Table of Contents
فہرست
ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، صدر ٹرمپ کے اس بیان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر امریکی اور ایرانی تعلقات کی نوعیت کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور سفارت کاری کی ایک پیچیدہ تاریخ موجود ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ کہ ایران کے ساتھ معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں اور ان کے ساتھ “اچھی ملاقاتیں” ہوئی ہیں، خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ لے سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جن کو صدر ٹرمپ نے اطمینان بخش قرار دیا ہے۔ یہ بیانات اس پالیسی کے تناظر میں اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جو ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کے تحت اپنائی تھی۔
صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کا پس منظر: زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی
ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ 2018 میں، صدر ٹرمپ نے امریکہ کو ایران کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ طور پر دستبردار کر لیا، جسے وہ “امریکی تاریخ کے بدترین معاہدوں میں سے ایک” قرار دیتے تھے۔ اس کے بعد، ان کی انتظامیہ نے ایران پر شدید معاشی پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں، جس کا مقصد ایران کو ایک نئے اور جامع معاہدے پر مجبور کرنا تھا جو اس کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل کی ترقی، اور علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کر سکے۔ اس “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ JCPOA ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے میں ناکام تھا اور اس نے ایران کو خطے میں اپنی سرگرمیوں کو بڑھانے کی اجازت دی۔ پابندیوں کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانا، اس کی مالیاتی منڈیوں کو نشانہ بنانا، اور اس کی معیشت پر شدید دباؤ ڈالنا تھا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی، جس میں آبنائے ہرمز میں بحری واقعات اور عراق میں امریکی مفادات پر حملے شامل تھے۔ اس کے باوجود، صدر ٹرمپ اکثر یہ اشارے دیتے رہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ وہ نئے شرائط و ضوابط پر مبنی ہوں۔
‘مثبت انداز میں آگے بڑھتے ہوئے’ مذاکرات کے دعوے
تناؤ کے باوجود، صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے کچھ اراکین کی جانب سے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے دعوے وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ حال ہی میں، صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات “خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں” اور ان کی “اچھی ملاقاتیں” ہوئی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کی تعریف کی، انہیں “انتہائی مثبت” قرار دیا اور کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے حوالے سے پیش رفت “اطمینان بخش” ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، دوحہ میں بہت “اچھی ملاقاتیں” ہوئی ہیں اور وہ اس پیش رفت کو مستقبل کے ایک طویل المدتی معاہدے کی بنیاد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “ایران کا جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عمل اچھا جا رہا ہے،” اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ رابطے کشیدگی کم کرنے اور باہمی مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ان بیانات میں یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ گزشتہ ہفتے ایران پر “بہت سخت حملہ” کیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود دونوں فریق “بہت اچھے طریقے سے مل رہے ہیں”۔ ان دعوؤں کا مقصد شاید یہ ظاہر کرنا تھا کہ امریکہ دباؤ اور سفارت کاری دونوں محاذوں پر کامیابی حاصل کر رہا ہے۔
مذاکراتی عمل کی پیچیدگیاں اور تضادات
تاہم، ان مثبت دعوؤں کے باوجود، مذاکراتی عمل کی پیچیدگیاں اور دونوں فریقین کے بیانات میں تضادات بھی نمایاں رہے ہیں۔ ایک جانب صدر ٹرمپ نے مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کیا، تو دوسری جانب ایرانی حکام نے اکثر ایسے دعوؤں کی تردید کی یا انہیں کم اہمیت دی۔ مثال کے طور پر، جون 30، 2026 کو، صدر ٹرمپ نے دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت متوقع ہونے کا دعویٰ کیا، یہ بھی کہا کہ ایران نے خود ملاقات کی درخواست کی ہے۔ لیکن ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ قطر میں امریکہ سے کوئی ملاقات شیڈول نہیں تھی۔ ایرانی وفد کا مقصد مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد سے متعلق امور پر توجہ دینا تھا، نہ کہ امریکہ سے کسی حتمی معاہدے پر مذاکرات کرنا۔
امریکی انتظامیہ کے اندر بھی ایران اور لبنان سے متعلق پالیسی پر ممکنہ اختلافات کی بحث سامنے آئی، جیسا کہ جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کے بیانات میں فرق دیکھا گیا۔ جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ معاہدہ مفاہمت کے حق میں نرم مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ مذاکرات میں “اچھی پیش رفت” ہو رہی ہے، جبکہ مارکو روبیو نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اپنایا۔ وائٹ ہاؤس نے اگرچہ کسی بھی تقسیم کی سختی سے تردید کی، تاہم یہ ظاہر کرتا ہے کہ پالیسی کی تشکیل میں مختلف آراء موجود تھیں۔ اس کے علاوہ، صدر ٹرمپ نے بارہا یہ دھمکی بھی دی کہ اگر معاہدہ طے نہ پایا یا ایران نے خلاف ورزی کی تو دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ یہ دھمکیاں مذاکراتی فضا میں مزید تناؤ پیدا کرتی تھیں۔
| اہم نکات | صدر ٹرمپ کا مؤقف | ایران کا مؤقف (ردعمل) |
|---|---|---|
| مذاکرات کی پیش رفت | مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، اچھی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ | امریکی دعووں کی تردید، تکنیکی یا مفاہمتی امور پر مشاورت۔ |
| جوہری ہتھیار | ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جوہری صلاحیت کا خاتمہ۔ | ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، پابندیوں کی واپسی کا مطالبہ۔ |
