مقبول خبریں

2ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، امریکی سینٹرل کمانڈ نے حملوں کی تصدیق کردی

ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی تصدیق نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے جاری کشیدگی کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ یہ حملے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے ردعمل میں کیے گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں عسکری محاذ آرائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی حکام نے اپنی کارروائیوں کا مقصد خطے میں استحکام اور بحری نقل و حمل کی حفاظت کو یقینی بنانا قرار دیا ہے، جبکہ ایران نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی اور جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔

حالیہ حملوں کا پس منظر: آبنائے ہرمز میں کشیدگی

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی تاریخ بہت پرانی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے علاقے میں ہونے والے واقعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ 25 جون 2026 کو آبنائے ہرمز میں ایک سنگاپور کے پرچم بردار تجارتی جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں جہاز کے پل (برج/کمانڈ ڈیک) کو نقصان پہنچا۔ یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز مرکز نے اس حملے کی تصدیق کی اور بتایا کہ یہ واقعہ عمان کے ساحل سے چند میل دور پیش آیا۔ بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم (آئی ایم او) نے اس حملے کے بعد خطے میں جہازوں کے انخلا سے متعلق اپنی کارروائی عارضی طور پر معطل کر دی۔

ایرانی شہری اہداف پر حملے جنگی جرائم کے مترادف، ماہرین قانون

امریکی حکام نے فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری ایرانی پاسداران انقلاب پر عائد کی۔ واشنگٹن نے اس حملے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور جوابی کارروائی کا عندیہ دیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ بندی معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ براہ راست رابطے کا ذریعہ قائم کرنا واشنگٹن کے اہم مقاصد میں سے ایک ہے تاکہ تنازعات کو کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، امریکی سینیٹ نے 24 جون 2026 کو ایک قرار داد بھی منظور کی تھی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کو صدر کے لیے ایک دھچکا سمجھا گیا تھا۔

نشانہ بنائے گئے اہداف اور امریکی موقف

27 جون 2026 کو، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے اندر متعدد فوجی اہداف پر فضائی حملوں کی تصدیق کر دی۔ یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے براہ راست ردعمل میں کیے گئے۔ سینٹکام کے مطابق، فضائی کارروائی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون ذخائر کے علاوہ ساحلی ریڈار تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد خطے میں تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور بین الاقوامی بحری راستوں کو محفوظ رکھنا ہے۔ سینٹکام نے یہ بھی واضح کیا کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں استحکام اور محفوظ بحری نقل و حمل کے لیے اقدامات جاری رکھنا ہے، اور ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی جہاز پر ایرانی حملہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں بھی ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ آبنائے ہرمز کو بند کرتا ہے تو اسے تباہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا اور امریکہ آبنائے ہرمز کو قبضے میں لے سکتا ہے۔

مبینہ ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کا کردار

امریکی حکام اکثر ایران پر خطے میں پراکسی گروہوں کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ان حملوں کا پس منظر مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات اور افواج پر ہونے والے حملوں سے بھی جڑا ہوا ہے، جن میں ایران حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کو ملوث قرار دیا جاتا ہے۔ نومبر 2023 میں، پینٹاگون کی نائب پریس سیکریٹری سبرینا سنگھ نے بتایا تھا کہ عراق اور شام میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے امریکی فوجیوں پر 50 سے زائد حملے کیے تھے۔ اسی طرح، دسمبر 2025 میں شام میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکی کارروائیاں کی گئیں، جس کا مقصد پالمیرا میں امریکی فوجیوں پر حملے کا جواب دینا تھا۔

ایئرفورس کے زیر زمین سینٹر سے حملوں کی کمانڈ: ایران پر اسرائیلی حملوں سے متعلق اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟ - BBC News اردو
  • ایرانی میزائل اور ڈرون ذخائر: یہ وہ اہداف تھے جنہیں فضائی حملوں میں سب سے زیادہ اہمیت دی گئی، کیونکہ امریکہ کا ماننا ہے کہ ایران ان کا استعمال خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور حملوں کے لیے کرتا ہے۔
  • ساحلی ریڈار تنصیبات: آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نگرانی اور ممکنہ حملوں کی رہنمائی میں یہ تنصیبات کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے انہیں نشانہ بنایا گیا۔
  • خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ: سینٹکام نے واضح کیا کہ ان کارروائیوں کا ایک اہم مقصد خطے میں موجود امریکی مفادات اور افواج کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

ایران کا سخت ردعمل اور جوابی کارروائی کا دعویٰ

امریکی حملوں کے فوری بعد ایران نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سرک جزیرے پر امریکی فوج کا حملہ ناکام بنا دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی دفاعی فورسز نے کارروائی کو ناکام بنا کر حملہ پسپا کر دیا۔ اس کے علاوہ، پاسداران انقلاب نے یہ بھی اعلان کیا کہ انہوں نے خطے میں امریکی فوج کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، اور امریکہ کے کسی بھی نئے حملے کا زیادہ سخت اور وسیع جواب دیا جائے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کو “جنگ بندی کی لاپرواہ خلاف ورزی” قرار دیا۔ ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “ٹرمپ مذاکرات اور جنگ بندی کے اصولوں کے پابند نہیں”۔ ایران نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا اقدام پسپائی اور پشیمانی کا باعث بنے گا اور الزام تراشی کا طریقہ اب کام نہیں کرے گا۔

