مقبول خبریں

چین میں اے آئی سے بننے والے مختصر دورانیے کے ڈراموں کی غیر معمولی مقبولیت

چین میں اے آئی سے بننے والے مختصر دورانیے کے ڈرامے بہت تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ یہ ڈرامے موبائل فون کے لیے بنائے جاتے ہیں اور بہت کم وقت اور کم خرچ میں تیار ہو جاتے ہیں، جس نے چینی تفریحی صنعت میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی نے مختصر دورانیے کے ڈراموں کی پیداوار کو اس قدر تیز اور سستا بنا دیا ہے کہ یہ اب چینی ڈیجیٹل تفریحی مارکیٹ کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں، اور ان کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

اے آئی سے بننے والے مختصر ڈرامے: ایک نیا رجحان

چین میں اے آئی سے تیار کردہ “ڈیجیٹل ہیومن” شارٹ ڈرامے تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، جو ملک کی مختصر فارم ویڈیو مارکیٹ کا ایک نیا ترقیاتی شعبہ بن کر ابھر رہے ہیں۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں کمی اور سامعین کی بڑھتی ہوئی قبولیت اس رجحان کی بنیادی وجہ ہے۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں، شروع کیے گئے تقریباً 128,000 مائیکرو ڈراموں میں سے تقریباً 95 فیصد اے آئی سے تیار کیے گئے تھے۔ یہ اعداد و شمار مصنوعی ذہانت کے اس میدان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ مختصر ڈرامے، جنہیں “مائیکرو ڈرامے” یا “شارٹ ڈرامے” بھی کہا جاتا ہے، عموماً دو سے پانچ منٹ کی اقساط پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کا مواد اکثر جذباتی، فارمولائی اور اسمارٹ فون کے ناظرین کی توجہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ 2026 میں، صرف اے آئی شارٹ ڈراموں کے لیے سامعین کی تعداد 280 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے، جو پچھلے سال کے 120 ملین سے نمایاں اضافہ ہے۔ جنوری 2026 میں، ٹاپ 100 “مانجو” (آن لائن ناولوں، کامکس یا اصل اسکرپٹس کی مختصر ویڈیو موافقت) ٹائٹلز میں اے آئی سے چلنے والے ڈیجیٹل ہیومن ڈراموں کا حصہ ایک سال پہلے کے 7 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد ہو گیا۔ ان ڈراموں کی مجموعی ناظرین کی تعداد 2.55 بلین آراء تک پہنچ چکی ہے۔

اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے بنائے گئے ان ڈراموں کی حیران کن مقبولیت نے نہ صرف ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے بلکہ پروڈکشن ہاؤسز کے لیے بھی ایک نیا اور منافع بخش راستہ کھول دیا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین کی فلم اور ٹیلی ویژن کی صنعت میں مجموعی سست روی کا سامنا ہے، اے آئی سے تیار کردہ ڈرامے پروڈیوسرز کو پیداواری وقت اور مزدوری کے اخراجات پر سخت کنٹرول فراہم کر رہے ہیں، جس سے آمدنی میں اضافے کی توقعات پیدا ہو رہی ہیں۔

کم لاگت اور تیز رفتار پیداوار کا ماڈل

اے آئی کی بدولت مختصر ڈراموں کی تیاری کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے اور وقت کی بچت ہوئی ہے، جس نے روایتی فلم سازی کے طریقوں کو چیلنج کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے پیداواری لاگت میں 90 فیصد تک کمی کی ہے اور وقت کو مہینوں سے کم کر کے ہفتوں میں لے آئی ہے۔ 2024 میں ایک روایتی لائیو ایکشن شارٹ ڈراما کی لاگت 10 لاکھ یوآن (137,000 امریکی ڈالر) سے زیادہ ہوتی تھی، لیکن اب اے آئی ٹولز کے ذریعے اسے 50,000 سے 100,000 یوآن (7,000 سے 14,000 امریکی ڈالر) میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ سب سے سستی سطح پر، آؤٹ سورس ورکشاپس ایک مکمل سیریز کے لیے 30,000 سے 40,000 یوآن تک کی پیشکش کر رہی ہیں۔ فی منٹ کی لاگت 2024 کے اوائل میں 3,000 سے 5,000 یوآن سے کم ہو کر آج عام طور پر 500 سے 1,000 یوآن رہ گئی ہے، اور کچھ آؤٹ سورس ٹیمیں صرف 200 یوآن (27 امریکی ڈالر) تک کی پیشکش کر رہی ہیں۔