| پابندیاں اور ناکہ بندی | معاہدے کی تصدیق تک پابندیاں اور بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ | امریکی پابندیاں غیر قانونی ہیں، ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ |
| آبنائے ہرمز | معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سب کے لیے کھل جائے گی۔ | آبنائے ہرمز ایران کی خودمختاری کا حصہ ہے، علاقائی سلامتی کا معاملہ۔ |
| ثالثی | پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کو تسلیم کیا۔ | قطری اور عمانی حکام سے مشاورت۔ |
جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری اور آبنائے ہرمز کا معاملہ
صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کا ایک بنیادی جزو یہ تھا کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا یہ مؤقف مسلسل رہا کہ ایران کو جوہری صلاحیت سے دستبردار ہونا پڑے گا اور اس معاملے پر پیش رفت اطمینان بخش ہے۔ مذاکرات کا ایک اہم حصہ جوہری مواد کی تلاش اور اس کے انتظام سے متعلق بھی تھا، جہاں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تہران نے تنازع کے خاتمے کے بعد امریکی حکام کو ایران میں دفن شدہ جوہری مواد کی تلاش کے لیے داخل ہونے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ صدر ٹرمپ نے ماضی میں دعویٰ کیا تھا کہ ایک معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز “سب کے لیے کھل جائے گی”۔ اس سمندری راستے پر کشیدگی میں اضافہ عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے، اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم اس آبنائے کی صورتحال کسی بھی مذاکراتی عمل میں ایک اہم نکتہ رہتی ہے۔ ایرانی حکام نے بھی آبنائے ہرمز پر اپنی قومی خودمختاری کا اعادہ کیا ہے اور اس کے انتظام کو اپنے ہاتھ میں قرار دیا ہے۔
علاقائی اور عالمی ردعمل: ثالثی کے کردار
امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کے حل کے لیے عالمی سطح پر اور خاص طور پر خطے کے ممالک نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان اور قطر کو ان کوششوں میں اہم ثالث کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے لیے بھرپور سفارت کاری کی ہے جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ پاکستانی حکام پرامید رہے ہیں کہ دونوں ممالک ایک حتمی معاہدے پر متفق ہو سکتے ہیں۔
قطر نے بھی بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کی ہے، جہاں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان رابطے ہوئے۔ یورپی یونین نے بھی امریکہ-ایران معاہدے کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔ عالمی برادری کی خواہش ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رہے اور جوہری پھیلاؤ کے خطرات کم ہوں۔ اس لیے، ثالثی کے یہ کردار عالمی امن و سلامتی کے لیے اہم ہیں، خاص طور پر جب دونوں فریقین کے درمیان براہ راست بات چیت میں ہچکچاہٹ پائی جاتی ہو یا بیانات میں تضاد ہو۔ ان کوششوں کا مقصد تنازعات کو ختم کرنا اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان بقایا مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے، جس میں جوہری فائل، پابندیوں میں ریلیف، اور وسیع تر علاقائی سلامتی کے انتظامات شامل ہیں۔ اس ضمن میں مزید معلومات کے لیے، ڈان نیوز کی ایک متعلقہ رپورٹ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
آئندہ کے امکانات اور چیلنجز
صدر ٹرمپ کے یہ بیانات کہ “ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں” اگرچہ امید افزا لگتے ہیں، لیکن آئندہ کے امکانات ابھی بھی چیلنجوں سے بھرپور ہیں۔ ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ جب تک کوئی معاہدہ طے پا کر اس کی تصدیق اور دستخط نہیں ہو جاتے، ایران پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہے گی۔ یہ صورتحال ایران پر دباؤ برقرار رکھتی ہے، جس کی وجہ سے ایران کی جانب سے مکمل طور پر لچک دکھانے میں مزاحمت ہو سکتی ہے۔
مذاکرات کی کامیابی کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں دونوں ممالک کی داخلی سیاسی صورتحال، علاقائی استحکام اور عالمی طاقتوں کا کردار شامل ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا ہے کہ واشنگٹن موجودہ مرحلے پر سفارت کاری کو ترجیح دے رہا ہے، لیکن خطے کی سلامتی اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ سے متعلق کسی بھی ممکنہ خطرے پر مناسب ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے مکمل طور پر دستبردار کرانا، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا، اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کنٹرول کرنا امریکہ کے بنیادی مطالبات ہیں، جبکہ ایران اپنی خودمختاری، اقتصادی آزادی اور سیکورٹی خدشات کا دفاع کرتا ہے۔ اس پیچیدہ صورتحال میں، کسی پائیدار اور جامع معاہدے تک پہنچنا ایک طویل اور مشکل عمل ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات کے مثبت انداز میں آگے بڑھنے سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیانات، امریکہ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی اور سفارتی کوششوں کے درمیان ایک پیچیدہ توازن کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک طرف، وہ مذاکرات میں پیش رفت اور “اچھی ملاقاتوں” کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دستبردار کرنے اور پابندیاں برقرار رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ ایران کی جانب سے براہ راست مذاکرات کی تردید اور امریکہ کے ساتھ اہم اختلافات کا برقرار رہنا اس عمل کی نازکی کو واضح کرتا ہے۔ پاکستان اور قطر جیسے ممالک کی ثالثی کی کوششیں اگرچہ قابلِ ستائش ہیں، لیکن فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی اور بنیادی اختلافات کسی بھی حتمی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا سفارت کاری کی یہ کوششیں بالآخر تناؤ میں کمی اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن و استحکام کا باعث بن پاتی ہیں یا نہیں۔ اس پورے منظرنامے میں، علاقائی اور عالمی طاقتوں کے کردار اور ایران کی اندرونی سیاسی و اقتصادی صورتحال بھی کلیدی اہمیت کی حامل رہے گی۔
