مقبول خبریں

شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات، ایران کی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا

شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں پورے ایران کو سوگ میں ڈبو دیا گیا ہے، اور ملک کی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ اس حساس دور میں سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ 28 فروری 2026 کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد، ایران ایک نئے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ حملے تہران میں سپریم لیڈر کے دفتر اور دیگر اہم حکومتی و عسکری مراکز کو نشانہ بنائے گئے تھے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور پاکستان کی ثالثی میں امن کی کوششیں جاری ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی سرکاری تصدیق یکم مارچ 2026 کو ہوئی، جب ایرانی حکام نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ان کی وفات کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد ایران بھر میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے ایرانی قوم کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے، کیونکہ آیت اللہ خامنہ ای تقریباً 37 برس تک اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر رہے اور ملک کے سیاسی و مذہبی نظام کا سب سے بااثر چہرہ مانے جاتے تھے۔ ان کی قیادت میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں ایک مضبوط امریکہ مخالف طاقت کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔

شہادت کی خبر کے بعد سے ہی ملک کے مختلف شہروں میں سوگ کی فضا چھائی ہوئی ہے اور سرکاری و عوامی سطح پر تعزیتی تقریبات اور دعائیہ اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی قوم، دنیا کے مسلمانوں اور حریت پسند لوگوں کے دل غم سے بھر گئے ہیں۔ مسلح افواج کے کمانڈروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک غیر معمولی اور تاریخ ساز شرکت کے ساتھ قوم کے شہید رہبر اور ان کے شہید ساتھیوں کو الوداع کریں اور ایک بار پھر دنیا کو یہ دکھائیں کہ ایران کی قوم، دشمنوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی۔

چھ روزہ سوگ اور آخری رسومات کا تفصیلی شیڈول

شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کا ایک وسیع اور تفصیلی شیڈول جاری کیا گیا ہے، جو 4 جولائی سے 9 جولائی تک چھ دنوں پر محیط ہے۔ ان رسومات میں ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، جس کے لیے حکومتی سطح پر غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ تقریبات ایران اور پڑوسی ملک عراق کے پانچ مختلف شہروں میں منعقد کی جائیں گی۔

سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات: 2 کروڑ افراد کی شرکت متوقع - Daily Jasarat
  • 4 اور 5 جولائی: تہران میں ابتدائی تقریبات

    سوگ کی مرکزی تقریبات کا آغاز 4 اور 5 جولائی کو دارالحکومت تہران کے امام خمینی مصلیٰ میں کیا جائے گا۔ یہاں آیت اللہ خامنہ ای کے جسد خاکی کو آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ تہران کے ڈپٹی میئر کے مطابق صرف دارالحکومت میں تقریباً 2 کروڑ افراد کی آمد کے پیش نظر لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ آج (3 جولائی) سے تہران میں “خراج عقیدت” کی تقریب منعقد ہو رہی ہے جس کے لیے دنیا بھر سے عالمی رہنماؤں کو دعوت دی گئی ہے۔


  • 6 جولائی: تہران میں باضابطہ نماز جنازہ

    6 جولائی کو تہران میں باضابطہ جنازے کی تقریبات منعقد ہوں گی۔ اس روز ایران بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ عوام بھرپور طریقے سے شرکت کر سکیں۔ تہران کی سڑکوں سے جنازے کو جلوس کی صورت میں گزارا جائے گا۔


  • 7 جولائی: قم کی منتقلی

    7 جولائی کو آیت اللہ خامنہ ای کا جسد خاکی ایران کے مقدس شہر قم منتقل کیا جائے گا۔ قم میں تعزیتی اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی، جہاں عقیدت مند آخری دیدار کریں گے۔


  • 8 جولائی: نجف اور کربلا کا سفر (عراق)

    رپورٹ کے مطابق 8 جولائی کو جسد خاکی کو جلوس کی صورت میں عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا منتقل کیا جائے گا، جہاں عقیدت مند آخری دیدار کریں گے۔ تاہم، عراق میں تعزیتی تقریب منعقد کرنے پر حکام کی جانب سے تاحال سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔


  • 9 جولائی: مشہد میں تدفین

    رسومات کی ادائیگی کے بعد 9 جولائی کو میت کو واپس ایران لایا جائے گا اور انہیں ان کے آبائی شہر مشہد میں واقع مقدس ترین مقام ‘حرم امام رضا’ کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ یہ تقریبات کا اختتامی مرحلہ ہوگا۔


