالیہ مفاہمتی یادداشت (MOU) میں آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ جہاز رانی کی شق شامل ہے اور ایران کو 30 دن کے اندر تمام بارودی سرنگیں ہٹانے کو کہا گیا ہے، تاہم زمینی حقائق پیچیدہ ہیں۔ عمان نے بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کچھ رقم لینے کا عندیہ دیا ہے، جسے امریکہ نے بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔
آبنائے ہرمز پر جاری تناؤ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم کا خطرہ بڑھاتا ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی عدم استحکام پیدا کرتا ہے۔ اس کی بندش سے عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو مشرق وسطیٰ سے باہر کے ممالک کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتا ہے۔
ایران کا جوابی لائحہ عمل اور عالمی ردعمل
ایران نے امریکی حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں ایک سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکی حملوں کا “فوری اور مؤثر جواب” دیا جائے گا، اور یہ جواب “تیز، فیصلہ کن، اور ایسے وقت اور مقام پر دیا جائے گا جس کا انتخاب ایران خود کرے گا”۔ ایران نے خطے میں امریکی فوج کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے اور کسی بھی نئے حملے کی صورت میں زیادہ سخت اور وسیع جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ دھمکیوں اور فوجی دباؤ کے تحت مذاکرات پر مجبور نہیں ہوں گے۔ ایران نے امریکہ پر “وعدہ خلافی اور اشتعال انگیز بیانات” کی برآمد کا الزام عائد کیا ہے، جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ تہران امریکی نیت پر گہرے شکوک و شبہات رکھتا ہے۔ ایران نے امریکی حملوں کو “جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی” بھی قرار دیا ہے، خاص طور پر اگر ان حملوں میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہو۔
عالمی سطح پر، اس کشیدگی پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور حالیہ امن معاہدے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی 19 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے طے پانے کا اعلان کیا تھا، جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا ذکر تھا۔ انہوں نے تنازعے کے سفارتی حل کے عزم کا اظہار کرنے پر امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کیا اور ثالثی کے عمل میں قطر، سعودی عرب اور ترکی کے کردار کو سراہا۔
تاہم، اس معاہدے کے بارے میں بھی ایران کی جانب سے کچھ تحفظات سامنے آئے تھے، اور ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امن معاہدے پر دستخط کا تاحال فیصلہ نہیں کیا تھا۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اس کے دفاعی ذرائع کسی سودے بازی کا موضوع نہیں بن سکتے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات ابھی بھی انتہائی نازک اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔
اس تناظر میں، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے خواہاں ممالک مسلسل سفارتی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ دونوں فریقوں کو مزید کشیدگی سے روکا جا سکے اور مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خلیجی اتحادیوں کو یقین دلایا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران ان کے سلامتی کے مفادات کو امریکہ ہرگز نظر انداز نہیں کرے گا۔
خطے میں امریکی کردار اور استحکام کے چیلنجز
مشرق وسطیٰ میں امریکی کردار ہمیشہ سے پیچیدہ اور کثیر الجہتی رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے، تو دوسری طرف ایران اور اس کے اتحادی امریکہ کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ امریکی مداخلت اور پالیسیاں خطے میں تنازعات کو ہوا دیتی ہیں اور امن کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ سے امریکی افواج کے انخلا اور “لامحدود جنگوں” کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا تھا، لیکن اس کے ساتھ ہی ایران کے خلاف “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی بھی اپنائی گئی۔ اس دوہری حکمت عملی نے خطے میں مزید غیر یقینی پیدا کر دی، جہاں امریکی افواج شام میں داعش کے خلاف کارروائیاں کر رہی تھیں اور اسی دوران ایران نواز گروپوں کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملے بھی ہوتے رہے۔
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی پالیسی کو “وعدہ خلافی اور اشتعال انگیز بیانات” کا مجموعہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے مسلسل اقدامات یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ نہ تو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی مذاکرات کے ذریعے حقیقی حل چاہتا ہے۔ اس سے مشرق وسطیٰ میں امریکی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے، جہاں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے عمل میں تضاد پایا جاتا ہے۔
خطے کے استحکام کے لیے یہ ضروری ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہو اور دونوں ممالک براہ راست یا بالواسطہ تصادم سے گریز کریں۔ تاہم، ماضی کے تجربات اور موجودہ بیانات کی روشنی میں یہ ایک بہت بڑا چیلنج دکھائی دیتا ہے۔ جب تک بنیادی تنازعات حل نہیں ہوتے اور دونوں فریقوں کے درمیان احترام اور مفاہمت کی بنیاد نہیں بنتی، مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ایک دور کا خواب ہی رہے گا۔
نتیجہ
امریکی حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے طور پر ایران کی جانب سے شدید ردعمل کا باعث بنے ہیں، اور تہران کا یہ موقف کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مذاکرات اور معاہدات کی پابند نہیں، تعلقات کی موجودہ پیچیدگی کو واضح کرتا ہے۔ حالیہ فوجی کارروائیاں اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جہاں تجارتی جہازوں پر مبینہ حملے اور جوابی فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں، یہ سب اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکراتی پالیسی، جس میں JCPOA سے یکطرفہ انخلا شامل تھا، نے بین الاقوامی معاہدوں پر اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور ایران کو یہ یقین دلایا کہ امریکی وعدوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کے نزدیک، امریکی اقدامات جارحانہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، جس کا وہ بھرپور جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے کم ہونے کا امکان تبھی ہے جب دونوں فریق حقیقی معنوں میں مذاکرات اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کی بنیاد رکھیں گے۔ پاکستان جیسے ثالث ممالک کی کوششیں، اگرچہ قابل ستائش ہیں، لیکن جب تک دونوں ممالک کے درمیان بنیادی بد اعتمادی دور نہیں ہوتی اور فوجی دباؤ کی بجائے سفارت کاری کو ترجیح نہیں دی جاتی، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام ایک دور کا خواب ہی رہے گا۔
