Table of Contents
نوجوان نسل میں شادی سے کترانے کا رجحان آج کل ایک اہم سماجی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف دنیا بھر میں تعلقات اور رشتوں کے بدلتے تصورات پر گفتگو ہو رہی ہے، وہیں پاکستانی معاشرے میں بھی اس مسئلے کی جڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے حال ہی میں اس حساس موضوع پر کھل کر بات کی ہے اور اپنی رائے میں کچھ ایسی وجوہات بیان کی ہیں جو نوجوانوں کو شادی کے بندھن سے دور کر رہی ہیں۔ ان کے تجربات اور مشاہدات، جو انہوں نے اپنی نجی زندگی اور آس پاس کے واقعات کی روشنی میں پیش کیے، اس معاملے کی پیچیدگیوں کو مزید واضح کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم بشریٰ انصاری کے نقطہ نظر کو مدنظر رکھتے ہوئے، نوجوانوں کی شادی سے گریز کی عمومی وجوہات، بدلتے سماجی رویوں، معاشی دباؤ اور دیگر عوامل کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
بشریٰ انصاری کی رائے: دھوکے باز مرد اور غیر حقیقی توقعات
بشریٰ انصاری نے نوجوانوں کے شادی سے کترانے کی ایک بڑی وجہ مردوں کی جانب سے دھوکہ دہی اور خواتین کے غیر حقیقی تصورات کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے سابق داماد کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح آج کل بعض “پڑھے لکھے مگر بے شرم مرد” خواتین کو دھوکہ دے کر شادیاں کرتے ہیں، پھر اپنے اہل خانہ کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کے بجائے اپنی بیویوں کے اثاثوں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور بالآخر انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تلخ حقیقت ہے جو کئی خواتین کی زندگیوں کو تباہ کر دیتی ہے اور شادی کے ادارے پر اعتماد کو متزلزل کرتی ہے۔
بشریٰ انصاری کے مطابق، لڑکیوں کا محبت میں جلد مبتلا ہو جانا بھی اس رجحان کی ایک بڑی وجہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ لڑکیاں اکثر صرف اس خیال سے خوش ہو جاتی ہیں کہ کوئی ان سے محبت کرتا ہے یا انہیں شادی کی پیشکش کرتا ہے، اور اس خوش فہمی میں وہ مرد کے اصل کردار اور نیت کو پرکھنے میں ناکام رہتی ہیں۔ ہماری سوسائٹی نے لڑکیوں کے لیے شادی کی پیشکش مل جانے کو زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اور مقصد بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ آسانی سے دھوکے کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ لڑکیوں اور ان کے والدین کو شادی کے فیصلوں میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے، بلکہ مرد کی پہلی شادی کی ناکامی کی وجوہات کی مکمل چھان بین کرنی چاہیے، خاص طور پر اگر اس کے بچے ہوں، کیونکہ انسان کی فطرت آسانی سے تبدیل نہیں ہوتی۔
بشریٰ انصاری نے اپنی پہلی شادی کی سادگی کا بھی ذکر کیا، جہاں ان کے والد نے فضول خرچی اور قرض لینے سے منع کیا تھا، جس سے انہیں بعد میں کوئی مالی بوجھ نہیں اٹھانا پڑا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سادگی اور حقیقت پسندی شادی کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
معاشی دباؤ اور کیریئر کی ترجیحات
شادی میں تاخیر یا اس سے گریز کرنے کی ایک سب سے بڑی اور عام وجہ معاشی دباؤ اور کیریئر کی ترجیحات ہیں۔ آج کل کے نوجوان، چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں، اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے اور مالی طور پر خود مختار ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ شادی ایک اضافی ذمہ داری ہے جو ان کے کیریئر کے اہداف میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ پاکستان میں مردوں کی شادی کرنے کی اوسط عمر میں اضافہ ہوا ہے، 1951 میں یہ 22 سال تھی جو 1990 میں بڑھ کر 26.5 سال ہو گئی۔ حالیہ مردم شماری کے مطابق ملک میں غیر شادی شدہ افراد کی تعداد 4 کروڑ 25 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
جہیز کا مطالبہ اور شادی کی تقریبات پر ہونے والے بھاری اخراجات بھی نوجوانوں اور ان کے والدین کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ غربت اور نمود و نمائش کی یہ روایت کئی لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کا سبب بنتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، یونیسیف نے بتایا کہ پاکستان میں 20 سے 35 سال کی عمر کی ایک کروڑ سے زیادہ خواتین غیر شادی شدہ ہیں، جن میں سے 10 لاکھ کے قریب لڑکیوں کی شادی کی عمر گزر چکی ہے۔ بہت سی تعلیم یافتہ خواتین کو اپنی تعلیمی قابلیت کے مطابق رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے بھی شادی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر شادی کو ایک مشکل اور مہنگا سودا بنا دیتے ہیں، جس سے نوجوان گریز کرتے ہیں۔