یہ ڈرامے نہ صرف سستے ہیں بلکہ ان کی تیاری میں بھی بہت کم وقت لگتا ہے۔ ایک شارٹ ویڈیو پروڈیوسر کے مطابق، اے آئی بیانیہ کے ساتھ 20 اقساط پر مشتمل 40 منٹ کا ایک ڈراما ایک ہی دن میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ “ایک شخص، ایک دن میں ایک ڈراما” کی پیداواری صلاحیت حقیقت بن چکی ہے۔ یہ کم لاگت اور تیز رفتاری پروڈیوسرز کو زیادہ سے زیادہ مواد تیار کرنے اور اسے مارکیٹ میں لانچ کرنے کی ترغیب دیتی ہے، جس سے آزمائش اور غلطی کی لاگت کم ہوتی ہے اور تخلیقی آزادی بڑھتی ہے۔

موبائل فرسٹ اپروچ اور ناظرین کی بدلتی ترجیحات

مختصر دورانیے کے اے آئی ڈرامے خاص طور پر اسمارٹ فونز کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، جو کہ جدید دور کے ناظرین کی موبائل فرسٹ تفریحی عادات سے ہم آہنگ ہیں۔ ان ڈراموں کی اقساط ایک سے تین منٹ کی ہوتی ہیں اور انہیں عمودی طور پر فون پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ سیریز اسمارٹ فون کی اسکرین کے تناسب کے لیے موزوں ہوتی ہیں، اور ایک عام سیریز میں درجنوں اقساط شامل ہوتی ہیں۔

یہ فارمیٹ ڈویژن اور ٹک ٹاک جیسے شارٹ ویڈیو پلیٹ فارمز کے لیے بالکل موزوں ہے، جہاں ناظرین تیزی سے سکرول کرتے ہوئے مواد تلاش کرتے ہیں۔ ناظرین کو فوری جذباتی تسکین فراہم کرنے اور ایک قسط سے دوسری قسط تک جوڑے رکھنے کے لیے، ان ڈراموں کی کہانیاں اکثر ڈرامائی موڑ اور سنسنی خیز واقعات سے بھری ہوتی ہیں۔ اس تیز رفتار کہانی سنانے کے انداز نے ناظرین کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں یہ بے حد مقبول ہیں۔

اس صنعت کی کامیابی کا راز نہ صرف اس کی کم پیداواری لاگت اور تیز رفتار میں ہے بلکہ اس میں بھی ہے کہ یہ مواد کی کھپت کے طریقوں میں آنے والی تبدیلیوں کو کس طرح ایڈجسٹ کر رہی ہے۔ لوگ چلتے پھرتے، سفر کے دوران یا مختصر وقفوں میں تفریح چاہتے ہیں، اور یہ مختصر ڈرامے ان کی اس ضرورت کو بخوبی پورا کرتے ہیں۔

تخلیقی عمل میں مصنوعی ذہانت کا کردار

مصنوعی ذہانت نے مختصر ڈراموں کے تخلیقی عمل کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے، جس میں اسکرپٹ رائٹنگ سے لے کر ورچوئل کریکٹر ماڈلنگ، سین جنریشن اور پوسٹ ایڈیٹنگ تک شامل ہیں۔ بائیٹ ڈانس کے سیڈانس 2.0، کوائیشو کے کلنگ 3.0، اور شینگشو ٹیکنالوجی کے وڈو جیسے جدید جنریٹو ویڈیو ماڈلز نے تیار کردہ فوٹیج کے معیار کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں کچھ انواع کے لیے، اے آئی سے تیار کردہ اور لائیو ایکشن مواد کے درمیان فرق ناظرین کے لیے فوراً واضح نہیں ہوتا۔

اے آئی اب بڑے پیمانے کے مناظر، بڑے اسپیشل ایفیکٹس یا فینٹسی سیٹنگز کو کم لاگت اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ تیزی سے حاصل کر سکتی ہے، جو پہلے ناقابل تصور تھے۔ اس سے اسکرین رائٹرز کو بھی زیادہ تخلیقی آزادی ملتی ہے، جہاں وہ اپنی تخیل کو آزادانہ طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اے آئی کرداروں کے ڈیزائن میں مشہور چہروں کو شامل کرنے کا معیار بھی بن چکی ہے، جس سے ڈراموں میں غیر معمولی فینٹسی سیکوئنس، ڈریگن، پانی کے اندر کی بادشاہتیں اور دیگر بصری تفصیلات شامل کرنا ممکن ہو گیا ہے جو پہلے بجٹ کی وجہ سے مشکل تھیں۔