ایرانی افواج کو ہائی الرٹ کرنے کے سیکیورٹی خدشات

آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات سے قبل ایران میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور ملک کی مسلح افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور مختلف ممالک سے آنے والے اعلیٰ حکومتی، مذہبی اور سیاسی وفود کی آمد کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے گئے ہیں۔ ایرانی فوج کی زمینی، بحری اور فضائی افواج نے ملک کی سرحدوں اور حساس مقامات پر اپنی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ فضائی دفاعی فورس مسلسل ملک کی فضائی حدود کی نگرانی کر رہی ہے اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی پر فوری ردعمل دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آخری رسومات میں ایران کے اندر اور بیرون ملک سے بڑی تعداد میں اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے، اسی لیے سیکیورٹی اداروں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایران اپنی اعلیٰ قیادت کی آخری رسومات کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے غیر معمولی حفاظتی اقدامات کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور تقریبات کے دوران جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔ اس کے علاوہ، امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سیکیورٹی پروٹوکول بالکل بدل گئے ہیں، اور ان کی عوامی شرکت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

شہید سپریم لیڈر خامنہ ای کی آخری رسومات سے قبل ایران میں سکیورٹی ہائی الرٹ - ایکسپریس اردو

عوامی شرکت اور رقت آمیز مناظر

شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں عوام کی بے مثال شرکت متوقع ہے۔ حکام کا اندازہ ہے کہ ملک اور دنیا بھر سے تقریباً 15 سے 20 ملین (ڈیڑھ سے دو کروڑ) سوگوار شرکت کریں گے، جس سے یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سرکاری جنازہ بننے کا امکان ہے۔ تہران کے انقلاب اسکوائر میں آیت اللہ خامنہ ای سے منسوب علامتی مٹھی بھی نصب کر دی گئی ہے جو آخری رسومات کی تیاریوں کا حصہ ہے، جبکہ ملک بھر میں سوگ کی فضا نمایاں ہے۔ تہران میں شہید سپریم لیڈر کے آخری دیدار کا آغاز ہو چکا ہے اور رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

لوگوں کا جم غفیر، تہران کی گلیوں اور سڑکوں پر جمع ہے، تاکہ اپنے محبوب قائد کو آخری بار دیکھ سکیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں بھی سوگ کی فضا ہے اور سرکاری و عوامی سطح پر تعزیتی تقریبات اور دعائیہ اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ان تقریبات میں شرکت کے لیے آج تہران روانہ ہوگا۔ عالمی رہنماؤں کی آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت اور ان کے دور کا اثر و رسوخ عالمی سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔

واقعہ تاریخ مقام اہمیت
شہادت کا اعلان 1 مارچ 2026 تہران باضابطہ اعلان اور قومی سوگ کا آغاز
تہران میں آخری دیدار 4-5 جولائی 2026 امام خمینی مصلیٰ، تہران لاکھوں افراد کی شرکت متوقع
تہران میں نماز جنازہ 6 جولائی 2026 تہران کی سڑکیں ملک بھر میں عام تعطیل
قم میں تعزیتی اجتماعات 7 جولائی 2026 مقدس شہر قم عقیدت مندوں کی جانب سے خراج تحسین
نجف و کربلا کا سفر (ممکنہ) 8 جولائی 2026 نجف اور کربلا، عراق عراق کے مقدس شہروں میں عقیدت پیش کرنا
مشہد میں تدفین 9 جولائی 2026 حرم امام رضا، مشہد آخری رسومات کا اختتام

جانشینی کا عمل اور ممکنہ امیدوار

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں نئے رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔ ایران کا سیاسی ڈھانچہ ایک پیچیدہ اور ادارہ جاتی آئینی نظام ہے جو کسی بھی بڑے بحران کے لیے دہائیوں سے تیار کیا گیا ہے۔ ایران کے آئین کے مطابق، سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر “مجلسِ خبرگانِ رہبری” (Assembly of Experts) کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ مجلس 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر آٹھ سال بعد براہ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ مجلسِ خبرگان کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ سپریم لیڈر کی وفات یا استعفے کی صورت میں نئے جانشین کا انتخاب کرے۔ 1979ء میں اسلامی انقلاب کے قیام کے بعد یہ عمل صرف ایک بار انجام دیا گیا تھا، جب بانی انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو نیا رہبر منتخب کیا گیا تھا۔

