Table of Contents
مصنوعی مٹھاس کو طویل عرصے سے چینی کا ایک محفوظ اور صحت بخش متبادل سمجھا جاتا رہا ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو وزن کم کرنے یا ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کم کیلوریز والے سویٹنرز ہماری روزمرہ کی خوراک کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں، جو ڈائیٹ سوڈاس سے لے کر شوگر فری سنیکس تک ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ تاہم، حالیہ سائنسی تحقیق نے اس عام تصور پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں، اور اب یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا واقعی یہ مٹھاس ہماری صحت کے لیے اتنی ہی بے ضرر ہیں جتنا سمجھا جاتا تھا؟ نئی دریافتیں یہ تجویز کرتی ہیں کہ مصنوعی مٹھاس کے استعمال کے طویل مدتی اثرات پہلے سوچے گئے تصورات سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہرے ہو سکتے ہیں، جس سے عوامی صحت کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس مضمون میں ہم مصنوعی مٹھاس کے بارے میں تازہ ترین تحقیق کا گہرائی سے جائزہ لیں گے، اس کے ممکنہ فوائد، نقصانات اور صحت پر پڑنے والے اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔
مصنوعی مٹھاس کیا ہیں؟ تاریخی پس منظر اور اقسام
مصنوعی مٹھاس، جنہیں نان-نیوٹریٹو سویٹنرز (Non-Nutritive Sweeteners – NNS) یا چینی کے متبادل بھی کہا جاتا ہے، وہ مرکبات ہیں جو کیلوریز کے بغیر چینی جیسا میٹھا ذائقہ فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ چینی کے مقابلے میں کئی سو گنا زیادہ میٹھے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مطلوبہ مٹھاس حاصل کرنے کے لیے بہت کم مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی تخلیق کا مقصد ان لوگوں کے لیے ایک متبادل فراہم کرنا تھا جو چینی کی زیادہ کیلوریز سے بچنا چاہتے تھے، خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں اور وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے۔
مصنوعی مٹھاس کی تاریخ تقریباً ڈیڑھ صدی پرانی ہے۔ سب سے پہلے سیکرین (Saccharin) 1879 میں دریافت ہوئی، جس کے بعد یہ ایک مقبول کم کیلوریز والا سویٹنر بن گئی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران چینی کی قلت کے باعث سیکرین کا استعمال بہت بڑھ گیا تھا۔ 1960 کی دہائی میں، اسے وزن کم کرنے کے لیے فروغ دیا جانے لگا۔ وقت کے ساتھ ساتھ، کئی دیگر مصنوعی مٹھاس بھی متعارف کرائی گئیں، جن میں ایسپارٹیم (Aspartame)، سکرالوز (Sucralose)، ایسیسلفیم-کے (Acesulfame-K)، نیوٹیم (Neotame) اور ایڈوانٹیم (Advantame) شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی اپنی منفرد خصوصیات، مٹھاس کی شدت اور ممکنہ صحت کے مضمرات ہیں۔ مثال کے طور پر، ایسپارٹیم کو کم کیلوریز والے کھانوں اور مشروبات میں استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اسے زیادہ دیر تک گرم رکھنے پر یہ غیر مستحکم ہو جاتا ہے، اس لیے اسے بیکنگ یا کھانا پکانے میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب، سکرالوز اور نیوٹیم جیسی مٹھاس گرمی میں بھی مستحکم رہتی ہیں اور انہیں بیکنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
شوگر الکوحل (Sugar Alcohols) بھی چینی کے متبادل کی ایک قسم ہیں، جن میں اریتھرٹول (Erythritol)، زائیلیٹول (Xylitol)، سوربیٹول (Sorbitol) اور مینیٹول (Mannitol) شامل ہیں۔ یہ شوگر سے قدرے کم کیلوریز والے ہوتے ہیں اور خون میں شکر کی سطح میں اچانک اضافہ نہیں کرتے۔ یہ عام طور پر شوگر فری کینڈی، کوکیز اور چیونگم میں پائے جاتے ہیں۔ ان تمام اقسام کا مشترکہ مقصد میٹھا ذائقہ فراہم کرنا ہے لیکن ساتھ ہی کیلوریز کی مقدار کو کم کرنا یا ختم کرنا بھی ہے۔
روایتی نقطہ نظر: کیا وہ واقعی بے ضرر ہیں؟