واقعہتاریخفریقینمبینہ مقصد/وجہ
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر ڈرون حملہ25 جون 2026مبینہ طور پر ایران کی جانب سےنامعلوم، امریکہ کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزی
ایران میں فوجی اہداف پر امریکی حملے27 جون 2026امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام)تجارتی جہاز پر حملے کا ردعمل، بحری تحفظ
سرک جزیرے پر ایرانی دفاع کا دعویٰ27 جون 2026ایرانی پاسدارانِ انقلابامریکی حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ
خطے میں امریکی ٹھکانوں پر ایرانی جوابی حملے کا دعویٰ27 جون 2026ایرانی پاسدارانِ انقلابامریکی حملوں کا جواب

علاقائی کشیدگی میں اضافہ اور عالمی برادری کے خدشات

امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان براہ راست حملوں اور جوابی کارروائیوں کا یہ سلسلہ مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر تنازعے کو جنم دے سکتا ہے، جس کے عالمی سطح پر سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز، جو کہ عالمی تیل کی تجارت کے لیے ایک کلیدی آبی گزرگاہ ہے، میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش طویل ہوگئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس سے قبل بھی اسی سال، مارچ میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں 6 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ اس صورتحال کو عالمی برادری تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔ اٹلی جیسے ممالک نے بھی اس کشیدگی میں اپنے غیر جانبدارانہ کردار پر زور دیا ہے اور ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس نے امریکہ کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں مختلف یورپی ممالک سے سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور امریکہ و اسرائیل کی کارروائیوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران بھی سفارتی چینلز کو فعال رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کے ساتھ براہ راست رابطے کے میکانزم کی اہمیت پر زور دیا، جہاں سینٹکام اور پاسدارانِ انقلاب کے نمائندے دوحہ میں رابطے میں رہ کر تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کر سکیں۔

امریکی حکام کے بیانات اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ایران کے حوالے سے ایک سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ صدر ٹرمپ نے ماضی میں کہا تھا کہ اگر ایران نے لبنان میں اپنے پراکسیز کو مسائل پیدا کرنے سے نہ روکا تو امریکہ ایران پر مزید سخت حملے کرے گا، “جس طرح ہم نے پچھلے ہفتے کیا تھا، بلکہ حملہ اس سے بھی شدید ہوگا”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے پاس “ضرورت پڑنے پر ایران میں دوبارہ سخت حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں” اور ایران کے پاس اب بھی “کچھ دفاعی صلاحیت باقی ہے”۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا” اور “اختلافات ہیں تو فون اٹھائیں، اور بات کریں”۔ یہ بیانات سفارتی راستہ کھلا رکھنے کی خواہش کے ساتھ ساتھ، ضرورت پڑنے پر مزید فوجی کارروائیوں کے لیے امریکہ کے عزم کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے، امریکہ کا موقف ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور اس کے استعمال پر کوئی فیس نہیں لی جانی چاہیے۔ جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان دونوں کے علاقائی پانیوں میں واقع ہے اور وہاں سمندری سرگرمیوں کا انتظام حال ہی میں جنگ بندی کے خاتمے کے لیے دستخط شدہ یادداشت کے آرٹیکل 5 کے تحت کیا جائے گا۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ ڈان نیوز کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں جو اس موضوع پر تفصیلی کوریج فراہم کرتی ہے۔

جنگ بندی معاہدہ اور اس کی خلاف ورزی کے الزامات

تازہ ترین امریکی حملے اس تناظر میں بھی اہم ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک جنگ بندی معاہدہ موجود ہونے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی جہاز پر ایرانی حملہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب، ایرانی حکام نے امریکی حملوں کو جنگ بندی کی “لاپرواہ خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ “ایران نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، امریکہ نے جنگ بندی کی پاسداری کی”۔

تاہم، ایران کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ٹرمپ مذاکرات اور جنگ بندی کے اصولوں کے پابند نہیں”۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تشریح اور اس کی پاسداری کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان الزامات اور جوابی الزامات نے خطے میں قیام امن کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی قوتیں ان حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے دعوے بین الاقوامی قانون اور علاقائی سلامتی کے لیے اہم مضمرات رکھتے ہیں۔

نتیجہ

ایران میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے حالیہ حملوں اور اس پر ایران کے شدید ردعمل نے مشرق وسطیٰ میں ایک نازک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کے معاملے پر شروع ہونے والی کشیدگی اب براہ راست فوجی کارروائیوں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ کا موقف ہے کہ اس کی کارروائیاں خطے میں استحکام اور آزاد بحری نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ ایران ان حملوں کو اپنی خودمختاری پر حملہ اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔

دونوں فریقین کے سخت بیانات اور جوابی کارروائیوں کے دعوے ایک وسیع تر علاقائی تنازعے کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں، جس کے عالمی معیشت اور سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اس صورتحال پر مرکوز ہیں اور فریقین سے تحمل، ضبط اور سفارتی حل کی جانب واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا سفارتی کوششیں اس بڑھتی ہوئی عسکری محاذ آرائی کو روکنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا مشرق وسطیٰ ایک نئے بحران کا شکار ہوتا ہے۔