جب تک مجلس خبرگان کسی ایک نام پر حتمی فیصلہ نہیں کر لیتی، ملک کا انتظام ایک عبوری کونسل کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جس میں صدر مملکت، چیف جسٹس اور پارلیمنٹ کا اسپیکر شامل ہوتے ہیں۔ اس وقت جانشینی کے لیے چند بڑے نام زیر بحث ہیں۔ ان میں سرفہرست آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای ہیں، جنہیں اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) اور بسیج ملیشیا سے قریبی روابط کی وجہ سے بااثر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، ایران میں موروثی جانشینی کے تصور کو ناپسند کیا جاتا ہے، خصوصاً ایسے نظام میں جو بادشاہت کے خاتمے کے بعد قائم ہوا۔ دیگر ممکنہ امیدواروں میں علی رضا اعرافی (مجلس خبرگان کے نائب چیئرمین اور دینی مدارس کے سربراہ) اور محمد مہدی میرباقری (سخت گیر مؤقف رکھنے والے عالم دین) شامل ہیں۔ ماضی میں، صدر ابراہیم رئیسی کو بھی ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا، لیکن وہ مئی 2024 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ مجلس خبرگان کا آخری انتخاب 2016 میں ہوا تھا۔ نئے رہبر کے انتخاب کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی قیادت ممکنہ طور پر جلد از جلد نئے سپریم لیڈر کا اعلان کر کے نظام میں استحکام کا پیغام دینا چاہے گی۔ اس عمل کو مزید سمجھنے کے لیے ایران کے سیاسی ڈھانچے پر ویکیپیڈیا پر رہبر معظم ایران کا صفحہ معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

خطے پر ممکنہ اثرات اور عالمی ردعمل

شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران اور خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ان کی شہادت نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایرانی فوج نے سپریم لیڈر کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں ایک نئے تنازعے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کی قیادت پر حملہ ایک سنگین اقدام ہے اور اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جارح کو ہر صورت سزا دی جائے گی۔ پاسداران انقلاب گارڈز نے بھی واضح کیا کہ رہبر اعلیٰ کے قاتلوں کو سخت، فیصلہ کن اور افسوسناک سزا دینے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔

اس صورتحال میں عالمی برادری کی نظریں ایران پر لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک نے امن کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی ان آخری رسومات میں شرکت کے لیے ایران روانہ ہو رہے ہیں۔ روس جیسے ممالک کی جانب سے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت ایران کے لیے حمایت اور واشنگٹن کے لیے ایک انتباہ دونوں کا مظہر ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ایران کے داخلی استحکام بلکہ خطے میں طاقت کے توازن اور عالمی جغرافیائی سیاسی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کی قوم، دشمنوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی اور آخری دم تک ڈٹی رہے گی۔

نتیجہ

شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ایران کی تاریخ کا ایک اہم ترین واقعہ ہے، جو نہ صرف ایک قوم کے سوگ اور عقیدت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ خطے اور دنیا کے لیے بھی گہرے مضمرات رکھتا ہے۔ چھ روزہ سوگ کی تقریبات، جن میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، ایران کے مذہبی اور سیاسی ڈھانچے کے استحکام کا امتحان ثابت ہوں گی۔ ایرانی افواج کو ہائی الرٹ پر رکھنا، بیرونی خطرات اور اندرونی سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایک لازمی اقدام ہے، تاکہ یہ سوگ پرامن اور باوقار طریقے سے انجام پا سکے۔

جانشینی کا عمل ایران کے آئینی نظام کے تحت جاری ہے، اور مجلس خبرگان پر نئے رہبر اعلیٰ کے انتخاب کی بھاری ذمہ داری عائد ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس عمل پر لگی ہوئی ہیں، کیونکہ یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران ایک نئے عہد میں داخل ہو رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس کے داخلی و خارجی محاذوں پر اہم تبدیلیاں رونما ہونے کا امکان ہے۔ یہ وقت ایرانی قوم کے لیے اتحاد، استقامت اور اپنے نظریاتی اصولوں پر قائم رہنے کا امتحان ہے، جیسا کہ مسلح افواج کے کمانڈروں نے بھی پیغام دیا ہے کہ ایران کی قوم دشمنوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