Table of Contents
ایرانی شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے جسد خاکی کی قم المقدس منتقلی اور نماز جنازہ کی ادائیگی نے ایران اور دنیا بھر میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے سپریم لیڈر، آیت اللہ علی خامنہ ای، جو فروری 2026ء میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے تھے، کی آخری رسومات کا سلسلہ کئی روز سے جاری ہے جس میں لاکھوں سوگوار شرکت کر رہے ہیں۔ ان کی شہادت کے بعد سے ایران میں سوگ اور غم کا عالم ہے اور قوم اپنے عظیم رہبر کو الوداع کہنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ تقریبات نہ صرف ایک روحانی پیشوا کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہیں بلکہ یہ اسلامی مزاحمت اور اتحاد کا بھی ایک واضح پیغام دے رہی ہیں۔
شہادت کا المناک واقعہ اور قومی سوگ
28 فروری 2026ء کو ایران ایک المناک واقعے سے دوچار ہوا جب اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکی اور اسرائیلی فوج کے مشترکہ حملے میں شہید کر دیا گیا۔ اس حملے نے نہ صرف ایران بلکہ پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے فوری طور پر ان کی شہادت کی تصدیق کی اور ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور 7 روزہ عوامی تعطیلات کا اعلان کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، اس حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی خاندان کے چار افراد بھی شہید ہوئے۔ ان کی شہادت کو ایرانی حکام نے “شہادت” قرار دیتے ہوئے عوام سے ان کے غم میں شریک ہونے کو قومی اور مذہبی فریضہ قرار دیا۔ یہ واقعہ ایران کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے جس نے قومی یکجہتی اور مزاحمت کے جذبے کو مزید تقویت بخشی ہے۔
تہران میں لاکھوں سوگواروں کا سمندر
شہادت کی خبر پھیلتے ہی ایران بھر سے لاکھوں افراد دارالحکومت تہران پہنچنا شروع ہو گئے تاکہ اپنے رہبر اعلیٰ کو آخری خراج عقیدت پیش کر سکیں۔ تہران کی سڑکوں اور مرکزی شاہراہوں پر سوگواروں کا ایک سمندر امڈ آیا، جس نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔ سرکاری ٹی وی نے تہران کی بڑی شاہراہوں پر سوگواروں کے بے مثال ہجوم کی تصاویر دکھائیں اور بتایا کہ اس جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے ہیں، اور یہ مجمع سن 1989ء میں ہونے والے آیت اللہ روح اللہ خمینی کے تاریخی جنازے جیسا ہی بڑا تھا۔ کالے کپڑے پہنے ہوئے غمزدہ لوگوں نے ان تابوتوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، جن میں خامنہ ای کی چودہ ماہ کی معصوم نواسی کا چھوٹا سا تابوت بھی شامل تھا۔ یہ عوامی اجتماعات ایرانی عوام کے اپنے رہبر سے والہانہ عقیدت اور شہادت کے راستے پر گامزن رہنے کے عزم کا مظہر تھے۔
قم المقدس کی جانب جسد خاکی کی منتقلی
تہران میں عوامی دیدار کے بعد، شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے تہران سے اسلامی دنیا کے مقدس شہر قم منتقل کیا گیا۔ قم شیعہ اسلام میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اسے مذہبی علوم اور ثقافت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ان گنت علماء کرام اور مجتہدین مدفون ہیں، اور اس شہر کو دینی تعلیمات کے مرکز کے طور پر دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ ایک روحانی پیشوا کے جسد خاکی کی قم منتقلی اس شہر کی مذہبی اہمیت اور اس سے وابستہ گہرے عقیدے کی عکاسی کرتی ہے۔ اس منتقلی کا مقصد یہ تھا کہ قم کے علمی اور روحانی مراکز سے وابستہ افراد، طلباء، اور عام شہری اپنے شہید رہبر کو آخری سلام پیش کر سکیں اور ان کی نماز جنازہ میں شامل ہو سکیں۔
مسجدِ جمکران میں تاریخی نمازِ جنازہ
قم پہنچنے کے بعد، آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار شہداء کی نماز جنازہ قم شہر کے مضافات میں واقع مسجدِ جمکران میں ادا کی گئی۔ یہ مسجد بارہویں امام مہدی (عج) سے منسوب ہے اور شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک نہایت مقدس مقام ہے۔ لاکھوں افراد نے اس تاریخی جنازے میں شرکت کی، جس نے ایک روحانی اور جذباتی منظر پیش کیا۔ مسجد جمکران اور اس کے اطراف میں سوگواروں کا ایک بہت بڑا ہجوم جمع تھا، جو اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھائے دعاگو تھا اور اپنے شہید رہبر کے لیے اشک بہا رہا تھا۔ اس موقع پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غمگین چہروں اور عقیدت سے لبریز دلوں کے ساتھ، لوگوں نے اپنے رہبر کی قربانی کو یاد کیا اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ قم میں نماز جنازہ کی ادائیگی ان رسومات کا ایک اہم حصہ تھی جو ایران کے روحانی مرکز کی جانب سے ایک طاقتور پیغام تھا۔
| تاریخ | واقعہ | تفصیل |
|---|---|---|