تاہم، اے آئی کے استعمال سے کچھ چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں، جن میں آڈیو ویژول ہم آہنگی کے مسائل، ہونٹوں کی غیر فطری حرکت، اور اداکاری کی محدود رینج شامل ہے۔ اس کے علاوہ، انسانی فنکاروں کے کام کے حقوق بھی ایک اہم مسئلہ بن کر ابھرے ہیں۔

چین میں حکام اتنے معروف ڈرامے 'یان شی پیلس' کے خلاف کیوں ہوگئے؟ - BBC News اردو

ڈیجیٹل مارکیٹ میں اے آئی ڈراموں کی بڑھتی ہوئی پوزیشن

چین کی مائیکرو ڈراما انڈسٹری، جس کی مالیت 2024 میں 6.9 بلین امریکی ڈالر تھی، تیزی سے جنریٹو اے آئی کو اپنا رہی ہے۔ 2025 میں اس مارکیٹ کی مالیت 14 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی، اور 2026 میں اس کے 120 بلین یوآن (تقریباً 16.5 بلین امریکی ڈالر) سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، جو ملک کے پورے تھیٹر باکس آفس کو پہلی بار پیچھے چھوڑ دے گی۔ یہ 660 ملین صارفین کی خدمت کرنے والی 16.5 بلین امریکی ڈالر کی صنعت ہے۔

اے آئی سے تیار کردہ مختصر ڈرامے اب چین کی ڈیجیٹل تفریحی مارکیٹ میں ایک غالب قوت بن چکے ہیں۔ جنوری 2026 میں، چینی پلیٹ فارمز پر ہر 90 سیکنڈ میں ایک نیا اے آئی سے تیار کردہ مائیکرو ڈراما لانچ کیا گیا۔ مارچ تک، صرف ڈویژن پر تقریباً 50,000 اے آئی نیٹو ٹائٹلز شامل کیے جا چکے تھے۔ حکومت بھی اس صنعت کو سبسڈی دے رہی ہے، جو اس کی تیزی سے ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

مندرجہ ذیل جدول اے آئی سے تیار کردہ مختصر ڈراموں اور روایتی ڈراموں کے درمیان اہم موازنہ پیش کرتا ہے:

پہلواے آئی سے تیار کردہ مختصر ڈرامےروایتی لائیو ایکشن ڈرامے
پیداواری لاگتبہت کم (90% تک کمی)زیادہ (لاکھوں امریکی ڈالر)
پیداواری وقتبہت کم (دن یا ہفتے)زیادہ (مہینے)
اقساط کی لمبائی2-5 منٹ20-60 منٹ (عموماً)
پلیٹ فارمموبائل فرسٹ، شارٹ ویڈیو ایپسٹیلی ویژن، اسٹریمنگ سروسز
مقصدفوری مصروفیت، بڑے پیمانے پر موادگہرا کہانی سنانا، اعلیٰ معیار
ناظرینوسیع، موبائل صارفین، نوجوانوسیع، روایتی ناظرین

قانونی و اخلاقی چیلنجز اور ان کا مستقبل

اے آئی سے بننے والے ڈراموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ ساتھ کئی قانونی اور اخلاقی چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ “چہرے کی چوری” اور ڈیجیٹل تصویری حقوق کا ہے، جہاں اے آئی ماڈلز بظاہر حقیقی اداکاروں کے چہروں کی نقل کرتے ہیں بغیر ان کی رضامندی کے۔ اس مسئلے کے جواب میں، چینی کمپنیاں اب حقیقی انسانی چہروں کے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس کے لیے وہ ایک سال کے استعمال کے لیے 500 سے 1,500 یوآن (75 سے 200 امریکی ڈالر) تک ادا کر رہی ہیں۔ بیجنگ کی ایک عدالت نے ایک ایسی اداکارہ کے حق میں فیصلہ بھی سنایا ہے جس کے تصویری حقوق اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ایک مائیکرو ڈرامے میں خلاف ورزی کیے گئے تھے۔

یہ رجحان گراس روٹس اور ٹیمپلیٹ پر مبنی اداکاروں کے لیے ملازمتوں کے نقصان کا باعث بن رہا ہے، جن کی دہرائی جانے والی پرفارمنس اور معمول کے شاٹس کو اے آئی سسٹمز مؤثر طریقے سے مکمل کر سکتے ہیں۔ اگرچہ صنعت کے عہدیدار یہ کہتے ہیں کہ اے آئی تخلیق کاروں کو بااختیار بنانے کے لیے ہے نہ کہ ان کی جگہ لینے کے لیے، لیکن درمیانے اور نچلے درجے کے فنکاروں کے لیے روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔

چین کی حکومت نے اے آئی ٹیکنالوجی کے لیے ضوابط کو سخت کرنا شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد اے آئی ایجنٹوں کے لیے ایک متحد شناختی نظام قائم کرنا ہے۔ توقع ہے کہ حکام خام اے آئی شارٹ ڈراموں کے زیادہ پھیلاؤ کو روکنے اور تکنیکی استعمال کو معیاری بنانے کے لیے قانون سازی متعارف کرائیں گے۔ یہ اقدامات اس تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کو منظم کرنے اور اس کے ساتھ منسلک خطرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں تاکہ ایک پائیدار ماحولیاتی نظام بنایا جا سکے۔

اے آئی ڈراموں کا وسیع تر ثقافتی اور معاشی اثر

چین میں اے آئی سے بننے والے مختصر ڈراموں کا ثقافتی اور معاشی اثر بہت گہرا ہے۔ 2025 میں چین کی مائیکرو ڈراما مارکیٹ کی مالیت تقریباً 14 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ توقع ہے کہ 2026 میں یہ مارکیٹ 24 بلین یوآن (27.2 بلین ہانگ کانگ ڈالر) تک پہنچ جائے گی۔ یہ صنعت نہ صرف چین بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی پہنچ بڑھا رہی ہے، اور چینی حکومت ثقافتی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے اے آئی سے تیار کردہ اینیمیٹڈ شارٹ ڈراموں کو ایک ہلکی پھلکی لیکن طاقتور ذریعہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ عالمی سطح پر مختصر ڈراموں کے لیے 2030 تک 25 بلین ڈالر سے زیادہ کی مارکیٹ کی توقعات میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

اے آئی ڈرامے اسکرپٹ رائٹرز کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں، جہاں اب انہیں کہانی کے تصور، کرداروں کی تعمیر، اور سماجی مسائل کی تشریح جیسے گہرائی والے تخلیقی کام پر زیادہ توجہ مرکوز کرنی پڑ رہی ہے، جبکہ اے آئی سادہ مکالموں اور اسکرپٹ کے ڈھانچے جیسے میکانکی کاموں کو سنبھال رہی ہے۔ یہ صنعت نہ صرف تفریح فراہم کر رہی ہے بلکہ لاکھوں ملازمتیں بھی پیدا کر رہی ہے۔ 2025 میں، اس شعبے نے براہ راست تقریباً 690,000 ملازمتیں پیدا کیں اور بالواسطہ طور پر 2 ملین سے زیادہ پوزیشنیں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے۔

چینی ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ کا مستقبل تیزی سے اے آئی ٹیکنالوجی کے گرد گھوم رہا ہے۔ اے آئی ڈرامے تخلیقی آزادی کو بڑھا رہے ہیں، لاگت کو کم کر رہے ہیں، اور ایک وسیع تر عالمی سامعین تک رسائی فراہم کر رہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں چینی ڈراموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف ایک نیا رجحان نہیں بلکہ ایک مستقل تبدیلی ہے۔ مثال کے طور پر، بیرون ملک بھی ریل شارٹ (ReelShort) جیسے پلیٹ فارمز نے امریکی مارکیٹ میں نیٹ فلکس کو ڈاؤن لوڈ کی درجہ بندی میں پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو چینی مائیکرو ڈراموں کی عالمی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس بارے میں مزید تفصیلات ڈان نیوز کی اس رپورٹ میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں کہ کس طرح چینی انٹرٹینمنٹ صنعت بدل رہی ہے۔

چین میں حکام اتنے معروف ڈرامے 'یان شی پیلس' کے خلاف کیوں ہوگئے؟ - BBC News اردو

نتیجہ

چین میں اے آئی سے بننے والے مختصر دورانیے کے ڈرامے تفریحی صنعت میں ایک انقلاب کی علامت ہیں۔ یہ ڈرامے نہ صرف کم وقت اور کم لاگت میں تیار ہو کر تخلیق کاروں کو بے مثال مواقع فراہم کر رہے ہیں بلکہ موبائل فون صارفین کی تفریحی ضروریات کو بھی مؤثر طریقے سے پورا کر رہے ہیں۔ ان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت، بلین ڈالرز کی مارکیٹ ویلیو، اور عالمی سطح پر پھیلتی ہوئی پہنچ اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک ثقافتی اور معاشی قوت بن چکی ہے۔ اگرچہ قانونی اور اخلاقی چیلنجز موجود ہیں جن سے نمٹنا ضروری ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اے آئی مختصر دورانیے کے ڈراموں کا مستقبل ہے، اور یہ چینی انٹرٹینمنٹ کو نئی بلندیوں پر لے جا رہا ہے۔