طلاق کا بڑھتا رجحان اور شادی کا خوف
معاشرے میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح بھی نوجوانوں میں شادی کے خوف کی ایک اہم وجہ ہے۔ جب نوجوان اپنے اردگرد اور میڈیا میں ناکام شادیوں اور علیحدگیوں کے قصے دیکھتے ہیں، تو ان میں شادی کے ادارے پر اعتماد کم ہو جاتا ہے اور انہیں اپنی شادی کے ناکام ہونے کا ڈر محسوس ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، 1970 میں پاکستان میں طلاق کی شرح 13 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 35 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق، گزشتہ پانچ سالوں میں طلاق کی شرح میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں طے شدہ شادیوں (arranged marriages) میں طلاق کی شرح 4 فیصد ہے، جبکہ محبت کی شادیوں (love marriages) میں یہ شرح 55 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار نوجوانوں کو مزید پریشان کرتے ہیں کہ آیا وہ صحیح فیصلہ کر پائیں گے یا نہیں۔ بشریٰ انصاری نے خود بھی اپنی 36 سالہ پہلی شادی کے اختتام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بیٹیوں کی خاطر طویل عرصے تک اس رشتے کو نبھایا، اور جب بچے بڑے ہو گئے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے، تو انہیں لگا کہ اب ایک دوسرے کو “ریلیف” دینے کا وقت آ گیا ہے۔ ایسے تجربات اس خوف کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ شادی ایک بوجھ یا قید بن سکتی ہے۔
| وجوہات | اثرات | ممکنہ حل |
|---|---|---|
| معاشی عدم استحکام اور کیریئر کی ترجیحات | شادی میں تاخیر، غیر شادی شدہ افراد کی تعداد میں اضافہ | معاشی خود مختاری کے ساتھ ساتھ شادی کی منصوبہ بندی، سادگی کو فروغ |
| طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح | شادی کا خوف، رشتوں پر عدم اعتماد | ازدواجی مشاورت، حقیقت پسندانہ توقعات، برداشت اور صبر |
| غیر حقیقی توقعات (سوشل میڈیا، فلمیں) | مایوسی، بے اطمینانی، رشتوں کا ٹوٹنا | حقیقی زندگی کے چیلنجز کو سمجھنا، عملی سوچ اپنانا |
| سوشل میڈیا کا منفی استعمال | موازنہ، غلط فہمیاں، جذباتی دباؤ | سوشل میڈیا کا محدود استعمال، ذاتی معاملات کو خفیہ رکھنا |
| خاندانی مداخلت اور مشترکہ نظام | جوڑوں کے درمیان تناؤ، علیحدگی | باہمی افہام و تفہیم، حدود کا تعین، بڑوں کا مثبت کردار |
| جذباتی ناپختگی اور ذمہ داریوں سے گریز | چھوٹے مسائل کو انا کا مسئلہ بنانا، بات چیت کی کمی | جذباتی تربیت، ذمہ داری کا احساس، مؤثر بات چیت کی مہارتیں |
| دھوکہ دہی اور عدم اعتماد | شادی کے ادارے پر شکوک و شبہات | رشتہ طے کرنے سے قبل مکمل تحقیق اور باہمی اعتماد |
غیر حقیقی توقعات اور جذباتی ناپختگی
آج کل کے نوجوان اکثر شادی کے بارے میں غیر حقیقی تصورات رکھتے ہیں، جن کی بنیاد ہالی ووڈ، بالی ووڈ اور سوشل میڈیا پر دکھائے جانے والے رومانوی اور مثالی رشتے ہوتے ہیں۔ وہ ایک “پرنس چارمنگ” یا “پرفیکٹ پارٹنر” کی تلاش میں رہتے ہیں، جو حقیقت سے بہت دور ہوتا ہے۔ جب عملی زندگی میں مالی مسائل، ذمہ داریاں اور روزمرہ کے چیلنجز سامنے آتے ہیں، تو ان کی یہ توقعات ٹوٹ جاتی ہیں اور وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ مایوسی رشتے میں دوریوں کا باعث بنتی ہے اور بالآخر طلاق کی نوبت آ سکتی ہے۔
شادی جیسے اہم رشتے کے لیے صرف جسمانی نہیں، جذباتی اور ذہنی پختگی بھی ضروری ہے۔ بدقسمتی سے، نوجوان اکثر جذبات کی رو میں آ کر شادی کا فیصلہ کر لیتے ہیں، بغیر یہ سمجھے کہ یہ زندگی بھر کا بندھن ہے۔ جذباتی ناپختگی کے باعث معمولی مسائل کو انا یا ضد کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے، اور بات چیت کے بجائے خاموشی یا غصہ غالب آ جاتا ہے۔ ایسے افراد اپنی بات تو منوانا چاہتے ہیں مگر دوسروں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، جس سے رشتے کمزور ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو شادی سے پہلے ذہنی، جذباتی اور مالی طور پر تیار ہونا چاہیے، اور کپل کونسلنگ اور ازدواجی زندگی سے متعلق تربیتی آگاہی ایسے مسائل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا کے اثرات اور خاندانی مداخلت
سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال بھی نوجوانوں کے رشتوں پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارمز نہ صرف غیر حقیقی توقعات کو فروغ دیتے ہیں بلکہ موازنہ، عدم تحفظ کے احساس اور جذباتی دباؤ کا بھی سبب بنتے ہیں۔ پاکستان میں 31 فیصد پاکستانی سوشل میڈیا کے زندگیوں پر بڑھتے ہوئے اثرات سے پریشان ہیں۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے افراد اپنی اپنی سکرینوں میں گم رہتے ہیں، جس سے حقیقی تعلقات کی گہرائی کم ہوتی جا رہی ہے اور تنہائی بڑھ رہی ہے۔
علاوہ ازیں، خاندانی مداخلت بھی کئی شادیوں کی ناکامی کی وجہ بنتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام میں بڑوں کی مداخلت، بالخصوص ماؤں کا اپنے بچوں (چاہے لڑکا ہو یا لڑکی) کی شادی شدہ زندگی میں غیر معمولی دخل اندازی، غلط فہمیوں اور تناؤ کو جنم دیتی ہے۔ نئی نویلی شادی شدہ لڑکیاں اپنی ماؤں یا بہنوں کے ساتھ روزانہ ہر چھوٹی بڑی بات شیئر کرتی ہیں، جس سے ماؤں کی جانب سے غیر ضروری مشورے اور ہدایات رشتے میں اعتماد کو کمزور کرتے ہیں اور تنازعات کو بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں میاں بیوی کے درمیان خود مسائل حل کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس پہلو کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے آپ ڈان نیوز کی یہ رپورٹ دیکھ سکتے ہیں جو سماجی تبدیلیوں کے اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔
عمر میں تاخیر کا رجحان اور اس کے سماجی نتائج
پاکستان سمیت دنیا بھر میں شادی کی اوسط عمر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ رجحان تعلیمی و صنعتی ترقی، شہری کاری اور کیریئر کی بڑھتی ہوئی خواہشات کا نتیجہ ہے۔ نوجوان نسل پہلے اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہے، پھر ایک اچھی نوکری حاصل کرنا چاہتی ہے، اور پھر ہی شادی کے بارے میں سوچتی ہے۔ اس دوران کئی افراد کی “شادی کی مناسب عمر” گزر جاتی ہے، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے، جنہیں بعد میں رشتوں کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
2017 میں پاکستان میں غیر شادی شدہ افراد کی تعداد 3 کروڑ 73 لاکھ تھی، جو چھ سالوں میں تقریباً 52 لاکھ کے اضافے کے ساتھ اب 4 کروڑ 25 لاکھ ہو چکی ہے۔ ان میں سے حیران کن طور پر مردوں کی تعداد زیادہ ہے جو 2 کروڑ 51 لاکھ ہے۔ شادی میں تاخیر کے سماجی نقصانات میں معاشرتی بے راہ روی، تنہائی، ذہنی صحت کے مسائل اور خاندان کے روایتی ڈھانچے کا کمزور ہونا شامل ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف افراد کی نجی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ مجموعی طور پر معاشرتی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ حکومت نے حال ہی میں کم عمری کی شادی کے خلاف قوانین بھی سخت کیے ہیں، جس کے مطابق 18 سال سے کم عمر کی شادی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے، جو بچوں کے تحفظ کے لیے ایک مثبت قدم ہے لیکن ساتھ ہی شادی کی اوسط عمر کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
نتیجہ
نوجوانوں کا شادی سے کترانا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کی جڑیں معاشی، سماجی، نفسیاتی اور ثقافتی عوامل میں پیوست ہیں۔ بشریٰ انصاری کی نشاندہی کردہ دھوکہ دہی، غیر حقیقی توقعات اور جذباتی ناپختگی جیسے عوامل ایک طرف، جبکہ معاشی دباؤ، کیریئر کی ترجیحات، طلاق کا بڑھتا رجحان، سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور خاندانی مداخلت جیسے عمومی مسائل دوسری طرف، اس رجحان کو تقویت دے رہے ہیں۔
اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ والدین، تعلیمی ادارے اور خود نوجوان نسل حقیقت پسندانہ سوچ اپنائیں۔ شادی کو صرف ایک رومانوی خواب نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، سمجھوتے اور باہمی تعاون کا بندھن سمجھا جائے۔ مالی استحکام کے ساتھ ساتھ جذباتی پختگی اور مؤثر بات چیت کی مہارتیں حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ معاشرتی سطح پر جہیز جیسی رسومات کی حوصلہ شکنی کی جائے اور سادگی کو فروغ دیا جائے۔ ساتھ ہی، خاندانی نظام میں مثبت کردار ادا کرنے اور غیر ضروری مداخلت سے گریز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل اعتماد کے ساتھ اس مقدس بندھن میں بندھ سکے اور ایک مستحکم اور خوشگوار زندگی گزار سکے۔