طویل عرصے سے، مصنوعی مٹھاس کو چینی کا ایک بہترین اور بے ضرر متبادل سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان میں کیلوریز یا تو بہت کم ہوتی ہیں یا بالکل نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے یہ وزن کم کرنے یا وزن کو برقرار رکھنے میں مددگار سمجھے جاتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ خاص طور پر پرکشش آپشن تھے، کیونکہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ خون میں شکر کی سطح کو متاثر نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈائٹ مشروبات، شوگر فری مٹھائیاں اور دیگر کم کیلوریز والی مصنوعات مارکیٹ میں تیزی سے مقبول ہوئیں۔
- کم کیلوریز یا کیلوریز سے پاک: مصنوعی مٹھاس چینی سے ہزاروں گنا زیادہ میٹھی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بہت کم مقدار میں استعمال سے مطلوبہ مٹھاس حاصل ہو جاتی ہے۔ اس طرح، یہ خوراک میں اضافی کیلوریز شامل کیے بغیر میٹھا ذائقہ فراہم کرتی ہے، جو وزن کا انتظام کرنے والوں کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا تھا۔
- بلڈ شوگر کنٹرول: یہ عام طور پر سمجھا جاتا تھا کہ مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے سے خون میں شکر کی سطح میں اضافہ نہیں ہوتا، جو انہیں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک اچھا متبادل بناتا تھا۔
- دانتوں کی صحت: چونکہ یہ زبانی بیکٹیریا کے ذریعے خمیر نہیں ہوتے، اس لیے یہ چینی کی طرح دانتوں کی خرابی یا کیویٹیز کا سبب نہیں بنتے، یوں دانتوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
- تنوع اور انتخاب: مصنوعی مٹھاس کی مختلف اقسام دستیاب ہیں جیسے ایسپارٹیم، سکرالوز، اور سیکرین، جو ذائقے اور استعمال کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ یہ صارفین کو اپنی پسند اور ضروریات کے مطابق انتخاب کا موقع دیتی ہیں۔
یہ فوائد صارفین اور طبی برادری دونوں کے لیے پرکشش رہے ہیں، جس کی بنیاد پر مصنوعی مٹھاس کا استعمال عالمی سطح پر بڑھتا چلا گیا ہے۔ تاہم، حالیہ تحقیق ان روایتی تصورات کو چیلنج کر رہی ہے اور ان کے طویل مدتی استعمال کے ممکنہ منفی اثرات کی نشاندہی کر رہی ہے۔
نئی تحقیق کے انکشافات: خطرے کی گھنٹی
حالیہ تحقیق نے مصنوعی مٹھاس کے بارے میں ہماری سمجھ کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں ٹفٹس یونیورسٹی کے فریڈمین اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پالیسی کے پروفیسر مینگ وانگ اور ان کی ماہر ٹیم نے 21 مختلف کلینیکل ٹرائلز کا گہرا جائزہ لیا ہے۔ ان کی تحقیق کے نتائج نے مصنوعی مٹھاس کے بارے میں کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اس تحقیق کے مطابق، جو افراد مصنوعی مٹھاس کا استعمال کرتے ہیں، ان میں فاسٹنگ انسولین (fasting insulin) اور ایچ بی اے ون سی (HbA1c) کی سطح عام لوگوں کی نسبت زیادہ رہتی ہے۔ ایچ بی اے ون سی خون میں شوگر کے طویل مدتی توازن کو جانچنے کا اہم ترین پیمانہ ہے۔ یہ انکشاف اس پرانے تصور کے خلاف ہے کہ مصنوعی مٹھاس خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ محققین نے یہ بھی بتایا کہ مصنوعی مٹھاس کے باقاعدہ استعمال سے جسم میں انسولین کی حساسیت (insulin sensitivity) بھی کم ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس پہلو پر شواہد ابھی ابتدائی نوعیت کے ہیں، لیکن یہ نتائج انسانی صحت پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کی جانب واضح اشارہ کرتے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، محققین کا کہنا ہے کہ “اگرچہ مصنوعی مٹھاس میں کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ جسم کے میٹابولزم اور خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کے نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔” یہ نئی تحقیق ان لاکھوں افراد کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جو وزن کم کرنے یا شوگر سے بچنے کے لیے مصنوعی مٹھاس کا سہارا لیتے ہیں۔ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ غذا میں شامل اجزاء کا انتخاب کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے۔
یہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مصنوعی مٹھاس کے جسمانی اثرات پہلے سوچے گئے تصورات سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہرے ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اس معاملے پر مزید وسیع پیمانے پر تحقیق کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کے بڑے نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
صحت پر ممکنہ منفی اثرات: آنتوں کے مائیکروبایوم کا کردار
حالیہ تحقیق کا ایک اہم پہلو مصنوعی مٹھاس اور آنتوں کے مائیکروبایوم (Gut Microbiome) کے درمیان تعلق ہے۔ آنتوں میں موجود بیکٹیریا کا پیچیدہ نظام ہماری مجموعی صحت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جس میں ہاضمہ، مدافعتی افعال اور یہاں تک کہ دماغی صحت بھی شامل ہے۔ ابھرتی ہوئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مصنوعی مٹھاس آنتوں کے مائیکروبایوٹا کی ساخت اور کام کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف مینیٹوبا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، مصنوعی مٹھاس کے استعمال سے نظام انہضام اور آنتوں میں موجود بیکٹیریا پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور یہ انسان کی بھوک کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ “مصنوعی مٹھاس آنتوں کے صحت مند بیکٹیریا کو ختم کرتی ہے، جو جسم میں سوزش کا باعث بن سکتی ہے۔” کچھ مصنوعی مٹھاس، جیسے ایسپارٹیم اور سکرالوز، کو خاص طور پر آنتوں کی صحت پر منفی اثرات سے جوڑا گیا ہے۔ یہ آنتوں کے بیکٹیریا کی ساخت کو تبدیل کر سکتے ہیں، جس سے مائیکروبایوٹا میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے اور مجموعی طور پر آنتوں کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ عدم توازن نہ صرف ہاضمے کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے بلکہ موٹاپے، ٹائپ 2 ذیابیطس، اور یہاں تک کہ دماغی افعال پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ رپورٹس کے مطابق، مصنوعی مٹھاس انسولین کے نظام کو بھی متاثر کرتی ہے، جو بالواسطہ طور پر آنتوں کی صحت سے منسلک ہے۔ چونکہ ہمارے جسم مصنوعی اجزاء کو ہضم کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیے گئے ہیں، اس لیے مصنوعی مٹھاس ایک مدافعتی ردعمل کو متحرک کر سکتی ہے جو سوزش کا باعث بنتی ہے۔
آنتوں کے مائیکروبایوم پر مصنوعی مٹھاس کے اثرات کا مزید گہرائی سے مطالعہ کیا جا رہا ہے، لیکن ابتدائی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کا استعمال آنتوں کی صحت کے لیے فائدہ مند نہیں ہے بلکہ یہ طویل مدتی میں کئی صحت کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے، آنتوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے قدرتی غذاؤں کو ترجیح دینا اور مصنوعی مٹھاس سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔
| مصنوعی مٹھاس کی اقسام | مٹھاس کی شدت (چینی کے مقابلے میں) | اہم خصوصیات اور ممکنہ اثرات |
|---|---|---|
| سیکرین (Saccharin) | 200-700 گنا | سب سے پہلی دریافت شدہ مٹھاس۔ دھاتی بعد کا ذائقہ۔ ماضی میں کینسر سے تعلق پر تنازعہ، اب انسانی صحت کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے (اعلی خوراک میں بھی)۔ |
| ایسپارٹیم (Aspartame) | 180-200 گنا | کم کیلوریز والی غذاؤں میں استعمال۔ گرم کرنے پر غیر مستحکم۔ سر درد، معدے کی تکلیف اور الرجک ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔ کینسر سے ممکنہ تعلق پر آئی اے آر سی کا خدشہ، ایف ڈی اے اختلاف کرتا ہے۔ |
| سکرالوز (Sucralose) | 600 گنا | بیکنگ میں مستحکم۔ آنتوں میں فائدہ مند بیکٹیریا کو کم کر سکتا ہے، صحت پر منفی اثرات۔ |
| ایسیسلفیم-کے (Acesulfame-K) | 200 گنا | اکثر دیگر مٹھاس کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں کینسر کے مجموعی خطرے میں اضافے سے جوڑا گیا۔ |