| 28 فروری 2026 | شہادت | امریکی و اسرائیلی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت |
| 1 مارچ 2026 | قومی سوگ کا اعلان | ایرانی حکومت کی جانب سے 40 روزہ سوگ اور 7 روزہ تعطیلات |
| 3 جولائی 2026 | آخری رسومات کا آغاز | تہران میں عوام کے لیے دیدارِ عام کا آغاز |
| 4 جولائی 2026 | تہران میں جلوس | لاکھوں افراد کی شرکت کے ساتھ تہران میں بڑا جنازہ |
| 7 جولائی 2026 | قم منتقلی و نماز جنازہ | جسد خاکی کی قم منتقلی اور مسجد جمکران میں نمازِ جنازہ |
| 9 جولائی 2026 | مشہد میں تدفین | مشہد میں امام رضا (ع) کے روضہ اقدس کے احاطے میں سپرد خاک |
مجتبیٰ خامنہ ای: نئے سپریم لیڈر کا انتخاب
شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد، ایران میں قیادت کی منتقلی کا عمل بھی شروع ہو گیا۔ مجلس خبرگان رہبری نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبر اعلیٰ یا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے جو ایران کی مستقبل کی سیاسی اور مذہبی سمت کا تعین کرے گی۔ مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس میں وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلامی انقلاب کے اصولوں اور اقدار کو برقرار رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس تبدیلی کو ملک کے اندرونی استحکام اور علاقائی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر موجودہ کشیدہ حالات میں جب ایران کو عالمی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔
مذہبی و سیاسی پیغام رسانی اور مزاحمت کا بیانیہ
شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کو محض ایک جنازے سے کہیں زیادہ، مذہبی، سیاسی اور نظریاتی پیغام رسانی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی سطح پر ایک ہفتے پر محیط تقریبات میں علامتی نعروں، مذہبی حوالوں اور عوامی اجتماعات کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کے حامیوں کے اتحاد اور مزاحمت کے بیانیے کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ جنازے کے لیے حکومت نے “ہمیں اٹھنا ہوگا” کو مرکزی نعرہ بنایا، جبکہ عربی زبان میں “قُوموا للّٰه” (اللہ کے لیے اٹھ کھڑے ہو) کا پیغام استعمال کیا جا رہا ہے، دونوں نعرے قرآن مجید کی اس تعلیم سے ماخوذ ہیں جس میں اللہ کی راہ میں قیام کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جنازے میں آیت اللہ خامنہ ای کی بھنچی ہوئی مٹھی (Clenched fist) کی تصویر نمایاں علامت کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے، سرخ اور سیاہ رنگوں پر مشتمل یہ تصویر سوگ، شہادت اور انتقام کے تصور کی نمائندگی کرتی ہے۔ تہران کے گرینڈ مصلے پر ایک بڑا سرخ پرچم بھی لہرایا گیا ہے، جس پر عربی میں “یا لثارات الحسین” (اے حسین ؓ کے خون کا بدلہ لینے والو) درج ہے، جس کے ذریعے خامنہ ای کی شہادت کو واقعۂ کربلا سے جوڑا جا رہا ہے، جہاں حضرت امام حسین ؓ کی شہادت شیعہ تاریخ کا مرکزی واقعہ ہے۔ یہ علامات عالمی استعمار کے خلاف ایرانی عوام کی مزاحمت کے عزم کو تقویت دیتی ہیں۔
عالمی ردعمل اور پاکستان کی شرکت
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور اس کے بعد کی رسومات نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔ دنیا بھر سے سرکاری اور غیر سرکاری وفود نے ان تقریبات میں شرکت کے لیے تہران کا رخ کیا۔ پاکستان کی جانب سے بھی اعلیٰ سطحی وفود نے ان تعزیتی اجتماعات میں شرکت کی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے رسومات میں شرکت کی جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ایک علیحدہ وفد بھی اظہارِ تعزیت کے لیے تہران پہنچا۔ یہ عالمی شرکت نہ صرف ایران سے اظہار یکجہتی کا مظہر ہے بلکہ اس سے علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ پاکستانی وفد کی شرکت دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دیرینہ مذہبی اور ثقافتی رشتوں کی عکاسی کرتی ہے، اور یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ ڈان نیوز کی رپورٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
نتیجہ
ایرانی شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قم المقدس منتقلی اور نماز جنازہ کی ادائیگی، ان کی شہادت کے بعد جاری سوگ کی رسومات کا ایک مرکزی حصہ ہیں۔ لاکھوں سوگواروں کی شرکت، مقدس مقامات پر ادا کی جانے والی نمازیں اور علامتی پیغامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی قوم کے اتحاد اور مزاحمت کے جذبے کو مزید پروان چڑھایا ہے۔ ان کی شہادت نے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے جس میں ان کے جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرے گا۔ یہ تقریبات نہ صرف ایک عظیم رہنما کو خراج تحسین ہیں بلکہ یہ ایک قوم کے پختہ عزم اور اس کے روشن مستقبل کی جانب بڑھتے قدموں کی بھی گواہ ہیں۔