| اریتھرٹول (Erythritol) | 60-80 فیصد (چینی کے مقابلے میں) | شوگر الکوحل۔ کیلوریز کم، دانتوں کے لیے بہتر۔ ایک تحقیق میں قلبی اثرات سے متعلق خدشات، ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ کوئی سبب نہیں ملا۔ |
| زائیلیٹول (Xylitol) | چینی کے برابر | شوگر الکوحل۔ دانتوں کے لیے فائدہ مند۔ اونچی مقدار میں ہاضمے کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ دماغی صلاحیتوں میں کمی سے جوڑا گیا۔ |
دیگر تشویشناک صحت کے خطرات
مصنوعی مٹھاس کے استعمال سے صرف میٹابولزم اور آنتوں کے مائیکروبایوم پر ہی منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے، بلکہ نئی تحقیقات نے مزید کئی تشویشناک صحت کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
- وزن میں اضافہ اور بھوک میں اضافہ: یہ ایک متضاد بات لگ سکتی ہے، لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کی شدید مٹھاس میٹھے کھانوں اور مشروبات کی خواہش کو بڑھا سکتی ہے، جو بالآخر زیادہ کھانے اور میٹھے ذائقوں پر انحصار کا باعث بنتی ہے۔ ای ٹی وی بھارت کی ایک رپورٹ کے مطابق، “مصنوعی مٹھاس کھانے سے کیلوریز کی مقدار کم ہوتی ہے لیکن اس سے آپ کی بھوک بھی بڑھ جاتی ہے. ایسی حالت میں یہ آپ کے لیے موٹاپے کا مسئلہ بڑھا سکتا ہے۔” یونیورسٹی آف مینیٹوبا کی تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔
- دل کی بیماریاں اور ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ: عالمی ادارہ صحت (WHO) نے واضح طور پر کہا ہے کہ مصنوعی میٹھے کیمیکلز کا استعمال طویل وقت کے لیے وزن کم کرنے میں مدد نہیں دیتا، بلکہ یہ دل کی بیماری اور ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ جنگ اخبار کے مطابق بھی، مصنوعی مٹھاس سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
- جگر کی بیماریاں: ایک حالیہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ سوربیٹول (sorbitol)، جو کم کیلوریز والے میٹھے کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، بعض حالات میں میٹابولک ڈسفنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیوٹک لیور ڈیزیز (MASLD) یعنی فیٹی لیور کی بیماری کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب آنتوں میں وہ مفید بیکٹیریا موجود نہ ہوں جو سوربیٹول کو توڑتے ہیں۔
- دماغی صحت اور علمی صلاحیتوں میں کمی: العربیہ ڈاٹ نیٹ اور ایکسپریس نیوز کی رپورٹس کے مطابق، نئی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے کمی لا سکتا ہے، خاص طور پر 60 سال سے کم عمر افراد میں۔ برازیل کی سائو پالو یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں آٹھ سال کے دوران 12 ہزار سے زائد بالغ افراد پر تحقیق کی گئی جس میں دیکھا گیا کہ مصنوعی مٹھاس، جیسے ایسپارٹیم، سیکرین، اریتھرٹول اور زائیلیٹول کے زیادہ استعمال سے زبانی روانی اور عمومی ادراکی صلاحیتوں (یادداشت، توجہ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت) میں تیزی سے کمی واقع ہوتی ہے۔
- کینسر کا خطرہ: اگرچہ اس حوالے سے متضاد آراء موجود ہیں، فرانس میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ مقدار میں ایسپارٹیم اور ایسیسلفیم-کے (acesulfame-K) کا استعمال کرنے والے افراد میں کینسر کا مجموعی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماضی میں سیکرین کو بھی چوہوں میں مثانے کے کینسر سے جوڑا گیا تھا، حالانکہ بعد میں انسانوں پر اس کے مختلف اثرات پائے گئے اور وارننگ لیبل ہٹا دیا گیا، لیکن محققین اب بھی سیکرین کے ممکنہ کینسر پیدا کرنے والے اثرات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتے، خاص طور پر بہت زیادہ خوراکوں میں۔
- الرجی اور دیگر مضر اثرات: کچھ افراد کو مخصوص مصنوعی مٹھاس سے حساسیت یا الرجی ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سر درد، معدے کی تکلیف، یا الرجک ردعمل جیسے منفی ردعمل ہو سکتے ہیں۔ ایسپارٹیم زیادہ درجہ حرارت پر فارمک ایسڈ میں ٹوٹ سکتا ہے، جو الرجی، سر درد، متلی، جوڑوں کا درد، بے خوابی اور گھبراہٹ جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
یہ تمام دریافتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مصنوعی مٹھاس کا استعمال محض کیلوریز کم کرنے سے زیادہ وسیع اور پیچیدہ اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس لیے، ان کے استعمال میں احتیاط اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ صحت کے مکمل اثرات کو سمجھا جا سکے۔
عالمی ادارہ صحت اور ریگولیٹری اداروں کی آراء
مصنوعی مٹھاس کے بارے میں ابھرتے ہوئے خدشات کے پیش نظر، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر ریگولیٹری اداروں نے بھی اپنے موقف پر نظر ثانی کی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے 2023 میں مصنوعی میٹھے کیمیکلز سے متعلق نئی گائیڈ لائنز جاری کیں۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ مصنوعی میٹھے کیمیکلز کے استعمال سے طویل مدت کے لیے وزن کم کرنے میں مدد نہیں ملتی۔ اس کے بجائے، انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ قدرتی طور پر میٹھی غذاؤں کا استعمال کریں جن میں پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق، مصنوعی میٹھے کیمیکلز کا استعمال دل کی بیماری اور ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے، اور ان کی کوئی غذائی افادیت نہیں ہے۔
دوسری جانب، امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کا موقف عالمی ادارہ صحت سے کچھ مختلف ہے۔ ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ ایسپارٹیم انسانی خوراک میں سب سے زیادہ تحقیق شدہ فوڈ ایڈیٹیو میں سے ایک ہے اور اس کے سائنسدانوں کو منظور شدہ حالات کے تحت ایسپارٹیم کے استعمال سے متعلق کوئی حفاظتی خدشات نہیں ہیں۔ ایف ڈی اے نے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) کی اس درجہ بندی سے اختلاف کیا ہے جس میں ایسپارٹیم کو “ممکنہ طور پر انسانوں کے لیے کینسر کا باعث” قرار دیا گیا ہے۔ ایف ڈی اے نے IARC کے جائزے میں شامل سائنسی معلومات کا جائزہ لیا اور ان مطالعات میں “اہم خامیوں” کی نشاندہی کی۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جوائنٹ ایف اے او/ڈبلیو ایچ او ایکسپرٹ کمیٹی آن فوڈ ایڈیٹیوز (JECFA) نے استعمال کی موجودہ سطح کے تحت ایسپارٹیم کے لیے حفاظتی خدشات نہیں اٹھائے اور قابل قبول یومیہ انٹیک (ADI) کو تبدیل نہیں کیا۔
یہ تضاد صارفین کے لیے الجھن کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک طرف، ڈبلیو ایچ او مصنوعی مٹھاس کے استعمال سے محتاط رہنے کا مشورہ دے رہا ہے، خاص طور پر وزن کنٹرول کے لیے، جبکہ دوسری طرف ایف ڈی اے جیسی ریگولیٹری باڈیز کچھ مٹھاس کو منظور شدہ سطح پر محفوظ سمجھتی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی مٹھاس کے بارے میں سائنسی تفہیم مسلسل ارتقا پذیر ہے، اور مزید مضبوط اور طویل مدتی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ان کے صحت پر مکمل اثرات کو واضح کیا جا سکے۔ فی الحال، یہ صارفین کی ذمہ داری ہے کہ وہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر باخبر فیصلے کریں۔
پاکستان میں بھی مصنوعی مٹھاس کے استعمال سے متعلق عوامی آگاہی اور حکومتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزارتِ صحت نے حال ہی میں ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں سرکاری اجلاسوں اور تقریبات میں میٹھے مشروبات اور مصنوعات کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ میٹھے مشروبات سے متعدی اور غیر متعدی امراض لاحق ہوتے ہیں۔ یہ ایک اچھا قدم ہے جو چینی اور اس کے متبادل کے زیادہ استعمال سے متعلق عوامی صحت کے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ اس بارے میں مزید معلومات
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں پڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین کی سفارشات اور احتیاطی تدابیر
مصنوعی مٹھاس کے بارے میں نئی تحقیقات کے سامنے آنے کے بعد،
